ابصار عالم پر حملہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

انگریزی اخبار کے لئے رپورٹنگ سے صحافتی سفر کا آغاز کیا تھا۔ ’’خبر‘‘ ان دنوں ہم ٹائپ رائٹر کے ذریعے لکھا کرتے تھے۔ اس کا Keyboard ایک بھاری مشین کو اُنگلیں کی قوت سے رواں رکھنا محسوس ہوتا تھا۔ربّ کی مہربانی سے مگر میں اپنا کام بہت تیزی سے مکمل کرلیتا۔میرے دوستوں کو زعم رہا کہ ٹائپ رائٹر پر لکھتے ہوئے میں اس میں سے ’’دھواں‘‘ نکال دیتا ہوں۔ اُردو میں لکھتے ہوئے بھی برجستگی اور سلاست کی نعمت میسررہی۔

اپنے صحافتی کیرئیر کے آخری حصے میں داخل ہونے کے بعد مگر کوئی شے لکھتے ہوئے اعتماد بھری روانی کی نعمت سے محروم ہوا محسوس کررہا ہوں۔بڑھاپا اس کا ہرگز سبب نہیں۔مثال کے طورپر منگل کی سہ پہر قومی اسمبلی کا جو ’’ہنگامی اجلاس‘‘ ہوا تھا اس کی کارروائی کو دیکھا تو دل ودماغ طیش سے مغلوب ہوگئے۔

The Nationکے لئے اس کی بابت لکھنے کے لئے لیپ ٹاپ کھولا تو سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کہ آغاز کیسے کروں۔کئی مرتبہ دو سو سے زیادہ لفظ لکھ کر انہیں Delete کردیا۔زبان وبیان کی خامیاں اس کا باعث نہیں تھیں۔نہ ہی اسلوب کے حوالے سے کسی دھانسو Intro کی تلاش مقصود تھی۔ فکر بنیادی طورپر یہ لاحق رہی کہ تحریر ضرورت سے زیادہ تلخ ہورہی ہے۔ آزادیٔ اظہار کے موجودہ موسم کے مطابق نہیں۔ذہن میں جمع ہوئے خیالات کو برجستگی سے بیان کرنے کے بجائے ’’محتاط‘‘ الفاظ کی تلاش میں اُلجھ گیا۔

شش وپنج کے اس عالم میں موبائل کی گھنٹی بجی۔ ایک صحافی دوست نے پریشان آواز میں اطلاع دی کہ ابصار عالم پر حملہ ہوا ہے۔افطار سے ذرا پہلے وہ اپنے گھر کے قریبی پارک میں معمول کے مطابق واک کررہا تھا تو اس پر گولی چلادی گئی۔ اسے ہسپتال لے جایا جارہا ہے۔یہ اطلاع ملنے کے بعد میرا ذہن مزید مائوف ہوگیا۔ابصار عالم پر حملہ کرنے والے شخص کو غالباََ اس سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں تھی۔ایسے حملے تاہم ان تمام افرا د کو جو روایتی اور سوشل میڈیا پر اپنے خیالات کا ڈٹ کر اظہار کرتے ہیں یہ پیغام دیتے ہیں کہ اپنی ’’اوقات‘‘ میں رہو۔

لکھنے اور بولنے والوں کو ان کی ’’اوقات‘‘ میں رکھنے کی بات چلتی ہے تو سوشل میڈیا پر دھواں دھار بحث شروع ہوجاتی ہے۔ آزادیٔ اظہار کے پرستار حملے کی زد میں آئے شخص سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کے قائدین کی جانب سے مذمتی بیانات کا اجراء ہوتا ہے۔دریں اثناء سوشل میڈیا پر ہی ایک ایسا گروہ بھی نمودار ہوتا ہے جو بہت مہارت سے یہ سوال اٹھانا شروع ہوجاتا ہے کہ حملے کی زد میں آئے شخص نے عوام کی توجہ یا ہمدردی حاصل کرنے کے لئے ’’ڈرامہ‘‘ تو نہیں رچایا۔ اندھی نفرت وعقید ت میں تقسیم ہوئے معاشرے میں ’’ڈرامہ‘‘ والی کہانی کو بھی بے تحاشہ حامی میسر ہوجاتے ہیں۔’’یوں رات گئی بات گئی‘‘ ہوجاتا ہے۔

کسی شہری کی جان لینے کی خاطر ہوئے حملے کی وجوہات اور ذمہ دار افراد کا تعین بنیادی طورپر پولیس کی ذمہ دار ی ہے۔ہمیں بتایا گیا ہے کہ امریکہ کی افغانستان میں ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف برپا ہوئی جنگ میں تعاون کی بدولت پاکستان میں امن وامان کا تحفظ کرنے والے اداروں کو مختلف النوع جرائم کے مرتکب افراد کا سراغ لگانے میں مدد دینے کے لئے جدید ترین آلات فراہم کئے گئے ہیں۔ اسلام آباد تو ویسے بھی ’’سیف سٹی‘‘ پکارا جاتا ہے۔حملہ آوروں کا سراغ لگانے کے لئے جیوفنسنگ اور فرانزک وغیرہ کی سہولتیں بھی میسر ہیں۔ ان سہولتوں کے ہوتے ہوئے بھی تاہم کئی ماہ گزرجانے کے باوجود ابھی تک یہ پتہ نہیں چلایا جاسکا ہے کہ مطیع اللہ جان کو دن دھاڑے پولیس کی وردی پہنے کن لوگوں نے اغواء کیا تھا۔

خدا کرے میں بالآخر غلط ثابت ہوں۔ یہ دعویٰ کرنے کو مگر مجبور ہوں کہ مذکورہ سہولتیں ابصار عالم پر حملہ کرنے والے نوجوان کا سراغ لگانے میں بھی ناکام رہیں گی۔ ابصار عالم کو یہ سوچتے ہوئے ربّ کا صد بار شکر ادا کرنا چاہیے کہ وہ بچ گیا۔زندگی کے بقیہ دن اگر اب بھی اپنی ضد کے ساتھ گزارنا چاہتا ہے تو ’’ست بسم اللہ‘‘۔ یہ سوچتے ہوئے آگے بڑھے کہ ’’’جان بچی تو لاکھوں پائے‘‘۔ ذاتی طورپر اگرچہ میں ان دنوں پنجابی کے اس محاورے کا انتہائی خلوص سے اتباع کررہا ہوں جو ’’ساہڈے ولوں‘‘ یعنی ہماری طرف سے ’’بس‘‘ یعنی ختم کا اعلان کرتے ہوئے ہاتھ کھڑے کردیتا ہے۔

اپنے ’’بکری‘‘ ہوجانے کا اعتراف کرلینے کے باوجود آج کی روٹی کمانے کے لئے یہ کالم بھی تو مکمل کرنا ہے۔اس کا پیٹ بھرنے کے لئے اعتراف یہ بھی کرنا ہے کہ مجھے ہرگز سمجھ نہیں آرہی کہ عمران حکومت نے منگل کی سہ پہر قومی اسمبلی کااجلاس ’’ہنگامی‘‘ انداز میں کیوں طلب کیا تھا۔12اپریل سے اب ’’کالعدم‘‘ ٹھہرائی ایک تنظیم نے پاکستان کے مختلف شہروںمیں روزمرہّ زندگی کو مفلوج بنارکھا تھا۔ ہمارے ذمہ دار میڈیا نے سڑکوں پر جو ہورہا تھا اسے بیان کرنا مناسب نہ سمجھا۔ اس کی برتی احتیاط کے باوجود وزیر اعظم صاحب نے پیر کی سہ پہر قوم سے خطاب کیا۔ان کے خطاب کی بدولت ہمیں علم ہوا کہ حال ہی میں کالعدم ٹھہرائی تنظیم سڑکوں پر ہنگامہ آرائی میں مصروف تھی۔ اس کی وجہ سے چند ہلاکتیں بھی ہوئیں۔کئی پولیس والے شدید زخمی ہوئے۔پرتشدد مظاہرین کا اصرار ہے کہ فرانس کے سفیر کو پاکستان سے نکالا جائے۔

اپنے خطاب کے ذریعے لیکن پاکستان کے وزیر اعظم نے جو آئینی اعتبار سے وطن عزیز کے حتمی بااختیار منصب دار شمار ہوتے ہیں واضح الفاظ میں یہ اعلان کردیا کہ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کرنا ممکن نہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے چند وجوہات بھی بہت مؤثر انداز میں گنوائیں۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ’’چیف ایگزیکٹو‘‘ نے گویا طے کردیا کہ فرانس کے سفیر کو پاکستان سے باہر نکالنا ممکن نہیں۔

ان کی جانب سے ہوئے اس واضح اعلان کے باوجود منگل کی صبح طلوع ہوتے ہی وزیر داخلہ کی جانب سے قوم کو یہ اطلاع دی گئی کہ حال ہی میں کالعدم ٹھہرائی ایک تنظیم کی جیل میں بند ہوئی قیادت کے ساتھ ایک ’’معاہدہ‘‘ طے پا گیا ہے۔ اس معاہدے پر عملدرا ٓمد کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس طلب کرلیا گیا ہے۔منگل کی سہ پہر ہنگامی انداز میں بلایا اجلاس شروع ہوا تو قواعد وضوابط کو معطل کرتے ہوئے حکمران جماعت کے امجد نیازی کو ایک قرار داد پڑھنے کیلئے مائیک فراہم کردیا گیا۔

جو قرارداد موصوف نے پڑھی اس کا متن حکومتی نمائندوں نے حال ہی میں کالعدم قرار پائی تنظیم کے رہ نمائوں کے ساتھ مذاکرات کے دوران طے کیا تھا۔امجد نیازی نے وہ قرارداد مگر ’’انفرادی حیثیت‘‘ میں پیش کی۔فرانس کے سفیر کو پاکستان سے باہر بھیجنے کا مطالبہ کرنے کے بجائے ان کی پڑھی قرارداد نے قومی اسمبلی سے فقط یہ استدعا کی کہ فرانس کے سفیر کی ’’ملک بدری کے معاملے‘‘پر غور کیا جائے۔ قومی اسمبلی کے سپیکر مجوزہ’’غور‘‘ کو سنجیدہ، مؤثر اور یقینی بنانے کے لئے ایک خصوصی کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لائیں۔قومی اسمبلی میں موجود تمام جماعتوں کے نمائندے مجوزہ کمیٹی میں موجود ہوں۔

قومی اسمبلی سے فرانسیسی سفیر کی ’’وطن بدری کے معاملے‘‘ پر غور کی استدعا کے ساتھ ہی امجد نیازی کی پڑھی قرارداد ہی میں اصرار یہ بھی ہوا کہ خارجہ امور کے بارے میں فیصلہ سازی کا حتمی اختیار فقط ریاست کا حق ہے۔’’کسی فرد،گروہ یا جماعت‘‘ کو اس ضمن میں ریاست کو’’دبائو‘‘ میں لانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

سادہ زبان میں سوال فقط یہ اٹھانا مقصود ہے کہ اگر ’’کسی فرد،گروہ یا جماعت‘‘ کو یہ حق میسر نہیں کہ وہ پاکستان کے خارجہ امور کی بابت اپنی سوچ ریاست پر دبائو کے ذریعے مسلط کرے تو عوام کے براہِ راست ووٹوں سے منتخب ہوئی قومی اسمبلی فرانس کے سفیر کی ’’ملک بدری‘‘ کے معاملے کو زیر بحث کیوں لائے۔ریاستِ پاکستان نے گزشتہ کئی مہینوں سے طالبان کے امریکہ کے ساتھ دوحہ میں مذاکرات ممکن بنائے ہیں۔’’بیک ڈور‘‘ رابطوں یا خفیہ سفارت کاری کی بدولت ہماری ریاست نے پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ بھی حال ہی میں کشمیر پر قائم لائن آف کنٹرول پر سیز فائر کے اس معاہدے کے کامل احترام کا فیصلہ کیا ہے جو واجپائی اور مشرف کی حکومتوں کے مابین 2003میں ہوا تھا ۔

قومی اسمبلی کو ان دونوں امور کی بابت کبھی اعتماد میں نہیں لیا گیا۔اس کے ’’تابعدار‘‘ اراکین نے کبھی وزیر خارجہ کو ان امور کی تفصیلات بیان کرنے کو مجبور نہیں کیا ۔ایسی بے بس وبے اختیار اسمبلی سے فرانس کے سفیر کو ’’ملک بدر کرنے کا معاملہ‘‘طے کرنے کوکیوں مجبور کیا جارہا ہے؟

بشکریہ روزنامہ نوائے وقت

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *