بے عنوان نظمیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

نیلے پانیوں پہ پھیلے سبز منظر پلکوں سے جدا نہیں ہوتے
آنکھوں کو سنہرے خوابوں کی تعبیریں نہیں ملتیں
کئی ادھوری نظموں کے عنوان نہیں ہوتے

حنا شیرازی نے اپنی ادھوری نظم کو پورا کیا۔ احتشام اس کی آواز کے سحر میں کتنی دیر تک ڈوبا رہا۔ اس کی ریشمی زلفیں پھسل کر بار بار اس کے عارض کو چھو رہی تھیں جب کہ وہ اپنی انگلیوں سے بار بار انہیں کسی مشاق کھلاڑی کی طرح سمیٹ رہی تھی۔

یہ ان کی دوسری ملاقات تھی۔ جانے کیوں اسے وہ عام خواتین سے ذرا منفرد اور الگ تھلگ سی نظر آئی جیسے زمانے کی تیزی نے اس کے نقش ونگار زخمی نہ کیے ہوں۔ سچ تو یہ تھا کہ وہ پہلی نظر میں اس کے دل کو بھا گئی ، شاید اس لیے کہ ایک انسان ہونے کے حوالے سے اس میں اچھی لگنے والی ہر بات تھی۔

وہ اپنی لکھی ہوئی کسی نظم کی طرح سندر تھی۔
اور سنائیں کیا حال ہیں
میں ٹھیک ہوں
کوئی بات کریں نا
خاموشی کے ایک لمبے وقفے کو توڑنے کی ہمت بالآخر اسے ایک مرد ہونے کے حوالے سے اپنی ذمہ داری لگی۔
اس کی بات سن کر خاتون کے ہونٹ تبسم سے بھیگ گئے پھر کچھ سوچتے ہوئے بولی
” کیا آپ نے کبھی لفظوں کو چڑیوں کی طرح محبت کے پانیوں میں نہاتے ہوئے دیکھا ہے؟“
مرد نے اپنی یادداشت پر زور ڈالا اور دلچسپی سے بولا

” نہیں میں نے تو حرفوں اور لفظوں کو ہمیشہ خشک اور چپ چاپ ہی پایا ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ آپ کا مشاہدہ مجھ سے بہتر ہے ، میرا دل چاہتا ہے کہ میں بھی آپ ہی کی طرح انہیں محسوس کروں“

کوئی طریقہ ہے کہ ایسے ممکن ہو

اچھا اس کا ایک طریقہ ہے، جب کبھی آپ بھری محفلوں سے اکتا جائیں تھک جائیں تو بنسری کے سر چھیڑ دیجیے، ان کی لے میں کھو جائیے، اس مشق سے جلد یا بدیر آپ کے من مندر میں رنگ اتریں گے، محبت کی کوملتا پھوٹے گی اور لفظوں کی رنگین چڑیاں اس پانی میں نہانے آئیں گی ”

وہ نسخہ کیمیا بتا کر شانتی سے مسکرائی اور چپ رہی پھر جانے کے لیے اجازت طلب کی۔

احتشام اسے جاتے دیکھتا رہا۔ اس لمحے سے لے کر اب تک وہ محبت کی بانسری کی لے میں رنگین چڑیوں اور محبت کی کوملتا سے پھوٹنے والے پانی کو محسوس کرنے کی کوشش کرتا رہا۔

وہ لفظوں کی جادوگرنی تو پھر نہیں ملی مگر نمکین پانیوں کا حوض خوابوں میں رنگین چڑیوں کے نہانے کا منتظر رہا۔

اپنے والد کی بے وقت موت نے احتشام علی پر سنجیدگی کی بوجھل چادر ڈال دی تھی، دھوپ ان کے آنگن سے ہوتی ہوئی سیدھی ان کی انکھوں میں چبھنے لگی۔

اپنی بیوہ ماں اور چھوٹے بہن بھائیوں پر مشتمل خاندان کی معاشی ذمہ داری کا بوجھ اب اس کے کاندھوں پر تھا جو اس نے اس جانفشانی سے نبھایا کہ اسے خود اپنی ہستی بھول گئی۔ کچھ ماہ قبل اچانک اس شاعرہ کی بے عنوان نظموں نے اس کے من پر چھائی خاموشیوں کو گدگدایا جیسے پتوں کو ہوا چھیڑ دے۔

وہ کچھ عجیب سی شاعرہ تھی ، اکثر اپنی کچھ بے عنوان نظمیں شائع کرنے کے لیے ان کے روزنامے کو بھیجتی رہتی۔ پہلے پہل تو اس نے انہیں کچھ توجہ نہ دی مگر ایک روز غور سے پڑھا تو ایسے معلوم ہوا الفاظ میں جادو ہے، کلام کا سحر آگیں انداز تھا سو اس کا یہی حل نکالا کہ اپنی مرضی کے عنوان دے کر انہیں اشاعت کے لیے بھیج دے۔

کچھ عرصہ ایسے چلا خاتون جواب میں سلیقے سے شکریہ کا پیغام بھیج دیا کرتی۔

ایک روز وہ دفتر چلی آئی ، تعارف ہوا اور پھر یہ سرسری سی ملاقات ٹھہری مگر اس ملاقات کے بعد کافی ماہ تک نہ تو اس کی کوئی نظم موصول ہوئی نہ خبر معلوم ہوئی۔

اس واقعے سے پہلے بھی وہ ایک اداس شخص تھا، جس کی زندگی میں بہار کبھی مہکی نہیں تھی۔ چھوٹی عمر میں ہی اس کے بابا کی موت کے حادثے نے اس سے خوشی کے سر تال چھین لیے تھے۔

نہ چاہتے ہوئے بھی بہت دنوں تک وہ اس کی باتوں کی پراسرار خوشبو کے جنگل میں بھیگتا رہا۔ اس کے بارے میں سوچتا رہا، اسے کھوجتا رہا۔

پہلے تو خوشی کسی طلسم کی طرح سرشاری میں بدلی بہت دنوں تک عجیب سی کیفیت طاری رہی پھر من بوجھل ہو کے بھاری ہو گیا۔

دوسری جانب سے کوی اشارہ نہ پا کر وجود ایک دم ٹین کے ڈبے کی طرح بے جان اور خالی ہو گیا۔ بھک کر کے سب اڑ گیا۔ ہر چیز بے مقصد اور ویران لگنے لگی۔

رت بدلی اور شدت سے خواہش جاگی کہ کسی پری وش کا قرب نصیب ہو اور خوشیوں کی پریاں اس کے اطراف رقص کریں کوئی ہو جس کا لمس اسے جنت عطا کرے۔ بے کیف زندگی کب تک کوئی جھیلے۔

آخر اندر کے شور سے گھبرا کے احتشام علی کو کسی پرسکون گوشے کی تلاش ہوئی۔

ادھر ادھر سے ناکام ہو کر اس کا دھیان اپنے بابا کی قبر کی طرف گیا ، اس سے پہلے بھی بارہا یہ اتفاق ہوا کہ وہاں حاضری دینے سے اسے سکون قلب مل جایا کرتا تھا۔

اس نے اپنی موٹر بائیک کا رخ شہر خموشاں کی طرف موڑا۔ اس کا ذہن محبت موت ہونے اور کھونے کی گتھی سلجھانے میں محو تھا۔ سورج غروب ہونے میں ابھی وقت تھا کہ مشک کافور اور اگربتیوں کی مخصوص اداسی بھری مہک نے اسے اپنی جانب کھینچ لیا۔

اسے محسوس ہوا جیسے زندگی اور موت باہم گلے مل رہی ہوں۔ ہوا یہ کہ قریب ہی آہٹ ہوئی، جب نظر اس جانب اٹھی تو آنکھیں پلکیں جھپکنا بھول بیٹھیں۔

تیسری رو میں دائیں طرف کچھ فاصلے پر وہی دشمن ایماں موجود تھی۔ سوز کی کالی چادر اوڑھے ایک پھول سی بچی کا ہاتھ تھامے ایک قبر پر پھول بکھیرتے ہوئے حنا شیرازی مجسم خود کھڑی تھی اور آنسو اس کے گالوں پر تواتر سے بہہ رہے تھے۔

احتشام علی ایک غیر شعوری احساس سے مجبور اسی کی جانب بڑھا۔
اس نے پڑھا قبر پہ احمد شیرازی کے نام کا کتبہ تھا۔
اوہ اس کا مطلب ہے حنا شیرازی کی نظموں کا عنوان کھو چکا ، گہرے دکھ سے اس پر ایک انکشاف ہوا۔
محترمہ بیوہ ہیں اور غالباً ماں بھی۔ ہمدردی کی ایک گہری لہر پورے وجود میں گونجی۔
ہمدردی اور محبت کیا ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔

احتشام علی نے اس سے پہلے جذبوں کے متعلق سنجیدگی سے کچھ سوچا نہیں تھا۔ جذبے تو زندگی کی ڈرائیونگ فورس ہیں۔ جذبۂ محرکہ تو جیون کی جان ہے۔

وہ اس سمے یہاں اور رکنا نہیں چاہتا تھا۔ مبادا وہ اسے دیکھ کر خوش نہ ہو۔ خشک اور گیلی مٹی کی ڈھیریوں میں سوئے چند ناموں کو سلام کرتے ہوئے وہ بیرونی دروازے سے نکل چکا تھا۔

کیا حنا شیرازی اپنی زندگی میں میری شمولیت پسند کرے گی پہلا مرحلہ بھی صبر آزما تھا۔
ہم دونوں حروف کے رسیا اور حساس ہیں۔
کیا اپنی زندگی میں آپ میری شراکت گوارا کریں گی۔
حنا نے کچھ وقت مانگا، معاملات دل اتنی آسانی سے طے ہو جائیں گے، اس نے سوچا نہ تھا۔
سوز کے حاشیے میں نکھری زندگی اسے پیاری لگی۔
کچھ دن گزرے تو اس نے اہنا دل ماں کے سامنے کھول کے رکھ دیا۔ ماں کی عدت زدہ انکھوں میں نمی اتری۔

اپنی اولاد کے لیے دکھ منتخب نہی کیا کرتیں ، اولاد کے معاملے میں ماں کے دل سے زیادہ کون خود غرض ہو سکتا ہے۔

ماں ایک بیوہ عورت کو بہو بنانے پر کب راضی تھی جو ایک بچی کی ماں بھی تھی۔
میرے چاند کے لیے ایک بیوہ کا ہی انتخاب کیوں؟
ماں کو یہ سمجھنے میں تھوڑی سی دیر لگی کہ دکھ سکھ بانٹ لینے سے دکھ آدھے اور سکھ دوگنے ہو جاتے ہیں۔
ماں کی انکھوں میں ممتا کا سمندر تھا۔ ایک مشہور فلسفی اور دانشور کا قول کام آیا اور ماں مان گئی۔
شام کا سورج ہونٹوں پہ نیم مسکراہٹ سجائے رخصتی چاہتا تھا۔

اگلے سال فلوریکلچر کے تحت گل داؤدی کی نمایش دیکھنے سے پہلے حناشیرازی حنا احتشام بن چکی تھی۔ ایک بچی کو ماں اور باپ دونوں مل گئے تھے بلکہ طویل اور مختصر بے عنوان نظموں کو من چاہا عنوان مل چکا تھا۔ ٹیولپ کے سلسلے دور تک مسکرا رہے تھے۔

Latest posts by دعا عظیمی (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *