ماں کا بیٹے سے مکالمہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماں

رب کی ذات نے جیسے ان تین حروف میں اپنی قدرت کا اظہار کیا ہے۔ دنیا میں یہ ہستی انسان کا پہلا تعارف قرار پائی۔ ماں اس تخلیق میں رب کی ساجھے دار ہوتی ہے۔ وہ دنیا میں آنے کے بعد کئی آفاقی حقیقتوں سے پردہ اٹھاتی اور اپنی محبتوں کی آغوش میں لے کر بندے کو اس کے ذمے کام سمجھاتی ہے۔

یہ شاید اس کی سرشت میں ڈال چھوڑا ہے کہ وہ اپنی اولاد کی خاطر کچھ بھی کر گزرنے کو تیار رہتی ہے۔ بندہ جان ہی نہیں پاتا کہ وہ کہاں کہاں سے اس کی بھلائی کے اسباب ڈھونڈ لاتی ہے، یہ بھی اس ذات کی ماں سے معاونت کا خفیہ معاہدہ ہو۔

ماں نے دنیا سے تعلق بنانے کے گر سکھانے ہوتے ہیں، بندہ بھول جائے وہ ہستی اپنا پیار نچھاور کرنا کبھی فراموش نہیں کرتی۔ یہ اس کی فطرت میں شامل نہیں۔ وہ ہر پل اولاد کا بھلا چاہتی ہے۔ سانس آخری بھی چل رہے ہوں ، ماں اپنے فرض سے روگردانی کا سوچ بھی نہیں سکتی۔ بچے بڑے ہو جائیں حتیٰ کہ بڑی باتیں بھی سیکھ جائیں ، وہ اس کی شفقت کے انکاری ہو جائیں ، ماں کی الفت میں کمی یا کوئی غفلت ممکن ہی نہیں۔

نہ جانے کیوں دو دہائیاں گزر گئیں ، اس ہستی سے دنیوی تعلق سے محروم ہوئے وہ ممتا ہے یا رب کا باندھا بندھن جو مجھے ماں سے جوڑے رکھتا ہے۔ شاید یہی رب تک بھی رابطہ بناتا ہے۔ بچپن سے جوانی اور اب بڑھاپے کی دہلیز پر قدم جما لینے کے باوجود نہ جانے پلٹ کر نگاہیں اور احساس وہی گود اور لمس کیوں محسوس کرتا ہے۔ یاد کی کتاب کا ہر صفحہ ماں کی محبتوں کی گواہی دیتا ہے۔ میں کسی نہ کسی بہانے اس سے ملنے نکل جاتا ہوں۔ وہ مجھ سے باتیں کرتی اور میرے کبھی بھول جانے کا شکوہ نہیں کرتی۔

آج میں نے ماں سے کہا تم اس جہان کو چھوڑ کر چلی گئی ، کبھی دیکھا ہم اپنا کام ٹھیک سے کر پا رہے ہیں۔ وہ بولی بیٹا یہ ہو نہیں سکتا میں تم بچوں سے غافل ہو جاؤں، رب نے تمہاری نگہداشت کا مجھے ذمہ سونپ دیا۔ اب وہ بھی ساجھے دار ہے۔ ہمارا تعلق کسی غفلت کے نتیجے میں ٹوٹ نہیں سکتا ، اس میں علیحدگی قطع تعلقی کا تصور بھی نہیں۔ تم مجھے یاد کرو یا نہ۔ میں تمہاری مرنے تک خیرخواہی کی طلب گار رہوں گی۔

Latest posts by نعمان یاور (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 86 posts and counting.See all posts by nauman-yawar

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *