EnglishUrduHindiFrenchGermanArabicPersianChinese (Simplified)Chinese (Traditional)TurkishRussianSpanishPunjabiBengaliSinhalaAzerbaijaniDutchGreekIndonesianItalianJapaneseKoreanNepaliTajikTamilUzbek

موت گھر گھر کی کہانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا کی وبا نے ایسے مہلک وار کرنا شروع کردیئے ہیںکہ کل تلک جن کا تصور بھی محال تھا۔ہلاکتیں اب ہر گلی محلے کی کہانی ہے۔ احتیاط کا دامن نہ تھما تو جلدہی کورونا سے ہونے والی اموات گھر گھر کی کہانی ہوگی۔حقیقت یہ ہے کہ موت ہم سب کے تعاقب میں ہے اور ہم بے خبر گہری نیند سو رہے ہیں۔

کورونا کے تیسرے وار نے ہمارے پڑوس میں بھارت کی گلیوں اور بازاروں کو ویران کردیا۔گلی گلی شہرشہر ماتم کدے سج چکے ہیں۔حکومتیں اور ریاستی انتظامیہ بے بسی سے ایک دوسرے کا منہ تک رہی ہے۔ کسی سے کچھ بن نہیں پڑرہا۔ وائرس کا سیلاب انسانوں کی فصل کو بہا کرلے جارہاہے۔ وزیراعظم عمران خان سے لے کر عام شہریوں تک سب نے بھارت کے دلدوزمناظر دیکھے۔ دل سب کا تڑپ اٹھا ۔دوستی اور دشمنی کے روایتی سانچے بدل گئے اور وزیراعظم سمیت ایدھی فائونڈیشن نے تعاون کی پیشکش کی۔

اکیسویں صدی جسے سائنس اور ایجادات کی ماں کہا جاتاہے ،میں ایسی قیامت برپا ہوئی کہ سائنسدان چکرا کررہ گئے۔معاف کیجیے گا ۔اب موت کا رقص ہمارے ملک میںبرپاہونے کو ہے۔یہ سب ہمارے اجتماعی اعمال کا نتیجہ ہے۔ مخلوق خدا احتیاط کرنے کو تیار نہیں۔ اکثریت اب بھی کورونا کو مذاق سمجھتی ہے۔ سادہ لوح شہریوں میں سے بہتوں کا خیال ہے کہ یہ مغربی یا اسرائیلی سائنسدانوں کی سازش ہے۔ ممکن ہے کہ یہ مفروضہ درست ہو۔ ابھی تو یہ مہلک وبا نسلوں کی نسلیں برباد کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

تیس لاکھ سے زائد لوگوں کو کورونا ابھی تک ہلاک کرچکا ہے۔ کئی ایک ملکوں کی آبادی سے زیادہ ہلاکتیں اب تک ہوچکی ہیں۔ یہ سلسلہ تھمنے والا نہیں۔تیسری دنیا کے پسماندہ یا ترقی پذیر ممالک میں ابھی اس نے پنجے گاڑے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کا اس نے رخ کیا ہے، جہاں ویکسینیشن کا عمل سست روی کا شکا رہے اور عوام سرکار کے احکامات یا کورونا کے حوالے سے جاری کی گئیں، ہدایات کو اہمیت دینے کو تیار نہیں۔جس تیز رفتاری سے پاکستان میں گزشتہ دو ہفتوں میں ہلاکتیں ہوئی ہیں، وہ یہ باور کراتی ہیں کہ اگلے چند ہفتوں میں پاکستان میں بھی ایک قیامت صغری برپا ہونے کو ہے۔

برا نہیں منانا۔ یہ سب کیا دھرا ہمارا اپنا ہے۔ عالم یہ ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران جو لوگ یورپ سے پاکستان آئے، انہوں نے بھی کورونا پھیلانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ خاص طور پر برطانیہ سے آنے والے تارکین وطن نے شادیوں کی بڑی شاندارتقریبات منعقد کیں۔ ہزاروں مہمانوں کو مدعو کیا ۔جلسے جلوس بھی کوئی کم نہیں ہوئے۔ پی ڈی ایم کا خیال تھا کہ تحریک انصاف سے نجات ملنا زیادہ ضروری ہے کورونا کی خیر ہے۔ جید سیاستدان اسٹیج پر بغیر ماسک کے براجماں ہوتے۔ ہاتھوں میں ہاتھ ڈالتے۔ ایک دوسرے کے پہلو میں بیٹھ کر سرگوشیاں کرتے۔حکومت کے وزرا بھی بغیر ماسک کے تقریبات میں شریک ہوتے رہے۔

ان میں سے اکثر نے کوئی مثال قائم نہیں کی۔ مساجد کا حال بھی زیادہ مختلف نہ تھا ۔ بھاری اکثریت نے توکل پر تکیہ کرکے بے احتیاطی کی ہر حد پار کی۔ ظاہر ہے کہ عام شہری اپنے لیڈروں، مساجد کے اماموں اور بااثر طبقات کو دیکھ کر اپنی راہ متعین کرتاہے۔ بدقسمتی کے ساتھ پاکستان کاشمار ان ممالک میں ہوتاہے جہاں صحت پر بہت کم وسائل خرچ کیے جاتے ہیں۔ ڈبلیو ایچ او کے معیار کے مطابق میں ہر ملک کو اپنے بجٹ میں کم ازکم چھ فی فیصد بجٹ صحت کے لیے مختص کرنا چاہیے ۔پاکستان میں یہ ایک فی صد سے زیادہ نہیں۔

موجودہ حکومت نے صحت کے لیے بجٹ کو دوگنا کیا۔ سال 20-2019 کے لیے صحت کے لیے 11 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی تھی ۔موجودہ مالی سال 21-2020 کے لیے اس میں تقریباً 130 فیصد اضافہ کیا گیا۔اس طرح حکومت نے صحت کے لیے 25 ارب 50 کروڑ روپے رکھے ہیں۔ دنیا بھر کی حکومتوں کو غالباً پہلی بار احساس ہوا کہ انسانی جانوں کو بچانے کے لیے صحت اور تعلیم پر وسائل خرچ کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ ہتھیاروں کا انبار جمع کرنے پر۔ ہتھیاروں کی خریداری پر سب سے زیادہ رقم سعودی عرب، مصر اور بھارت خرچ کرتے ہیں۔

کاش! یہ وسائل سائنسی ریسرچ اور انسانی فلاح وبہبو د کے منصوبوں پر خرچ کیے جاتے تو دنیا کی کایا ہی پلٹ جاتی۔ حکومت کے پاس مکمل لاک ڈاؤن کے سوا بہت کم آپشن بچے ہیں۔ اگلے چنددنوں میں حکومت کو لوگوں کو کورونا سے بچانے کے لیے فیصلہ کن اقدمات کرنے ہوں گے۔جانتے ہیں کہ پاکستان مالی وسائل کی کمیابی سے دوچار ہے لیکن اس وقت شہریوں کی بقا کا سوال درپیش ہے۔ لہٰذا ترقیاتی منصوبے اور سرکاری تعمیرات کو روک کر مالی وسائل کا رخ عوام کی فلاح وبہبود کی طرف موڑ دیا جائے۔ بجلی اور گیس کے بلوں میں بھی پہلے کی طرح چھوٹ دی جائے۔

اساس پروگرام نے مفلوک الحال شہریوںکی مدد کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔ اس کے بجٹ میں بھی مسلسل اضافہ کیا جائے۔بیت المال کو بھی سرگرم کردار ادا کرنا چاہیے۔ ہر مسجد کے ساتھ مخیر حضرات کے تعاون سے بیت المال قائم کیا جائے تاکہ ضرورت مندوں کی بروقت مدد کی جاسکے۔ ویکسین کی درآمد جاری ہے لیکن بائیس کروڑ عوام کو ویکسین لگانا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں۔ ویکسین دستیاب بھی ہو تو بھی ایک دو سال میںیہ عمل مکمل کرنا ممکن نظر نہیں آتا۔

الخدمت فائونڈیشن پاکستان نے حکومت کو تجویز پیش ہے کہ این جی اوز کو اجازت دی جائے تاکہ وہ اپنے وسائل اور شہریوں کی مدد سے ویکسین درآمد کرکے غریب طبقے تک پہنچاسکیں۔ بین الاقوامی ڈونر ایجنسیاں بھی اس سلسلے میں ان کی مدد گار ہوسکتی ہیں۔یہ ایک صائب تجویز ہے اور این جی اوز حکومت کی مد د کرسکتی ہیں کیونکہ ان کے پاس رضاکاروں کا ایک وسیع نٹ ورک ہے۔ عید کے کپڑوں ،کھانوں اور اس سے جڑی دیگر رسومات اگر اس سال موخر کردیا جائے تو کوئی قیامت نہیں آئے گی۔

یہ رقم غریب اور ضرورت مندوں میں تقسیم کردی جائے ۔ عید کے موقع پر علما کرام کو بھی چاہیے کہ وہ عوام کو کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کی تلقین کریں۔رمضان المبارک نے موقع دیا ہے کہ ہم چھوٹی چھوٹی نیکیاں کریں اور اجرعظیم حاصل کریں۔ حرف آخر: اپنے پاس فالتو ماسک رکھیں۔ مزدوروں،گاڑیاں دھونے والے یا پھر بھیک ماننے والوں کو پیش کریں۔گھروں میں کام کرنے والوں کو بھی صحت اور صفائی کے اصول سکھائیں اور انہیں احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد پر آمادہ کریں۔ یہ لوگ اگرغیر محفوظ ہوں گے تو کوئی بھی محفوظ نہیں رہے گا۔

یہ وقت ہے کہ ہم ایک دوسرے کو احتیاط پر آمادہ کریں۔صلہ رحمی اور محبت کے ساتھ ۔یاد رکھیں! موت ہمارے تعاقب میں ہے۔

بشکریہ روزنامہ نائنٹی ٹو

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 173 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے