کنفیشن باکس میں لکھی تحریر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج ایک دوست کی وال پر ایک انتہائی دلگداز پوسٹ دیکھی جس میں انہوں نے اپنی ایک دوست کے ہمیشہ کے بچھڑ جانے کی کہانی بیان کی ہے۔ یہ واقعہ کوئی بیس سال پرانا ہے مگر اس کی کسک ان کے دل میں اس حوالے سے آج تک ہے کہ وہ کوئی اہم بات کہنا چاہتی تھی مگر وقت نے انہیں اتنی مہلت نہیں دی کہ وہ اس کی بات سن پاتیں کیونکہ امیگریشن کے بعد اس سے کبھی مل نہ سکیں۔ اور وہ وہاں چلی گئی جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔

انسان بہت سی باتوں کا زندگی میں اعتراف نہیں کرتا۔ ہم سب کی زندگیوں میں کوئی نہ کوئی ایسا ضرور ہوتا ہے جو انمٹ نقوش چھوڑ جاتا ہے۔ انتہائی مخلص اور ہمدرد، ہم سے بے غرض محبت کرتا ہے، دکھ درد کا ساتھی مگر ہم اس محبت کا کبھی خاطر خواہ جواب نہیں دے پاتے۔ جانتے بھی ہیں، سوچتے سمجھتے بھی ہیں مگر زندگی کا گورکھ دھندہ اتنا الجھا کے رکھتا ہے کہ ہم ان کی محبت کا جواب ٹالتے رہتے ہیں مگر وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا، یہ اپنی چال سے چلتا ہے۔ جب مہلت ختم ہو جائے تو وقت کے رسیور سے فقط ایک ہی آواز آتی ہے کہ معزز صارف یہ مطلوبہ سہولت اب آپ کو میسر نہیں۔ ایسا حساس انسان اس دنیا کا نہیں ہوتا، بہت جلد چلا جاتا ہے۔ جو رہ جاتے ہیں تو یہ سفاک دنیا انہیں اتنے زخم لگاتی ہے کہ وہ اندر ہی اندر مرتے رہتے ہیں۔

آج کی خود غرض دنیا میں ایسے دوست قصۂ پارینہ ہو چکے ہیں۔ اب لوگ صرف مطلب اور سوشل ضروریات کے تحت تعلق رکھتے ہیں۔ ہماری جنریشن کا دل اب بھی ان دنوں کو اور ان لوگوں کو ڈھونڈتا ہے جن کے چہرے وقت کی دھول میں کہیں پر گم ہو گئے ہیں۔ اگر کوئی دوست آپ سے کچھ کہنا چاہتا ہو تو آج کی بات کو کل پر مت ٹالیے کیونکہ ہم میں سے کسی کو پتہ نہیں کہ کل آئے گی یا نہیں۔ کل تو دور کی بات ہے یہاں تو اگلے پل کا پتہ نہیں، جو کچھ ہے بس آج ہی ہے اور ابھی ہے۔ بعد میں صرف پچھتاوے رہ جاتے ہیں جو تا زندگی پیچھے رہ جانے والوں کی روح کو کچوکے لگاتے ہیں، تازیانے برساتے ہیں۔ جینے کا ڈھنگ بھلا دیتے ہیں۔

زندگی کی بے ثباتی کا احساس کووڈ انیس کی وبا نے شدید تر کر دیا ہے۔ تیرہ مہینے ہو چلے ہیں گھر میں بند ہوئے۔ گھر کنکریٹ کی قبر کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ میں نے پچھلے چھ مہینے سے گھر سے قدم نہیں نکالا۔ جسم کے ہر عضو کو جیسے زنگ لگ گیا ہو۔ گھر کے افراد ایک دوسرے کی شکلیں دیکھ دیکھ کر بیزار ہو چکے ہیں۔ دیواریں اوپر گرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔ ہیں۔ موت کا فرشتہ فاسٹ فارورڈ موڈ میں ہے۔ کون جانے کب کس گھر میں دھاوا بول دے۔

میں نے سوشل میڈیا پہ جانا بہت کم کر دیا ہے۔ ہر طرف موت کی خبریں ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ مجھے موت سے ڈر لگتا ہے۔ میرا تو ایمان ہے کہ جو رات قبر کے اندر ہے وہ باہر نہیں۔ موت تو برحق ہے، ایک نہ ایک دن تو آنی ہے مگر بے بسی کی موت سے ڈر لگتا ہے۔ ایسی موت سے بہتر ہے کہ انسان خود کو زہر کا ٹیکہ لگوا کر چپکے سے مر جائے۔ یہاں ایسی سہولیات شاید موجود ہیں۔ اور اگر یہ سچ ہے تو میں ایسے ہی مرنا پسند کروں گی کیونکہ مجھے اپنے پیاروں کو عذاب میں مبتلا کرنا بالکل پسند نہیں۔ مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا پر حالات دیتے ہیں۔ ویسے بھی یہ ہمارا اور خدا کے درمیان کا معاملہ ہے۔ مجھے یقین کامل ہے کہ وہ اگر ناراض بھی ہو گا تو معاف ضرور کر دے گا۔

ایک کہاوت کے مطابق دنیا کی قریباً سات ارب کی آبادی میں میں چھ ہزار لوگ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ اگر یہ درست ہوتا تو مجھے چالیس سال کے عرصے میں کوئی مکمل تمہاری طرح سے کیوں نہ دکھا؟ جب کہ میں ملکوں ملکوں گھوم چکی ہوں۔ چند خصوصیات تو ایک جیسی ہو سکتی ہیں مگر کلی طور پر ایک جیسا ہونا ممکن نہیں۔ اس پوسٹ کو دیکھ کر آج تم بہت یاد آئے۔ میرا ذہنی انتشار اس وقت تک کم نہیں ہو گا جب تک تم ذہن کی بند الماری سے باہر نہیں آ جاتے۔ اور میں یہ کہہ نہیں دیتی کہ تم میرا حصہ تھے، ہو اور رہو گے بالکل اسی طرح جیسے اور لوگ میری زندگی کا حصہ ہیں۔ اور انہیں بھی اس حقیقت کو قبول کرنا چاہیے کیوں کہ ہم اپنے جسم کے حصے کاٹ کر پھینک نہیں سکتے۔ اپنی میموری اریز نہیں کر سکتے۔ اور اس حقیقت کو دیگر حقائق کی طرح بدلا نہیں جا سکتا۔

زیادہ تر کہانیاں انیس بیس کے فرق کے ساتھ ایک جیسی ہوتی ہیں۔ اس کہانی میں بھی شاید بہت سے لوگوں کو اپنا آپ دکھ جائے۔ سب سے پہلے میں نے جب اپنے کسی پیارے کی موت دیکھی تب میری عمر صرف سترہ سال تھی۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جب بہت سی باتوں کا ادراک نہیں ہوتا۔ سلیٹ بالکل صاف ہوتی ہے۔ بعد میں وقت اس پر بہت کچھ لکھتا رہتا ہے۔ بہت سے جذبے کنفیوز کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اس عمر تک دنیا کی چالبازیوں اور چالاکیوں سے واسطہ نہیں پڑا ہوتا۔

جو کچھ ہوتا ہے وہ خالص ہوتا ہے۔ اس عمر میں جو کچھ بیت جاتا ہے تا عمر ساتھ رہتا ہے۔ زندگی کی تختی پہ لکھی پہلی تحریر جانے کس انمٹ سیاہی سے لکھی جاتی ہے کہ مٹائے نہیں مٹتی۔ تمہارے جانے کے بعد کون سا عذاب تھا جو مجھ پر نہیں اترا ورنہ کون تین بار اپنی جان لینے کی کوشش کرتا ہے۔ پھر اس کے بعد زندگی ٹرانس میں چلی گئی، برسوں کیا ہوتا رہا پتہ ہی نہ چلا۔ جب ہوش آیا ہے تو زندگی کی شام ہو چلی ہے۔

ایسی کڑیل جوانی کی موت خدا کسی کو نہ دکھائے کہ کوئی بائیس سال کی عمر میں زندگی کا چراغ خود اپنے ہاتھ سے گل کر دے۔

ایسا کیا ہوا تھا سیدی کہ تم نے اتنا بڑا قدم اٹھا لیا؟

بہت سے سوالات ہیں جن کا آج تک جواب نہیں ملا۔ پوچھتی بھی تو کس سے کہ تمہارے علاوہ کسی کو جانتی بھی نہ تھی۔ جو اس ناگہانی کی خبر لایا تھا اور وعدہ کر کے گیا تھا کہ جیسے ہی کچھ پتہ چلے گا بتائیے گا۔ وہ خود کچھ عرصے بعد ایکسیڈنٹ کا شکار ہو گیا۔ اور یہ راز راز ہی رہا۔ آج بھی کبھی کبھی رات کے سناٹے میں دماغ میں گولی چلنے کی زوردار آواز آتی ہے تو میں گھبرا کر اٹھ جاتی ہوں، چاروں طرف خون ہی خون نظر آتا ہے۔ اور وہ رات شام غریباں کی طرح آنکھوں میں کٹ جاتی ہے۔

ہر طرف دھواں ہی دھواں ہوتا ہے اور صبح کے وقت بستر ٹوٹے ہوئے خوابوں کی کرچیوں اور سگریٹوں کی راکھ سے بھرا ہوتا ہے۔ کئی کئی دن اس کیفیت میں گزرتے ہیں۔ اس موت کا مجھ پر اتنا اثر ہوا تھا کہ میں ایک سال تک کالج نہیں جا سکی۔ کبھی بھی کہیں پر بھی فریز ہو جاتی تھی۔ ایک بار ریلوے ٹریک پر فریز ہو گئی تھی، سامنے سے آتی ہوئی ٹرین سے کیسے بچی کچھ یاد نہیں۔ بیٹھے بیٹھے آنکھوں سے آنسو رواں ہو جاتے تھے۔ نہ کھانا نہ پینا وزن گھٹ کر اسی پونڈ رہ گیا تھا۔ ڈاکٹر نے کہا کوئی گہرا صدمہ ہے۔ اکیومیلیٹڈ ڈپریشن ہے۔ ماحول کی تبدیلی سے بہتری ممکن ہے۔ ہم نے وہ شہر ہی چھوڑ دیا سیدی جس کے ہر چپے سے تمہاری یادیں وابستہ تھیں۔

جگہ کی تبدیلی نے اتنا اثر تو کیا کہ کم از کم زندگی گزارنے کے قابل کر دیا۔ تمہاری قبر کہاں ہے کچھ پتہ نہیں۔ اسی شہر میں ہوتی تو دل کو کچھ تو سکون آتا۔ کسی دوسرے شہر جا کر تمہاری قبر تلاش کرنا اتنی کم عمری میں ممکن نہیں تھا۔ شاید شمالی پنجاب کا کوئی ریموٹ علاقہ تھا۔ مگر سیدی تمہاری قبر میں نے دل میں بنا لی اور آج تک اس مرقد پر دیا جلانا نہیں بھولتا ہے اور کبھی بھولے گا بھی نہیں۔ مجھ میں جو کانفیڈنس ہے وہ تمہارا دیا ہوا ہے۔

کچھ رشتے ہمیں توانائی بخش دیتے ہیں۔ آج اگر میں کچھ الٹا سیدھا لکھ لیتی ہوں تو وہ تمہاری ہی بدولت ہے۔ تمہاری حیثیت میرے لیے ایک سایہ دار درخت کی سی تھی۔ تمہاری موجودگی میں مجھے کبھی کسی بھی قسم کا ڈر خوف محسوس نہیں ہوتا تھا۔ تمہارے ہیولے کی تمام تر تفصیلات مجھے آج تک یاد ہیں۔ پانچ فٹ گیارہ انچ کا قد، سانولی رنگت، عینک سے جھانکتی گہری براؤن رنگ کی آنکھیں، چوڑے شانے اور میں اتنی دبلی پتلی کہ با آسانی تمہارے پیچھے چھپ جاتی تھی۔ تم زندہ ہوتے تو زندگی آج کسی اور رخ ہوتی۔

لڑکوں کے کالج میں ہونے والی ڈبیٹ کے آخر میں ہونے والے ہنگامے سے مجھے کیسے بحفاظت باہر نکالا تھا۔ وہ واقعہ مجھے اب تک نہیں بھولا۔ جس دن تمہاری جیب میں پیسے زیادہ ہوتے تو ہمیشہ یہی کہتے کہ چلو ہانگ کانگ ریسٹورانٹ میں چائینیز سوپ پی کر آتے ہیں اور یہی ہماری سب سے بڑی عیاشی تھی۔ کالج بنک کر کے ہم نے کتنی فلمیں ساتھ دیکھیں۔ میں ہمیشہ سے اندھیرے سے گھبراتی تھی ڈر کے مارے تمہارا ہاتھ کس کر تھام لیتی تھی۔ تمہاری وہ سرگوشی اب بھی کانوں میں گونجتی ہے کہ ”اٹس اوکے“ ۔

اب بھی جب کبھی پریشان ہوتی ہوں تو خواب میں تمہارا مسکراتا ہوا چہرہ یہی کہتا ہے کہ اٹس اوکے تو تھوڑی دیر کے لیے من شانت ہو جاتا ہے۔ اب جب بھی کبھی سنیما ہال جانا ہوتا ہے تو ابتدائی پندرہ منٹ تک دل زور زور سے دھڑکتا ہے۔ اندھیرے سے اب بھی خوف آتا ہے، میں آج بھی مکمل اندھیرے میں نہیں سو سکتی۔ جب بہت پریشان ہوتی ہوں تو بیٹے کے بستر پر اس کے ساتھ جا کر لیٹ جاتی ہوں۔ وہ منہ سے کچھ نہیں کہتا، پتہ نہیں اسے کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ ماں شاید آج زیادہ پریشان ہے۔ وہ بھی تمہاری طرح کم گو ہے۔ وہ تمہارے جانے کے برسوں بعد پیدا ہوا ہے پر اس میں تمہاری جھلک آتی ہے۔

دوسری میری ہم نام جس سے میری ملاقات 1999 میں ہوئی اور پہلی ہی ملاقات میں ایسا لگا جیسے اس سے جنم جنم کا رشتہ ہو۔ جتنی میں سڑیل مزاج اتنی ہی وہ ہنس مکھ۔ زندگی کے پہاڑ جیسے دکھوں کو چھپا کر مسکرانا اس نے کہاں سے سیکھا تھا۔ کاش جاتے ہوئے اس جگہ کا پتہ بتا جاتی۔ یہ فن مجھے آج تک نہیں آیا۔ وہ کیسے یہ سب کر لیتی تھی اپنی سمجھ سے باہر ہے۔ اتنا ملیح اور مسکراتا چہرہ میں نے آج تک نہیں دیکھا۔ کم عمری کی شادی، ایک جن نما آدمی کے ساتھ گزارا کرنا، وہ بھی ایسے کہ زندگی کی گاڑی خود کھینچنا۔

پینتالیس سال میں بیوگی۔ لیور کا کینسر ہوا، بیماری کاٹی اور سنتالیس سال میں دنیا ہی چھوڑ دی۔ اس کی موت سے پہلے میں نے کال کی تو پتہ چلا بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ میرے گھر سے سی ویو کا فاصلہ صرف کوئی ڈیڑھ کلومیٹر سے زیادہ نہیں تھا پر مجھے اس کی موت کی خبر اس کے سوئم کے اگلے دن ملی۔ کس سے شکوہ کرتی؟ ہاتھوں کے کٹورے میں صرف آنسوؤں کے سوا کچھ بھی نہیں تھا۔ ہماری آخری ملاقات میں اس نے کوئی خوش خبری سنانے کا وعدہ کیا تھا جو کبھی وفا نہ ہوا۔ اب بھی جب کبھی کراچی جانا ہوتا ہے تو اس کی قبر پر حاضری ضروری ہوتی ہے۔

میں اپنے آپ سے لڑ لڑ کر تھک چکی ہوں، مزید نہیں لڑ سکتی۔ برسوں کا رکا ہوا ذہن اب آگے بڑھنا چاہتا ہے، جب زندگی کی شام ہونے لگتی ہے تو موت کے فرشتے کی دستک دروازے پر محسوس ہوتی ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ اندر آ جائے سکون کی ایک ہی صورت ہے کہ انسان کنفیشن باکس میں بیٹھ کر بہت سی باتوں کا اعتراف کر لے۔ اور زندگی کے صلح نامے پر دستخط کر دے۔ اس کے بعد جو ہو سو ہو۔ ایک وقت آتا ہے جب ہم اپنے آپ سے ڈرنا چھوڑ دیتے ہیں۔

وہ وقت شاید آ گیا ہے۔ مجھ میں اتنا حوصلہ کہاں سے آیا میں نہیں جانتی۔ میں اپنے کلازٹ میں چھپے ہوئے چہروں سے اب منہ نہیں چراتی بلکہ ان کا سامنا کرتی ہوں کیوں کہ زندگی کی کہانی ہمیں لکھی ہوئی ملتی ہے اور ہماری حیثیت صرف کرداروں کی سی ہے جنہیں اپنا پارٹ ہر حالت میں پلے کرنا ہے۔ اور ہم اپنا پارٹ صرف اسی صورت میں اچھی طرح ادا کر سکتے ہیں جب ہم اپنے آپ سے صلح کر لیں۔ اور یہ گر میں نے اپنی ہم نام سے سیکھا ہے۔ کلازٹ میں تو بہت کچھ بھرا ہے اور بھرتا رہے گا مگر فی الحال ابتدا اور انتہا یہی دونوں کردار ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *