میری نظر میں مردانگی کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ڈیر رابعہ! میں ایک اینڈوکرنالوجسٹ ہوں۔ اینڈوکرنالوجسٹ میڈیکل سائنس کی وہ شاخ ہے جس میں ہم ہارمون سے متعلق بیماریوں کا علاج کرتے ہیں۔ میڈیکل سائنس، اینڈوکرنالوجی، دنیا کی تاریخ، اس کے مذاہب اور مختلف ممالک کی تہذیبوں کے مطالعے اور مشاہدے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ صنف بائنری (دو رخہ) نہیں ہے بلکہ ایک اسپیکٹرم (کثیر جہتی) ہے۔ جس طرح سفید روشنی منشور (پرزم) میں سے گزر کر قوس و قزح کے مختلف رنگوں میں بٹ جاتی ہے بالکل اسی طرح ڈی این اے ( ڈی این اے ) سے لے کر فینوٹائپ تک انسانوں کے خدوخال، جسمانی ساخت یا ان کی صلاحیت کو دو خانوں میں نہیں بانٹا جا سکتا ہے۔

لفظ مردانگی (Manhood) اس مصنوعی تقسیم کا بنایا ہوا ایک سوشل کانسٹرکٹ یا سماجی ڈھانچے کا تخلیق شدہ ایک رویہ ہے جس کی بنیاد آدم اور حوا کی طرح کی دیومالائی کہانیوں پر کھڑی ہے۔

جنوب ایشیائی پس منظر میں جس طرح صنفوں کو دو بڑے گروہوں میں تقسیم کر کے ان کو ایک دوسرے کا تضاد سمجھا گیا ہے، اس میں لفظ مردانگی کو دو رخوں سے دیکھ سکتے ہیں۔ ایک وہ جو مثبت ہے اور اس کے مثبت اثرات ہیں اور دوسرا وہ جو منفی ہے اور اس کے معاشرے کے تمام افراد پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مردانگی کا مثبت رخ کیا ہے؟

مردانگی کے مثبت معنی دیکھیں تو وہ بہادری، ہمت، محنت اور کٹھن کام کرنے سے متعلق ہیں۔ مردانگی وعدہ نبھانے، سچائی، ایمان داری اور اپنی ذہنی اور جسمانی طاقت کو اپنے خاندان کی دیکھ بھال کرنے اور اپنے ملک کے افراد کی حفاظت کے لیے جنگ میں لڑنے اور مرنے کے لیے استعمال کرنے کا نام ہے۔

مردانگی کے تمام منفی کام جو ہمارے معاشرے میں عام ہیں اور ان کو اچھائی بتا کر نسل در نسل آگے بڑھایا جا رہا ہے، ان میں خود کو محض صنف کی بنیاد پر دنیا کی تمام خواتین سے عقل، طاقت اور حقوق میں بالاتر سمجھنا، لڑنا جھگڑنا، مارپیٹ کرنا، ماں بہن کی گالی گلوچ کرنا، دیگر ملکوں پر چڑھائی کرنا، خواتین کا ریپ کرنا، ان کو گھورنا، آتی جاتی خواتین کے بارے میں تبصرے کرنا، خود کو اپنے خاندان کی خواتین کا مالک سمجھنا حالانکہ ہر ملک کے تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں اور خود کو صنفی بنیادوں پر تعلیم گاہوں، عبادت گاہوں یا نوکریوں کا جائز وارث سمجھنا شامل ہیں۔ حالانکہ ان آدمیوں کو اس دنیا میں صرف جس کو ایک بہتر انسان بنانے کی کوشش میں لگے رہنا چاہیے وہ یہ خود ہیں۔ جس طرح انگریزی زبان میں لفظ کالا منفی اور لفظ سفید مثبت معنوں میں استعمال ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح اردو زبان میں مردانہ اور زنانہ مفہوم موجود ہیں۔

ڈاکٹر سہیل کی طرح میں نے بھی اپنی زندگی کا ابتدائی حصہ پاکستان میں گزارا اور آج سے قریب تیس سال پہلے اپنے خاندان کے ساتھ نارتھ امریکہ منتقل ہونے کے بعد بقیہ زندگی یہاں ہی صرف کی۔ دنیا کے تمام انسان ایک جیسے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ مادی طور پر ترقی یافتہ ممالک میں مردانگی کے منفی معنی موجود نہیں ہیں۔ وہ بالکل ہیں۔ اس منفی مردانگی کی مثال مسٹر ٹرمپ سے بڑھ کر کیا ہو سکتی ہے جن کو لاکھوں امریکی مرد اور خواتین نے ووٹ ڈالے۔

فرق محض اتنا ہے کہ تعلیم میں ترقی اور معاشی آزادی کے بعد خواتین نے خود کو آدم اور حوا کی اس مردانہ کہانی کے ان کو دیے گئے ایک کردار سے نکال کر اپنی متوازی کہانی لکھنا شروع کی۔ اب بھی ہم وہاں نہیں پہنچے ہیں جہاں تمام انسانوں کو برابر عزت اور اہمیت حاصل ہو۔ امریکہ کی ان ریاستوں میں جہاں تعلیم کی شرح کم ہے، اب بھی قدامت پسند اور کٹر عیسائی تقریباً وہی تمام فیصلے کرتے دکھائی دیتے ہیں جو پاکستان میں ہوتے رہے ہیں۔ یہ خوش آئند ہے کہ وقت کے ساتھ خواتین ہر شعبے میں قدم جما رہی ہیں اور قوانین میں بہتری ہو رہی ہے۔

رول ماڈل انسانی زندگی میں بہت بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ کتابیں، الفاظ، تقریریں، لیکچر اتنا نہیں سکھاتے جتنا بچے اپنے بڑوں کو دیکھ کر سیکھتے ہیں۔ فلم آرٹ کی وہ شکل ہے جس میں گراں قدر معلومات عوام تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ ہالی وڈ اور بالی وڈ کی فلموں نے تمام دنیا کی نفسیات اور رویے پر اثرات مرتب کیے ہیں۔

دو ہفتے پہلے کسی نے مجھے بالی وڈ مووی ’ویلکم‘ دیکھنے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک مزاحیہ مووی ہے۔ یہ مووی میں بہ مشکل آدھا گھنٹہ دیکھ پائی۔ اس میں بہت بدتمیزی چل رہی تھی اور ہنسنے کے بجائے مجھے شدید افسوس اور غصہ محسوس ہوا۔ اس مووی میں غنڈے اور بدمعاش ایک اسٹور کے مالک کو اسکرٹ اور دوپٹہ پہنا کر اس کی تذلیل کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ یعنی اس مووی کو بنانے والے پروڈیوسر کے خیال میں خاتون ہونا کوئی ذلت کی بات ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ایل جی بی ٹی کیو (LGBTQ) لوگوں کی توہین کی اور کہا کہ تم لوگوں کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔

حالانکہ اگر دنیا بھر کے انسان اپنے چہروں پر سے نقاب اتار کر اپنے اصل روپ میں دنیا کا حصہ بننے کی کوشش کر رہے ہیں تو ہمیں اس کوشش میں ان کا ساتھ دینا چاہیے۔ اپنے سچ کو قبول کرنے اور دوسرے انسانوں کو بھی ان کے سچ کے ساتھ دیکھ کر ان کے لیے اپنے دل اور دماغ میں ان کا بھلا سوچنے کا نام ہی مردانگی ہے۔ ایل جی بی ٹی کیو کی تاریخ سے ہم جانتے ہیں کہ جو افراد ان کے خلاف محاذ میں آگے دکھائی دیتے ہیں، ان میں سے اکثر خود حالت پوشیدگی میں ہوتے ہیں۔ دہری زندگی گزارنا آسان کام نہیں ہے اور جن لوگوں کو کرنا پڑے ان کو نفسیاتی اور جسمانی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں۔

اس کے بعد ہیرو کے انکل نے سب کے سامنے اپنی بیوی کی توہین کرتے ہوئے کہا کہ ان سے شادی کرنا ایک ایسا فیصلہ تھا جس پر وہ پچھتا رہے ہیں۔ یہ سن کر ان کی بیگم کے کندھے سکڑ گئے اور انہوں نے افسوس سے نیچے دیکھا۔ ان خاتون کو اگلے سین میں پھر سے اپنے شوہر کے ساتھ بن ٹھن کر گھومتے پھرتے دکھایا گیا۔ یہ زبانی بدسلوکی روزمرہ کی نارمل زبان کی طرح دکھائی گئی ہے۔

اس میں ان خاتون نے ایسا کچھ نہیں کہا کہ پہلے غلطی کی تھی تو اب ٹھیک کر دیتے ہیں۔ یا مجھے ایسے شوہر کے ساتھ ہونا چاہیے جو کہے کہ مجھ سے شادی کرنا اس کی زندگی کا سب سے بہترین فیصلہ تھا۔ حالانکہ گھریلو تشدد اور جسمانی، زبانی یا جذباتی بدسلوکی وہ جرائم ہیں جن کی بنیاد پر خون کے رشتوں کو بھی بہتر بنانے کی ناکام کوشش کے بعد منقطع کر دینا ایک صحت مند خاندان کی فلاح اور بہبود کے لیے لازمی ہے۔

مجھے معلوم نہیں ہے کہ انڈیا میں ایسی فلمیں آج کیوں بن رہی ہیں؟ جبکہ اس ملک میں 75 فی صد آبادی تعلیم یافتہ ہے، وہ اپنے سیکولر منشور پر فخر کرتے ہیں اور خود کو انسانی حقوق کا علم بردار بتاتے ہیں۔

چانڈکا میڈیکل کالج میں میری ایک دوست نے اپنے گھر بلایا۔ اس کے بڑے بھائی ہم سے بہت تمیز سے ملے، انہوں نے ہمیں کھانا کھلایا اور چائے پلائی۔ گھر میں ان کی بیٹی جس کی عمر بمشکل دس سال ہو گی، گڑیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔ انہوں نے وہاں سے گزرتے ہوئے اس کے کھلونوں کو لات ماری اور کہا کہ یہ فضول سامان ان کے راستے سے ہٹا دیا جائے۔ وہ بچی فوراً اپنے کھلونے سمیٹ کر بھاگ گئی۔ ان معصوم بچوں کو یہ بات معلوم نہیں ہے کہ باپ کی مردانگی ان کے ساتھ کھیلنے، کارٹون دیکھنے اور ان کی تعلیم و تربیت میں حصہ بٹانے کا نام ہے۔ یہ بات ان کو کون بتائے گا جب کہ ان کے والدین کو بھی معلوم نہیں ہے۔

مجھے کیسے یہ باتیں اس وقت بھی معلوم تھیں؟ شاید میرے اپنے ابو کی وجہ سے۔ وہ ایک اچھے باپ تھے۔ وہ ہمارے ساتھ کھیلتے تھے، ہمیں گھمانے پھرانے اور آئس کریم کھلانے لے جاتے تھے۔ انہوں نے ہمیں اچھے اسکولوں میں داخل کروایا اور صنفی تعصب سے دور نہ صرف اپنی بیٹیوں کو بلکہ ہماری امی کو بھی تعلیم جاری رکھنے پر اکسایا۔

سکھر میں ہمارے ایک مکان میں ایک بینک مینیجر کرائے دار ہوتے تھے۔ ایک مرتبہ میں اپنی سہیلیوں کے ساتھ ان کے گھر گئی۔ انہوں نے بھی ہمیں ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور ہمارے ساتھ نہایت تمیز سے پیش آئے۔ ہم پر ان کا اچھا تاثر اس وقت تک قائم رہا جب انہوں نے اپنے بچے نوکر کو حرامی کہا اور اس پر چلائے۔ اس کو ہمارے سامنے اس طرح بدسلوکی کا نشانہ بناتے ہوئے ان کو معلوم تک نہیں ہوا کہ اس سارے قصے میں کتنے مسائل ہیں؟ غریب بچوں کو نوکر رکھنا غلط ہے۔ ان بچوں کو اپنے بچوں کے ساتھ اسکول بھیجنا مردانگی ہے۔ غریب بچے کو گالی دینا غلط ہے۔ اس کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آنا میری نظر میں مردانگی ہے۔

دو ہفتے پہلے میرا بھائی، اس کی بیوی اور اس کی بیٹی مجھ سے ملنے آئے۔ تین اور بچے بھی اس کے ساتھ کھیلنے آئے ہوئے تھے۔ سب بچے آپس میں کھیل رہے تھے جس میں ایک بچے کی غلطی سے دوسرے کو چوٹ لگ گئی۔ وہ تکلیف میں نہایت غصے میں آ گیا اور دوسرے بچے کو مارنے کے لیے بھاگا۔ اس کے باپ، ٹام نے اس کو دبوچ لیا اور چپ کروانے کی کوشش میں لگ گیا۔ اس بچے نے اپنے باپ کو مکے مارے، روتا رہا اور خود کو آزاد کروانے کی کوشش کرتا رہا۔ اس بچے کو شانت کرنے میں کوئی آدھا گھنٹہ لگ گیا لیکن نہ ہی ٹام اس پر چلایا اور نہ ہی کوئی مار کٹائی یا چیخ پکار ہوئی۔ میری نظر میں یہی مردانگی ہے۔

جس نظام میں کسی انسان کو ایسا محسوس ہو کہ اس کا فائدہ ہوتا ہے تو وہ اس کو تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ شاید تعلیم بڑھے تو لوگوں کو سمجھ میں آنا شروع ہو کہ وہ اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہے ہیں اور کوئی کیا کھا رہا ہے، کیا پی رہا ہے، کیا پہن رہا ہے یا کہاں آ اور جا رہا ہے، ان میں سے کچھ بھی ایسا نہیں کہ آپ اس کی فکر میں خود کو ہلکان کریں۔

انسانیت کے سنہرے اصول کے مطابق ہر انسان کو دوسرے انسانوں کے لیے وہی پسند کرنا چاہیے جو اپنے لیے کرتا ہو۔ میری نظر میں مردانگی تمام انسانوں کا احترام کرنے، ان کے گرد دائرے کی عزت کرنے، جینے اور جینے دینے اور اپنے کام سے کام رکھنے کا نام ہے۔

اس سیریز کے دیگر حصےایک عورت کی نظرمیں مردانگی کیا ہے؟گولڈن گرلز: مردانگی چند انچوں کا نام نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments