جنازے ملنساری کے!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ممانی فوت ہو گئی ہیں۔ دمہ کا مسئلہ تھا۔ کورونا وارڈ میں 15 دن گزارے اور اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ جنازہ صبح 9 بجے بانوے میں ہے۔ خالہ سے بات ہوئی وہ کہہ رہی تھیں بچوں کو ماسک پہنا کر لانا۔

اس خاندان کا تذکرہ ہوتا رہتا تھا ابا جی کے منہ سے۔ 2000 میں نانا اور دادی کے چھوٹے بھائی فوت ہوئے تو فیصل آباد جانا ہوا۔

جنازے سے واپسی پر اپنی شدید خاموش طبع والدہ صاحبہ کو دیکھا کہ ایک خاتون کے ساتھ دری پر بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف ہیں۔ تدفین سے واپسی پر چل کر برا حال تھا تو جگہ دیکھ کر اماں کے گھٹنے پر سر دھر کر لیٹا ہی تھا کہ اماں نے تھاپڑ ڈالا۔ اٹھ اٹھ ان سے مل ، یہ ہے کیا کہتے ہو تم لوگ اسے۔ ہاں! آنٹی، یہ میری آنٹی ہے۔ یہ ان خاتون کا تعارف تھا۔ اور خاتون ’میں صدقے میں واری ایہ تیرا چھوٹا آ ٹڈ کروڑی تاں آوندا ای گوڈے نال چمڑ گیا۔‘

یہ تھیں ماسی فاطمہ ، ہماری نانی کی چھوٹی بہن ۔ کہنے کو تو ان کی ماں الگ تھیں لیکن آپس میں محبت انتہا کی تھی۔ اماں کو ایک بار شرارتاً بول دیا وہ تو سوتیلی نہیں اماں : ”پے تاں اکوای سی“ ۔ غرض اس ملاقات کی مٹھاس نے ماسی کو لڈو ماسی کا خطاب دینے پر مجبور کر دیا۔ آج بھی اس ملاقات کی شرینی محسوس ہوتی ہے۔

واپسی پر والدہ اور ماموں کے اصرار پر ابا کے ڈر کے باوجود گھر واپس آنے کی بجائے اس گاؤں چلے گئے جہاں ماسی کا گھر تھا۔

یہاں اماں کی بڑی خالہ کی اولاد پورے گاؤں میں پھیلی ہوئی ہے۔
دوپہر سے گھر گھر پھرنا شروع کیا اور رات گئے تک واپسی ہوئی۔

اگلے دن واپسی ہوئی ، والد صاحب سے ڈانٹ کا یقین تھا لیکن جیسے ہی بتایا کہ ماسی کے گاؤں چلے گئے تھے تو بھانجے صاحب کی خوشی آسمان کو چھونے لگی۔ یہ تو بہت اچھا کیا تم نے۔ میں نے بس ایک دوپہر گزاری ہے وہاں پر۔  تمہارے ماموؤں میں سے ایک مجھے زمین پر لے گیا ، وہیں کھانا بھی آ گیا ۔ باغ میں ہم نے کھانا کھایا،  خوب گپ شپ کی ، فلاں یہ کرتا تھا ، فلاں وہ کرتا تھا۔

2011 میں ایک ماموں کا انتقال ہوا ۔ والد صاحب کو بتایا تو انھوں نے کہا میں بھی چلوں گا۔ وہ ماسی سے ملے،  پرانی پرانی باتیں کیں۔ واپسی پر کہا ’’لے ماسی ہن آخری ملاقات ہو گئی۔‘‘ اور اگلے ہی ہفتے ماسی کی بیٹی کو ہمارے پاس آنا پڑا کیونکہ والد صاحب اللہ کو پیارے ہو گئے۔ ماسی کی بیٹی بھی ماسی ہی کی طرح نچھاور ہو کر ملتیں۔

جنازہ صبح 9 بجے تھا ، فجر کے بعد چل کے دو گھنٹے میں 8 بجے کے قریب گاؤں پہنچے ، پہلے میزبان ماسک تو نہیں پہنے ہوئے تھے لیکن چہرہ بغل کی طرف کر کے ملے۔

میت والے گھر پہنچے، پہلے بندے کو ملنے کے لئے آگے بڑھا جنھوں نے ماسک چڑھا رکھا تھا۔ انھوں نے ہاتھ نہیں کھولے بلکہ لگا اگر میں مزید آگے بڑھا تو وہ کہنی ہی ملائیں گے۔ اس لئے اپنی حد میں رہنا بہتر محسوس ہوا۔

ماموں جن کی اہلیہ کا انتقال ہوا تھا، ان کے پاس گیا تو انھوں نے ہاتھ ملا کر بے چارگی کا اظہار فرمایا کہ ماسک کی بدولت کوئی پہچانا ہی نہیں جا رہا۔ اس جگہ بندہ ایسے موقعوں پر مل مل کر تنگ آ جاتا تھا اور آج یہ صورتحال تھی کہ کوئی ملنے کو تیار نہیں تھا۔ میت والے گھر میں سب کے بچے مل کر اپنا چیخ چہاڑہ، رونا دھونا، کھیل کود، لگائے پھرتے ہوتے تھے۔ کوئی اپنے دادا کی جان کھائے ہوئے ہے تو کوئی نانا کی تو کوئی تایا چچا کی۔ اور آج کوئی بچہ ہے ہی نہیں ، جو اکا دکا ہیں،  انہیں بھی چھکو چڑھا رکھا ہے ۔ غضب خدا کا ، کیا قہر نازل ہو گیا ہے۔

جو گاڑی میں سے نکلتا ہے ، دور سے ہاتھ کے اشارے سے سلام پھینکتا ہے اور سینی ٹائزر ہاتھ پر لگا کر ملنے لگتا ہے۔

وہ ممانیاں اور خالائیں جو اس چکر میں ہوتی تھی کہ کوئی ان سے پیار لینے مس ہو جائے اور پھر وہ اس کی درگت بنائیں ، آج ایسے دور دور سے حال احوال کر رہی تھیں جیسے نامعلوم کیا قیامت آ رہی ہے۔

جنازہ پڑھا ، اکثریت نے ڈھکے چہروں کے نماز ادا کی۔ امام صاحب کی مہربانی کہ انھوں نے تکبیر کہنے سے پہلے چھکو اتار لیا۔

واپسی پر ابا کی لڈو ماسی کی بیٹی ماسی ننھی سے ملاقات ہوئی ، وہ ماسک اتارنے اور نہ اتارنے کی کشمکش میں تھیں کہ نہیں اتارتیں تو کوئی پہچان نہیں پاتا، بیگم سے پوچھا یہ عرفان ہی ہے نہ، مجھے پوچھا کہ بیٹا مجھے پہچانا۔ اس کائنات کی اور کسی حقیقت کو کوئی تسلیم کرے نہ کرے محبت تو ایک حقیقت ہے جسے یہ شیطانی طاقتیں ختم کرنے کے درپے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت تو مادے کے درمیان کشش کی شکل میں موجود ہے۔ انسان تو روحوں اور جسموں کے مجموعے ہیں ، ان میں سے یہ کیسے ختم کیجیے گا؟

اکثر دانشور جب اس قوم کے لتے لینے لگتے ہیں تو فرماتے ہیں
یہ تو صحیح ہو ہی نہیں سکتی۔
یہ تو کسی بات کو مانتی ہی نہیں۔
یہ کسی ڈسپلن میں نہیں آتی۔

حضور آپ نے کہا ہندو برا ہے ، وہ ہمیں اچھوت سمجھتا ہے ، انہوں نے تسلیم کر لیا۔ اگرچہ یہ خود اسی کی نسل سے تھے اور صدیوں سے اس کے ساتھ بھائی چارے سے زندگی بسر کر رہے تھے۔

آپ نے کہا جہاد فرض ہو گیا ، انہوں مان لیا افغانستان سے کشمیر ہر جگہ فساد کے لئے چارہ فراہم کیا۔
آپ نے کہا جہاد نہیں تھا فساد تھا ، انہوں کہا ٹھیک ہے۔

آپ نے کہا دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے ، انہوں نے کہا ٹھیک ہے ، ہمارے جاہل رہنے دو یا میاں عامر کی فیکٹری کے حوالے کر دو۔

اور آج آپ نے انہیں کہا تم اچھوت ہو،  ایک دوسرے سے دور ہو جاؤ ، یہ اچھوت ہو گئے۔

ان جنازوں میں اب میتیں تو بس علامتی ہی اٹھتی ہیں اصل تو ملنساری، تعلقات، سماجیات اور محبتوں کی میتیں ہیں جن کو پاؤں میں رگیدتے ہوئے سب قبرستان کی طرف گامزن ہیں،  کوئی ویکسین لگوا کر اور کوئی ویکسین کے بغیر۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *