پرائمری سکول کا ہیڈ ماسٹر جو برطانوی وزیر اعظم سے زیادہ تنخواہ لیتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ کہانی برطانیہ کے جنوب مشرقی لندن کے ایک پرائمری سکول کے ہیڈماسٹر مارک المز کی ہے۔ مارک المز نے ٹڈمل پرائمری سکول کا چارج 2001 ء میں سنبھالا، اس وقت سکول کا شمار ناکام ترین سکولوں میں ہوتا تھا لیکن چارج سنبھالنے کے بعد سکول میں بہتری پیدا ہوتی گئی اور بہت جلد یہ لندن کے بہترین سکولوں میں شمار ہونے لگا۔ مارک المز وہی استاد ہے جس کی تنخواہ برطانیہ کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سے زیادہ ہے اور اسی طرح تقریباً سو سے زیادہ پرائمری سکول اساتذہ ہیں جو کہ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ تنخواہ لے رہے ہیں۔

مارک المز نے کیسے اس سکول کو صف اول کے سکولوں میں لا کھڑا کیا، یہ ایک طویل داستان ہے لیکن وہ اس لیے کامیاب ہو گیا کہ اس کے پاس ایک بہترین نظام اور ایک بہترین معاشرہ تھا۔

اب ایک اور کہانی بھی سن لیں، گزشتہ ماہ پرائمری سکولوں میں تواتر سے سولر سسٹم کے پرزہ جات اور پانی والے بجلی کے پمپ کی چوریوں کا سلسلہ یوں بڑھا کہ مجھے مختلف اساتذہ کے فون آنے لگے کہ آپ کے ہاتھ میں قلم ہے۔ خدارا ہمارے افسران اعلیٰ کو حقائق سے آگاہ کریں اور ہماری آواز صوبائی وزیر تعلیم تک اور ان افسران بالا تک پہنچائیں جو ائر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر کبھی بھی پرائمری اساتذہ کے مسائل کو نہیں سمجھ سکیں گے۔

کبھی آپ کو پودے خریدنے کے لئے کسی نرسری میں جانے کا اتفاق ہوا ہو تو آپ اس امر سے بخوبی واقف ہوں گے کہ وہاں آپ کو ننھے منے پودوں کے لئے ساز گار ماحول مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی پرورش اور دیکھ بھال کے لئے اس شعبے کے ماہرین ہمہ وقت اپنے ہاتھوں میں کھاد، پانی اور مٹی پکڑے مصروف عمل نظر آتے ہیں اور جیسے ہی پودے پروان چڑھتے ہیں، ان کو زمانے کے حوادث سہنے کے لئے وہاں سے منتقل کرنے کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔

اب دوسری جانب اس نرسری کی بات کرتے ہیں جہاں نونہالان وطن کی پرورش ہوتی ہے کہ مستقبل قریب میں وہ اپنی قوم کے لئے ایک مفید شہری ثابت ہو سکیں۔

پرائمری تعلیم یعنی ابتدائی تعلیم انسانی شخصیت کے نکھار کا پہلا قدم ہے۔ یہ تعلیم چارتا دس سال کے بچوں کو دی جاتی ہے مگر مختلف علاقوں اور ملکوں میں یہ دورانیہ ایک دو سال کے فرق سے مختلف ہے۔ پرائمری تعلیم کا آغاز 1800 ء سے برطانیہ اور دولت مشترکہ کے ممالک میں کیا گیا ہے جبکہ امریکہ میں اس تعلیم کا آغاز کنڈر گارڈن سے ہوتا ہے اور پانچویں جماعت تک جاتا ہے۔ بحیثیت برطانوی کالونی پاکستان میں بھی پرائمری طرز تعلیم ہی رائج ہے۔

جیسے ہی آپ وطن عزیز کے کسی پرائمری سکول میں داخل ہوتے ہیں، آپ کا استقبال کسی چوکیدار کی بجائے اس سکول کا کوئی طالب علم کرتا ہے۔ اس کے بعد اس سکول کا ہیڈ ماسٹر یا ہیڈ مسٹریس ہی ہر قسم کی رہنمائی کے لئے ہمہ وقت موجود ہوتا ہے۔

ہمارے پرائمری سکولوں میں جہاں استاد ایک عظیم قوم بنانے میں ہمہ وقت مصروف نظر آتا ہے، اس کے ساتھ بیک وقت وہ سکول کا مالی، بھنگی، چوکیدار، اور چپڑاسی بھی ہوتا ہے کیونکہ تقسیم پاکستان سے لے کر آج تک کسی بھی ایوان اقتدار میں بیٹھے صاحب نے یہ کوشش نہیں کی کہ پرائمری سکولوں میں موجود ان بے زبانوں کو بھی ایک انسان سمجھ کر ان کے لئے ایسی سہولیات مہیا کی جائیں جن کی بناء پر نہ صرف اس کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو بلکہ وہ بہتر طریقے سے اپنا کام سر انجام دے سکیں۔

کمرہ جماعت کی صفائی آپ بچے سے نہیں کروا سکتے، بچہ سکول نہیں آتا تو آپ ذمہ دار ہیں نہ کہ والدین، بچہ اگر تعلیم میں کمزور ہے تو اس کا جواب دہ بھی ہیڈ ٹیچر ہی ہے۔ سکول میں بچوں کی تعداد کم ہو تو پرائمری سکول اساتذہ کی ڈیوٹی لگا دی جاتی ہے کہ فی الفور اپنی تعداد پوری کریں، ورنہ آپ کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی کی جائے گی۔ پیڈا ایکٹ کی لٹکتی تلوار کے سائے میں، میں نے اکثر خواتین اساتذہ کو دیہات کے ہر گھر کا دروازہ کھٹکھٹا کر منت ترلے کرتے دیکھا ہے کہ خدارا اپنے کم سن اور شیر خوار بچوں کو بھی ایک بار سکول کا منہ دکھا جائیں تاکہ ہم افسران بالا کی نظروں میں سرخرو ہو سکیں۔

گزشتہ دنوں کی تعطیلات کے دوران پنجاب کے تمام اضلاع میں اساتذہ کو بچوں کے ”ب فارم“ کے اندراج کا کام سونپ دیا گیا۔ دیکھا جائے تو مرد اساتذہ تو ان مسائل کا حل تلاش کر لیتے ہیں لیکن خواتین اساتذہ نے گھر گھر جا کر والدین کا منت ترلہ شروع کر دیا اور بچوں کی ماؤں کو نادرا آفس جانے کا کرایہ بھی اپنی جیب سے دیا لیکن ڈھاک کے وہی تین پات، والدین گھر سے نکلنے اور نادرا آفس جانے کی بجائے کرائے کے پیسے بھی دبا کر بیٹھ گئے۔

بچوں کے یہ ب فارم کیسے پورے ہوئے، یہ ایک الگ داستان ہے جو کسی اور وقت کے لئے بچا کر رکھتے ہیں۔ غسل خانوں کی صفائی، صاف پانی کی فراہمی اور کمرۂ جماعت کی صفائی کے لئے پرائمری سکول اساتذہ کو نان سیلری بجٹ (NSB فنڈ) کے نام پر انتہائی قلیل رقم ہر تین ماہ کے بعد فراہم کی جاتی ہے۔

افسران بالا کو اگر چوری چکاری کی وارداتوں کی اطلاع دی جاتی ہے تو وہ فرمان جاری کرتے ہیں کہ اپنے بجٹ سے ایک چوکیدار رکھ لیں، صفائی کرنے کے لئے ایک عدد سویپر اور مالی کا بندوبست بھی اسی فنڈ سے کرنا ہے اور لیٹرین کی صفائی کے لئے بھی ایک عدد بھنگی اسی محدود بجٹ میں سے تعینات کیا جائے تو ایک لمحے کے لئے تصور کریں مالی، بھنگی، چوکیدار اور خاکروب کو اگر کم از کم 10000 روپے فی کس ماہانہ پہ ملازم رکھا جائے تو ہر پرائمری سکول انچارج کے پاس 40000 روپے ماہانہ بجٹ لازمی ہونا چاہیے۔ الیکٹرک موٹر کی مرمت، فرنیچر کی مرمت اور سکول عمارت کی دیکھ بھال کے اخراجات کے علاوہ اگر کسی سکول میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے تو نتائج کے حصول کے لئے ایک عدد فیڈر ٹیچر بھی نان سیلری بجٹ فنڈ سے تعینات کرنا سکول انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

ایک صاف ستھراماحول ہی ایک نونہال کی تخلیقی صلاحیت کو ابھارنے میں ممد و معاون ثابت ہوتا ہے، اس مقصد کے حصول کے لئے کسی بھی ابتدائی تعلیم کے سکول میں پانی اور بجلی کی فراہمی کے ساتھ ساتھ تعلیمی معاونات کی فراہمی بھی حکومت کا فرض ہے لیکن دیکھا یہ گیا ہے کہ ان تمام پیرامیٹرز کی فراہمی کا بوجھ بھی ایک سکول انچارج کے ناتواں کندھوں پر لاد دیا گیا ہے۔ اگر فرنیچر نامکمل ہے تو افسران بالا کی جھاڑ کا خوف اور مانیٹرنگ افسر کی ناراضی کی وجہ سے اکثر سکول کی خواتین اور مرد اساتذہ ذہنی پریشانی کا شکار ہو جاتے ہیں۔

ہر ماہ کے اختتام پر یا وسط میں حکومت کی طرف سے متعین ایک ریٹائرڈ فوجی بطور مانیٹرنگ افسر ہر پرائمری سکول کا مکمل آڈٹ کرنے کے ساتھ ساتھ جماعت سوم کے بچوں کا ا یک چھوٹا سا امتحان بھی لیتا ہے جو صوبائی دارالحکومت سے براہ راست بھیجا جاتا ہے۔ اگر اس امتحان میں کم بچے کامیاب ہوں تو بھی متعلقہ افسران کے ہاں لازمی پیش ہونا پڑتا ہے اور وضاحت کے ساتھ ساتھ ایسی ایسی باتیں سننے کو ملتی ہیں جو کسی بھی انسان کی عزت نفس پہ براہ راست حملے کے مترادف سمجھی جا سکتی ہیں، اس کے علاوہ کسی بھی معلم کو اس وقت تک رخصت نہیں دی جاتی جب تک کہ مانیٹرنگ افسر کا دورہ نہ ہو جائے۔ بصورت دیگر اگر افسر موقع پر پہنچ گیا تو متعلقہ معلم غیر حاضر تصور کیا جاتا ہے۔

انرولمنٹ کے ساتھ ساتھ بچوں کی روزانہ سکول میں حاضری کا 80 فیصد بھی ممکن بنانا اساتذہ کی ذمہ داری ہے۔ اگر مانیٹرنگ والے دن حاضری کم ہے تو متعلقہ اسسٹنٹ ایجوکیشن افسر کے ساتھ ساتھ ہیڈ ٹیچر کو بھی ایک اچھی خاصی جھاڑ سننے کو مل سکتی ہے۔ گزشتہ سال میرے علاقے کے مقامی گرلز ہائی سکول کی کمپیوٹر لیبارٹری سے قیمتی ساز و سامان چوری ہو گیا، سکول انچارج نے پولیس کو درخواست گزاری۔ وہ دن اور آج کا دن چور تو نہ مل سکے لیکن اس قیمتی ساز و سامان کی فراہمی ہیڈ مسٹریس کے لئے ایک مستقل درد سر بنی ہوئی ہے۔

حال ہی میں جو سولر سسٹم اور سولر پینل مختلف پرائمری سکولوں کو دیے گئے تھے، دیہی علاقوں کے اکثر سولر سسٹم چوری ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے سکول انچارج حضرات بلکہ ان کے ساتھ ساتھ متعلقہ اے ای اوز کی نوکریاں بھی خطرے میں پڑی ہوئی ہے، اگر کوئی معزز استاد پولیس کے پاس جاتا ہے تو اس کی ایف آئی آر کا اندراج نہیں ہوتا اور وہ ناکام و نامراد واپس لوٹ آتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *