کچھ ناروے کی ثقافت کے بارے میں

یہ ثقافت آخر ہے کیا چیز؟

ثقافت کے بارے میں بہت بات ہوتی ہے۔ لیکن یہ آخر ہے کیا؟ کیا یہ کوئی ورثہ میں ملنی والی شے ہے جسے ہم جوں کی توں سنبھالے چلے جا رہے ہیں؟ ایسا نہیں ہے۔ ثقافت خود کوئی چیز نہیں۔ یہ بہت سی چیزوں سے مل کر ایک چیز بنتی ہے۔ جیسے ہانڈی پکاتے ہوئے کئی اشیا ڈالتے ہیں۔ گوشت، سبزی، تیل، مصالحے وغیرہ۔ اور جب یہ سارے لوازم پک جا ہوں تو ہم اسے ایک اکائی مانتے ہیں۔ اسی طرح ثقافت بھی کئی چیزوں سے مل کر بنتی ہے۔

جغرافیہ، تاریخ، مذہب، عقیدہ، زبان، لباس، پکوان، تہوار، معاش، زراعت، معیار زندگی، موسم، کھیل، تفریح، تقریبات، موسیقی، تعلیم، ادب، تہذیب، اقدار، لوگوں کا رویہ، ردعمل، ان کی سوچ وغیرہ۔ یہ وہ سب عوامل ہیں جو ثقافت بناتے ہیں۔ ایک چیز دوسری پر اثر انداز ہوتی ہے۔

ملک اگر گرم علاقے میں واقع ہے تو وہاں کا لباس، پکوان، کھیل، زراعت، معاش اس ملک کے باسیوں سے مختلف ہو گا جو سرد علاقوں میں رہتے ہیں۔ پہاڑوں پر بسنے والے ساحلی لوگوں سے کافی مختلف ہوں گے۔ بڑے شہروں کے لوگ دیہات کے لوگوں سے مختلف رہن سہن رکھتے ہیں۔

ثقافت ایک ساکت اور جامد رہنے والی چیز نہیں ہے۔ یہ وقت کے ساتھ بڑھتی اور بدلتی ہے۔ اور لوگ دوسروں کی ثقافت بھی اپنا لیتے ہیں یا اسے اپنے ڈھب کا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر پکوان۔ چند دہائیوں پہلے پیتزا اور برگر بدیسی کھانے تھے۔ آج سب انہیں جانتے اور کھاتے ہیں۔ ثقافت میں کچھ اجزا شعوری طور پر شامل کیے جاتے ہیں اور کچھ خود بخود اپنی جگہ بنا لیتے ہیں۔

تاریخ کا ثقافت پر کچھ اثر ضرور پڑتا ہے۔ اچھی یا بری تاریخ سے ناتا جڑا رہتا ہے۔ ناروے کی تاریخ پرانے زمانے کے وایئکینگز کی ہے یہ عرصہ 800 سے لے کر 1050 تک رہا۔ وایئکینگز جنگجو کشتیاں بنانے کے ماہر تھے اور ان کشتیوں میں سوار ہو کر وہ دوسرے ملکوں میں جا کر لوٹ مار کرتے۔ لڑتے جھگڑتے اور واپس آ کر کچھ مدت آرام کرتے اور پھر اپنے اسی کام پر لگ جاتے۔ ناروے اپنی اس شناخت سے الگ ہونا چاہتا تھا۔ یہاں انہوں نے تاریخ سے سبق لیا اور جنگجوئی سے شعوری طور پر امن کی جانب بڑھے۔

سال 805 سے 1100 تک ناروے نے رفتہ رفتہ مسیحی مذہب اپنا لیا۔ اور سرکاری چرچ بن گئے۔ ثقافت میں مذہب کا رنگ مل گیا اور کرسمس اور ایسٹر تہوار منائے جانے لگے۔ کرسمس ٹری کو سجانا، کئی طرح کے کیک اور پر تکلف ڈنر کرسمس کی روایت ہے۔ اسی طرح ایسٹر بھی کچھ مذہبی اور روایتی طریقوں سے منایا جانے لگا۔ ناروے پر مقامی ثقافت کے علاوہ نورڈسک، یورپی اور بین الاقوامی ثقافتی اثرات بھی ہیں۔ جو کچھ سامنے ہے وہ ناروے کی تاریخ، لوگوں کا معیار زندگی، رہن سہن، بیرونی دنیا کے اثرات اور تارکین وطن کی یہاں آمد سے مرتب ہوا ہے۔ ہولووین اور ویلینٹاین ڈے کا منانا کچھ سال پہلے ہی شروع ہوا اور یہ اب ثقافت میں شامل ہو گئے۔

نارویجنوں سے اگر بات کریں کہ اپنی ثقافت بیان کریں تو وہ اپنے قومی دن سترہ مئی کو سب سے اوپر رکھتے ہیں۔ یہ وہ دن ہے جب ناروے نے اپنا آئین بنایا تھا۔ اس دن کی اہمیت اور تکریم سب سے زیادہ ہے۔

اس دن بچے صبح سویرے بوڑھے، مرد عورتیں سب اپنے بہترین لباس میں نکلتے ہیں۔ زیادہ تر اپنے قومی لباس ”بوناد“ میں ہوتے ہیں۔ ہاتھوں میں ناروے کے جھنڈے اٹھائے خوشی اور فخر سے پریڈ میں شامل ہوتے ہیں۔ اپنا قومی ترانہ مل کر گاتے ہیں۔ ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں۔ بالکل عید کا سا سماں ہوتا ہے۔ بچے اس دن آئس کریم اور ہاٹ ڈاگ ضرور کھاتے ہیں۔ اسکولوں میں خاص کھیلوں کا اہتمام ہوتا ہے۔

پہاڑوں پر اسکینگ کرنا، جنگلوں میں لمبی واک کرنا بھی نارویجنوں کی ثقافت کا حصہ ہے۔ اکثر لوگوں کے پاس پہاڑوں میں کیبن ہیں جہان وہ چند دن پرسکون فضا میں گزارتے ہیں۔ نارویجنوں کے بارے میں ایک بات کہی جاتی ہے کہ وہ پیدا ہی پیروں میں اسکی باندھ کر ہوئے تھے۔ یہ ان کی گھٹی میں ہے۔ ایسٹر کی چھٹیاں کیبن میں گزارنا اور اس کی کرنا اب ثقافت میں شامل ہے۔ کیبن یا کاٹیج ایسی جگہ ہو جو آبادی سے دور ہو۔ الگ تھلگ کسی ویرانے میں۔ پہلے تو ان کیبینوں میں نہ بجلی ہوتی تھی اور نہ گرم پانی۔ باتھ روم بھی کیبن کے باہر ہوتا تھا جہاں سردی میں جانا بھی عذاب ہوتا تھا۔ ایسا جان بوجھ کر کیا گیا تھا۔ نارویجنوں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنا ماضی نہیں بھولنا چاہیے۔ بہت پرانی بات نہیں ہے جب ناروے ایک غریب ملک تھا اور بجلی اور پانی کے نلکے نہیں تھے اور ٹوائلٹ باہر ہوتے تھے۔ 1890 میں ناروے میں بجلی آئی اور زندگی میں آسانیاں پیدا ہو گیں۔ لیکن ناروے کے لوگ اپنے مشکل دور کو نہیں بھولے۔

کھلی ہوا میں لمبی واک پر جانا نارویجنوں کا ایک اور پسندیدہ ترین کام ہے۔ جی ہاں کام۔ مشغلہ نہیں۔ وہ واک کو ایک ضروری کام سمجھتے ہیں۔ اور اسے اپنی ثقافت کا بڑا حصہ اور فطرت سے اپنا قریبی تعلق جانتے ہیں۔ جنگلوں میں واک کے ساتھ وہ پھول بھی توڑ لاتے ہیں۔ خودرو بیریز اور مشروم بھی چنتے ہیں۔

ناروے کے روایتی کھانے کچھ ایسی خاص شہرت نہیں رکھتے۔ کھیتی باڑی یہاں مشکل اور کھانا فراہم کرنا ایک کٹھن کام رہا۔ جاڑوں کا لمبا موسم اور برفباری کی وجہ سے کچھ اگانے کے لیے چند ماہ ہی ملتے۔ اس میں اناج اور آلو بوئے جاتے۔ گئے زمانوں میں اناج کو گھر میں ہی پیس کر آٹا بنایا جاتا۔ جانور خزاں کے موسم میں ذبح کیے جاتے۔ تازہ گوشت کھا کر باقی کو سکھا کر یا دھواں دے کر خشک کر کے محفوظ کیا جاتا اور باقی سال بچے ہوئے آلو اور خشک گوشت پر گزارا ہوتا۔ گرمیوں میں اسٹرابیری کے کھیت جا بجا نظر آتے ہیں۔ جانوروں کا شکار اور مچھلی پکڑنا بھی عام بات تھی۔ اج بھی مچھلی نارویجنوں کی غذا کا اہم جز ہے اور آلو کے بغیر کھانا مکمل نہیں۔ اب بیرونی دنیا سے رابطے بڑھ گئے ہیں اور آسان بھی ہو گئے ہیں اس لیے ناروے کا کھانا کلچر بھی تبدیل ہو گیا ہے۔ پیتزا، برگر، پاستا، ٹاکو، اور ڈونا کباب اب عام ہیں اور پسندیدہ بھی۔

اس کے ساتھ ہی دوسرے ملکوں سے آنے والوں نے اپنے کھانے یہاں متعارف کروائے۔ نارویجینوں کے لیے اب تکہ مسالہ، کباب، نان، سموسے، پکوڑے نا آشنا نہیں۔ باہر سے آنے والوں نے ناروے کو لہسن ادرک کے ذائقے سے بھی متعارف کروایا اور مسالوں کی لذت سے بھی۔ اب نارویجینز ابلی مچھلی کے بجائے فش کری کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور اب تو وہ قورمہ اور بریانی سے بھی آشنا ہو چکے ہیں۔ ”نان بریڈ“ کے تو دلدادہ ہیں۔

ناروے میں پینے کا کلچر بھی عام ہے۔ رات کے کھانے کے ساتھ واین اور گرمیوں کی دوپہروں میں بیئر چلتی ہے۔ پارٹیز میں الکوحل کا استعمال خوب ہوتا ہے اور کچھ کا ظرف بھی جواب دے جاتا ہے۔ ناروے میں پی کر بہک جانے کو سخت ناپسند کیا جاتا ہے پھر بھی بہکنے والوں کی کمی نہیں۔

ناروے سرد ملک ہے۔ اس لیے لباس بھی ایسا پہنتے ہیں جو جسم کو گرم رکھ سکے۔ لباس اور جوتوں پر دل کھول کر خرچ کرتے ہیں۔ اچھے برانڈیڈ کپڑے خریدتے ہیں اور نئے ترین فیشن کے مطابق۔ مرد سوٹ ٹائی کے شوقین نہیں ہیں۔ سوٹ کسی خاص تقریب میں ہی پہنا جاتا ہے۔ اچھی قسم کی جینز اور بڑھیا جیکٹ عورت مرد دونوں کا اولین انتخاب ہے۔ اگر کوئی مرد سوٹ ٹائی میں نظر آتا ہے تو لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ یہ یا کسی شادی میں جا رہا ہے یہ جنازے میں۔ یا شاید جاب انٹرویو پر۔ جیکٹس اور جوتے ہر موسم کے لیے الگ الگ ہوتے ہیں۔ سردیوں کے الگ گرمیوں کے الگ، برفوں کے لیے الگ اور بارش کے لیے الگ۔

موسیقی اور تھیٹر ناروے کی ثقافت کا اہم جز ہیں۔ سنیما سے زیادہ لوگ تھیٹر جانا پسند کرتے ہیں۔ میوزک کے کنسرٹس اکثر منعقد ہوتے ہیں اور لوگوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی ہے۔ حیرت ہوتی ہے یہ جان کر کہ اتنی کم آبادی والے ملک میں اتنے بڑے بڑے مصنفین، مصور، اور موسیقار گزرے ہیں۔ ان پر تفصیلی بات پھر کبھی۔

اپنے ماضی کی نشانیوں کو محفوظ کرنے میں نارویجئن ماہر ہیں۔ جگہ جگہ قسم قسم کے میوزیم بنے ہوئے ہیں۔ ان میں پرانے زمانوں کی چیزوں کو بڑی احتیاط سے رکھا گیا ہے۔ لوگ بھی باقاعدہ ان عجائب گھروں کی سیر کو جاتے ہیں۔ اسکول کے بچوں کو بھی ٹرپ پر لے جا کر یہ سب دکھایا جاتا ہے۔

نارویجین چھٹیاں منانے کے بہت شوقین ہیں۔ ایک دفعہ ایک سروے کیا گیا اور عوام سے پوچھا کہ کیا وہ اپنی سالانہ چھٹیوں میں ایک دن کم کر کے تنخواہ کا اضافہ چاہیں گے۔ اکثریت نے اسے یک دم رد کر دیا۔ چھٹیاں گھر پر گزارنا پسند نہیں کرتے۔ سفر کرنے کے شوقین ہیں اس لیے کہیں نہ کہیں نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ قدیم زمانوں میں ناروے میں سفر کرنا آسان کام نہ تھا۔ راستے دشوار تھے اور وسائل ناکافی۔ لیکن اب راستے نکل آئے ہیں۔ سڑکیں بن گیں، پہاڑوں میں سرنگیں بنا دیں، دریاوں پر پل کھڑے کر دیے۔ اب سفر آسان ہے۔ نارویجین اندرون ملک بھی سفر کرتے ہیں اور بیرون ملک بھی۔

ناروے کی زبان نوشک ہے۔ اس کی تاریخ بہت قدیمی ہے۔ اس پر بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے لیکن پھر بات لمبی ہو جائے گی۔ آج جو زبان ناروے میں بولی اور سمجھی جاتی ہے وہ کئی ادوار سے ہوتی ہوئی یہاں تک پہنچی ہے۔ جڑیں اس کی نارتھ جرمینیک سے ملتی ہیں اور اسکنڈے نیویا کی دوسری زبانوں سے قریبی رشتہ داری ہے۔ قریب ترین تعلق ڈینیش سے ہے۔ لکھنے میں یہ دونوں زبانیں کافی ایک جیسی ہیں لیکن بولنے میں لہجے بہت مختلف ہیں۔ سویڈیش سے بھی مشابہت ہے۔ لکھنے میں قدرے مختلف لیکن بولنے میں ملتی جلتی۔ یہ تینوں ممالک ایک دوسرے کی زبان سمجھ لیتے ہیں۔ ناروے کو لوگوں کو اپنی زبان پر بہت ناز ہے وہ اس میں ملاوٹ پسند نہیں کرتے۔ انگریزی کے الفاظ گفتگو میں شامل نہیں کرتے۔ زبان میں تبدیلیاں آتی رہتی ہیں۔ نئے الفاظ شامل ہوتے ہیں۔ یہ اس پر منحصر ہے کہ ایک علاقے کے لوگ دوسرے علاقے کے لوگوں سے کتنے رابطے میں ہوتے ہیں۔ اسی طرح زبان پھلتی پھولتی اور پھیلتی ہے۔ زمانہ قدیم میں ناروے میں ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر آسان نہ تھا۔ پہاڑی علاقے تھے اور آمدورفت کے وسائل ناکافی۔ اسی لیے ہر جگہ کا اپنا لہجہ بن گیا۔ ناروے میں نارویجین زبان کے چار بڑے لہجے ہیں۔ اور کچھ ذیلی لہجے بھی ہیں۔ کچھ اتنے مشکل ہیں کہ خود اکثر نارویجنوں کو سمجھنے میں مشکل آتی ہے۔ ہر ایک کو اپنا لہجہ عزیز ہے اور وہ فخر سے اس میں بات کرتے ہیں۔

ناروے کے لوگ مذہبی بے شک نہیں لیکن قدرے نیشنلسٹ ضرور ہیں۔ جمہوری سوچ رکھتے ہیں۔ اپنی ثقافت پر فخر کرتے ہیں۔ اپنے شاہی خاندان سے پیار ہے اور اپنے جھنڈے کا بہت احترام ہے۔ اکثر گھریلو تقریب پر بھی گھر پر جھنڈا لہراتا ہے۔ یہ بھی اب ثقافت کا حصہ ہے۔ اپنے ملک کی بنی مصنوعات استعمال کرنا پسند کرتے ہیں حالانکہ وہ مہنگی بھی ہوتی ہیں۔ کوئی چیز خریدتے وقت اگر دیکھتے ہیں کہ اس پر ”میڈ ان ناروے“ لکھا ہے تو پورے اطمینان سے خریدتے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ دو نمبر مال نہیں۔

جیسا کہ کہا کہ ثقافت ایک جگہ ٹھہرنے والی چیز نہیں۔ یہ بدلتی ہے۔ اس میں نئے رنگ آتے ہیں۔ پرانے زمانوں میں ناروے میں بھی مرد گھر کا حاکم تھا۔ بیوی بچوں کی کفالت اس کے ذمہ تھی۔ وہ کام سے گھر لوٹتا تو صرف آرام کرنا۔ گھریلو کاموں میں حصہ لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ یہی اس وقت کی ثقافت تھی۔ لیکن اب دنیا بدل گئی، زمانہ بدل گیا، ثقافت بھی بدل گئی۔ اب مرد برتن بھی دھوتا ہے، کھانا بھی بناتا ہے اور تو اور بچے کی نیپی بھی بدلتا ہے۔ عورت گھر سے باہر کام کرتی ہے۔ آمدنی میں اضافہ سے معیار زندگی بہتر ہو تا ہے۔

جنگل، درخت، ہریالی، پودے، پھول اور جھاڑیاں بھی ناروے کی ثقافت کا حصہ ہیں۔ وہ انہیں نقصان پہنچانے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔ مختصر سے موسم گرما میں گھر کے باہر نئے پھول لگانا ایک انتہائی پسندیدہ کام ہے۔ ہر موقع کی مناسبت سے ایک دوسرے کو پھول دینا یا بھیجنا ایک روایت ہے۔

لیکن اگر آپ ناروے کی ثقافت کو گہرائی میں جا کر سمجھنا چاہیں تو آپ جان لیں گے کہ روایات اور رسم و رواج سے زیادہ اقدار اور اصولوں پر قائم ہے۔ خود نارویجنوں کے مطابق ناروے کی ثقافت کے مضبوط پائے رائے کی آزادی، مساوات، انصاف، انسانی حقوق، جمہوریت، تارکین وطن سے گھلنا ملنا ہے۔ وہ معاشرے میں تحمل اور ایک دوسرے کی تکریم کے قائل ہیں۔ وہ نئے آنے والوں سے خوفزدہ نہیں ہیں کہ وہ ان کی ثقافت میں ملاوٹ کا باعث ہوں گے لیکن اس بات کا انہیں اندیشہ ہے کہ یہ لوگ ان کی اقدار پر اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words