بچے کا معصومانہ لیکن مشکل سوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رمضان اس کے پسندیدہ تھے۔ بچپن میں ایک بار جب شام کو رمضان کے چاند کی بحث چل رہی تھی کہ آج چاند ہو گا کہ نہیں تو خالہ اماں نے کہا تھا ارے دیکھو ناں! نظر نہیں آ رہا رمضان برس رہے ہیں اور اس نے حیرت سے پوچھا خالہ اماں یہ رمضان کیسے برستے ہیں؟ وہ بولیں، دیکھ ناں بیٹا باہر اس شام میں، اس عصر مغرب کے وقت میں، ہمارے احساس میں اتر آتا ہے یہ مہینہ۔ وہ سوچ میں پڑ گئی اور پھر کچھ ہی دیر بعد رمضان کے چاند کا اعلان بھی ہو گیا، وہ خالہ اماں کی معترف ہو گئی۔ رمضان کا احساس اور روح کیسے دل میں خود بہ خود اترتی ہے ، اس کا اندازہ اسے وقت کے ساتھ ساتھ دھیرے دھیرے ہوا کہ اسے سمجھنے کے لیے بھی ریاضت اور وقت درکار ہوتا ہے۔

رمضان کی روٹین سے اسے محبت تھی، بچپن میں جب روزہ فرض نہیں بھی تھا ، اس وقت آدھی رات کی چہل پہل، گرما گرم پراٹھوں کی خوشبو اور بہن بھائیوں کی خوش گپیوں کے لالچ میں کبھی وہ مندی مندی آنکھوں سے جاگ ہی جاتی اور کبھی نہ اٹھ سکنے پہ افسوس سا رہتا۔ پھر افطار کے مزے الگ، اسکول کا وقت بھی گھٹ جاتا اور رات کو جب ابو اور بھائی تراویح کے لیے چلے جاتے تو امی اور آپا کے ساتھ وہ بھی شفاف دھلی دھلائی چادر پہ خوشبو لگی جا نمازوں پہ نماز کی نیت باندھ لیتی۔ یوں تو بچپن کی نمازیں گنڈے دار تھیں لیکن یوں سب کا ساتھ ساتھ اہتمام اسے بہت اچھا لگتا۔ الغرض جو رونقیں یہ مہینہ ساتھ لے آتا تھا اس کا کوئی بدل ہی نہیں تھا۔

پھر جب بچپن سے لڑکپن میں قدم رکھا تو عمر کے ساتھ ساتھ روزوں کی روٹین میں بھی کچھ تبدیلی آئی، جب روزے فرض ہوئے تو نیند اور بھی ٹوٹ کر آنے لگی ، ایسے میں جب روزہ چھوڑنے والے دن آتے اور امی کی تاکید پہ اٹھ کے نہ صرف سحری کرنی پرٹی بلکہ سب کے سامنے روزہ بھی بنانا پڑتا تو وہ بری طرح چڑ جاتی۔ ذہنی اور جسمانی تبدیلیوں کی وجہ سے حالت پہلے ہے عجیب ہوتی تھی ، پھر ان دنوں کبھی سر درد کبھی کمر کا درد بے حال کر دیتا تھا اور غصہ اور چڑچڑا پن عروج پہ ہوتا۔ ایسے میں اللہ تعالیٰ نے تو آسانی دے دی تھی لیکن یہ کیا کہ بندے بے خبری میں اسے چھیننے کے در پہ تھے۔

جیسے تیسے زبردستی کی سحری کر کے وہ بستر میں غڑاپ ہونا چاہتی تو اس سے دو سال بڑا حسن تو اس کی جان کو ہی آ جاتا، ”امی اس نے نماز نہیں پڑھی“ میں نے خود دیکھا ہے۔ لاکھ ادھر ادھر ہو جاؤ بہانے بناؤ وہ نہ ٹلتا۔ حسن کی بیوقوفی پہ اس کو شدید غصہ آتا۔ آپی اور امی زیر لب مسکرا دیتیں اور وہ اس کوفت سے بچنے کے لیے کہ اس سے پہلے حسن کا ریڈیو سارے گھر میں اعلان نشر کر دے وہ بیزاری سے نماز کی ایکٹنگ کرنے کھڑی ہو جاتی۔

دکھاوے کی سحری کرو تو اچھی طرح کھایا بھی نہیں جاتا ، پھر سارا دن اسکول کالج میں تو کھانے کا سوال ہی نہیں تھا لیکن گھر میں بھی چھپ چھپ کے کھانے کی کوشش میں وہ ہلکان ہی رہتی۔ تنگ آ کے ایک دن اس نے سوچا علی الاعلان بغاوت کر دی جائے اور افطار سے کچھ دیر پہلے جان بوجھ کے پلیٹ سے پکوڑا اٹھا کے کھا لیا، ایک شور سا مچ گیا ، ارے روزہ ہے! سب سمجھے غلطی سے کھا لیا، اس نے بھی ڈھٹائی دکھائی، ارے میرا روزہ نہیں ہے۔ ہیں کیوں؟

اب حسن پھر اس کے سر ہو گیا۔ امی نے شدید قسم کی گھوری مار کے بات سنبھالی۔ اس کی طبیعت خراب ہو گئی تھی سحری کے بعد ، کچھ کھانے میں آ گیا تھا، قے آئی تو روزہ ٹوٹ گیا۔ سب مطمئن ہو گئے لیکن اسے بعد میں اچھی خاصی جھاڑ پڑی کہ یہ کیا بے شرمی ہے۔ لو اب اس میں بے شرمی کی کیا بات ہے۔ وہ کڑھ کے رہ گئی۔ بعد میں احساس ہوا کہ طریقہ کار تو واقعی مناسب نہیں تھا لیکن لڑکپن کا محدود سا ذہن بس ایسی ہی بیوقوفانہ حرکتیں کروا سکتا ہے۔

شادی کے بعد سسرال بھی بھرا پرا ملا۔ گھر میں سسر، دیور اور جیٹھ بھی تھے۔ شادی کے ساتھ ذمہ داری بھی مفت ملتی ہے۔ یہاں تو روزہ رکھنا ہو یا نہیں ناصرف روزہ دکھانا پڑتا بلکہ اٹھ کے سب کی سحری کا بھی اہتمام کرنا پڑتا۔ کچن نیچے اور کمرہ چھت کے سرے پہ اوپر۔ گھر کے مردوں کے آنے جانے کے اوقات بھی مختلف تھے۔ نیچے تو کھانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا اور اوپر لا کے کھانا ایک مرحلہ۔ کبھی کبھی بس پانی اور کمرے میں موجود چیزوں سے گزارا ہوتا۔

وقت کچھ آگے کھسکا تو اس کا اپنا آنگن بڑا ہو گیا، بچوں کی رونقیں بڑھیں تو وہ علیحدہ گھر میں آ گئے۔ اب رمضان ذرا آسان ہو گئے۔ وقت کو تو جیسے لگتا ہے پر لگ گئے۔ بچوں کو وہ نماز روزے کی عادتیں اور اسی طرح کی رونقیں دینا چاہتے تھے جیسی انہوں نے دیکھی تھیں۔

اس رمضان بھی وہ معمول کے کاموں میں مصروف تھی جب اچانک سے زید بول پڑا۔ ”امی آپ نے نماز نہیں پڑھی“ ؟ وہ ابھی ابھی نماز پڑھ کے آیا تھا۔ دس سال کی عمر میں نماز کی کی تاکید اور یاددہانی نے جہاں اسے نماز کی عادت ڈال دی تھی وہیں سوال کا اختیار بھی دے دیا تھا۔ آخر کو ماں باپ ہی پہلے رول ماڈل ہوتے ہیں جیسے اس سے سوال کیا جاتا تھا، اسی طرح وہ بھی پوچھنے میں حق بہ جانب تھا۔ کیا جواب دوں؟ ایک لمحے کو وہ سوچ میں پڑ گئی۔ کہہ دوں کہ پڑھ لی ہے یا پھر کوئی بہانہ بنا دوں، ابھی وہ شش و پنج میں تھی کہ اس کی نظر اپنی آٹھ سالہ بیٹی پہ جا ٹھہری۔ نہیں پھر وہی سب دوبارہ۔ اس نے ہانڈی کا چولہا بند کیا اور زید کے ساتھ صوفے پہ آ بیٹھی۔

بیٹا میں نے نماز اس لیے نہیں پڑھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمام خواتین کے لیے کچھ دن ایسے ہوتے ہیں جب ان کے اندر میڈکلی چینجز آ رہے ہوتے ہیں۔ زید ناسمجھی سے اسے دیکھتا گیا۔ تھوڑا مشکل مرحلہ تھا لیکن اس نے رسان سے اسے سمجھانے کی ٹھانی۔

دیکھو بچے اللہ تعالیٰ نے دو مختلف جینڈرز بنائی ہیں، اس کی حتی الامکان کوشش تھی کہ وہ زید کو اسی کی زبان اور لہجے میں سمجھا سکے۔

سارے چھوٹے بچے ایک جیسے ہوتے ہیں لیکن جب بڑے ہوتے ہیں تو لڑکوں میں الگ چینجز آتے ہیں اور لڑکیوں میں الگ۔ آپ کو بابا نے بتایا ہو گا ناں؟

زید نے ہاں میں سر ہلا دیا۔ یہ بات تو میاں بیوی میں طے ہو چکی تھی کہ بچوں کو مناسب عمر میں پہنچنے پہ ان سے جسمانی تبدیلیوں کے بارے میں کھل کے بات کر لی جائے تاکہ ان کے ذہن میں گرہیں نہ پڑیں اور وہ تجسس میں کسی غلط ذریعے یا اپنے دوستوں کی اوٹ پٹانگ باتوں میں آ کے خواہ مخواہ کی الجھنیں نہ پال لیں اور ان کو صحیح ذرائع سے صحیح معلومات فراہم کر دی جائے۔

اس نے بات جاری رکھی

بس اسی طرح ایج کے ساتھ تبدیلیوں کی وجہ سے میلز کے ساتھ ساتھ فی میلز کو بھی کچھ چینجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان کے سسٹم میں ایک کلیننگ سائیکل بنتی ہے جس کی وجہ سے ہر مہینہ کچھ دن ان کے لیے تھوڑے مشکل ہوتے ہیں، ان کو تھوڑی کمزوری بھی ہو جاتی ہے اور درد اور تھکن بھی رہتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ آسانی دی ہے کہ وہ ان دنوں نماز نہ پڑھیں اور روزے بھی نہ رکھیں پھر جب ان کی طبیعت ٹھیک ہو جاتی ہے تو وہ چھ سات دن بعد روٹین میں واپس آ جاتی ہیں۔

زید نے تدبر سے سے ہلایا۔ اسے لگا کہ دس سال کی عمر کے لیے اتنی معلومات کافی ہے۔

تو بس ابھی میں اسی سائیکل سے گزر رہی ہوں ، اس لیے میں نے نماز نہیں پڑھی اور ایک بات اور بیٹا! یہ بات پرائیویٹ ہوتی ہے، جیسے ہم اور بہت سی باتیں سب کے ساتھ پبلک میں ڈسکس نہیں کرتے ، اسی طرح اس کا بھی ذکر نہیں کرتے تو کسی کے سامنے یا اپنے دوستوں سے اس بارے میں بات نہیں کرنا ۔ ہاں اگر کوئی سوال ہو تو مجھ سے یا بابا سے پوچھ لینا۔

صحیح۔ زید نے سمجھ داری سے سر ہلایا۔ وہ اس کا سر تھپتھپاتے ہوئے دوبارہ کچن کی طرف چل دی۔
امی، پیچھے سے زید کی آواز آئی۔
ہاں! وہ پلٹی۔
آپ کو ہیلپ تو نہیں چاہیے؟ آپ کی طبیعت صحیح نہیں ہے ناں؟
وہ پورے دل سے مسکرا دی۔ نہیں جان، بس کام ختم ہے پھر میں آرام کر لوں گی، تھینک یو۔

اللہ کتنا آسان کام تھا ، اتنی سی کمیونیکیشن نے ایک چھوٹے سے ذہن میں احساس جگا دیا تھا جس سے یقیناً اس کی زندگی میں آنے والی تمام عورتوں کو آسانی ہو جانی تھی۔ ایک اطمینان کا احساس اس کے اندر اتر گیا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *