ایوب خان: اہم مواقع پر ہمیشہ منظر سے غائب ہو جانے والے ایک متذبذب ڈکٹیٹر

فاروق عادل - مصنف، کالم نگار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ 21 اپریل 1974 کی بات ہے۔ دوپہر کا وقت تھا اور لوگوں کا ایک جم غفیر تھا جس کے عین بیچ میں ایک ایمبولینس دھیمی رفتار سے چلتی جاتی تھی، گویا پیدل چلنے والوں کے قدم سے قدم ملا کر چلتی ہو۔

ایمبولینس میں ایک میت رکھی تھی جسے اس کے چاہنے والوں کی ایک بڑی تعداد سفر آخرت پر روانہ کرنے کے لیے ہم رکاب تھی۔ جیسا کہ ہوتا ہے، جنازے کے ساتھ چلنے والوں سے کوئی پکارتا ہے: ’کلمہ شہادت۔‘

اور پھر اِس پُکار کے جواب میں کلمے کی صدا بلند ہوتی ہے۔ ابتدا میں پورے جوش کے ساتھ باآوازِ بلند اور اس کے بعد بتدریج دھیمی پڑتی ہوئی۔ یہی ماحول اس جنازے پر بھی غالب تھا جب اچانک گہرے سبز رنگ کی ایمبولینس نے دو تین ہچکیاں لیں اور چند غراہٹوں کے بعد یہ بند ہو گئی۔

یہ اُس فیلڈ مارشل کا جنازہ تھا جو اس ملک کی فوج کا پہلا پاکستانی سپہ سالار، پہلا چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور دوسرا صدر تھا۔

اس کے بعد کا منظر یہ ہے کہ کلمہ شہادت کی پکار پر لبیک کہنے والوں کو اب اس ایمبولینس کو بھی دھکیلنا تھا۔

وہ پورے جذبے کے ساتھ جیسا کہ روایت ہے، کلمہ شہادت بلند کرتے، رومالوں اور آستینوں کے ساتھ پیشانی اور چہرے سے پسینہ خشک کرتے اور ایمبولینس کو دھکیلتے جاتے۔ یہاں تک کہ جنازہ ریس کورس گراؤنڈ تک آن پہنچا، فیلڈ مارشل محمد ایوب خان کی میت ایمبولینس سے نکال کر گھاس کے ہرے میدان میں رکھ دی گئی اور لوگوں نے صفیں بنانا شروع کر دیں۔

اب ذکر اس واقعے سے ایک دن پہلے یعنی 20 اپریل 1974 کا، جب ایک ڈاکٹر اپنا بیگ جُھلاتے ہوئے فیلڈ مارشل ایوب خان کے گھر پہنچے۔ وہ چاہتے تھے کہ سابق فوجی حکمراں کا، جو اُن دنوں کافی علیل تھے، معائنہ کر کے کوئی نئی دوا تجویز کریں۔

اُردلی نے ڈاکٹر کو ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور فیلڈ مارشل کی خواب گاہ کی طرف بڑھا جن کے دن اور رات عام طور پر اب اسی کمرے میں گزرتے تھے۔ دروازہ خلاف معمول بند تھا لیکن بند دروازے کے پیچھے سے ریڈیو بجنے کی آواز آ رہی تھی۔

سنہ 1969 میں اقتدار سے علیحدگی کے بعد سے وہ سیاست سے لاتعلق ہو چکے تھے اور بہ وجہ علالت و کمزوری اِن کی مختلف قسم کی سماجی و خانگی سرگرمیاں بھی محدود ہو چکی تھیں لیکن خبریں وہ اب بھی سُنا کرتے تھے، خبروں کے علاوہ سنجیدہ مباحثوں پر بھی توجہ ہوتی، ہاں البتہ کبھی کبھار ہندکو دُھن پر کسی گیت کی سریلی آواز بلند ہوتی تو بوڑھے فیلڈ مارشل کے چہرے پر ذرا سی دیر کے لیے تازگی نمودار ہو جاتی۔

اس روز بھی جب اُردلی نے ریڈیو کی آواز سُنی تو لحظہ سوچ کر دروازے پر دستک دی۔ کوئی جواب نہ ملا لیکن ڈاکٹر کا معائنہ چوںکہ ضروری تھا اس لیے احتیاط سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گیا۔ فیلڈ مارشل ایک بڑے اور دو چھوٹے تکیے سر تلے لیے اطمینان کی نیند سو رہے تھے۔

اُس نے جگانے کی کوشش کی لیکن سونے والے کی نیند زیادہ گہری تھی اور زیادہ پُرسکون بھی۔ ایک ایسی نیند جس کی وادی میں داخل ہونے والا کبھی واپس نہیں لوٹتا۔

پاکستان کی ایک ایسی کہانی کا ابتدائی کردار، جو کسی نہ کسی طرح اب بھی جاری ہے، اپنی سانسیں پوری کر کے دنیا سے رخصت ہو چکا تھا۔

گوہر ایوب کہتے ہیں کہ اُن (ایوب خان) کی وفات پر سرکاری ذرائع ابلاغ سے صرف اتنی ہی اطلاع نشر ہوئی: ’پاکستان کے ایک سابق صدر انتقال کر گئے۔‘

خبر میں اُن کا نام شامل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ اخبارات کا رویہ بھی اس سے ملتا جلتا تھا۔ نہ شہ سرخیوں میں خبر شائع ہوئی اور نہ سیاہ ماتمی حاشیوں میں، یوں ہی کسی کونے کھدرے میں عام سی خبر کی طرح اسے جگہ ملی۔

ایوب خان پاکستان کی سیاسی اور عسکری زندگی کا ایک ایسا کردار ہیں جن کے ذکر کے بغیر ملک کا کوئی سیاسی، غیر سیاسی اور جمہوری و غیر جمہوری تذکرہ مکمل نہیں ہوتا۔ جنگجو قبائل کی شہرت رکھنے والے خطہ پوٹھوار کے علاقے ہری پور میں جنم لینے والے محمد ایوب خان کے والدین انھیں اعلیٰ تعلیم دلانے کی آرزو رکھتے تھے۔ یہی سبب تھا کہ انھیں مسلم برصغیر کے سب سے بڑے، معروف اور نیک نام تعلیمی ادارے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخل کرایا گیا۔

لیکن حالات نے کچھ ایسا رُخ اختیار کیا کہ وہ تعلیم مکمل نہ کر سکے کیونکہ رائل انڈین آرمی میں منتخب ہو جانے کے بعد وہ تعلیم کا سلسلہ نامکمل چھوڑ کر سینڈ ہرسٹ روانہ ہو گئے جہاں فوجی تربیت کی تکمیل کے بعد ایک پُرکشش پیشہ وارانہ کیریئر اُن کا منتظر تھا۔

ایوب خان

محمد ایوب پاکستان کے وہ پہلے کمانڈر انچیف (ذوالفقار علی بھٹو کے صدر بننے سے پہلے مسلح افواج کے سربراہ اپنی اپنی فوج کے کمانڈر انچیف کہلاتے تھے، بعد میں اِس عہدے کو چیف آف آرمی سٹاف وغیرہ کا ٹائٹل دیا گیا) تھے جو حاضر سروس فوجی ہونے کے باوجود یونیفارم میں ملک کے وزیر دفاع اور پھر وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہوئے۔

سرکاری ملازمت میں رہتے ہوئے انھوں نے سیاسی مناصب سنبھالنے کے بارے میں کب سوچا، اس سلسلے میں کوئی واضح اطلاع تو موجود نہیں لیکن چند ایسے اشارے دستیاب ہیں جن سے سیاست میں ان کی دلچسپی کا پتہ چلتا ہے۔

قدرت اللہ شہاب کی گواہی ہے کہ اس کا پہلا سراغ اُن کی ڈائری سے ملتا ہے جو انھوں نے چار اکتوبر 1954 کی شب لندن کے ڈارچسٹر ہوٹل میں لکھی۔ ڈائری کے یہ مندرجات محض کسی واقعے کی یاداشت ہیں اور نہ کوئی روداد بلکہ بعض مصنفین اسے ایک مبسوط مقالہ قرار دیتے ہیں اور کچھ کے خیال میں یہ کسی آئین کے خدوخال تھے۔

شہاب لکھتے ہیں کہ اکتوبر 1958 میں جب انھوں (ایوب خان) نے اقتدار سنبھالا تو قریب قریب ان ہی خطوط پر ملک چلایا۔

تو کیا وہ ایوانِ اقتدار پر قبضہ کرنے کا منصوبہ اتنا پہلے بنا چکے تھے؟ ایوب خان کے سیاسی عزائم کے بارے میں یہ ایک اور سوال ہے جس کا کوئی واضح جواب دستیاب نہیں، ہاں البتہ گورنر جنرل کے ساتھ اُن کا اور اسکندر مرزا کا مکالمہ ایک اور پہلو کی طرف توجہ مبذول کراتا ہے۔

فوج کے ایک سابق سربراہ جنرل محمد موسیٰ نے یہ مکالمہ اپنی خود نوشت میں درج کیا ہے۔ یہ اُن دنوں کی بات ہے جب غلام محمد دستور ساز اسمبلی تحلیل کر چکے تھے لیکن محمد علی بوگرہ کو انھوں نے وزیر اعظم نامزد نہیں کیا تھا۔ مبینہ طور پر انھوں نے ایوب خان سے کہا کہ وہ اقتدار پر قبضہ کر لیں۔

محمد علی بوگرہ
محمد علی بوگرہ

ایوب خان نے ’فرینڈز ناٹ ماسٹرز‘ میں بھی مختصراً یہ واقعہ درج کیا ہے۔ محمد علی بوگرا کو جب وزیر اعظم بنا دیا گیا تو جنرل موسیٰ کے مطابق انھوں نے ایوب اور اسکندر سے کہا: ’بوگرا میرا وفادار نہیں، میں اسے رخصت کرنے والا ہوں، اس لیے تمھیں (ایوب خان) چاہیے کہ اقتدار پر قبضہ کر لو۔‘

جنرل موسیٰ کے مطابق ان دونوں نے انھیں سمجھایا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے جس پر غلام محمد نے کہا کہ ’ہاں اگر بوگرہ ان کی خواہش کے مطابق کابینہ تشکیل دیں تو وہ ان کی حکومت چلنے دیں گے۔‘

اس کے بعد انھوں نے نئی کابینہ کے ارکان کی ایک فہرست بوگرا کو فراہم کی جس میں باقی سب نام تو پرانے تھے لیکن تین نام نئے تھے، یہ نام تھے: ’سیکریٹری خزانہ چوہدری محمد علی، سیکریٹری دفاع میجر جنرل اسکندر مرزا اور بری فوج کے کمانڈر انچیف جنرل ایوب خان۔‘

یہ پہلی بار تھی جب سیاستدانوں کے بجائے سول اور فوجی بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والوں کا تقرر سیاسی مناصب پر ہوا۔ تاریخ میں اسے پہلی قومی حکومت کا نام بھی دیا جاتا ہے۔

سیاسی عمل میں شریک ہو جانے کے بعد ہی ملک گیر مارشل لا کے نفاذ کی نوبت آئی۔ یہ مارشل لا صدر مملکت اسکندر مرزا اور ایوب خان کا مشترکہ منصوبہ تھا لیکن اس واقعے کے بعد اسکندر مرزا اقتدار سے جس طرح بے دخل کیے گئے اور ایوب خان ملک کے سیاہ و سفید کے مالک بنے، وہ تاریخ کا حصہ ہے لیکن چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اور سربراہ مملکت و حکومت کے طور پر انھوں نے فوراً ہی کچھ ایسے کام کیے جن کی وجہ سے عالمی سطح پر ان کی تحسین ہوئی اور ان کا شمار عالمی مدبرین میں کیا جانے لگا۔

ان میں ایک معاملہ چین کے ساتھ سرحدی تنازع کے حل کا تھا اور دوسرا انڈیا کے ساتھ دریائی پانی کی تقسیم کا۔ یہ ایسے مشکل مسائل تھے جن کے پُرامن اور خوشگوار حل نے بہت جلد ان کی اہمیت میں اضافہ کر دیا اور ملک کے اندر بھی ان کی قسمت کا ستارہ عروج پر جانے لگا اور کامیابیاں یکے بعد دیگرے اُن کا اقبال بلند کرتی چلی گئیں۔

لیکن عروج کے اسی زمانے میں اپنی افتاد طبع کے تحت وہ کچھ ایسا بھی کر گزرے جس کی وجہ سے اقتدار پر ان کی گرفت رفتہ رفتہ کمزور پڑتی چلی گئی اور انھیں نہایت بے بسی کے عالم میں اقتدار سے محروم ہونا پڑا۔

ایوب خان اقتدار کی خواہش بھی رکھتے تھے اور اس مقصد کے لیے جو اقدامات ضروری ہوتے تھے، بڑی حکمت کے ساتھ وہ بھی کر گزرتے تھے لیکن ان کے مزاج میں احتیاط کا بھی ایک پہلو تھا جس کے باعث وہ اہم مواقع پر ہمیشہ منظر سے غائب ہو جاتے یا انتہائی فیصلہ کن مواقع پر ان کی قوت فیصلہ جوب دے جاتی۔

سنہ 1958 کے مارشل لا کے نفاذ کے وقت کا ایک واقعہ انھوں نے خود اپنی سیاسی آپ بیتی میں بھی لکھا ہے اور بعض دیگر مصنفین کے ہاں بھی اس کا ذکر ملتا ہے کہ مارشل لا کے نفاذ سے عین قبل وہ تمام تر معاملات اسکندر مرزا پر چھوڑ کر شمالی علاقہ جات چلے گئے اور اس دوران یعنی ناران میں قیام کے دوران ایک کتاب ‘The Men Who Ruled India’ کا مطالعہ کرتے رہے تاکہ آنے والے دنوں میں جب انھیں کار مملکت نمٹانے کا موقع میسر آئے گا تو وہ ہندوستان جیسے ایک وسیع و عریض ملک پر کامیابی سے حکومت کرنے والوں کے تجربات سے پوری طرح آگاہ ہوں۔

ایوان اقتدار پر قبضہ جماتے وقت حالات کا براہ راست سامنا نہ کرنے کے ضمن میں ان کا جو مزاج سامنے آیا تھا، ان کے زمانہ اقتدار میں بھی اس کے مظاہر سامنے آتے رہے۔ اس سلسلے میں قدرت اللہ شہاب نے اپنی خود نوشت میں ایک اہم واقعہ بیان کیا ہے۔

شہاب کے مطابق سنہ 1962 میں چین نے جب انڈیا پر حملہ کیا تو وہ نصف شب کا وقت تھا۔ رات کے اسی پہر ایک چینی باشندے نے ان سے ملاقات کی اور انڈیا پر چین کے حملے کے بارے میں بتایا اور کہا کہ ’میں یہ سمجھتا ہوں کہ صدر ایوب کو اس خبر میں گہری دلچسپی ہو گی۔‘

شہاب کے مطابق یہ چینی سفارتکاری کا ایک خاص انداز تھا جس کے تحت انھوں نے اپنے پاکستانی دوستوں کو آگاہ کیا کہ مسئلہ کشمیر کو ہمیشہ کے لیے حل کرنے کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ شہاب کے مطابق انھوں نے ایوب خان کو جگا کر جب یہ خبر سُنائی تو وہ بہت خفا ہوئے اور سخت غصے میں کہا: ’تم سویلین لوگ فوجی نقل و حمل کو بچوں کا کھیل سمجھتے ہو، جاؤ، تم بھی آرام کرو، مجھے بھی نیند آ رہی ہے۔‘

شہاب نے لکھا ہے ’مجھے قوی یقین ہے اس شب ایوب خان پر اگر نیند کا غلبہ طاری نہ ہوتا تو تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا۔‘

آپریشن جبرالٹر، اس کا کورنگ آپریشن گرینڈ سلام اور ان کے بعد سنہ 1965 کی جنگ کے بارے میں جو منصوبے انھیں پیش کیے گئے، ان کی افادیت پر انھیں بالکل یقین نہ تھا لیکن جب جنگ سے قبل ان آپریشنوں کی منظوری دے دی گئی تو عین حالت جنگ میں دارالحکومت میں قیام کرنے کے بجائے وہ کسی کو کچھ بتائے بغیر پراسرار طور پر سوات چلے گئے جہاں کسی سے ان کا کوئی رابطہ نہ رہا۔

اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ پورا آپریشن وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور جی ایچ کیو سے تعلق رکھنے والے ان کے ساتھیوں کے ہاتھ میں چلا گیا اور صدر مملکت کی حیثیت سے ایوب خان فیصلہ سازی کا اختیار کھو بیٹھے۔

معاہدہ تاشقند ایوب خان کے سیاسی کیریئر کا ایک اہم واقعہ ہے لیکن یہی وہ اہم ترین واقعہ ہے جس میں حتمی طور پر واضح ہو گیا کہ وہ بے دست و پا ہو چکے ہیں۔ تاشنقد جا کر ایوب خان پر یہ حیرت انگیز انکشاف ہوا کہ وزارت خارجہ نے اس دورے کے لیے بنیادی تیاری ہی نہیں کی۔ یہاں تک کہ افتتاحی اجلاس کے لیے ان کی تقریر بھی تیار نہ کی گئی۔

اس وقت ایوب خان نے ہدایت کی کہ فوری طور پر تقریر تیار کی جائے۔ ایوب خان نے الطاف گوہر کو ہدایت کی کہ تقریر میں کشمیر کو سب سے زیادہ اہمیت دی جائے۔ اس مرحلے پر ذوالفقار علی بھٹو نے مداخلت کی اور کہا کہ کانفرنس کے بالکل ابتدا میں ایسا کرنا مناسب نہ ہو گا۔

ایوب خان اس سے متفق نہ تھے لیکن بھٹو سے اختلاف نہ کر سکے۔ الطاف گوہر نے لکھا ہے کہ وہ جان چکے تھے کہ دورہ تاشقند کی تیاری کس نے نہیں کی لیکن انھوں نے کسی کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی اور بعد میں یہی واقعہ ان کے زوال کی حتمی بنیاد بن گیا۔

اپنے اقتدار کے آخری دنوں میں ان کو دل کا دورہ پڑا تو اس موقع پر اقتدار کے سب سے بڑے حریص یحییٰ خان نے ایوان صدر پر قبضہ کر لیا اور ان تک، ان کے ذاتی سٹاف، کابینہ کے ارکان حتیٰ کہ افراد خانہ کی رسائی بھی ناممکن بنا دی۔

گوہر ایوب دعویٰ کرتے ہیں کہ اس موقع پر انھوں نے سپیکر قومی اسمبلی عبدالجبار خان کو اقتدار منتقل کرنے کی کوشش کی جسے یحییٰ خان نے ناکام بنا دیا۔ گوہر ایوب نے یہ نہیں لکھا کہ صحت یاب ہونے کے بعد ایوب خان نے یحییٰ خان کے خلاف کیا کارروائی کی۔

الطاف گوہر نے لکھا ہے کہ گول میز کانفرنس کے بعد جب یحییٰ خان نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے تمام انتظامات مکمل کر لیے تو انھوں نے ملک کو ایک اور مارشل لا سے بچانے کی کوشش کی اور وزیر قانون، وزیر دفاع اور سیکریٹری اطلاعات سے کہا کہ وہ یحییٰ خان سے مل کر انھیں باز رکھنے کی کوشش کریں۔ یحییٰ خان یہ پیغام سن کر بھڑک اٹھے اور کہا ’کیا یہ کوئی سویلین بغاوت ہے؟‘

الطاف گوہر نے لکھا ہے کہ اپنے آرمی چیف کے اس طرز عمل پر ایوب خان کا ردعمل بڑا فلسفیانہ قسم کا تھا، انھوں نے کہا ’اگر وہ (یحییٰ خان) نہ ہوتے تو فوج بہت پہلے یہ کارروائی کر چکی ہوتی۔‘

فوجی کارروائی کے بارے میں ایسی ’حقیقت پسندی‘ سے کام لینے والے ایوب خان کے بارے میں الطاف گوہر نے لکھا ہے کہ اس واقعے کے بعد اقتدار کے ایوان پر مایوسی کے ایسے سائے چھا گئے جن میں سانس تک لینا مشکل تھا۔

اُن دنوں ایوب خان صبح شام یہ سوال کیا کرتے تھے ’آخر یہ سب معاملہ کیسے بگڑ گیا؟‘

یہ معاملہ کیسے بگڑا، مؤرخ رفیق افضل نے اس کی ایک وجہ بیان کی ہے۔ ان کے مطابق ایوب خان مارشل لا لگا کر جب ملک کے سیاہ وسفید کے مالک بنے تھے تو اس وقت قومی خزانے کے محفوظ ذخائر 1390 ملین تھے لیکن سنہ 1968 میں جب قوم ان کے خلاف ہو چکی تھی، قومی خزانے میں صرف 431 ملین کا زرمبادلہ رہ گیا تھا۔

تاہم ان حقائق کے باوجود آزاد دائرۃ المعارف نے ایوب خان کے بارے میں لکھا ہے کہ ان کے دور میں ملک میں دن دگنی اور رات چوگنی ترقی ہوئی، ان کے انداز حکمرانی کے بارے میں شاید ایسے ہی تصورات سے متاثر ہو کر کسی نے کہا ہو گا:

’تیری یاد آئی تیرے جانے کے بعد۔۔۔‘ لیکن پاکستانی عوام کو ان کی یاد کیوں آتی ہو گی، اس کی وجوہات ہر ایک کے لیے یقیناً ایک جیسی نہیں ہوں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •