عورتوں، بچوں اور اقلیتوں کی آواز: رحمان صاحب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بارہ اپریل کو جب صحافی مزدور ایکشن کمیٹی کی جانب سے ہم پریس کلب میں احفاظ الرحمٰن کی پہلی برسی منا رہے تھے تو رحمٰن صاحب کے انتقال کی خبر ملی اور ہم سب مزید دکھی ہو گئے۔ اس پروگرام میں ہم نے ان دونوں کا سوگ بھی منایا، ان کی زندگیوں کو سیلیبریٹ بھی کیا اور ان کے مشن کو آگے بڑھانے کا عزم بھی کیا۔ تب سے اخبارات، ٹی وی چینلز اور سوشل میڈیا پر تعزیتی پیغامات کا سیلاب آیا ہوا ہے۔

مجھے دو پیغامات نے خاص طور پر متأثر کیا، ایک جس میں انہیں پاکستان میں بابائے انسانی حقوق کہا گیا تھا اور دوسرا ایک خاتون کا پیغام تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان کی خواتین خود کو رحمٰن صاحب کے ساتھ بہت کمفرٹیبل محسوس کرتی تھیں کیونکہ وہ خواتین کے مسائل کو سمجھتے تھے اور ان کا ساتھ دیتے تھے۔

یہ حقیقت ہے کہ رحمٰن صاحب اور ان کی پیروی کرنے والے مردوں نے ہمیشہ عورتوں کی ہمت بندھائی اور ان کا ساتھ دیا۔ جب عورت مارچ کے ایک نعرے کے خلاف شور برپا ہوا تو رحمٰن صاحب نے لکھا کہ خواتین کی تحریک کی جانب عورت دشمن عناصر کی مخاصمت کی وجہ یہ نہیں کہ وہ اپنے جسم پر کنٹرول کا نعرہ لگا رہی ہیں بلکہ وہ اس نعرے کو بہانہ بنا کر صنفی مساوات کے نظریے کو مسترد کرنا چاہتے ہیں۔ اس کی تصدیق استنبول اور الجیریا میں خواتین کے جلوسوں پر پولیس کے تشدد سے ہوتی ہے، ترکی اور الجیریا کی عورتوں نے تو وہ نعرے نہیں لگائے تھے جنہیں سن کر پاکستان کی عورت دشمن لابی مشتعل ہوئی۔

اس وقت پاکستانی عورتوں کو اپنی ترک اور الجیرین بہنوں کے ساتھ جو واحد مسئلہ درپیش ہے، وہ انتہا پسند عسکریت پسندوں کی جانب سے خطرہ ہے جو دنیا کے سارے اسلامی ممالک پر عقیدے کا انتہائی غیر انسانی ورژن مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ رحمٰن صاحب کے بقول زمینی حقیقت یہ ہے کہ دنیا بھر کی مسلمان عورتیں اپنے لئے خیر سگالی کے جذبات رکھنے والے مسلمان مردوں کے ساتھ مل کر انتہا پسندی کے چیلنج کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ آج ہزاروں سال کی جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والے حقوق اور آزادیاں خطرے میں ہیں۔

ایک صدی پہلے تک علماء فقہی اختلافات کو برداشت کر لیتے تھے لیکن موجودہ علماء اس کے لئے تیار نہیں ہیں۔ انہیں سمجھنا چاہیے کہ تبدیلی کے پہیے کو الٹا نہیں چلایا جا سکتا۔ انہیں مسلمان عورتوں کی ترقی کے سفر کو روکنے کا کوئی حق نہیں۔ خواتین کے لئے ان کا مشورہ تھا کہ وہ حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ پائیدار ترقیاتی مقاصد کے تحت 2030 تک صنفی مساوات کے حصول کا وعدہ پورا کرے۔

رحمٰن صاحب کی اولین ترجیح انتہا پسندی کے خلاف کام کرنا تھا، خواہ اس کا مظاہرہ عورتوں، بچوں اور اقلیتوں کے خلاف تشدد کی شکل میں ہو، یا کسی بھی ادارے یا تنظیم کے فیصلے کی شکل میں ہو۔

وہ کہا کرتے تھے کہ صورتحال کو بگاڑنا تو آسان ہے لیکن اس کو سنوارنے میں بہت عرصہ لگتا ہے۔ اس کے لئے ایک دو نسلوں کو جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے عوام کی اکثریت یہ سمجھتی ہے کہ خرابی کی جڑ تعلیم کا فقدان اور تفریق پیدا کرنے والا تعلیمی نصاب ہے اور اس کے ساتھ پاکستانیوں میں ایک عجیب سا غرور بھی ہے کہ ”ہم بہترین ہیں“ جو کہ ہم نہیں ہیں۔ اس سب کو بدلنا ضروری ہے اور رحمٰن صاحب عمر بھر یہی کوشش کرتے رہے۔

آئی اے رحمان

جب لوگ سوال کرتے تھے کہ ملا کی طاقت کو کیسے کنٹرول یا محدود کیا جائے تو وہ کہا کرتے تھے کہ ایسا صرف بین المذاہب مکالمے کے ذریعے ہو سکتا ہے۔ جو اس وقت پاکستان میں نہیں ہو رہا۔ پبلک اسپیس اور تعلیم کا میدان انتہائی قدامت پرست علما کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ کوئی بھی کتاب جو مذہب اور ریاست کے بارے میں متبادل نظریہ پیش کرتی ہے اس پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔

جنوبی ایشیا کے مستقبل اور پاکستان اور ہندوستان کے باہمی تعلقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا ہم مسلمانوں میں ایک کہاوت ہے کہ لوگ حکمرانوں کا مذہب اپناتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں ہمیں جو دشمنیاں نظر آتی ہیں، وہ ریاست کی پیدا کردہ ہیں اور جب آپ ایسے راستے پر چل پڑتے ہیں تو مفادات پیوستہ پیدا ہو جاتے ہیں اور پھر یہی عوام کو اپنے راستے پر چلاتے ہیں۔ اگر ریاست سمجھداری کا مظاہرہ کرے تو عوام بھی اس کی تقلید کریں گے لیکن اس میں وقت لگے گا۔

آئی اے رحمٰن نے پاکستان میں ہر آمریت کی مخالفت اور مزاحمت کی جس کے نتیجے میں انہیں قید و بند کی صعوبتیں، ملازمت سے برطرفی اور دیگر پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ نوے سال کی عمر میں بھی وہ جبری گم شدگیوں کے خلاف لگنے والے احتجاجی کیمپوں میں شرکت کرتے تھے، کسانوں کے جلوسوں میں شامل ہوتے تھے اور عورت مارچ کی پہلی صفوں میں پلے کارڈ لے کر چلتے تھے۔ وہ کرسچن اور ہندوؤں سمیت پاکستان کی مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی ایک توانا آواز تھے۔ وہ بلاسفیمی لاء کے بارے میں اکثر آواز اٹھاتے تھے اور کہتے تھے کہ اس قانون کو ذاتی دشمنیاں نکالنے اور اقلیتوں اور سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کو 2014 میں انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ بلاسفیمی اب کریمنل یا مذہبی مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک سیاسی لڑائی بن گئی ہے۔ یہ ایک سیاسی حربہ بن گیا ہے جسے لوگوں کو خاموش کرانے اور خوف اور دہشت کی فضاء پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ 2014 میں ہی انسانی حقوق کے مشہور کارکن راشد رحمٰن کو جنید حفیظ جس پر بلاسفیمی کا الزام تھا کا مقدمہ لڑنے کی بنا پر قتل کر دیا گیا۔ وہ رحمٰن صاحب کا بھتیجا تھا۔ اس کے قتل کے باوجود وہ اسی زور و شور سے بلاسفیمی کے قانون کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھاتے رہے۔

جب قصور میں زینب کے قتل پر ہم سب غصے میں تھے اور سنگین ترین سزا کا مطالبہ کر رہے تھے تو رحمٰن صاحب ڈاکٹر ہارون کے ساتھ مل کر لائف اسکل بیسک ایجوکیشن کی بات کر رہے تھے۔ وہ ذہنی صحت اور ذہنی بیماری، علم الابدان اور طبیعات، منشیات اور خطرناک رویوں کی طرف توجہ دلا رہے تھے۔ بچوں کو اچھے لمس اور برے لمس کی پہچان کرانے پر زور دے رہے تھے۔ انہوں نے بے زبانوں کو زبان دی اور مظلوموں کو امید کی روشنی دکھائی۔

رحمٰن صاحب نے 1949 سے اخبارات میں لکھنا شروع کیا اور سول لبرٹیز یونین کے رکن بن گئے۔ ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو کسانوں اور محنت کشوں کے حقوق میں یقین رکھتا تھا، بقول ان کے وہ بچپن سے ہی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ تھے۔ وہ فیوڈل ازم کے شدید مخالف تھے اور زرعی اصلاحات کی حمایت کرتے تھے۔ ان کا ہریانہ کے ایک چھوٹے موٹے زمیندار گھرانے سے تعلق تھا۔ ان کے والد مذہبی بھی تھے اور سیکولر بھی۔ وہ بتاتے تھے کہ ہائی اسکول جانے تک انہیں ہندو اور مسلمان کے فرق کا بھی پتا نہیں تھا۔

ان کے والد ایک وکیل تھے، ان کے بہت سے ہندو مؤکلین تھے اور دوستوں میں کمیونسٹ پارٹی کے ممبرز شامل تھے۔ بچپن میں اپنے والد اور دوستوں کی گفتگو سن کر مساوات اور یک جہتی کا تصور ان کی شخصیت میں رچ بس گیا۔ انہوں نے بچپن میں ابو الکلام آزاد اور حسرت موہانی جیسے لیڈروں کو دیکھا جو پکے مسلمان بھی تھے اور سیکولر بھی تھے۔

آئی اے رحمٰن نے عاصمہ جہانگیر اور دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر انسانی حقوق اور خطے میں امن کے فروغ کے لیے جو کچھ کیا اس کے لئے آنے والی نسلیں ان کی احسان مند رہیں گی۔ ایک مثالی معاشرے کے قیام تک ہم سب کو رحمٰن صاحب کے مشن کو جاری رکھنا ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *