راؤ شمیم اصغر: اس خرابے میں مری جان تم آباد رہو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ ان دنوں کی بات ہے جب صحافت پامال نہیں ہوئی تھی، اہل صحافت کا وقار اور اعتبار بھی سماج میں قائم تھا اور قلم کی حرمت بھی۔ سوشل میڈیا کا قہر نازل نہیں ہوا تھا۔ اخبارات پر پکوڑے بھی نہیں بیچے جاتے تھے۔

ممتاز صحافی اور مؤقر روزنامہ ”نوائے وقت“ کے سابق ریذیڈنٹ ایڈیٹر راؤ شمیم اصغر صاحب کے اسم گرامی سے ہم بچپن سے ہی آشنا تھے، 70ء کی دہائی سے 9 دسمبر 2000ء میں اپنی وفات حسرت ایام تک ہمارے والد صاحب اوچ شریف میں ”نوائے وقت“ کے نامہ نگار رہے اور 90ء کی دہائی میں شمیم صاحب سرکولیشن منیجر و انچارج ڈسٹرکٹ نیوز کے طور پر ذمہ داریاں سرانجام دیتے رہے۔

وہ خطوط اور مکاتیب کا عہد تھا، جب خط لکھے جاتے تھے اور خط بھیجے جاتے تھے، سو ہر مہینے شمیم صاحب کے ابا کے نام تین چار نامہ ہائے شوق تو ضرور موصول ہوتے تھے۔ ابا جی ان کا ذکر محبت اور اعتبار کی سانجھ کے ساتھ کرتے تھے۔

گم سم، چپ چاپ اور دھیمی طبیعت کا مزاج رکھنے والے شمیم صاحب سے جب ملتان میں ہماری پہلی ملاقات ہوئی تو ہم نے اپنا تعارف اپنے والد صاحب کے حوالے سے کرایا۔ نسیم صاحب کا نام سنتے ہی چونک کر ہمیں غور سے دیکھا، گرم جوشی سے ملے، چائے اور بسکٹ سے خاطر تواضع کرنے تک وہ ہمارے ابو جی کے ساتھ بیتے وقت اور تعلقات کا خوبصورت لفظوں میں تذکرہ کر چکے تو ہم نے انہیں یہ بتا کر حیران کر دیا کہ نسیم صاحب کے نام ان کے خطوط ہمارے پاس محفوظ ہیں اور کوئی دن آتا ہے کہ ہم انہیں ”تختہ مشق“ بنا کر کھوئے ہوؤں کی جستجو کریں اور ان کی یاد کی شمع جلائیں۔

”نوائے وقت“ واحد اخبار تھا جسے ہم نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے گھر میں آتے دیکھا، بچپن اور لڑکپن میں خبری مواد پڑھنے سے ہمیں زیادہ دلچسپی نہیں تھی، البتہ ہر بدھ کو آنے والا آٹھ صفحات پر مشتمل بچوں کا ایڈیشن ”پھول اور کلیاں“ ہمارا پسندیدہ ترین ایڈیشن تھا جس کا ہمیں شدت سے انتظار رہتا تھا۔ حمید نظامی، مجید نظامی، سلیم ناز، رضیہ بیگ، جبار مفتی اور راؤ شمیم اصغر جیسی مہان ہستیوں کے ناموں سے ہماری سماعتیں بالپن سے ہی آشنا ہوئیں اور غائبانہ طور پر انہی شخصیات سے ہی ہم نے صحافت کے تقدس کو وابستہ کیا اور ابھی تک یہ رومانس اور بھرم موجود ہے۔

نوے کی دہائی میں متعدد بار ہم نے شمیم صاحب کی تصویر اخبار میں چھپی دیکھی تھی جس میں وہ بالوں کے وحید مراد سٹائل اور ترشی ہوئی باریک مونچھوں کے ساتھ وجیہہ شخصیت کے مالک نظر آتے تھے۔ اب جب ملاقات ہوئی تو ان کی کہولت دیکھ کر اندازہ ہوا کہ سمے کی ریت ہاتھوں سے دھیرے دھیرے سرکتی جا رہی ہے۔ البتہ یہ سوچ کر دل کو تسلی ہوئی کہ اس ”خر دجالی دور“ میں جب اخباری مالکان کے ساتھ ساتھ کئی صحافیوں کے خون بھی سفید ہو گئے ہیں، راؤ شمیم اصغر صاحب نے صرف اپنے بال ہی سفید کیے ہیں۔

شمیم صاحب سے مل کر، ان سے ملاقات کر کے نہ صرف ہمارے نوسٹیلجیا کو قرار سا آ گیا بلکہ ایک بے نام سی سرخوشی ہمارے بے قرار وجود دھمالیں مارنے لگی تھی۔ ان سے مل کر رخصت ہوتے وقت اچانک خدائے سخن میر صاحب کا یہ شعر بے اختیار دعا بن کر ہمارے کنج لب پہ کھل اٹھا۔

میر ہم مل کے بہت خوش ہوئے تم سے پیارے
اس خرابے میں مری جان تم آباد رہو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *