مغرب دشمنی، اسلامی نظام کا خاکہ اور صحافتی اخلاقیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لگ بھگ دو ہفتے قبل معروف دانشور اور کالم نگار جناب وجاہت مسعود نے اپنی ویب سائٹ پر “جماعت اسلامی، جنرل ضیاء الحق اور اسلامی نظام کی ناکامی” کے عنوان سے مضمون شائع کیا ہے۔ مضمون میں ایک واقعے کا حوالہ دے کر انھوں نے چند نہایت اہم اور دلچسپ موضوعات پر بحث کی ہے۔ آغاز انھوں نے اس نکتے سے کیا ہے کہ مغرب دشمنی دہشت گردوں کا اہم ہتھیار ہے اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں قوم کی یک سوئی متاثر کرنے کے لیے اس ہتھیار کا استعمال بہت متاثرکن انداز میں کیا جا رہا ہے۔

فاضل مضمون نگار کا یہ انکشاف ایک اہم سوال کو جنم دیتا ہے کہ موجودہ عالمی بندوبست میں، کہ جو مغرب کی ہمہ پہلو حکمرانی اور مغربی نظام کے غلبے سے عبارت ہے، اقوامِ مغرب اور دیگر اقوم کے باہمی تعلق کی نوعیت کیا ہونی چاہیے؟ کیا مغرب کی رہنمائی کو مِن و عَن تسلیم کرتے چلے جانا اور اس ضمن میں کوئی سوال، کوئی اعتراض یا حرفِ تنقید زبان پر نہ لانا تیسری دنیا کی حکومتوں اور عوام کا رویہ ہونا چاہیے؟ کیا مغرب پر ہر طرح کی تنقید مغرب دشمنی شمار ہوگی؟ اور اگر مغرب پر تنقید بجا ہے تو پھر اس تنقید کی حدود کیا ہونی چاہئیں؟ کس سطح پر جاکر یہ تنقید اس مخاصمت اور مغرب دشمنی میں بدل جاتی ہے جسے دہشت گرد گروہ قوم کی یکسوئی متاثر کرنے کے لیے استعمال کرسکتے ہیں؟

مغرب، اس کے نظام، اور اس کی تہذیبی و ثقافتی روایات پر تنقید اور اس کے مدمقابل اپنے نظام اور اپنے تہذیبی ورثے کی تاریخی اہمیت پر اصرار یقیناً مغرب دشمنی کا شاخسانہ نہیں ہے۔ مغربی سیاسی، سماجی اور معاشی نظام کی کمزوریوں پر خود مغربی دانش وروں نے نہایت مدلل علمی نقد کیا ہے جسے دنیا نہ صرف اہمیت دیتی ہے بلکہ مغربی تہذیب کے کھوکھلے پن کے ثبوت کے طور پر پیش بھی کرتی ہے۔ خود مشرق کے اہلِ علم نے نہایت جاندار علمی انداز میں غالب عالمی نظام اور مغرب کے تہذیبی و علمی شعور کی کمزوریاں بے نقاب کی ہیں۔ یقیناً یہ اہلِ علم مغرب سے کوئی مخاصمت نہیں رکھتے بلکہ قرائن و شواہد کی بنا پر یورپ و امریکہ کے تسلط اور تہذیبی یلغار کو نہ صرف اقوامِ مشرق بلکہ پوری دنیا کے لیے نقصان دہ خیال کرتے ہیں۔ ان اہلِ علم کے سامنے مشرق کی وہ تہذیبی روایت موجود ہے جو صدیوں تک دنیا پر حکمرانی کرچکی ہے اور انسانی سماج، تمدن، اور شعور کےا رتقا میں اس کا قابلِ قدر حصہ ہے۔ چنانچہ مغربی نظام کو تنقید سے بالاتر قرار دینا اور اسے مغرب دشمنی پر محمول کرتے ہوئے دہشت گردی سے نتھی کرنا قرینِ انصاف نہیں ہے۔

دوسری جانب ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ وجاہت صاحب کے نزدیک دہشت گردی کی تعریف کیا ہے؟ پاکستان کے طول و عرض میں جن لوگوں کے ہاتھوں دہشت گردی کا عفریت پہنچا وہ یقیناً قابلِ نفرت ہیں۔ انھیں کوئی حق نہیں کہ وہ مغرب دشمنی کا ہتھیار استعمال کرکے قوم کافکری و عملی استحصال کریں۔ لیکن دوسری جانب دہشت گردی کے حوالے سے خود امریکہ و مغرب کے رویے کو کیا نام دیا جائے؟ عراق اور افغانستان میں گزشتہ بیس سال کے دوران لاکھوں لوگ امریکہ اور نیٹو کی دہشت گردی کا شکار ہوچکے۔ فلسطین کا مسئلہ خود مغرب کا پید اکر دہ ہے اور فلسطینیوں کے قتلِ عام میں مغربی حکومتیں اور عالمی نظام جس طرح اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے، کیا وہ کسی سے پوشیدہ ہے؟ مغرب کی اس دہشت گردی کا شکار ہونے والوں کو وجاہت صاحب مغرب سے مخاصمت رکھنے کا حق دیں گے یا یہ بھی دہشت گردی کے زمرے میں ڈالا جائے گا؟

دوسرا نتیجہ جو فاضل دانشور نے ایک واقعے سے اخذ کیا ہے، وہ یہ ہے کہ اسلامی نظام کا نعرہ لگانے والوں کے پاس عملاً اس کے نفاذ کی کوئی اسکیم موجود نہیں ہے۔ اس مفروضے کے ثبوت کے طور پر جو واقعہ ذکر کیا گیا ہے اس کے مطابق جنرل ضیاء الحق تو ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے یک سو تھے لیکن اس ضمن میں انھوں نے جب اس نظام کی داعی جماعت اسلامی کی قیادت بالخصوص پروفیسر خورشید احمد سے رابطہ کیا تو ان کے پاس اس نظام کا کوئی عملی خاکہ موجود نہ تھا۔ جب بھی جماعت کے لوگوں اسلام نظام کا بلیو پرنٹ دینے کو کہا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ پروفیسر خورشید احمد اس پر کام کر رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ اس پر کام مکمل نہیں ہوسکا لہٰذا جنرل صاحب جماعت اسلامی سے بددل ہوگئے۔

اسلامی نظام کی عملی شکل کی بحث میں اترنے سے قبل مناسب معلوم ہوتا ہے کہ جناب وجاہت مسعود سے اس واقعے کی صحت کے بارے میں استفسار کر لیا جائے۔ جنرل ضیاء الحق تو اس دنیا سے جا چکے، واقعے کی سند دینے کے لیے اس کے راوی ضیاء شاہد بھی موجود نہیں ہیں لیکن دوسرے فریق یعنی پروفیسر خورشید احمد تو نہ صرف بقیدِ حیات ہیں بلکہ وجاہت صاحب جیسے فرد کے لیے ان سے رابطہ کر کے ان کا موقف لینا چنداں مشکل نہیں۔ اللہ کرے ہمارا گمان درست نہ ہو لیکن بادی النظر میں معلوم یہی ہوتا ہے کہ فاضل مضمون نگار نے یہ زحمت گوارا نہیں کی۔

جہاں تک نظام کے عملی خاکے کا تعلق ہے تو زمان و مکان کی قیدسے آزاد اپنے آپ کو آفاقیت کا حامل قرار دینے والے ایک مذہب سے یہ توقع بالکل بجا ہے کہ وہ ہر دور میں حضرتِ انسان کی رہنمائی درپیش حالات، مشکلات اور دستیاب وسائل کی روشنی میں کرے۔ اسی طرح وہ لوگ جو ایسے مذہب کا عالمگیر نظام بنا کر پیش کرتے ہیں، ان سے بھی یہ توقع قرینِ عقل ہے کہ وہ اس نظام کا عملی خاکہ پیش کریں جس کی روشنی میں فیصلہ کیا جاسکے کہ یہ نظام کس قدر قابلِ عمل اور انسانیت دوست ہے۔ تاہم ایسی توقعات استوار کرتے ہوئے چند حقیقتوں مدنظر رکھنا ضروری ہے۔

ہر نظام کسی نظریے پر قائم ہوتا ہے۔ یہ نظریہ ہی وہ بنیادی فکر عطا کرتا ہے جس کی روشنی میں اس نظام کے چیدہ چیدہ بنیادی اصول [Fundamentals]طے ہوتے ہیں۔ کوئی بھی عالمگیر نظام جزئی تفصیلات اور فروعی مسائل طے کرکے نہیں دیتا بلکہ وہ یہ اپنے ماننے والوں کی صواب دید پرچھوڑتا ہے کہ وہ اپنے زمان و مکان، جغرافی صورت حال اور ثقافتی روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے جزئیات خود طے کریں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ کا صدارتی نظام بھی جمہوری کہلاتا ہے اور برطانیہ کا پارلیمانی نظام بھی۔

اس کے ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی نظام کو عملاً کارکردگی دکھانے کا موقع دیا جائے تو ہی اس کی خوبیاں خامیاں کھل کرسامنے آتی ہیں۔ درپیش صورت حال سے سبق حاصل کرکے یہ نظام ارتقا پذیر[Evolve]ہوتا ہےاور یوں آہستہ آہستہ اس کے محاسن و مفاسد دنیا کے سامنے آجاتے ہیں۔ یہی ارتقائی عمل بعض نظاموں کو نکھار کر زیادہ مفید صورت میں دنیا کے سامنے لے آتا ہے جیسا کہ جمہوریت۔ جبکہ بعض دیگر نظام اپنے آپ کو عملی تقاضوں اور درپیش چیلنجز سے ہم آہنگ نہ کرپانے اور اپنی شدت و سکتی کی وجہ سے دنیا کی بھیڑ میں گم ہوجاتے ہیں جیسا کہ کمیونزم، سوشلزم، فسطائیت وغیرہ۔

اسلامی نظام کے عملی پہلو پر بات کرتے ہوئے یہ چیز بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ طویل عرصے سے اس نظام کو برسراقتدار آنے کا موقع ہی نہیں ملا۔ اگرچہ اس فکر کے علم برداروں نے آج کے تناظر میں اس نظام کو واضح کرنے اور قابلِ عمل بنانے کی کوشش کی ہے، لیکن فی الحال یہ Theoryہی تک محدود ہے۔ اس کا عملی خاکہ تبھی سامنے آ سکتا ہے جب اس نظام کے تحت کچھ لوگوں کو اقتدار سونپا جائے۔

ایک اور فطری بات جس کی جانب پہلے بھی اشارہ ہوچکا ہے، یہ ہے کہ کسی بھی نظام کا خاکہ چند صفحات کی دستاویز پر مبنی نہیں ہوسکتا کہ رات جنرل صاحب اس کا مطالبہ کریں اور صبح ان کی خدمت میں پیش کر دیا جائے۔ یہ ایک مسلسل اور ارتقائی عمل ہے جو اپنے وقت پر فطری انداز میں تیار ہوتا ہے۔ اسلامی نظام کے چند بنیادی اصول “تصورِ توحید، حاکمیتِ الٰہی، شورائیت، امانت، اہلیت اور احتساب” ہیں اور اس کے تحت مسند اقتدار سنبھالنے والے فرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ تقویٰ، علم، خدمتِ عوام، اہلیت جیسی صفات سے متصف ہو۔ اگرچہ اس نظام کو اب تک پوری طرح برسراقتدار نہیں آنے دیا گیا لیکن ہم دیکھتےہیں کہ اس کے علم بردار جب بھی کسی ذمہ داری پر فائز ہوئے ہیں تو بہرحال انھوں نے دوسروں سے بہتر انداز میں درج بالا اصولوں کی پاس داری کی ہے۔ پارلیمان میں پالیسی مسائل پر پروفیسر خورشید احمد اور جماعتِ اسلامی کے دیگر ممبران کا تحرک دیکھیے اور اس کا موازنہ جمہوری کہلائی جانے والی دیگر جماعتوں کی پارلیمانی کارکردگی کے ساتھ کیجیے۔ اس قدر حوصلہ شکن ماحول میں اگر اسلامی معاشیات کاایک ڈھانچا میدانِ عمل میں اتارا گیا اور اس پر کسی قدر عمل شروع ہوا ہے تو وہ اس بات کی دلیل ہے کہ یہ نظام کتابی نہیں بلکہ عملی ہے۔

چنانچہ ایک مجہول اور بلاسند واقعے کی بنیاد پر ایک پورے نظام فکر کو مسترد کر دینا نہ اخلاقی طور پر درست ہے اور نہ یہ کوئی علمی رویہ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
اسامہ عبدالحمید کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *