اردو ادب اور اقبال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ادب اس تحریر کو کہتے ہیں جس میں روزمرہ کے خیالات سے بہتر اور روزمرہ کی زبان سے بہتر زبان کا اظہار ہوتا ہے۔ ادب انسانی تجربات کا نچوڑ پیش کرتا ہے۔ انسان دنیا میں جو کچھ دیکھتا ہے، جو تجربے حاصل کرتا ہے، جو سوچتا سمجھتا ہے اس کے ردعمل کا اظہار ادب کی شکل میں کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ادب زندگی کے وسیع ترین مسائل کا احاطہ کرتا ہے اور اس کے ذریعہ پروان چڑھتا ہے۔ انسان ادب کے بل بوتے پر زندہ رہتا ہے کیونکہ ادب انسان کو بہتر انداز میں جینے کے لئے مدد دیتا ہے۔ اور یہ مدد اس طرح ہوتی ہے کہ ادب جن اقدار کا حامل ہوتا ہے وہ صحت مند ہونے کی بناء پر انسان کے حوصلوں کو بڑھاتا ہے اور اس کے اندر زندہ رہنے کی امنگ پیدا ہوتی ہے اور اسے صحیح معنوں میں جینے کا سلیقہ آتا ہے۔

میں نے ایک بار کہیں پڑھا تھا کہ دنیا کے کسی ادب نے کبھی مظلوم کے مقابلے میں ظالم کا ساتھ نہیں دیا، اس نے بدصورتی کی اشاعت نہیں کی بلکہ دنیا کو زیادہ حسین بنانے کے لئے بدصورتی کی مذمت کی ہے۔ ادب میں قدروں کا اظہار شاعرانہ حقیقت کی شکل میں جذباتی انداز سے کیا جاتا ہے لیکن یہ اظہار محض جذباتی ہو تو اس کا اثر دیرپا نہ ہو۔ چنانچہ اسے خیال انگیز بنایا جاتا ہے۔ خیال انگیزی کا جذبہ بذات خود افادیت پر مبنی ہے۔ ادب میں افادیت کی اہمیت اس وجہ سے اور بھی مسلم ہو جاتی ہے۔

بات ادب کی ہو تو شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کا نام جلی الفاظ سے لکھا نظر آتا ہے۔ ساکنان مشرق علامہ اقبال کے احسانات کے کتنے مقروض ہیں شاید اس کا صحیح اندازہ لگانا بہت مشکل ہے۔ گو کہ اس قرض کو کلی طور پر اتارنا تو ممکن نہیں لیکن جزوی طور پر اس سے عہدہ برا یوں ہوا جا سکتا تھا کہ اقبال کے کلام کو باقاعدہ ایک مضمون کی شکل دے کر ہمارے نظام تعلیم کا حصہ بنایا جاتا مگر افسوس کہ بدقسمتی سے یہ نہ ہو سکا۔

حکیم الامت، عارف کامل، دانائے راز، شاعر مشرق حضرت علامہ محمد اقبالؒ عالم ناسوت کی زمانی و مکانی حدود سے ماورا اس فکر کا نام ہے جس کے نور علم و معرفت سے ہر عہد کا انسان فیض یاب ہو سکتا ہے۔

علامہ اقبالؒ کی شاعری امت مسلمہ کے لیے پیغام حیات ہے۔ آپؒ کے کلام کا ہر شعر بلکہ ہر مصرعہ اپنے اندر معنی کا بحر بیکراں ہے۔ اسی لیے آپؒ کی زبان گوہر فشاں سے نکلنے والی ہر بات اپنے اندر وسعت دوام رکھتی ہے۔ لیکن وہ غواص کس طرح ان موتیوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے جو سمندر کی تہہ میں ہوں اور وہ سمندر میں چھلانگ ہی نہ لگائے اور ساحل کی صحبت سے کنارہ کشی ہی نہ کرے۔ اگر موتیوں کو پانا ہو تو ساحل کو چھوڑ کر غوطہ زنی شرط اول ہو گی۔

اسی طرح اگر ہم اس مرد خود آگاہ کے پیغام سے استفادہ کرنا چاہتے ہیں اور ان کے کلام سے انمول جوہر تلاش کرنا اگر ہمارا مقصود ہے تو پھر ہمیں ان کی ذات گرامی سے محبت اور عقیدت کے ساتھ ساتھ ان کے افکار و نظریات کو زیر مطالعہ لانا ہو گا۔ مغربی تہذیب کی یلغار نے ہمیں اپنی مصنوعی چمک سے اس قدر اپنی جانب متوجہ کر رکھا ہے کہ ہم فکر ابلیس کے دام فریب میں اسیری کا عملی نمونہ نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت علامہ اپنی ایک نظم ”ابلیس کا فرمان اپنے سیاسی فرزندوں کے نام“ میں ابلیسی فکر کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

اقبال کے نفس سے ہے لالے کی آگ تیز
ایسے غزل سرا کو چمن سے نکال دو

اقبال غالباً وہ پہلے بڑے شاعر تھے جنہوں نے بچوں کے موضوع پر قلم اٹھایا ورنہ ان سے پہلے اس بات کا خیال شاید کسی شاعر کو نہیں آیا تھا۔ بچوں سے متعلقہ نظمیں ان کے شعری مجموعے ”بانگ درا“ کے ابتدائی حصے میں شامل ہیں۔ غور طلب بات یہ ہے کہ اقبال نے ان نظموں میں نہ صرف نامانوس الفاظ اور دقیق تراکیب سے گریز کیا بلکہ زبان و بیان کے پیرائے کو بھی سادہ رکھا تاکہ ان نظموں میں جو سبق پنہاں ہے وہ باآسانی بچوں کی سمجھ میں آ سکے۔

علامہ اقبال کا کلام ہر خاص و عام اور ہر چھوٹے بڑے کے لئے ہے۔ وہ ہمیشہ چاہتے تھے کہ ان کا پیغام خصوصی طور پر قوم کے نوجوانوں اور مستقبل کے معماروں یعنی بچوں تک ضرور پہنچے تاکہ وہ خودی اور خود اعتمادی کے زیور سے آراستہ ہو کر اپنی منزل کو پانے میں کامیاب ہو سکیں:

جوانوں کو مری آہ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے

علامہ اقبال نے اپنی والدہ صاحبہ کی وفات پر ان کی یاد میں 86 اشعار پر مشتمل ایک طویل نظم ”والدہ مرحومہ کی یاد میں“ لکھی جس میں اقبال ماں کے بچھڑ جانے کے غم میں خود ایک طفل کی مانند نظر آئے۔ اس نظم کا آخری شعر بے حد مقبول ہوا:

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

اقبال کو حضور سے جو والہانہ عشق ہے اس کا اظہار ان کی شاعری کے ہر دور میں ہوتا رہا ہے۔ اقبال کی انفرادیت ہے کہ انہوں نے مدح رسول اکرم کو ایک نئے اسلوب اور نئے آہنگ کے ساتھ اختیار کیا۔

خوشا وہ وقت کہ یثرب مقام تھا اس کا
خو شا وہ دور کہ دیدار عام تھا اس کا

اقبال سردار دو عالم کی سیرت پاک کا غائر مطالعہ کرنے اور مطالب قرآنی پر عبور حاصل کرنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے کہ آنحضرت کی ذات بابرکات جامع الحیثیات ہے۔ تمام کمالات ظاہر و باطن کا سرچشمہ ہے ۔ کلام اقبال اٹھا کر دیکھ لیں تو یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پیغام اقبال اصل میں حب رسول ہے۔ کیونکہ انہی کی ذات گرامی سرچشمہ دیں ہے۔

بہ مصطفی برساں خویش را کہ دین ہمہ اوست
اگر بہ او نرسیدی تمام بولہبی است

اقبال کی طبیعت میں سوز و گداز اور حب رسول اس قدر تھا کہ جب کبھی ذکر رسول ہوتا تو آپ بے تاب ہو جاتے اور دیر تک روتے رہتے۔ ”روزگار فقیر“ میں فقیر سید وحید الدین لکھتے ہیں:

” اقبال کی شاعری کا خلاصہ جوہر اور لب لباب عشق رسول اور اطاعت رسول ہے۔ ان کا دل عشق رسول نے گداز کر رکھا تھا زندگی کے آخری زمانے میں یہ کیفیت اس انتہا کو پہنچ گئی تھی کہ ہچکی بندھ جاتی۔ آواز بھرا جاتی تھی اور وہ کئی کئی منٹ سکوت اختیار کر لیتے تھے۔ تاکہ اپنے جذبات پر قابو پا سکیں۔“

مولانا عبدالسلام ندوی ”اقبال کامل“ میں لکھتے ہیں:

” ڈاکٹر صاحب کی شاعری محبت وطن اور محبت قوم سے شروع ہوتی ہے اور محبت الہٰی اور محبت رسول پر اس کا خاتمہ ہوا۔“

اقبال کے ذہن میں انسانی زندگی کے دو بڑے دھارے ہیں۔ نیکی اور بدی وہ نیکی کو محمد ﷺ سے منسلک کرتے ہیں جبکہ بدی کو ابولہب سے وہ ابو لہب کو بدی کا خدا تصور کرتے ہیں اور نیکی کی علامت کے لئے پیکر جمیل کا انتخاب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عشق اور عقل کی تقسیم میں عشق کو محمد اور عقل کو عیاری کی بناء پر ابولہب کے حصے میں رکھتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں:

تازہ میر ے ضمیر میں معرکہ کہن ہوا
عشق تمام مصطفی عقل تمام بولہب

اقبال کے خیال میں نیکی اور بدی کی قوتوں کے درمیان یہ معرکے ازل سے جاری ہیں اور بدی کی قوتوں کا انداز ابتداء سے مکارانہ اور عیارانہ ہے۔ جس کے مقابلے میں نیکی معصوم اور پاک ہوتی ہے۔

ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی

یہ عشق نبوی کا ہی فیض ہے کہ یورپ میں ایک طویل عرصہ گزارنے کے باوجود اقبال دین محمدی سے منحرف نہ ہوئے اور نہ ان کے اقدار میں تبدیلی ہوئی۔ اس لئے جب وہ لوٹے تھے اسی طرح عشق رسول سے سرشار تھے۔

خیرہ نہ کر سکا مجھے جلوۂ دانش فرنگ
سرمہ ہے مری آنکھ کا خاک مدینہ و نجف

اقبال کے سارے نظریات اقبال کی ذات گرامی میں بدرجۂ اتم موجود تھے۔ وہ ایک خوددار شخصیت تھے۔ شاہین صفت تھے، شفیق تھے۔ انسان کامل تھے۔ مردمومن تھے۔ صاف گو تھے۔ جمہوریت پسند تھے۔ مسلم قوم کے قدر دان تھے، اسی لئے اقبال جواب شکوہ میں لکھتے ہیں کہ

عقل ہے تیری سپر، عشق ہے شمشیر تری
مرے درویش! خلافت ہے جہان گیر تری
ماسوا اللہ کے لئے آگ ہے تکبیر تری
تو مسلماں ہو تو تقدیر ہے تدبیر تری
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لو ح قلم تیرے ہیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *