اینڈومیٹریوسز: شادی سے قبل بچہ دانی نکلوانے کی درخواست کرنے والی خاتون کس کرب سے گزر رہی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تئیس سالہ برطانوی خاتون ہینا لوکارٹ شدید درد اور تکلیف سے گزر رہی ہیں۔ انھوں نے ڈاکٹروں سے التجا کی ہے کہ ان کے درد کے سبب ان کی بچہ دانی نکال دیں، لیکن ان کی عمر اور اولاد نا ہونے کے سبب ان کی یہ درخواست قبول نہیں کی جا رہی۔

ہینا کا کہنا ہے کہ یہ تکلیف اب ان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ ہینا اینڈومیٹریوسز نامی مرض میں مبتلا ہیں، جس میں بے پناہ درد، ماہواری میں بہت زیادہ خون بہنے اور بانجھ پن جیسے مسائل کا سامنا رہتا ہے۔

ہینا ہمیشہ سے ماں بننے کی خواہشمند ہیں، لیکن اب ان کی تکلیف اتنی بڑھ گئی ہے کہ وہ درد سے نجات کے لیے اپنی بچہ دانی نکلوانے کی راہ کا انتخاب کرنا چاہتی ہیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’محض میری کم عمری کے سبب مجھے تکلیف سے گزرتے رہنا پڑے گا، یہ بہت تکلیف دہ بات ہے۔‘

یہ بھی پڑھیے

‘میرے درد کو سب لوگ تماشے کا نام دیتے تھے’

مینوپاز خواتین کی صحت پر کیسے اثر انداز ہوتا ہے؟

خواتین ماہواری پر کھل کر بات کیوں کر رہی ہیں؟

گزشتہ ایک برس کے عرصے میں اینڈومیٹریوسز کے درد کے سبب انھیں سات مرتبہ ہسپتال جانا پڑا۔ انھوں نے بتایا کہ ’میں ہر روز مورفین لیتی ہوں۔ درد پر قابو پانے کے لیے میں مختلف گولیاں کھاتی ہوں، لیکن کسی بھی چیز کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔‘

ہینا کی اس تکلیف کا آغاز نوعمری میں ہوا تھا۔ گزشتہ برس ان کی حالت اتنی خراب ہو گئی تھی کہ انھیں گھر سے باہر نکلنے کے لیے بھی وھیل چیئر کا سہارا لینا پڑتا تھا کیوں کہ وہ خود بغیر کسی سہارے کے چلنے کے قابل نہیں تھیں۔

انھوں نے بتایا کہ ’یہ کسی زخم سے کہیں زیادہ تکلیف دہ ہے۔ ہر ماہواری میں شدید خون بہتا ہے۔ اس مرض نے میرے جسم کے مختلف حصوں کو نقصان پہنچایا ہے۔‘

ہینا کی حالت اتنی خراب ہے کہ انھیں پیشاب کے لیے بھی پیشاب کی نالی کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ گزشتہ برس ہونے والی ایک سرجری کے بعد اب وہ مینوپاز کے عمل سے گزر رہی ہیں۔

ہینا کہتی ہیں کہ ’اینڈومیٹریوسز کا مرض آپ کی بچہ دانی کے علاوہ بھی جسم کو متاثر کرتا ہے۔‘

ان کا مزید کہنا ہے کہ ’میرا مرض میری انتڑیوں تک پہنچ گیا ہے۔ میرا مثانہ اتنا متاثر ہو چکا ہے کہ میں خود پیشاب کرنے بھی نہیں جا سکتی۔‘

ہینا کی منگنی ہو چکی ہے، وہ اور ان کے ہونے والے شوہر مستقبل میں بچوں کا خواب دیکھ رہے تھے مگر گذشتہ کچھ عرصے میں ہینا کی حالت اتنی خراب ہو گئی کہ انھیں ڈاکٹروں سے رحم مادر نکال دینے کی التجا کرنی پڑی۔

انھوں نے بتایا ‘گزشتہ برس میری ایک سرجری ہوئی تھی، جس کے بعد میرے جسم میں مینوپاز کا عمل شروع ہو گیا۔ میں اس سے گزر رہی ہوں اور اگلے ایک سال تک مجھے اس سے گزرنا ہو گا۔‘ ہینا نے بتایا کہ انھیں ہر روز ہارمون ریپلیسمنٹ تھیراپی کروانی پڑتی ہے۔

اینڈومیٹریوسز کیا ہے؟

اینڈومیٹریوسز خواتین میں پائی جانے والی ایک ایسی بیماری ہے جس میں عورت کی بچہ دانی کے اندر کے ٹشو، جنھیں اینڈومیٹریم کہا جاتا ہے، وہ بچہ دانی سے باہر بن جاتے ہیں اور بعض اوقات جسم کے دیگر حصوں میں پھیلنے لگتے ہیں۔ اس سے عام طور پر جسم کے تولیدی اعضا، انتڑیاں اور مثانہ متاثر ہوتے ہیں۔

اینڈومیٹریم ٹشوز کا یہ بگاڑ ماہواری کے دنوں میں متاثرہ خواتین میں زیادہ تکلیف کا سبب بنتا ہے اور اس بیماری میں مبتلا کئی خواتین میں بانجھ پن کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس مرض کا کوئی مستقل علاج نہیں ہے نا ہی اس کی وجہ اب تک واضح ہو سکی ہے۔

ہینا کو جسمانی تکلیف کے علاوہ اس بات نے بھی بہت پریشان کیا کہ وہ خود اپنے بچے نہیں پیدا کر سکیں گی۔ لیکن تھوڑا سنبھلنے کے بعد اب وہ اور ان کے منگیتر بچہ گود لینے کے عمل کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی اس تکلیف سے مکمل طور پر نجات حاصل کر سکوں گی کہ میں خود بچے پیدا نہیں کر سکتی۔ اس بات کو قبول کرنا بہت مشکل ہے۔‘

وہ کہتی ہیں کہ ’لیکن میں جانتی ہوں کی محض بچے کو پیدا کرنا ہی آپ کو ماں نہیں بناتا ہے۔ وہ محبت اور جذبہ جس سے آپ ایک بچے کو زندگی کی جانب لے جاتے ہیں، وہ آپ کو ماں بناتا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں اس احساس کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ اس بچے کو میں ایک محبت سے بھرپور گھر دے سکوں گی۔‘

ہینا کے والد پیٹر بھی اس بات سے متفق ہیں کہ ڈاکٹر ان کی بیٹی کی بچہ دانی نکالنے کی سرجری اس لیے نہیں کر رہے کیوںکہ ان کی عمر ابھی کم ہے اور ان کی کوئی اولاد بھی نہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اگر ان کی عمر زیادہ ہوتی اور ان کے پہلے سے بچے ہوتے تو کوئی بات نہیں تھی۔ تب ڈاکٹر سخت اقدامات کرنے سے نہ ہچکچاتے۔‘

پیٹر نے بتایا کہ ان کی بیٹی کو اس درد میں دیکھنا ان کے لیے بہت تکلیف دہ ہے اور وہ ڈاکٹروں سے گزارش کرتے ہیں کہ ان کی بیٹی کا علاج اس کی عمر یا کسی اور وجہ کی بنیاد پر کرنے کے بجائے اس کے مسئلے اور تکلیف کی بنیاد پر کیا جائے۔

انھوں کہا ’میں اسے ایسے دیکھتا ہوں کہ اگر میں اتنی تکلیف میں رہوں تو بحیثیت ماں میں اپنے بچے کے لیے کیا کر سکوں گا؟ میں اپنے بچے کو اٹھا نہیں سکتا، وہ سب کچھ نہیں کر سکتا جو ایک ماں کو کرنا چاہیے۔ اس لیے میں چاہوں گا کہ ڈاکٹر میرے ساتھ وہ کریں جس سے میں بہتر ہو سکوں تاکہ میں آنے والے برسوں میں کسی بچے کی اچھی ماں بن سکوں۔‘

بی بی سی نے ہینا لوکارٹ کے ڈاکٹروں سے ان کی شکایات کے جواب حاصل کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18954 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp