تجزیے کا تجزیہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

تجزیہ لفظ جزو سے مشتق ہے۔ جزو ٹکڑے یا حصے کو کہا جاتا ہے۔ تجزیہ بنیادی طور پر سائنس سے منسوب ہے۔ کسی بھی کیمیائی مادے کے اجزاء کو علیحدہ کرنے کو تجزیہ یعنی Analysis کہا جاتا ہے۔ جب اس لفظ کو سماجی یا عمرانیاتی حوالے سے برتا جاتا ہے تو اسے بالعموم آراء شماری کہا جاتا ہے جس کی پھر تحلیل کی جاتی ہے یعنی Synthesis۔ اس سے مراد ٹکڑوں یا اجزاء کو نئی، مناسب یا ممکنہ ترتیب میں جوڑنا ہوتا ہے۔ سماجی یا عمرانیاتی تجزیوں میں جو درحقیقت تجزیہ و تحلیل ہوتے ہیں، سماجی معاملات کے مختلف اجزاء کا جائزہ لے کر اس کی مستقبل میں تحلیل شدہ شکل کے بارے میں اندازے لگائے جاتے ہیں جو عموماً درست اس لیے ہوتے ہیں کہ اس سے متعلق کوئی چیز خفیہ نہیں ہوتی۔

اس کے برعکس سیاسی معاملات کے تجزیے ( جو اپنی کلی شکل میں ایک بار پھر محض تجزیہ نہیں بلکہ تجزیہ و تحلیل ہوتے ہیں ) کے بارے میں لگائے گئے اندزاے ہمیشہ درست ثابت نہیں ہوتے۔ یہی وجہ ہے کہ مشاق ماہر تجزیہ نگار اجزاء کی تحلیل کرتے ہوئے دو یا دو سے زیادہ ممکنات کو پیش نظر رکھتے ہیں اور پھر زیادہ ممکن اور کم ممکن کا ذکر کر کے زیادہ ممکن کو اہم ظاہر کر دیتے ہیں۔ ایسی بات نہیں کہ وہ ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ نتیجہ نکلنے پر چت بھی ان کی ہو اور پٹ بھی انکی۔ دراصل سیاست بھی ویسے ہی ایک زندہ عمل ہے جیسے سماج۔ حقائق تبدیل ہو سکتے ہیں۔ معروضی حالات میں یک لخت یا بتدریج تبدیلی آ سکتی ہے۔ کچھ بھی غیر ممکن وقوع پذیر ہو سکتا جس سے سیاست کی حرکیات بدل سکتی ہیں۔

سیاسی تجزیے کے لیے ذہانت سے زیادہ مشاہدے کی اور مطالعے سے زیادہ آگاہی (ظاہر ہے کہ سیاسی آگاہی) درکار ہوتی ہے۔ یاد رہے جن ملکوں میں پالیسیوں میں تسلسل ہوتا ہے وہاں کے تجزیہ نگار ویسے ہی زیادہ آگاہ ہوتے ہین چنانچہ ان کے تجزئیات و تحلیلات میں غلطی کا امکان کم ہوتا ہے۔ ان ملکوں میں جہاں پالیسیاں اندرونی اور بیرونی عوامل کے ساتھ بندھی ہوتی ہیں، جن میں اتار چڑھاؤ آتا رہتا ہے وہاں کا تجزیہ کرتے ہوئے، تجزیہ کاروں اور تجزیہ نگاروں کو اخباری اطلاعات کے علاوہ حکومتی حلقوں کے اندر سے موصول کردہ معلومات و اطلاعات پر تکیہ کرنا پڑتا ہے۔

حکومتوں کی اپنی حرکیات ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ایسی اطلاعات توجہ ہٹانے کے لیے دی جاتی ہیں اور بعض اوقات آئندہ کی پالیسی کے لیے راستہ ہموار کرنے کی خاطر۔ انسانی نفسیات میں اجتماع اور بعض اوقات ہجوم کی نفسیات کو پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ اجتماعی نفسیات کو قابو میں رکھنے کے لیے صحافیوں، سیاست دانوں، سماجی شخصیات اور دوسرے حلقوں کے ”معتبر“ حضرات کو بظاہر یا خفیہ طور پر حکومتی نقطہ نظر کے ساتھ جوڑا جاتا ہے، جس کا اکثر اوقات کسی نہ کسی شکل میں معاوضہ بھی دیا جاتا ہے۔

تجزیہ کرنے کے لیے خطیب یا ادیب ہونے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس کے لیے نہ زور خطابت درکار ہوتا ہے اور نہ ادبی رنگ تجزیے کو موثر بنا سکتا ہے۔ تجزیہ ویسے ہی گھڑت اور جڑت پر مبنی ہوتا ہے جیسے صحافت۔ دراصل یہ بڑھئی کا سا کام ہے۔ مغرب میں تجزیہ کرتے ہوئے صحافتی زبان استعمال کی جاتی ہے جس میں واقعہ، واقعے کا مشاہدہ، واقعے کے ساتھ وابستہ فرد یا افراد، واقعے کی وجوہ، واقعے سے ہوا فوری نقصان یا فائدہ اور واقعے کے بعد کے نتائج کا ذکر ہوتا ہے۔

البتہ ہمارے ملک میں گزشتہ عرصے سے دیکھنے میں آ رہا ہے کہ کچھ تجزیہ نگار اپنی ”سٹوری“ کو ڈرامائی رنگ دیتے ہیں، کچھ اسے افسانے کے انداز میں شروع اور تمام کرتے ہیں، کچھ لفظوں کی بنت، لفظوں کی ساخت اور لفظوں کے تنوع کو برتتے ہوئے اس کی تجزیہ جاتی حیثیت کو متاثر کر دیتے ہیں اور کچھ تو ویسے ہی تجزیے کو نعرہ و آرزو کا مرقع بنائے رکھتے ہیں۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے چونکہ ہمارے ملک میں صحافت خاص طور پر الیکٹرانک صحافت بہت نو آموز ہے۔ اس کی مقبولیت کے تناظر میں اس میں جلوہ گر رہنے والے تجزیہ نگاروں نے اپنی تحریروں کو بھی ناظری کی بجائے سمعی و بصری شکل دینے کا انداز اپنا لیا ہے۔ چنانچہ ہمارا قاری بھی اتنا پختہ نہیں ہو سکا کہ وہ ادبی، ڈرامائی، افسانوی انداز کو صحافتی انداز سے ممتاز کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر تجزئیاتی مضامین کو پڑھنے والوں کی اکثریت ”کالم“ کا نام دیتی ہے۔

”کالم“ میں سنجیدہ موضوع سے لے کر الم غلم اور طنز سے لے کر مزاح تک لکھا جا سکتا ہے۔ مگر تجزیہ جاتی مضمون ثقیل اصطلاحات، تکنیکی نزاکتوں اور ادبی چاشنی سے پاک خالص صحافتی زبان میں سیاسی معاملات کے اجزاء کو علیحدہ علیحدہ کر کے ان کو اپنی سوچ کے مطابق جوڑے جانے کا نام ہے۔ سیاسی تجزیے کے نتیجے یعنی تحلیل میں ذاتی خواہش کا پرتو نہیں ہونا چاہیے۔ کسی سیاسی فریق کے ساتھ لگاؤ کا اظہار نہیں ہونا چاہیے۔ کسی سیاسی فریق کی حمایت یا مخالفت کا شائبہ نہیں ہونا چاہیے ورنہ تجزیہ پرچار بن کر رہ جاتا ہے۔ غیر صحافتی انداز میں لکھنے اور بولنے سے معاملہ افسانوی ہو جاتا ہے۔

آخر میں ایک نظم جو شاید بات کو زیادہ واضح کر دے :
یوں لگتا ہے جیسے
یہاں پہ بچوں کی کہانیوں کی
ایک کہانی کے
سارس اور لومڑیاں بستی ہیں
دودھ، چینی، کیوڑے، الائچیوں، چاولوں،
قسم قسم کے
خوبصورت جزوں کا لجلجا ملغوبہ
بعض بعضوں کو
جن کی گردنیں لمبی، ہونٹ لٹکے ہوئے
چھوٹے چھوٹے دہانوں پہ
نوکوں کی صورت میں جھکے ہوتے ہیں
تصنع کی دمکتی مسطح تھالیوں میں
پیش کرتے ہیں
اور زیر لب عیاری کی
پوشیدہ مسکراہٹ مسکراتے ہیں
دوسرے بعض بعضوں کو
جن کے دہانے کھلے اور زبانیں بڑی
منہ سے رالیں بہاتی رہتی ہیں
منافقت کی تنگ منقش صراحیوں میں
لبالب بھر کر دیتے ہیں
پہلے بے بسی سے
تھالیوں میں گھنٹوں کٹکٹاتے ہیں
اور گھنٹوں گزر جانے پر
گھونٹ بھر بھی نہیں چاٹ سکتے
پھر بھی وضع داری میں
شکریہ کہہ کے گھر کو چلے جاتے ہیں
دوسرے صرف زبان گیلی کرتے ہیں
اور پھر بھری صراحی ان کی
بڑی زبانوں سے اتھلی ہو جاتی ہے
وہ صراحی کے گرد
بے چینی سے چکر کاٹتے ہیں
تاکہ کوئی تدبیر ہو سکے
پیش کرنے والے ان کی بے چینی سے
لطف اندوز ہوتے ہیں
پھر ہنس کے کہتے ہیں
”دوست سیر ہو گئے، کچھ اور کھا لو، تمھارے ہی لئے ہے! ۔
”نہیں بس تمھارا شکریہ!
ناگواری لجاجت سے کہتے ہوئے
شکست خوردہ سی چال چلتے ہوئے
بدلہ لینے کی جدتیں سوچتے
اپنی کمین گاہوں میں جا کرساری رات
بھوک اور سوچ کی چبھتی کیلوں پر بیٹھے
پشیمان، ناراض اور آزردہ خاطر سے رہتے ہیں
ایک میں ہوں
جو سب کو علیحدہ علیحدہ اجزاء
جن میں کچھ چکنے، گاڑھے، اور پھیکے ہوتے ہیں
کچھ بھر بھرے، میٹھے مگر زود سیر
کچھ سیال، معطر اور بے ذائقہ
کچھ کڑوے سے دانے سیاہ خوشبو دار
اور کچھ بھربھرے، ٹوٹ جانے والے، دودھیلے
اور بے ذائقہ اور ذائقہ دارہونے کے درمیان کچھ ہوتے ہیں
کھلے اور گہرے پیالوں میں رکھ کر
جو کھرے پن اور سچ کی مٹی کے
بد نما سے پیالے ہوتے ہیں
سب کو دعوت شیراز دے دیتا ہوں
کہ میرے ہاں نہ لکڑیاں ہیں
نہ چولھا اور نہ ہی گیس
سب کٹکٹاتے، گھونٹ بھرتے اور لپالپ چاٹتے ہیں
پھر بھی ناگواری اور روکھے پن سے ہی
شکریہ کہے بغیر چلے جاتے ہیں
میں ہر حالت میں خوش رہتا ہوں
کہ سب مہمان اپنی اپنی بساط کے مطابق
کھا کے لوٹے ہیں
مگر جب میں بعد میں پیالے سمیٹتا ہوں
تو اس میں نفرت، حقارت، طنز، تمسخر اور استہزا کی
زرد بدبودار تھوکیں چمٹ کے لٹکی ہوتی ہیں
میں پھر حیرت، تشکیک، اور بے چارگی کی کیفیت میں
سوچتا ہوں
کہیں
میں دوسرے سیارے کی
اسی جرم کی پاداش میں
دھتکاری ہوئی مخلوق تو نہیں؟
جسے سزا کے طور پر کرب سہنے کو
انجان پن کی عمر دے کر
اسی قسم کے اس جہان میں گرایا گیا ہے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *