ایبٹ آباد کی خصوصی سپورٹس گرل زینب نور کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


زینیب نور کا تعلق ایبٹ آباد سے ہے۔ انھوں نے اپنی معذوری کو مجبوری نہیں بننے دیا۔ اردو لٹریچر میں ایم اے کیا۔ ویل چیئر ریس کے چھ بڑے ٹورنامنٹ اپنے نام کیے۔ ایبٹ آباد میں خصوصی لڑکیوں کی کرکٹ ٹیم بنائی جو تین بڑے ٹورنامنٹ اپنے نام کر چکی ہے۔ زینب کی زبردست کارکردگی کو دیکھتے ہوئے ( 3 دسمبر 2020 ) خصوصی افراد کے عالمی دن کے موقع پر انھیں خدیجۃ الکبرٰی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ زینب متعدد چھوٹے بڑے ایوارڈز اپنے نام کر چکی ہیں۔

اپنی کہانی سناتے ہوئے زینب بے بتایا کہ ان کا تعلق ایبٹ آباد کے متوسط گھرانے سے ہے۔ زینب اور ان کی بڑی بہن معذوری کا شکار ہیں۔ والد صاحب پاور کمپنی میں فورمین تھے۔ وسائل کی کمی کے باوجود والدین نے بچیوں کی تعلیم کی بھرپور حوصلہ افزائی کی۔

زینب کا بچپن عام بچوں سے بہت مختلف گزرا۔ معذوری اور وسائل کی کمی کی وجہ سے زینب عام بچوں کی طرح شرارتیں نہیں کرتی تھیں۔ اعتماد کی اتنی کمی تھی کہ گھر سے باہر نکلنے سے ڈرتی تھیں۔ کوئی مہمان گھر میں آ جاتا تو چارپائی کے نیچے گھس جاتی تھیں۔

تعلیم حاصل کرنے کی عمر کو پہنچیں تو گھر کے نزدیک کوئی ایسا سکول نہیں تھا جہاں خصوصی بچوں کے لیے رسائی کے انتظامات ہوں۔ ایک بار والد صاحب نے دلبرداشتہ ہو کر والدہ سے کہا کہ زینب کا کوئی مستقبل نہیں۔ اس کے سکول جانے کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر یہ تعلیم حاصل کرنے میں کامیاب ہو بھی گئی تب بھی ہمارا معاشرہ اسے سر اٹھا کر جینے کا حق نہیں دے گا۔

زینب کے گھر کے نزدیک سکول نہ ہونے کی وجہ سے ان کا داخلہ ایک مدرسے میں کروا دیا گیا۔ زینب نے مدرسے میں ایک سال تک تعلیم حاصل کی لیکن زمین پر بیٹھنے اور سونے کی وجہ سے ان کے جسم میں درد اور طبعیت خراب رہنے لگی جس کی وجہ سے مدرسہ چھوڑنا پڑا۔

ابتدائی تعلیم خصوصی تعلیمی ادارے سے حاصل کی لیکن وہاں انہیں ذہنی پسماندہ بچوں کے ساتھ بٹھایا جاتا تھا۔ ذہنی پسماندہ بچوں کے ساتھ زینب کا تعلیمی سفر آگے نہیں بڑھ رہا تھا۔ جس کی وجہ سے والدہ پریشان رہنے لگیں۔ پھر زینب کا داخلہ بڑے بھائیوں کے سکول میں کروا دیا گیا۔ بھائی کیونکہ خود کم عمر تھے ،اس لیے راستے میں جب تھک جاتے تو زینب کو گرانے کی دھمکی دیتے، کبھی انھیں دیوار سے ٹکرا دیتے تو کبھی کہتے کہ تم پڑھنا چھوڑ کیوں نہیں دیتی۔

مصیبتوں اور پریشانیوں کا مقابلہ کرتے کرتے جب زینب ساتویں جماعت میں پہنچیں تو جاپان کی ایک این جی او جائیکا کو ایبٹ آباد میں تین سالہ پراجیکٹ ملا۔ جائیکا نے پراجیکٹ کے لئے لوگ بھرتی کرنا شروع کیے تو ایک رشتہ دار نے یہ خبر زینب کی والدہ صاحبہ کو دی۔ وہ بڑی بیٹی کو لے کر وہاں چلی گئیں۔ زینب نے بھی بڑی بہن کے ساتھ جانا شروع کر دیا۔ زینب عمر کے لحاظ سے بہت چھوٹی تھیں لیکن ان کی محنت اور قابلیت کو دیکھتے ہوئے انہیں بھی پراجیکٹ کا حصہ بنا لیا گیا۔

خصوصی افراد کے گھر والوں کو موٹیویٹ کرنا خصوصی افراد کو گھروں سے نکالنا زینب کی ذمہ دارویوں میں شامل تھا۔ جائیکا کی مختلف اسائنمنٹس، سیمینار اور ورکشاپس سے زینب کو بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ زینب دن کے وقت جائیکا اور شام کے وقت کمپیوٹر لیب میں کام کرتیں۔ جہاں انہوں نے کمپیوٹر چلانے اور آفس مینجمنٹ کے گر سیکھے۔

جائیکا میں کام کے دوران زینب نے پڑھائی نہیں چھوڑی بلکہ پرائیویٹ تعلیمی سلسلہ جاری رکھا۔ پرائیویٹ تعلیم کے حصول میں کچھ مشکلات کا سامنا ضرور کرنا پڑا لیکن زینب نے ہمت نہیں ہاری اور آگے بڑھتی چلی گئیں۔ جائیکا میں کام کے دوران کھیل کے بھرپور مواقع ملے۔

پراجیکٹ ختم ہونے کے بعد بھی زینب نے تعلیم اور کھیل کے سلسلے کو جاری رکھا۔ ڈگری حاصل کرنے کے بعد نوکری ڈھونڈنا شروع کی تو شدید مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ معاشرتی رویے اور رسائی کے فقدان کی وجہ سے جہاں درخواست بھیجتیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑتا۔

ایک دفعہ زینب نے نوکری کے لئے درخواست دی ، انٹرویو کی کال آئی تو زینب نے صاف صاف کہا ، میں چل نہیں سکتی۔ اگر آپ کے دفتر میں رسائی کے انتظامات ہیں تو مجھے بلائیں ورنہ انکار کر دیں۔ جواب ملا کہ آپ تشریف لے آئیں۔ دفتر پہنچنے پر ایک صاحب تیسری منزل سے نمودار ہوئے ، اوپر ہی سے سوری کہا اور بولے کہ آپ کے لئے آن لائن کام مناسب رہے گا۔

زینب نے مختلف اداروں میں اپنے کاغذات جمع کروائے۔ ایک روز نجی سکول سے ایڈمن کی جاب کے لئے انٹرویو کی کال آئی۔ پرنسپل زینب سے بہت متاثر ہوئیں لیکن ویل چیئر کو دیکھ کر فیصلہ نہیں کر پا رہی تھیں۔ خیر آخر میں قابلیت کی جیت اور معذوری کی ہار ہوئی۔ زینب اس سکول میں چھ سال سے نوکری کر رہی ہیں۔ سرکاری نوکری کے لئے کوشش کرتی رہتی ہیں لیکن ہر بار ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

زینب کھیلوں سے بہت لگاؤ رکھتی ہیں ، ایبٹ آباد کی خصوصی لڑکیوں کو کھیلوں کے لئے گھروں سے نکالنا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ زینب نے اپنے آپ کو رول ماڈل بنا کر خصوصی لڑکیوں اور ان کے خاندان والوں کے سامنے پیش کیا۔ تین سال قبل زینب کی کوششیں رنگ لائیں اور یہ خصوصی لڑکیوں کی کرکٹ ٹیم بنانے میں کامیاب ہو گئیں۔ ایبٹ آباد کی خصوصی لڑکیوں کی یہ ٹیم اسلام آباد، پشاور اور ایبٹ آباد کے پانچ بڑے سپورٹس فیسٹولز اپنے نام کر چکی ہے اور مستقبل میں بین الاقوامی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔

زینب کہتی ہیں کہ اگر حکومت روزگار کے حصول میں خصوصی لڑکیوں کو معاونت فراہم کرے۔ خصوصی لڑکیوں کی کھیلوں کی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرے۔ کھیلوں سے وابستہ لڑکیوں کو عام کھلاڑیوں کی طرح تنخواہ اور مراعات فراہم کرے تو وطن عزیز کی خصوصی لڑکیاں دنیا کو پاکستان کا روشن خیال چہرہ دکھانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *