تحریک لبیک کی وائرل ویڈیو اور فوجی اہلکار: مشتعل ہجوم کے سامنے کیسا رویہ رکھنا چاہیے؟

عابد حسین - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پاکستان

Getty Images

مذہبی جماعت تحریک لبیک پاکستان نے ماضی میں متعدد مواقعوں پر ملک بھر میں ایسے مظاہرے کیے ہیں جن کی وجہ سے نہ صرف پورے ملک میں نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا بلکہ تقریباً ہر بار وہ حکومتِ وقت کو معاہدے پر مجبور کرنے میں بھی کامیاب رہے ہیں۔

اس وقت بھی ملک کے مخلف شہروں میں تحریک لبیک کا دھرنا جاری ہے جس دوران مظاہرین کی ایسی دو ویڈیوز وائرل ہوگئی ہیں جن پر سوالات کیے جا رہے ہیں اور ریاست کے کردار پر بحث جاری ہے۔

ہر بار اس جماعت کی جانب سے کیے گئے ان مظاہروں پر جو سوال سب سے زیادہ کیا جاتا ہے وہ ریاستی رٹ کی ‘غیر موجودگی’ یا میبنہ طور پر ریاست کا اس جماعت کے لیے ‘نرم گوشہ’ رکھنے پر کیا جاتا ہے۔ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کس طرح ایک جماعت سڑکوں پر نکل کر نظام زندگی مفلوج کر سکتی ہے؟

تحریک لبیک نے حکومت کی جانب سے 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کو ملک بدر نہ کیے جانے کی صورت میں اسلام آباد کی جانب مارچ کی کال دے رکھی ہے جس سے پہلے جماعت کے رہنما سعد رضوی کی گرفتاری کے خلاف مختلف شہروں میں احتجاج جاری ہے۔

لاہور پولیس نے تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی سمیت اس مذہبی سیاسی جماعت کے دیگر رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف تعزیراتِ پاکستان، امنِ عامہ کے آرڈیننس اور انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

تحریک لبیک کے نئے سربراہ سعد رضوی کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں؟

مذاکرات کی رات تحریک لبیک اور حکومت کے درمیان معاملات کیسے طے پائے؟

’یہ فلم ہم کئی بار دیکھ چکے ہیں، آگے بھی دیکھتے رہیں گے‘

جسٹس فائز عیسیٰ کیس: ’اس ملک میں بہت سے کام غیب سے ہی ہوتے ہیں‘

وائرل ہونے والی ویڈیوز میں کیا ہے؟

واقعہ کچھ یوں ہوا کہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ان کی جماعت کے کارکنوں نے ملک بھر کے متعدد مقامات پر مظاہرے شروع کر دیے جس کے باعث نظام زندگی درہم برہم ہو گیا اور جگہ جگہ ٹریفک جام ہونے کی شکایت آئیں۔ اسی حوالے سے سوشل میڈیا پر دو ویڈیوز گردش کر رہی ہیں اور صارفین اس پر تبصرے کر رہے ہیں۔

صحافی اور سابق چئیرمین پیمرا ابصار عالم نے ایک ویڈیو شئیر کی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پرہجوم سڑک پر سے ایک فوجی گاڑی گزر رہی ہے جس میں سوار دو فوجی مجمع کے ساتھ ناموسِ رسالت، سعد رضوی کی حمایت میں اور ساتھ ساتھ پاکستانی فوج کے حق میں نعرے بازی کر رہے ہیں۔

ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ سڑک پوری طرح لوگوں سے بھری ہوئی ہے اور فوج کی گاڑی کو آہستہ آہستہ وہاں سے گزرنے کے لیے راستہ دیا جا رہا ہے۔

اسی طرح وائرل ہونے والی دوسری ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رینجرز کے یونیفارم میں ملبوس ایک افسر چند افراد سے بات کر رہے ہیں اور ان سے کہہ رہے ہیں کہ ‘روز قیامت والے دن ہم سے سب سے پہلے حقوق العباد کے بارے میں بات کی جائے گی۔’

رینجرز کے افسر مظاہرین سے درخواست کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ مظاہرین کو دھرنا ختم کرنے کے لیے نہیں کہہ رہے بلکہ صرف روڈ کی دوسری جانب کرنے کو کہہ رہے ہیں تاکہ ٹریفک بحال ہو جائے۔

وہی لہجہ برقرار رکھتے ہوئے رینجرز کے افسر مظاہرین سے کہتے ہیں کہ ‘آپ میرے بھائی ہیں، دھرنا ختم کرنا نہیں چاہتا لیکن دھرنا سائیڈ پر کر دیں۔’

اس پر مظاہرین میں سے ایک شخص ان سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ ’آپ ہمیں ہٹانے آئے ہیں‘ لیکن رینجرز کے افسر جواب میں کہتے ہیں کہ ‘آپ کو ہٹانے ہرگز نہیں آئے ہیں، آپ کا عزم، بہت اچھا ہے، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں کو تکلیف نہ دیں جو عام لوگ ہیں۔’

سوشل میڈیا ردعمل

سوشل میڈیا پر جہاں بعض صارفین اس پورے معاملے پر تنقید کرتے ہوئے دکھائی دیے وہیں کچھ لوگ ایسے بھی تھے جنھوں نے فوجی اہلکاروں کے رویے کی توجیہہ پیش کی۔

صارف ندیّا اطہر اسی ویڈیو پر ایک تبصرہ کرتے ہوئے اس حوالے سے سوال اٹھاتے ہوئے نظر آئیں کہ کیا ویڈیو میں نظر آنے والے لوگ واقعی فوج کے ہی اہلکار ہیں؟

اُنھوں نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ سب کچھ خادم حسین رضوی کے بیٹے کو لیڈر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے جس کا مقصد ’مسلم لیگ (ن) کا ووٹ بینک توڑنا ہے‘۔

اسی طرح ایک اور صارف ثاقب علی صدیقی نے کہا کہ فوج کا قافلہ ایک مشق سے واپس آ رہا تھا اور یہ گاڑی ٹی ایل پی کے مظاہرے میں پھنس گئی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ فوجی اہلکاروں کے پاس بھاری اسلحہ تھا اور اُن کی تربیت یہ ہوتی ہے کہ ’حاضر دماغی اور عام فہم‘ استعمال کیا جائے اور مسئلے والی جگہ سے باہر نکل جایا جائے۔

اُنھوں نے نشاندہی کی کہ ایک فوجی اہلکار پیدل وہاں سے جاتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔

خرّم ذاکر نامی صارف نے کہا کہ بظاہر سعد رضوی کا تعارف کروانا مقصد تھا جس سے اب پورے ملک کو اُن کے نام کا علم ہو گیا ہے۔

محمد عباد نامی صارف نے لکھا کہ ہنگامہ آرائی کے دوران جب لوگ مظاہرہ کر رہے ہوں تو فورسز کے اہلکار محفوظ راستہ حاصل کرنے کے لیے ایسے ہی کرتے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ مظاہرے کی حمایت کر کے محفوظ رہا جا سکتا ہے۔

مشتعل ہجوم کے سامنے کیسا رویہ رکھنا چاہیے؟

ان دونوں ویڈیوز کے سامنے آنے کے بعد سے ریاست کے کردار پر زور و شور سے بحث جاری ہے۔

ممکنہ طور پر اس کی وجہ ماضی میں ہونے والے واقعات ہیں جب 2017 میں پاکستان مسلم لیگ نواز کے دور حکومت میں فیض آباد پر ہونے والے دھرنے کا خاتمہ کرانے کے لیے معاہدے میں ثالثی کا کردار اس وقت آئی ایس آئی میں تعینات میجر جنرل فیض حمید نے کیا تھا۔

اس کے بعد جو ویڈیوز سامنے آئی تھیں اس میں دیکھا جا سکتا تھا کہ رینجرز سے تعلق رکھنے والے ایک افسر نے مظاہرین کو نقد رقم فراہم کی اور ان کو اپنی حمایت کا یقین دلایا تھا۔

جنرل حیات رقم تقسیم کرتے ہوئے

BBC
نومبر 2017 میں وردی میں ملبوس فوجی افسر نے فیض آباد دھرنے کے شرکا میں رقوم تقسیم کی تھیں

اس بار سامنے آنے والی ویڈیوز پر بھی صارفین نے تبصرے کیے کہ اس طرح کے رویے سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی سلامتی کے ادارے اس نوعیت کے مظاہروں کے خلاف کارروائی اس لیے نہیں کرتے کیونکہ وہ اس کی حمایت کرتے ہیں۔

بی بی سی نے جب ان خدشات کے بارے میں سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی امور کے ماہر سلمان طارق سے سوال کیا تو ان کا کہنا تھا کہ مشتعل ہجوم کی صورت میں سب سے پہلی چیز جس پر توجہ دینی چاہیے وہ ہے کہ معاملات کو ٹھنڈا کیا جائے۔

اس بارے میں ان کا کہنا تھا کہ ہمارے امن نافذ کرنے والے اداروں کے پاس ایسی سہولیات ہونی چاہیے کہ وہ مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے رابطے قائم رکھیں اور ان سے ایک رشتہ قائم کریں۔

لیکن دوسری جانب سلمان طارق نے پولیس کی حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر پولیس نے ٹی ایل پی رہنما کو حراست میں لینے کا منصوبہ بنایا تھا تو ان کو یہ بھی سوچنا چاہیے تھا کہ ان کی جماعت کے لوگ مشتعل ہوں گے اور رد عمل دیں گے، تو اس کے لیے انھوں نے کیا انتظامات کیے۔

دونوں ویڈیوز میں فوجی اہلکاروں کے رویے کے بارے میں کیے گئے سوال پر سلمان طارق کہتے ہیں کہ دونوں ویڈیوز میں یہ واضح تھا کہ فوجی اہلکار بہت ہی مشتعل ہجوم کے درمیان تھے اور انھیں انتہائی احتیاط سے قدم لینے کی ضرورت تھی۔

گاڑی میں نعرے بازی کرنے والے فوجیوں کی ویڈیو کے بارے میں سلمان طارق کہتے ہیں کہ ‘میرا خیال ہے کہ انھوں نے یہ اپنی جان بچانے کے لیے کیا تھا۔ یہ معمول کی بات ہے اور ان حالات میں یہی کرنا چاہیے۔ انھوں نے ہجوم کے ساتھ نعرے بازی کی اور حفاظت سے وہاں سے نکل گئے۔’

دوسری ویڈیو پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے سلمان طارق کا کہنا تھا کہ اس میں اگر دیکھا جائے تو رینجرز کے افسر کی نیت ایسی نہیں لگ رہی کہ وہ مجمع کو کسی طرح بھی اکسا رہے ہیں۔

‘ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ وہ ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔ اگر ویڈیو میں دیکھیں تو یہ واضح ہے کہ وہ ان کو کہہ رہے ہیں کہ مجھے میں ناموسِ رسالت عزیز ہے اور میں اس پر یقین رکھتا ہوں، لیکن آپ دھرنا دوسری جانب کر لیں۔’

‘حکومت کا اپنی رٹ قائم کرنے میں شدید فقدان نظر آ رہا ہے’

نومبر 2018 میں آسیہ بی بی کے خلاف کیے گئے دھرنے میں ٹی ایل پی نے حکومت کو معاہدہ کرنے پر مجبور کر دیا تھا لیکن اس دھرنے کے دوران فوجی قیادت کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے گئے تھے، اور معاہدے کے چند روز بعد جماعت کے مرکزی رہنما اور سعد رضوی کے والد خادم حسین رضوی سمیت بڑی تعداد میں کارکنان اور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔

اس پر یہ سوال ذہنوں میں اٹھتا ہے کہ اگر ماضی میں اس جماعت کو قابو میں رکھنے کے لیے اس طرح کا قدم لیا گیا تھا تو ریاست بار بار انتشار پھیلانے والوں کے خلاف سخت اقدامات کیوں نہیں کرتی۔

سلمان طارق کا اس بارے میں کہنا تھا کہ یہ بہت واضح ہے کہ حکومت کے پاس حکمت عملی اور فیصلہ سازی کی کمی ہے اور اس سے ان کی کمزوری عیاں ہے۔

‘پالیسی اور حکمت عملی کمزور ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ امن و امان قائم کرنے والے اداروں کے پاس ان حالات سے نمٹنے کے لیے کوئی منصوبہ ہے یا نہیں۔’

ان کا کہنا تھا کہ ان حالات کے لیے حکومت کو اعلی ترین سطح پر فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔

‘بنیادی بات یہ ہے کہ اس کا فیصلہ سب سے اعلی حکومتی سطح پر لیا جانا چاہیے کہ ان جماعتوں یا ایسے عناصر کے ساتھ کیسے نمٹا جائے۔ یہ پہلی بار نہیں ہوا ہے کہ شہروں کو بند کیا گیا ہے، لوگوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے، جانی نقصان بھی ہوا ہے۔ کون کرے گا اس کا ازالہ؟ کون لے گا اس کی ذمہ داری؟ حکومت کو ایک پختہ پالیسی اپنانی ہوگی۔ بدقسمتی سے حکومتی رٹ نافذ کرنے کے لیے قوت ارادی نظر نہیں آ رہی۔’

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18809 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp