موٹاپے کے اثرات اور اس کا سدباب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موٹاپا تمام بیماریوں کی جڑ ہے۔ اسی لیے اسے ام الامراض بھی کہا جاتا ہے کہ اگر موٹاپا طاری ہو گیا تو دمے کی شکایت بھی ہو سکتی ہے، دل کے لئے مسئلے کا باعث ہو سکتا ہے کہ پہلے جس سائز کا دل خون پہنچا رہا تھا،  اب اس سائز میں اضافہ ہو چکا ہے۔ اسی طرح زیادہ وزن کی وجہ سے ہمارے جوڑ جو کہ پہلے ایک مخصوص وزن اٹھا رہے تھے اب وزن زیادہ ہو گیا تو جوڑوں میں درد کی کیفیت تک بات پہنچ جاتی ہے۔ اضافی جسمانی چربی جوڑوں کے امراض کی ذمہ دار ہوتی ہے، طبی ماہرین کے مطابق جسمانی وزن زیادہ بڑھ جانے سے گھٹنوں، کہنی اور ٹخنوں کے جوڑ پر بوجھ زیادہ بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں تکلیف دہ مرض لاحق ہو جاتا ہے۔

اسی طرح نظام ہاضمہ کے مسائل سامنے آتے ہیں اور جگر تک بلکہ جگر کے فیٹی لیور (چربیلا جگر) تک بات جا پہنچتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ نیند کے مسائل سامنے آتے ہیں اور پھر آنتوں میں رکاوٹوں کے مسائل آتے ہیں، قبض ہوتا ہے اور بہت سے افراد جو موٹے ہوتے ہیں، ان میں سے اکثریت بواسیر کا شکار ہو جاتی ہے۔ اور پھر شوگر یعنی ذیابیطس اور موٹاپے کے درمیان تعلق کو تو سب ہی جانتے ہیں۔

انسولین وہ ہارمون ہے جو گلوکوز کو دوران خون سے باہر منتقل کرتا ہے، موٹاپے کے شکار افراد میں یہ کبھی کام کرتا ہے، کبھی نہیں، اس کے نتیجے میں خون میں گلوکوز جمع ہونے لگتا ہے، جو وقت گزرنے کے ساتھ مختلف طبی مسائل بالخصوص ذیابیطس ٹائپ ٹو کا باعث بن جاتی ہے۔ ریسرچ کے مطابق موٹاپا کئی طرح کے کینسر پیدا ہونے کے رسک کو بھی بڑھا دیتا ہے۔ یہ وہ مسائل ہیں جو موٹاپے کے مرض کے ساتھ سامنے آنا شروع ہو جاتے ہیں اور اس میں خواتین اور مرد دونوں یکساں طور پر شکار ہوا کرتے ہیں۔

خواتین میں خاص طور پر ہر دس سینٹی میٹر پیٹ کی چربی میں اضافہ آٹھ فیصد تک موت کے خطرے میں اضافہ کر دیتا ہے جبکہ مردوں میں ہر دس سینٹی میٹر پیٹ کی چربی میں اضافہ موت کا خطرہ بارہ فیصد تک بڑھا دیتا ہے۔

سو پہلے بات کرتے ہیں۔ خون میں چکنائی کی۔ کولیسٹرول خون میں چربی کو کہا جاتا ہے، جو کہ جگر قدرتی طور پر بناتا ہے۔ کولیسٹرول کا کچھ حصہ اس غذا سے آتا ہے جو ہم کھاتے ہیں۔ مختلف طبی تحقیقی رپورٹس میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ موٹاپے کا شکار ہونے پر بلڈ کولیسٹرول اور بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے، جس کے نتیجے میں امراض قلب اور فالج کا خطرہ بھی بڑھتا ہے۔

پھر موٹاپے کا ایک اور اثر ہے آدھے سر کا درد یا مائیگرین اور اس سے ملتی جلتی علامات: درحقیقت یہ سب اعصاب میں ورم کا نتیجہ ہوتی ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق جب جسم میں چربی کی سطح بڑھنے لگتی ہے تو اس کے نتیجے میں سر کی جانب آکسیجن ملے خون کی روانی متاثر ہوتی ہے، جو اس عارضے کا باعث بنتی ہے۔

پھر ہے آرتھرائیٹس۔ جسم میں اضافی چربی اعضا اور جوڑوں پر غیرضروری بوجھ بڑھاتی ہے اور اسے برداشت کرنے کے لیے انہیں زیادہ محنت کرنا پڑتی ہے، اس جسمانی تناؤ اور دباؤ کے نتیجے میں بڑھاپے کی جانب سفر بہت تیز ہو جاتا ہے اور متاثرہ فرد درمیانی عمر میں ہی بوڑھا نظر آنے لگتا ہے۔

موٹاپے کا نتیجہ دماغی امراض بھی ہو سکتے ہیں : کیونکہ یہی اضافی جسمانی چربی کولیسٹرول کی سطح بڑھاتی ہے، جو کہ دماغی خلیات کی تنزلی کی رفتار بڑھانے والا عنصر ہے، جس سے یادداشت متاثر ہوتی ہے بلکہ ڈیمینشیا اور الزائمر جیسے امراض کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔

اسی کے ساتھ گردوں میں پتھری بھی ہو سکتی ہے : سارا دن بیٹھ کر گزارنے کی طرز زندگی، موٹاپا، زیادہ قد کے اعتبار سے زیادہ وزن، کمر کا بڑا سائز اور وزن میں اضافہ آپ کے لیے گردوں میں پتھریاں ہونے کا خدشہ بڑھا دیتے ہیں۔

کینسر کا رسک بھی بڑھ جاتا ہے : جسمانی چربی زیادہ ہونے سے مثانے کے غدود بھی پھیل جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں کینسر زدہ خلیات کی نشوونما وہاں ہونے کا خطرہ ہوتا ہے اور یہ مردوں میں عام اور جان لیوا کینسر ہے۔

جسمانی وزن میں اضافہ کسی فرد کی جانب سے ناقص غذا کے استعمال کا عندیہ بھی دیتا ہے، کچھ مقدار میں چربی صحت کے لیے اچھی اور ضروری ہے تاکہ جسمانی اعضاء مناسب طریقے سے کام کر سکیں، مگر بہت زیادہ چربی کھانے کے نتیجے میں آنتوں کے لیے اسے پراسیس کرنا ناممکن ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے قبض کا مرض اکثر شکار بنانے لگتا ہے۔

ایسی حاملہ خواتین جو موٹاپے کا شکار ہوں، ان میں ہائی بلڈ پریشر، خون کی روانی رک جانے اور بچے کی پیدائش کے لیے آپریشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔

یاد رکھیں! موٹاپا ختم کرنے کا کوئی شارٹ کٹ نہیں، کوئی آسان راستہ نہیں اور اگر آپ کسی کے منہ سے سنیں یا اشتہار میں دیکھیں کہ کوئی ایسا وعدہ کر رہا ہے جس سے آپ دنوں اور ہفتوں میں آئیڈیل وزن حاصل کر لیں گے تو ہوشیار ہو جائیں۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ یہ عشق نہیں آسان۔

سو موٹاپے کا علاج اور ایک صحت مند، اکہرا، چست اور کم عمر بدن منزل نہیں بلکہ ایک عمر بھر کے سفر کا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک دفعہ جب آپ اپنے ڈائٹ پلان اور ورزش کے بعد اپنا آئیڈیل وزن حاصل کر لیں ، اس کے بعد بھی بے احتیاطی نہیں کر سکتے۔ موٹاپے کو کم کرنے میں ورزش سے تیس فیصد تک وزن کو کم یا کنٹرول کیا جا سکتا ہے جب کہ وزن کو کم یا کنٹرول کرنے میں ستر فیصد ہاتھ ہماری خوراک کا ہوتا ہے۔ یہاں ہم کچھ اہم ترین ٹپس کا ذکر کریں گے جن کی مدد سے آپ اپنا وزن کامیابی سے کم کر سکتے ہیں۔

شکر کا استعمال بند کر دیں : وزن کو کم کرنے کے لیے سب پہلے اپنی خوراک سے شکر اور نشاستہ (یعنی اسٹارچ) جیسے کاربوہائیڈریٹس کو نکال دیں، ایسا کرنے سے آپ کی بھوک میں کمی ہو گی جس کی وجہ سے آپ کم سے کم کھائیں گے۔ بجائے اس کے کہ آپ گھنٹوں جم میں محنت کریں اور پیسے بھی خرچ کریں، آپ اپنے جسم کو دی جانے والی خوراک کا جائزہ لیں، اگر آپ اپنی خوراک سے کاربوہائیڈریٹس کو کم کر دیں گے تو آپ کا جسم اس چربی کو استعمال کرنے لگتا ہے جو کہ جسم میں جمع ہوتی ہے۔

پانی زیادہ پئیں : زیادہ سے زیادہ پانی پینے سے جسم تر و تازہ رہتا ہے اور پانی کی زیادہ مقدار آپ کو کم سے کم بھوک محسوس کرواتی ہے، اگر آپ دن بھر پانی کا زیادہ استعمال کریں گے تو آپ کو زیادہ بھوک محسوس نہیں ہو گی۔ کھانا کھانے سے پہلے پانی پینے سے موٹاپا جلد کم ہوتا ہے۔ کوشش کریں کہ کھانا کھانے سے پہلے پانی پئیں نہ کہ کھانے کے بعد ۔ اسی طرح کھانا کھانے سے پہلے تربوز کھانا پیٹ کو صاف کر دیتا ہے اور اگر تربوز نہ ملے تو خربوزہ، پپیتا، سردہ، گرما ان میں سے کوئی سا بھی پھل کھانے سے پہلے کھا لیں (کم از کم ڈیڑھ گھنٹے پہلے ) تو پیٹ کے اندر موجود چربی کو کم کرنے کا باعث بنتا ہے جس سے پیٹ کم ہوتا ہے اور وزن بھی کم ہو جاتا ہے۔

جب تک بھوک نہ لگے کبھی نہ کھائیں اور سیر ہونے سے پہلے، پیٹ بھرنے سے پہلے ہاتھ روک دیں۔

 ورزش کریں: ہفتے میں پانچ دن روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ اور ایسی ورزش جس سے سانس پھولے، دل کی دھڑکن تیز ہو اور پسینہ آئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *