آج کے دور کا سکون آف لائن ہونا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دن پہلے ہمارا اسمارٹ فون خراب ہو گیا تھا، اور اتنی بری طرح خراب ہوا کہ آن ہو کر نہ دیا اور جب ٹھیک کرانے کے واسطے دکان پر لے گئے تو دکان دار نے یہ کہا کہ موبائل ڈیڈ ہو گیا ہے، اب نہیں چلے گا۔ ہمارا دل بیٹھنے لگا کہ اب کیا ہو گا، کیونکہ نیا لینے کے لئے گنجائش نہیں تھی۔ سیلری آنے میں بھی 2 ہفتے باقی تھے۔ خیر جیسے تیسے ایک 3 ہزار والا موبائل لیا جس میں بس کال اور میسج کی سہولت تھی۔ خیر ہم اسمارٹ فون سے محروم تھے اور سوشل میڈیا کی دنیا سے بھی۔ کچھ وقت تو بے چین رہا کہ سوشل میڈیا میرے بغیر ویران ہو گا اور ہمارے واٹس اپ کا کیا ہو گا؟ لیکن کر بھی کیا سکتے تھے۔

اب وقت کیسے گزارا جائے ، سمجھ نہیں آ رہا تھا۔ پھر کتابیں اٹھا لیں اور یقین جانیے کافی دیر تک مطالعہ کیا اور یونیورسٹی کا وہ زمانہ یاد آ گیا جب دوستوں سے کتاب لا کر پڑھتے تھے۔ بہرحال سکون آ گیا کافی، مگر وقت بہت تھا اب کیا کرنا ہے۔ پودوں پرنظر پڑی ، بس پھر پودوں کی کانٹ چھانٹ کی اور انہیں خوبصورت شکل میں لے آئے۔ گھر والے ہماری ذہنی حالت پر شک کر رہے تھے مگر بہت عرصے بعد ہم کھل کر جی رہے تھے۔

کافی گھنٹوں کی محنت کے بعد گھر والوں کے ساتھ بیٹھے اور ایسا بیٹھے کہ باتیں کافی دیر تک چلتی رہیں۔ محسوس ہوا کہ گھر والے بھی اچھے لوگ ہیں،  مزے کی کمپنی ہے ، ہمیں روز بیٹھنا چاہیے۔ پھر اس کے بعد محلے کے بچوں کے ساتھ کرکٹ کھیلی اور بچپن کے احساس میں کھو گئے۔ ایک طویل عرصے بعد زندگی کو اسمارٹ فون سے دور ہو کر جیا اور ایسا لطف آیا کہ نی پوچھیے۔

آج کے دور کے لوگ تو بے وقوف ہیں اور فون البتہ اسمارٹ ہے۔ کچھ عرصہ پہلے تک تھیوری تھی کہ انسان سماجی جانور ہے مگر آج کے دور کا مشاہدہ کر کے ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان موبائل جانور ہے۔ ہم میں سے اکثر لوگوں کو فبنگ کا مرض لاحق ہو گیا ہے۔ فبنگ یعنی انسانوں کے بجائے فون کو ترجیح دینا۔ یہ ایسی بیماری ہے جو امیری غریبی نہیں دیکھ رہی اور نہ ملک کی سرحدیں دیکھ رہی ہے بلکہ پوری دنیا کو اس نے اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ اس بیماری نے انسانوں کے درمیان عدم اطمینان پیدا کیا ہے جو تعلقات کو کمزور بنا رہا ہے۔

یہ موبائل فون جہاں ہر چیز ہمارے ہاتھ میں لے آیا ہے وہیں اس موبائل نے ہم سے بہت کچھ چھین لیا ہے ، جس کا احساس ہم نہیں کر پا رہے ہیں۔ یہ سوشل میڈیا کی دنیا بظاہر بہت بڑی دنیا ہے مگر اس دنیا نے ہم سے بہت قریبی لوگ ہم سے دور کر دیے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا کے نشے میں اس قدر دھت ہو گئے ہیں کہ اپنے گھر والوں سے بھی بات چیت سے رہ گئے ہیں اور اگر بات چیت کر بھی لیں تو موبائل کا استعمال جاری رہتا ہے۔ پہلے گفتگو کو اہمیت حاصل تھی اور یہی گفتگو شخصیت کی پہچان ہوتی ہے مگر اب گفتگو معدوم ہوتی جا رہی ہے۔ انسان سماج سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ پہلے بات زبان سے ہوتی تھی اور اب انگلیوں سے ہوتی تھی۔ پچھلے زمانے کی گفتگو میں ادب ملحوظ خاطر رکھا جاتا تھا مگر اب کمنٹ میں کچھ بھی لکھا جا سکتا ہے۔ پہلے اچھی بات پر مسکرایا جاتا تھا مگر اب ایک کلک کر کے ایموجی کے ذریعے جذبات دکھائے جاتے ہیں۔

موجودہ دور یا سو کالڈ جدید دور میں اسمارٹ فون اور سوشل میڈیا نے نہ صرف ہمارے سماجی تعلقات بلکہ خونی تعلقات کو بھی مزید کمزور کر دیا ہے۔ پہلے بڑے کے سامنے ادب سے نظریں جھکتی تھیں، اب موبائل کے آگے سر خم ہے۔ پہلے کوئی تشریف لاتا تھا تو کھڑے ہو جاتے تھے اور اب کانوں سے ہینڈز فری نکالا جاتا ہے۔ اسمارٹ فون نے انسان کو اسمارٹ نہیں بنایا بلکہ مجبور بنا دیا ہے اور ایسا مجبور کہ اگر نیٹ نہ چلے تو ہم بے چین ہو جاتے ہیں، تازہ تصویر نہ اپلوڈ کریں تو بے تاب ہو جاتے ہیں اور اسٹیٹس پر لائیک کم آئیں تو بے قرار ہو جاتے ہیں۔

مان لیا کام کی مجبوری ہے اسمارٹ فون ضروری ہے۔ مگر جب ضروری نہیں تو کچھ اور بھی تو استعمال ہو سکتا ہے ، ہاں زبان استعمال ہو سکتی ہے اپنوں سے گفتگو کے لئے، آنکھیں استعمال ہو سکتی ہے کتاب پڑھنے کے لئے، ہاتھ استعمال ہو سکتے ہیں گھر کے کام کاج کے لئے، پیر استعمال ہو سکتے ہیں فٹ بال کھیلنے کے لئے۔ بس استعمال کیجیے یہ سب ان کاموں کے لئے یقین جانیے بڑا لطف آئے گا۔ وہ کسی موبائل بیزار شخص نے کیا خوب کہا ہے کہ ”آج کے دور کا سکون آف لائن ہونا ہے“ اور یہ  سچ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *