’عرب سپرنگ‘ نے صحافیوں کے تحفظ سے متعلق صحافتی اداروں کی پالیسی کیسے بدلی؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عرب سپرنگ کے دوران لیبیا میں ہونے والا مظاہرہ۔ فائل فوٹو

صحافتی آزادیوں پر کام کرنے والی عالمی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کی ایک رپورٹ کے مطابق،عرب ملکوں میں دس سال قبل عرب بہار یا ’عرب سپرنگ‘ کے نام سے شروع ہونے والی تحریک کے دوران مصر، لیبیا، شام، تیونس اور یمن میں 189 صحافی پرتشدد واقعات میں ہلاک ہوئے ہیں۔

وائس آف امریکہ کے سروان کاجو، ایزل ساہنکیا اور نامو عبداللہ کی ایک رپورٹ کے مطابق ان عرب ممالک میں جمہوریت کے لیے شروع ہونے والی تحریکوں کے دوران فری لانس امریکی صحافیوں کی ہلاکتوں کی وجہ سے میڈیا کمیونٹی پر گہرا اثر پڑا۔ان صحافیوں میں شام میں ہلاک ہونے والے فری لانس صحافی جیمز فولی، سٹیون سوٹلوف اور فوٹو جرنلسٹس ٹم ہیٹرنگٹن اور کرس ہنڈارس شامل تھے۔

وائس آف امریکہ کی رپورٹ کے مطابق، امن و امان کی صورتحال کے لحاظ سے خطرناک علاقوں میں ان امریکی صحافیوں کی ہلاکت کی وجہ سے خبر رساں اداروں نے جنگ زدہ علاقوں میں صحافیوں کو بھیجنے کے سلسلے میں نئی پالیسیاں وضع کرنے پر غور شروع کر دیا۔

رپورٹ کے مطابق، ان پالیسیوں میں ابتدائی طور پر خانہ جنگی کے عروج کے زمانے میں شام میں صحافیوں کو بھیجنا بند کرنے کی تاکید شامل تھی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے ایک ایڈیٹر جان ڈانیس زیویسکی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’جب اے پی نے شام میں شدید خطرات کی وجہ سے اپنے سٹاف کو نہ بھیجنے کا فیصلہ کیا تو اس وقت یہ اصولی فیصلہ بھی کیا گیا کہ اس علاقے میں اے پی نہ ہی فری لانسر صحافیوں سے خبریں وصول کرے گا اور نہ ہی خبریں دی جائیں گی۔‘‘

ان کے مطابق، اس فیصلے کی وجہ یہ تھی کہ فری لانسر صحافیوں کو بالواسطہ بھی ایسے علاقے میں جانے کی حوصلہ افزائی نہ کی جائے جہاں انہیں شدید خطرات لاحق تھے۔

رپورٹ کے مطابق، ان پانچ عرب ممالک میں سے کئی ممالک اب بھی صحافیوں کے لیے شدید خطرات کے حامل ہیں جہاں خانہ جنگی کے بعد اقتدار پر قبضہ جمانے والے مطلق العنان حکمران صحافیوں کو نشانہ بناتے ہیں۔

ان خطرات اور پرتشدد واقعات کے بعد ایسوسی ایٹڈ پریس اور رائٹر جیسے خبر رساں اداروں نے اے کلچر آف سیفٹی الائینس (اے سی او ایس الائینس) نامی اتحاد قائم کیا ہے۔

اے سی او ایس الائینس کی صدر اور صحافتی تنظیم کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس میں ہنگامی صورتحال کے شعبے کی ڈائریکٹر ماریا سالازار فیرو کے مطابق ’’عرب سپرنگ میں ہم نے جو دیکھا اور سب سے بڑھ کر فولی اور سوٹلوف جیسے فری لانس صحافیوں کے سر قلم ہونے کے بعد میڈیا کے ماحول میں ایک تبدیلی دیکھنے میں آئی۔‘‘

ان کے بقول ’’ہم یہاں ان دو نوجوان فری لانس صحافیوں کی بات کر رہے ہیں جو جنگ زدہ علاقوں میں کام کر رہے تھے اور انہیں صحافتی اداروں سے منسلک رپورٹرز جیسی مدد حاصل نہیں تھی”۔

یاد رہے کہ امریکی فری لانس صحافی جیمز فولی اور سٹیون سوٹلوف کو 2014 میں شام میں داعش نے قتل کر دیا تھا۔

عرب سپرنگ کہلانے والی تحریک کے دوران فری لانس صحافیوں کی ایک بڑی تعداد نے ان علاقوں کا رخ کیا تھا، کیوںکہ میڈیا ادارے اپنے باقاعدہ نمائندوں کو ان علاقوں میں بھیجنے میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کر رہے تھے۔

امریکی فری لانس صحافی، اینا تھریسا ڈے نے بحرین میں ہونے والے مظاہروں کی کوریج سے اپنے صحافتی کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔

تھریسا ڈے کے مطابق ’’خبر رساں اداروں کے لیے وہاں پہلے سے موجود صحافیوں کے ساتھ کام کرنا زیادہ کم خرچ تھا۔ یہ ان صحافیوں کے لیے بھی بین الاقوامی پہچان بنانے کا بہترین موقع تھا۔‘‘

لیکن انہوں نے بتایا کہ خبر رساں ادارے وہاں کی تیزی سے بگڑتی ہوئی صورت حال کے لیے تیار نہیں تھے۔

ان واقعات کے بعد تھریسا ڈے اور دوسرے صحافیوں نے مل کر 2013 میں ایک تنظیم فرنٹ لائین فری لانس رجسٹر بنائی۔ اس کی وجہ ایک دوسرے کو محفوظ بنانا تھا۔

فرنٹ لائن فری لانس رجسٹر نامی تنظیم اب کلچر آف سیفٹی الائینس نامی صحافتی اتحاد کا حصہ ہے۔ اس اتحاد کا مقصد ان خطرات کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل اور اس مقصد کے حصول کے لیے فری لانس صحافیوں اور ان کی خدمات استعمال کرنے والے اداروں کے لیے بہترین ضابطے بنانا ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس سے منسلک جان ڈانیس زیویسکی اس الائینس کے بورڈ میں شامل ہیں، اور ان کا کہنا ہے کہ ان ضابطوں کے تحت اب اداروں پر یہ لازم کیا گیا ہے کہ وہ خطرات کے تعین، ٹریننگ اور نگرانی کے علاوہ مشکل میں پھنسنے کے وقت ان فری لانس صحافیوں کے ساتھ ویسے ہی برتاؤ کریں، جیسے وہ اپنے سٹاف اور نمائندوں کے ساتھ کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ، ان کے بقول، فری لانس صحافیوں کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ حفاظتی سامان، خطرناک ماحول کی تربیت اور کوریج پر جانے سے پہلے انشورنس کا انتظام کریں۔

تھریسا ڈے کو 2020 میں جیمز فولی ورلڈ پریس فریڈم ایوارڈ دیا گیا تھا۔ انہیں پہلے سے خطرات کے تعین کی اہمیت کا اندازہ ہے۔ وہ اور ان کے تین ساتھیوں کو 2016 میں تب بحرین میں گرفتار کر لیا گیا تھا جب وہ جمہوریت کے حق میں شروع ہونے والی تحریک کے پانچ سال پورے ہونے کے واقعات کی کوریج کر رہی تھیں۔

بحرین کے حکام نے صحافیوں کو الگ کر کے ان سے تفتیش شروع کر دی، اور بقول تھریسا ڈے، وہ صحافیوں سے ان کے ذرائع کی تفصیل جاننا چاہتے تھے۔

تھریسا ڈے نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک ڈرا دینے والا ماحول تھا۔ لیکن صحافیوں کا ایک دوسرے کے لیے اٹھ کھڑا ہونا کام آیا اور پوری کمیونٹی نے فوری طور پر اس واقعے پر ردعمل ظاہر کیا۔

بقول ان کے ’’ہم ایسی صورت حال کے لے پہلے سے تیار تھے۔‘‘

ان 10 برسوں میں جو 189 صحافی قتل ہوئے، ان میں سے 163 مقامی صحافی تھے۔ اس مقصد کے لیے اے سی او ایس الائینس نے اپنے پروگرام میں مقامی صحافیوں کو بھی جگہ دی ہے۔

صحافتی تنظیموں کے اس اتحاد میں شامل بیروت کی ایک سمیر قصیر نامی فاؤنڈیشن نے صحافیوں کے لئے سیفٹی پروگرامز کی اہمیت اور نفاذ پر بہت کام کیا ہے۔

فاؤنڈیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ایمن مہانا کے مطابق وہ اس پروگرام کو صرف جنگ زدہ علاقوں تک محدود نہیں سمجھتیں۔ ان کے بقول، ہم جن ملکوں میں رہتے ہیں وہاں ہجوم سے نمٹنے کے لیے پولیس بہت سخت طریقوں کا استعمال کرتی ہے۔

ایسے گروپوں کا مقصد صحافیوں، ایڈیٹروں اور نیوز رومز کے ماحول کو تبدیل کرنا ہے۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس کی سالازار فیرو نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ آپ کو اس معاملے کو ہر پہلو سے دیکھنا ہے، تاکہ ہر ایک کو معلومات تک رسائی ہو، تحفظ کے معاملات کو نئے سرے سے دیکھا جائے، چاہے آپ نیویارک ٹائمز کے ایڈیٹر ہوں، یا ایک مقامی صحافی، جو لبنان یا عراق میں کام کر رہا ہو”۔

ان کے مطابق، اس پروگرام کی وجہ سے فرق پڑا ہے اور خطرات کے تعین کے لیے بنائے گئے ضابطوں کا استعمال زیادہ ہوا ہے۔ ان کے بقول، اسی وجہ سے ’’معلومات اور بہترین وسائل مہیا کرنے کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔‘‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1884 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *