تحریک لبیک کے کارکنوں کی گرفتاریاں، پولیس نے مرکزی شاہراہیں خالی کروا لیں، نظامِ زندگی بحال ہونے لگا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


پولیس

Reuters

مذہبی جماعت تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنوں کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں پیر سے جاری پرتشدد مظاہروں میں کمی کے بعد بدھ کو حالات میں بہتری نظر آ رہی ہے اور مختلف علاقوں میں حکام نے بند راستے کھلوا لیے ہیں اور نظامِ زندگی بحال کیا جا رہا ہے۔

دو روز قبل جماعت کے سربراہ سعد حسین رضوی کی گرفتاری کے بعد سے تحریکِ لبیک کے کارکنان نے ملک بھر میں احتجاج شروع کر دیا تھا، جس کے نتیجے میں کم از کم دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت ہوئی۔

گذشتہ شب پولیس نے لاہور اور کراچی میں سعد رضوی سمیت دیگر رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف متعدد مقدمات درج کر لیے ہیں۔ یہ مقدمات قتل، اقدام قتل کی دفعات کے علاوہ امنِ عامہ کے آرڈیننس اور انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت درج کیے گئے تھے۔

اسلام آباد میں بدھ کی صبح وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کی زیر صدارت امن و امان کی صورتحال پر اجلاس منعقد کیا گیا جس میں وفاقی وزیر مذہبی امور نور الحق قادری کے علاوہ سکریٹری داخلہ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس میں مذہبی جماعت کی جانب سے احتجاج کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا جہاں وزیر داخلہ نے شرکا سے کہا کہ ریاست کی رٹ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے اور اس عزم کا اظہار کیا کہ قانون ہاتھ میں لینے والوں سے سختی سے نمٹا جائے گا۔

وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے اجلاس میں ہلاک ہونے والے پولیس کے جوانوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

اسی حوالے سے مزید پڑھیے

سعد حسین رضوی، دیگر ٹی ایل پی رہنماؤں کے خلاف دہشتگردی، قتل کے مقدمے درج

تحریک لبیک کی وائرل ویڈیو اور فوجی اہلکار: مشتعل ہجوم کے سامنے کیسا رویہ رکھنا چاہیے؟

کانسٹیبل محمد افضل اور علی عمران کی ہلاکت: ’بول دینا ہم ہار آئے جان فرض ادا کرتے کرتے’

اسلام آباد

شہر کے ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات نے صبح اپنی ٹویٹ میں کہا کہ اسلام آباد کے تمام داخلی و خارجی راستے اور اندرون شہر موجود شاہراؤں کو کلئیر کر دیا گیا ہے جبکہ حکام کے مطابق راولپنڈی کے لیاقت باغ روڈ اور فیض آباد کے علاقوں کو بھی کلیئر کر دیا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر شئیر کی گئی ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فیض آباد کے میٹرو بس کے ٹریک پر پولیس حکام ٹی ایل پی کے گرفتار کارکنوں کی پریڈ کروا رہے ہیں جن کے بارے میں ذرائع کا بتانا ہے کہ آج صبح سحری کے بعد ان عناصر کے خلاف آپریشن کیا گیا تاکہ ٹریک پر سے ان کا قبضہ ختم کرایا جا سکے۔

https://twitter.com/Qarar009/status/1382215935633858560

کراچی

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے تمام راستے اور سڑکیں کھل گئی ہیں اور معمول زندگی بحال ہوگئے ہیں۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق تحریک لبیک پاکستان کی جانب سے بلدیہ حب ریور روڈ اور نادرن بائی پاس پر دھرنے جاری تھے لیکن گزشتہ شام سے لیکر رات گئے تک پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں جاری رہیں اور اس کے بعد بلدیہ کا دھرنا بھی ختم ہوگیا۔

اس سے قبل رینجرز کے ڈی جی میجر جنرل افتخار حسن چوہدری کی صدارت میں اجلاس منعقد کیا گیا جس میں کراچی میں تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کے باعث پیدا کردہ امن و امان کی صورتحال اور سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔

اس اجلاس میں وہ تمام اقدامات زیر بحث آئے جن کے ذریعے حکومتی احکامات اور ہدایات کو بروئے عمل لایا جا سکے۔

اجلاس میں مذہبی جذبات کو سیاسی استعمال سے روکنے کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دی گئی اور اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ تمام قانونی ذرائع کے استعمال کے ذریعے عام آدمی کو کسی قسم کی ایسی تکلیف اور پریشانی سے بچایا جائے جو شاہراہوں، کاروبار اور ٹرانسپورٹ کے بند ہونے سے پیدا ہو سکتی ہیں۔

مظاہرہ

BBC

لاہور

لاہور کے کم از کم دس علاقوں تحریکِ لبیک پاکستان کے کارکنان کی جانب سے دو روز سے جاری مظاہروں کے باعث ابھی بھی بند ہیں اور ٹریفک معطل ہے۔

دوپہر ساڑھے بارہ بجے تک پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مطابق لگ بھگ دس مقامات پر سڑکیں احتجاج کی وجہ سے بند ہیں جہاں سے ٹریفک کو متبادل راستہ اختیار کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

https://twitter.com/PSCAsafecities/status/1382233904942288899

ان میں یتیم خانہ چوک، داروغہ والا، چونگی امر سدھو، کماہاں روڈ، شنگھائی پل، سکیم موڑ، مانگا منڈی ملتان روڈ، شاد باغ، بھٹہ چوک، بتی چوک، گرول گھاٹی وغیرہ شامل ہیں۔

تاہم پولیس کے مطابق یتیم خانہ چوک، شنگھائی پل، چونگی امر سدھو، سکیم موڑ اور داروغہ والا میں حالات زیادہ کشیدہ تھے جہاں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کئی افراد زخمی ہوئے تھے۔

لاہور ٹریفک پولیس کے مطابق ان مقامات پر مظاہرین نے رکاوٹیں کھڑی کر کے سڑکوں کو بند کر رکھا ہے۔

پولیس کے مطابق شنگھائی پل چونگی امر سدھو میں مظاہرین کی تعداد سو سے زیادہ تھی جہاں مظاہرین میں شامل افراد نے میٹرو بس کے ٹریک سے ٹائل اکھاڑ کر پتھر تیار کیے تھے جو پل کے اوپر سے بھی پولیس پر برسائے جا رہے تھے۔

مظاہرہ

BBC
اسلام آباد کے علاقے بھارہ کہو میں تعینات پولیس کی نفری

ٹریفک پولیس کے مطابق شاہدرہ چوک میں سے رکاوٹیں ہٹائی جا رہیں تھیں جہاں رینجرز کا ایک دستہ بھی تعینات تھا اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے ٹریفک وارڈن بھی موجود تھے۔

اس علاقے میں دکانداروں کو دکانیں کھولنے کی ہدایات بھی دی گئیں ہیں۔

لاہور انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ گذشتہ رات پولیس نے رینجرز کی مدد سے کئی علاقے مظاہرین سے خالی کروا لیے تھے تاہم جہاں کشیدگی زیادہ دیکھنے میں آئی وہاں تاحال سڑکیں بند تھیں۔

دوسری جانب بدھ کو پولیس تحریکِ لبیک پاکستان کے سربراہ حافظ سعد حسین رضوی کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالت کے سامنے پیش کرے گی جہاں ان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کی استدعا کی جائے گی۔

یاد رہے کہ گذشتہ شب سعد رضوی کے خلاف تھانہ شاہدرہ میں قتل، اغوا اور انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

پولیس

EPA

بلوچستان کے مخلتف علاقوں کی صورتحال

بلوچستان میں تحریک لبیک پاکستان کے احتجاج کے پہلے اور دوسرے روز جن علاقوں میں شاہراہیں بند کی گئی تھیں وہاں بدھ کو تیسرے روز صورتحال معمول پر ہے ۔

بلوچستان میں پہلے اور دوسرے روز خضدار، حب، نصیر آباد اور سبی میں احتجاج ہوا تھا اور سبی کے سوا باقی علاقوں میں قومی شاہراہوں کو بند کیا گیا تھا ۔

بلوچستان میں سب سے زیادہ پر تشدد احتجاج خضدار میں ہوا تھا جہاں تحریک لبیک پاکستان کا ایک کارکن ہلاک ہوا تھا ۔

تاہم گذشتہ روز کامیاب مذاکرات کے بعد مظاہرین نے کوئٹہ کراچی ہائی وے سے رکاوٹوں کو ختم کر دیا۔

خضدار سٹی پولیس سٹیشن کے ایس ایچ او گل حسن نے بی بی سی کے نامہ نگار محمد کاظم کو بتایا کہ خضدار شہر میں آج کوئی احتجاج نہیں ہورہا ہے اور کوئٹہ کراچی شاہراہ کلیئر ہے۔

انھوں نے بتایا کہ دھرنے کے شرکا کے مطالبے پر ان کے کارکن کی ہلاکت کا مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے لیکن پولیس کی جانب سے دھرنے کے شرکا کے خلاف مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔

قومی شاہراہوں کی صورتحال

نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کی جانب سے آج صبح کی صورتحال کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ موٹر ویز کھلی ہوئی ہیں لیکن سینٹرل زون میں قومی شاہراہ مختلف مقامات پر احتجاج کے باعث بند ہے۔

https://twitter.com/NHMPofficial/status/1382229541595324419

راستے بند ہونے سے متاثر ہونے والے کیا کر رہے ہیں؟

ان مظاہروں سے جہاں ملک کے مخلتف شہروں میں سڑکیں بند اور نظام زندگی متاثر ہوا ہے، وہاں سب سے زیادہ مصیبت کا شکار وہ مریض ہیں جو ہسپتال تک رسائی حاصل نہ کر سکے ہیں۔

گاڑی نہ ملنے اور راستوں کی بندش کی وجہ سے لوگ کئی کئی گھنٹوں کے انتظار کے بعد مایوس ہو چکے ہیں۔

سوشل میڈیا پر ایسی ویڈیوز بھی شیئر کی گئیں جہاں لوگ اپنی گاڑیوں سے اتر تحریک لبیک کے کارکنوں سے کہہ رہے ہیں کہ وہ انھیں جانے کا راستہ دیں لیکن ان کی شنوائی نہیں ہوتی۔

ستر سالہ محمود ڈار اس انتظار میں ہیں کہ وہ اپنے دل کا علاج کروا سکیں۔ انھیں حال ہی میں دل کا دورہ ہوا ہے اور دل کے تین والو بند ہیں جس پر ڈاکٹرز نے انھیں فوری طور پر بائی پاس کروانے کا کہا۔

لیکن بی بی سی سے آج صبح بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ وہ جہلم شہر میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور دو گھنٹوں کا سفر اس لیے نہیں طے کر پا رہے کیونکہ راستے بند ہیں۔

دوسری جانب ایک اور شخص نے بتایا کہ ان کی بہن ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر ہیں لیکن ہسپتال انتظامیہ کا کہنا ہے کہ مظاہروں کی وجہ سے آکسیجن کا بہت کم سٹاک باقی رہ گیا ہے کیونکہ آکسیجن سلنڈر روات میں پھنسے ہوئے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18809 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp