وادی سندھ کی قدیم ہڑپائی تہذیب کے لوگ اور آریائی ڈی این اے کی جدید تحقیق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


راکھی گڑھی کے کھنڈرات بھارتی ریاست ہریانہ میں واقع ہیں۔ یہ پانچ ہزار سال پہلے آباد ہنستے بستے شہر کے کھنڈرات ہیں۔ یہ وادیٔ سندھ کی قدیم تہذیب، جسے سندھو۔ سرسوتی اور ہڑپائی تہذیب (Harappan Civilization) بھی کہا جاتا ہے کے عروج کے زمانے (Mature Harappan Phase) 2600۔ 1900 قبل مسیح میں ہڑپہ اور موہنجودرو کا ہم عصر شہر تھا۔ راکھی گڑھی کے کھنڈرات کی کھدائی 2005ء میں مکمل ہوئی تھی۔

یاد رہے دریائے سندھ اور دریائے سرسوتی/ہاکڑا کے میدانوں میں آباد وادی سندھ کی تہذیب برصغیر کی کانسی کے زمانے کی دنیا کی چند قدیم ترین اور اپنے وقت کی ترقی یافتہ تہذیبوں میں سے ایک تھی۔

بھارتی ماہرین آثار قدیمہ کا دعویٰ ہے کہ راکھی گڑھی سندھو۔ سرسوتی یا ہڑپائی تہذیب کا اب تک کا کھودے جانے والا سب سے بڑا شہر ہے۔ (اب تک موہنجودرو کو سب سے بڑا شہر مانا جاتا تھا) ۔ تاہم ہم اس دعوے سے اختلاف اس لیے کر سکتے ہیں کہ پاکستانی سرکار نے ابھی تک موہنجودڑو کے تمام ٹیلوں کی مکمل کھدائی نہیں کی ہے۔ لہٰذا جب تک مکمل کھدائی نہیں ہو جاتی تب تک کسی بھی شہر کے سب سے بڑا ہونے کا دعویٰ جائز نہیں ہو سکتا ۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ ابھی تک قدیم مصر اور میسوپوٹیمیا کی ہم عصر اور ہم پلہ آٹھ ہزار سال پرانی عظیم زرعی تہذیب پر ہم اپنے پاکستانی حصے میں کچھ زیادہ تحقیق اور کھدائی نہیں کر سکے ہیں۔ شاید اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد ہم نے اسلامی نظریے کے چکر میں اپنے ماضی سے منہ موڑ کر آج کے پنجاب، سندھ، مکران، پختونخوا اور گجرات تک محیط اپنی قدیم تہذیب کو اپنانے اور عظیم تہذیب کے وارث بننے سے انکار کر دیا ہے۔ اب ہماری درسی کتابوں کے مطابق پاکستان کی تاریخ سن 712ء سے شروع ہوتی ہے جب عربوں نے پہلی دفعہ سندھ اور مکران پر حملہ کیا تھا۔

بہرحال، دلچسپ طور پر ایک دوسرے سے سینکڑوں کلومیٹر دور اور مختلف دریاؤں کے سنگم پر آباد ہونے کے باوجود سندھو۔ سرسوتی تہذیب کے تمام شہروں میں تعمیراتی منصوبہ بندی میں ہم آہنگی ملتی ہے۔ ہڑپائی دور کی چند خصوصیات میں نکاسی آب کا مربوط نظام، شہروں کے گرد فصیلیں، دریا سے شہر تک نہروں کی کھدائی، ساجھے داری طرز معیشت، نہانے کے لیے مشترکہ حمام اور پانی کے حوض، نہ پڑھ سکے جانے والی لکھائی اور مردوں کو دفناتے وقت ظروف، کھانے پینے کی اشیاء وغیرہ کی بھی ساتھ تدفین شامل ہیں۔ ہڑپائی عہد کے تمام کھنڈرات سے ایک جیسی ملنے والی مہریں، باٹ، کانسی کے برتن، زیورات اور مٹی کے پکے ہوئے ظروف ، دور دراز واقع ان قدیم شہروں کے مابین باہمی مستقل روابط کو ظاہر کرتے ہیں۔

حالیہ تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ زیادہ آبادیاں دریائے سندھ کی بجائے (اب خشک ہو گئے ہوئے ) دریائے سرسٌوتی (ہاکڑا) کے اردگرد قائم تھیں۔ ہاکڑا /سرسوتی کا علاقہ (موجودہ چولستان) یقیناً ہڑپائی لوگوں کے لیے فوڈ باسکٹ رہا ہو گا۔ شاید موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث 1900ء قبل مسیح میں اس دریا کے اچانک خشک ہو جانے سے ہی وادی سندھ کی یہ شاندار تہذیب زوال پذیر ہوئی ہو گی۔

ماہرین ارضیات کے مطابق اس وقت آئے زلزلوں کے سبب تبت کے علاقے میں ہاکڑا کا پرانا ماخذ دریائے ستلج کی طرف منتقل ہو گیا تھا جس کے سبب دریائے سندھ کے برابر کا ویدک زمانے تک بہنے والا دریا کچھ عرصے کے اندر ہی خشک ہو گیا۔ اس کا ایک بچا کھچا راستہ آج بھی موجود ہے جسے ہاکڑا کہتے ہیں۔ برساتی موسم میں ہاکڑا میں بھارتی پنجاب، راجستھان، اور چولستان کے کچھ علاقوں میں طغیانی آ جاتی ہے۔

زیر بحث تحقیقات کا آغاز 2015 میں اس وقت ہوا جب راکھی گڑھی کے ٹیلوں کی کھدائی کے دوران ہڑپائی دور کا 4500 سال پرانا قبرستان ملا۔ راکھی گڑھی کی جس قبر سے ڈی این اے لیا گیا ہے یہ درمیانی عمر کے ایک مرد کی قبر ہے جسے ہڑپائی دور کی دیگر قبروں کی طرح کھانے پینے کی اشیاء اور برتنوں کے ساتھ دفن کیا گیا تھا۔

خوش قسمتی سے کھوپڑی کا وہ حصہ جو انسانی کانوں (کوکلیا) کی حفاظت کرتا ہے اس میں ڈی این اے ہزاروں سال تک محفوظ رہ سکتا ہے۔ اس شخص کی کھوپڑی اگرچہ کچھ خستہ حال تھی تاہم ماہرین کی ٹیم نے پھر بھی استفادے کے قابل ڈی این اے اخذ کر لیا۔ تحقیقاتی ٹیم کی قیادت ماہر آثار قدیمہ اور پونے کی دکن یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر شندے کر رہے تھے۔ ٹیم کو امریکی یونیورسٹی کے محققین کی مدد بھی حاصل تھی۔

اس اسٹڈی کی سب سے بڑی کھوج یہ اعلان تھا کہ راکھی گڑھی کے ہڑپائی ڈھانچے میں R 1 A 1 ڈی این اے نہیں ملا۔ R 1 A 1 ڈی این اے آج برصغیر کے لوگوں میں بکثرت موجود ہے ، عام طور پر آر ون اے ون ہیپلوگروپ کو یوریشیائی سٹیپ کے آریائی لوگوں کا ڈی این اے مانا جاتا ہے۔ خیال ہے کہ چار ہزار سال قبل انڈس ویلی کے زوال کے زمانے میں خانہ بدوش لوگ افغانستان کے راستے وادی سندھ میں داخل ہوئے اور مقامی ہڑپائی لوگوں میں گھل مل گئے۔

آج کی برصغیر کی آبادی میں یہ آریائی ڈی این اے موجود ہے۔ خصوصاً شمالی اور شمال مغربی حصے میں۔ تاہم وادی سندھ کی ہڑپائی آبادی میں اس جین کا موجود نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ 2500 قبل مسیح یا 45 سو سال پہلے تک ہندوستانی باشندوں کا آریائی جین رکھنے والے وسط ایشیا کے خانہ بدوشوں کے ساتھ اختلاط یا میل ملاپ نہیں ہوا تھا۔

صرف یہی نہیں بلکہ اس سٹڈی نے یہ بھی واضح کر دیا کہ راکھی گڑھی کے نمونے سے تھیوری کے برعکس قدیم ایرانی اور اناطولی کسانوں کے جینز کا سراغ بھی نہیں ملا، اس کا مطلب ہے کہ انڈس ویلی میں زراعت کا آغاز مقامی سطح پر ہی ہوا تھا اور سندھو ندی کی تہذیب میں کاشت کاری شروع کرنے والے لوگ یہاں ہزاروں سالوں سے آباد تھے۔ پہلے پہل یہ لوگ شکاری اور بنجارے تھے ۔ پھر 8 ہزار برس پہلے مہرگڑھ (بلوچستان) ، رحمن ڈھیری (ڈی آئی خان کے قریب) میں ان لوگوں نے پری ہڑپن زرعی تہذیب کی بنیاد رکھی اور بستیاں بنا کر مستقل طور پر دریاؤں کے کنارے آباد ہوتے گئے۔

پہلے خیال کیا جاتا تھا کہ انڈس ویلی میں کاشت کاری اور شہری آبادکاری کا آغاز کرنے والے لوگ پانچ ہزار قبل مسیح کے قریب ایران یا اناطولیہ سے آ کر وادی سندھ میں آباد ہوئے تھے۔ یہ سٹڈی واضح کرتی ہے کہ جنوبی ایشیا کے لوگوں میں آریائی یا R 1 a 1 ڈی این اے کی آمیزش 2000 قبل مسیح کے بعد ہوئی۔ یہ نئی تحقیق ہندوتوا کے ماننے والوں اور ان لوگوں کے لیے جو وادیٔ سندھ کو آریاؤں کی تہذیب مانتے ہیں ، ایک دھچکا ہے۔

اس تحقیقی مقالے کی روشنی میں ہم کچھ دیرینہ حل طلب سوالات کے جواب دینے کے قابل ہو گئے ہیں:
01۔ کیا جنوبی ایشیا کی موجودہ آبادی میں انڈس ویلی کے لوگوں کا ڈی این اے موجود ہے؟
جواب: جی ہاں۔

02۔ نسلاً انڈس ویلی کے لوگ (جنوبی بھارت کے ) دراوڑوں کے زیادہ قریب تھے یا موجودہ شمالی ہندوستان/ پاکستان کے ہند۔ آریائی لوگوں کے؟

جواب: دراوڑوں کے۔

03۔ کیا انڈس ویلی کے لوگ جنہوں نے آٹھ ہزار سال پہلے دریائے سندھ کی وادیوں میں کاشت کاری اور شہری آبادکاری شروع کی، یہاں کے مقامی لوگ تھے یا باہر سے آئے تھے؟

جواب: بالکل مقامی لوگ تھے۔

04۔ کیا انڈس ویلی آریائی لوگوں کی تہذیب تھی؟
جواب: جی نہیں۔ آریا لوگ ہندوستان میں ہڑپائی دور کے بعد وارد ہوئے!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *