محمد بن قاسم بمقابلہ راجہ داہر

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وطن عزیز پاکستان میں جیسے ہی 10 رمضان آتا ہے تو محمد بن قاسم اور راجہ داہر کے بارے میں ایک بحث کا آغاز ہو جاتا ہے۔ مذہبی طبقہ محمد بن قاسم کو اسلام کا سفیر قرار دے کر 10 رمضان کو یوم باب الاسلام کے نام سے مناتا ہے جبکہ سندھی قوم پرست اس موقع پر راجہ داہر کی حمایت میں سرگرداں نظر آتے ہیں۔

درج ذیل مضمون میں سندھ دھرتی کے اصل ہیرو اور ولن کی کھوج کرنے کی کوشش کی گئی۔

ہمیں اس قضیے کو حل کرنے کے لئے سندھ کی تاریخ میں مزید کچھ پیچھے جانا ہو گا، جہاں ہم دیکھتے ہیں کہ سندھ کی باگ ڈور راجپوت قبیلے کے رائے خاندان کے ہاتھ ہے، اور راجہ سہسی رائے سندھ کا راجہ ہے۔ راجہ سہسی رائے کے دور میں ایک برہمن سندھ دھرتی پر نمودار ہوتا ہے، جس کے بارے میں دو روایتیں پائی جاتی ہیں۔ کچھ مؤرخین کا خیال ہے کہ چچ ایک براہمن تھا اور کشمیر سے سندھ پہنچا تھا جبکہ کچھ مؤرخین کا ماننا ہے کہ چچ مصر کا ایک بت فروش تھا، جو مصر سے سندھ پہنچا تھا اور سندھ میں بتوں کی پوجا کا آغاز اسی نے کرایا تھا۔ بہرحال دونوں میں سے جس روایت کو بھی تسلیم کیا جائے تو چچ سندھ کے اندر ایک نو وارد اور مہاجر تھا۔

چچ نے راجہ سہسی رائے کی فوج میں ملازمت شروع کی اور بہت جلد راجہ سہسی رائے کا اعتماد حاصل کر کے اس کے ذاتی محافظوں میں شمار ہونے لگا۔ ایک دن چچ نے موقع پا کر راجہ سہسی رائے کو سوتے میں قتل کر دیا اور رانی سے شادی رچا کر خود راجہ بن بیٹھا۔ چچ کا بڑا بیٹا داہر تھا، جو چچ کی وفات کے بعد سندھ کا راجہ بنا۔

یہاں ایک بات بہت عجیب ہے کہ ہمارے سندھی قوم پرست بھائی، ان مہاجروں کو جو ہندوستان سے ہجرت کر کے سندھ میں آباد ہوئے، آج ان کی چوتھی نسل شروع ہو چکی ہے، لیکن ان کو سندھی تسلیم کرنے کو تیار نہیں لیکن یہی سندھی قوم پرست نہ جانے راجہ داہر کو جو قابض چچ کا بیٹا تھا، کیسے اپنا ہیرو تسلیم کر بیٹھے؟

عزیزان من: ایک طرف تو یہ راجہ داہر کا کردار سامنے آ گیا جو پہلی بات تو سندھی نہیں تھا اور دوسری بات یہ کہ سندھ پر ناحق اور ظالمانہ طریقے سے قابض تھا۔ اب کچھ ہم جائزہ لیتے ہیں، محمد بن قاسم کے پیچھے موجود اصل محرک یعنی حجاج بن یوسف کے کردار کا، سندھ کی فتح میں جس کا اصل کردار ہے۔

حجاج بنو امیہ کا ایک ظالم، سفاک جرنیل اور سخت گیر گورنر تھا، اس نے 73 ہجری میں مکہ کا محاصرہ کیا جو سات ماہ تک جاری رہا اور کعبہ پر منجنیق سے پتھر برسائے، جس سے کعبے کی دیواریں شہید ہو گئیں۔ حجاج نے حضرت عبداللہ ابن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کر کے ان کی لاش تین دن تک شہر کے مرکزی دروازے پر سولی پر لٹکا کر رکھی۔ حجاج کے اس حملے میں دس ہزار سے زائد مسلمان شہید ہوئے۔

مختلف روایتوں کے مطابق حجاج نے اپنی زندگی میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگے۔ اس نے عظیم تابعی اور زاہد و پارسا حضرت سعید بن جبیرؒ کے خون سے بھی اپنے ہاتھ رنگے، امام ابن کثیر اور امام ابن تیمیہ نے بھی حجاج کو ظالم کہا ہے۔

سیدہ اسماء جو حضرت ابوبکر صدیقؓ کی بڑی بیٹی تھیں، نے اپنے بیٹے عبد اللہ ابن زبیر کی شہادت کے بعد حجاج کی سخت کلامی کے جواب میں اسے کہا تھا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ میرے بعد قبیلہ ثقیف میں ایک کذاب ہو گا اور ایک خونخوار۔ کذاب تو ہم نے دیکھ لیا اور خونخوار میں تجھے سمجھتی ہوں۔

مکے کے بعد حجاج مدینہ پر حملہ آور ہوا اور مدینہ میں جس جس نے اس کی مخالفت کی، ان تمام کو شہید کر دیا۔ دو مہینے تک حجاج اہل مدینہ پر مسلط رہا۔ حجاج نے حضرت انس بن مالکؓ مشہور صحابی کی شان میں بھی گستاخی کی اور ان کے لڑکے کو شہید کروایا۔

وہ نہایت ظالم اور سفاک انسان تھا۔ بے جا تلوار استعمال کرتا۔ انسانی جان کی حرمت اس کے نزدیک کوئی معنی نہ رکھتی تھی۔ حرام مہینوں کا احترام بھی وہ کم ہی کرتا تھا۔ حجاج نے اپنے اور حکومت کے مخالفین پہ بے جا ظلم ڈھائے۔

مؤرخین کے مطابق اس کی محبوب سزا مخالف کو برہنہ کر کے بغیر چھت کے قید خانوں میں رکھنا تھی۔ اس معاملے میں وہ مرد اور عورت کی تمیز بھی نہیں رکھتا تھا۔ مزید اذیت کے لیے وہ ایک ہی خاندان کے مرد و خواتین کو ایک ہی جگہ برہنہ قید رکھتا۔ ایک وقت میں اس کے برہنہ قیدیوں کی تعداد پچاس ہزار تک پہنچ گئی تھی جن میں تیس ہزار خواتین تھیں۔ ان قیدیوں میں اکثریت حجاج و بنی امیہ کے سیاسی مخالفین کی تھی۔

حجاج بن یوسف ثقفی کی 13 رمضان 95 ہجری قمری کو 53 سال کی عمر میں موت واقع ہوئی وہ عبدالملک بن مروان کے زمانے میں شہر واسط میں آکلہ (بہت زیادہ کھانے ) کے مرض کی وجہ سے مر گیا۔ اور تاریخ کا سفاک باب بند ہوا اور مسلمانوں نے اس کی موت پر سکھ کا سانس لیا۔

عزیزان من! ایک جانب تو ہم نے راجہ داہر کا معاملہ دیکھا کہ وہ سندھی الاصل نہیں تھا اور سندھ کی حکومت پر جبراً اور ظلماً قابض تھا، دوسری طرف حجاج بن یوسف بھی ایک ظالم و جابر حکمران تھا۔

محمد بن قاسم کا سندھ پر حملہ کوئی پہلا حملہ نہیں تھا بلکہ اس سے قبل بھی بنو امیہ متعدد حملے سندھ پر کر چکے تھے، اور مکران تک بنو امیہ کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ لیکن راجہ سہسی رائے کی مضبوط حکومت کے آگے وہ کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں کر سکے تھے۔ راجہ سہسی رائے کی موت اور چچ کے تخت پر قبضے سے سندھ میں شدید سیاسی اور مذہبی تفریق پیدا ہو چکی تھی۔

راجہ سہسی رائے کا تعلق راجپوت قبیلے سے تھا جبکہ چچ براہمن تھا۔ اس وجہ سے سندھ کی عوام اور سہسی رائے کا خاندان داہر کے خلاف تھا اور درپردہ ایسی کوششوں میں مصروف تھا کہ کسی طرح راجہ داہر کا تختہ الٹ کر واپس رائے خاندان کی حکومت بحال کی جائے۔ دوسری تقسیم مذہبی تھی۔ راجہ سہسی رائے بدھ مت کا پیروکار تھا اور سندھیوں کی اکثریت بھی بدھ مت کی پیروکار تھی جبکہ راجہ داہر ہندو تھا، اس وقت ہندو اور بدھ مت کی مذہبی کشمکش نے بھی سندھ کی حکومت کو کمزور کر رکھا تھا۔

حجاج بن یوسف بنو امیہ کا ایک شاطر اور چالاک گورنر تھا، اس نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی منصوبہ بندی کی اور ایک بہانہ گھڑ کر ہوس ملک گیری کی خاطر اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کو ایک لشکر دے کر بھیج دیا۔ اس سیاسی اور مذہبی تفریق کا فائدہ محمد بن قاسم نے خوب خوب اٹھایا، راجہ داہر کے ساتھ جب جنگ زوروں پر تھی تو عین اس وقت راجہ داہر کا جرنیل جو راجہ سہسی رائے کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا، راجہ داہر کا ساتھ چھوڑ کر محمد بن قاسم سے جا ملا اور یوں راجہ داہر کے ظالمانہ اقتدار کا خاتمہ سندھ کی دھرتی سے ہو گیا۔

دیبل کی اس فیصلہ کن لڑائی کے بعد محمد بن قاسم کو صرف ان علاقوں میں ہلکی پھلکی جنگیں لڑنا پڑیں، جہاں جہاں راجہ داہر کے خاندان کے لوگ گورنر تھے، باقی جہاں راجہ سہسی رائے کے خاندان کے لوگ گورنر تھے، وہاں محمد بن قاسم کا استقبال کیا گیا، کیوں کہ راجہ سہسی رائے کا خاندان راجہ داہر کو غاصب سمجھتا تھا، یوں راجہ سہسی رائے کے خاندان اور سندھ کے اصل باشندوں نے محمد بن قاسم کی مدد سے راجہ داہر سے چھٹکارا حاصل کیا اور اپنے حقوق بحال کیے۔

ان حقائق کے تناظر میں دیکھا جائے تو نہ تو محمد بن قاسم کوئی اسلام کا خادم تھا اور نہ ہی وہ اسلام کی خدمت کرنے یہاں آیا تھا، بلکہ اسلام تو رسول اللہ ﷺ کے دور میں ہی سندھ اور ہند میں پھیل چکا تھا، محمد بن قاسم کو اسلام کا نمائندہ قرار دینا کسی طور بھی مناسب نہیں، وہ ایک ظالم و جابر حکومت کا نمائندہ تھا، جو اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دراصل اپنی سلطنت میں توسیع چاہتی تھی۔

وہیں یہ بات بھی پایہ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ راجہ داہر کا سندھ سے کوئی تعلق نہیں تھا بلکہ راجہ داہر ایک ظالم اور غاصب حکمران تھا، جس سے نجات پانے کے لئے سندھ کے باسیوں نے محمد بن قاسم کو خوش آمدید کہا۔ اگر اس سارے قضیے میں کوئی مظلوم ہے تو وہ راجہ سہسی رائے ہے، جس کی حکومت چچ نے چھین کر اپنی اولاد کے حوالے کی۔ یہ بالکل ایسے ہی ہے کہ جیسے 80 کی دہائی میں روس سے نجات حاصل کرنے کے لئے افغانوں نے امریکا کی مدد حاصل کی تھی۔ اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ امریکیوں کو ہیرو قرار دے دیا جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *