نافعہ اکرام پر تیزابی حملہ اور مغربی فنڈڈ ٹولہ

محترمہ طیبہ ضیاء صاحبہ کا مورخہ 26 اپریل کا، نوائے وقت میں کالم، امریکہ میں سترہ مارچ 2021 کو ایک پاکستانی نژاد بچی پر تیزاب پھینکنے کے واقعہ پر ہے۔

موصوفہ واقعہ کی تفصیل لکھتی ہیں:

” گھر کے گیراج کے پاس اچانک پیچھے سے ایک بندہ دوڑتا ہوا آیا، اس کے ہاتھ میں سفید رنگ کا گلاس تھا جس میں تیزاب تھا اور تیزی سے نافعہ کے اوپر پھینک کر رفو چکر ہو گیا“

اور لکھتی ہیں کہ:

”واقعہ کو مہینہ سے زائد عرصہ ہو چکا تھا مگر امریکی میڈیا نے اس خبر کو ہوا تک نہ لگنے دی۔ ہفتہ قبل ہماری نظر ایک ویب سائٹ پر پڑی جو کسی پاکستانی لڑکی شازیہ انجم نے نافعہ فاطمہ کے علاج کے لیے عطیات اکٹھے کرنے کے لیے بنائی تھی“

اس پر اپنی مساعی جمیلہ کا ذکر کرتی ہیں کہ:

” ہماری کوشش رنگ لائی اور دو دن بعد ہی کچھ امریکی لوکل ویب سائٹس اور ایک دو اخبارات میں خبر شائع ہو گئی“

انسانی ہمدردی اور اسلامی غیرت کے مطابق:

”یہ واقعہ کسی بھی انسان کے ساتھ کسی بھی ملک میں پیش آئے تکلیف دہ ہے اور نافعہ فاطمہ تو ایک پاکستانی مسلمان بیٹی ہے جو ایک نام نہاد مہذب معاشرے میں تیزاب کی نذر ہوئی ہے جسے کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔“

اپنی تحریر میں موصوفہ نے واردات، اپنی مساعی جمیلہ کے ذکر کے علاوہ، امریکی ریاست کے متعصب رویے کے ذکر کے ساتھ اس واقعہ کے محرکات کا تعین از خود کرتے ہوئے مسلم میڈیا بالخصوص پاکستانی موم بتی میڈیا کو بھی خوب طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا ہے۔

جہاں تک واقعہ کا تعلق ہے جو لمحوں میں ہوا اور اس کی وڈیو موجود ہے جس سے مجرم کی شناخت نہیں ہو پاتی۔ اب یہ اداروں کا کام ہے کہ وہ کھوج لگائیں اور مجرم کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کریں۔ اس سلسلہ میں موصوفہ کی کوشش سے ہی سہی انٹرنیٹ پر اور مقامی ٹی وی پر یہ خبر نہ صرف نشر ہوئی بلکہ اس کی اپ ڈیٹ بھی جاری ہیں۔ لیکن جب تک کوئی معین کھوج نہ ملے کسی کو بھی متہم کرنا پاکستان میں تو جائز ہے لیکن امریکہ میں لغو ہے۔

موصوفہ نے مزید فرمایا ہے کہ:۔

”یہ واقعہ پاکستان میں پیش آ جائے تو اس کے خلاف فلمیں بنا کر آسکر ایوارڈ لئے جاتے ہیں۔ یہ میرے بیٹے کی یونیورسٹی میں پڑھتی تھی۔ Hate Crime کی نذر ہو گئی۔“

اس واقعہ کو مجرم کی شناخت کے بغیر ہی ہیٹ کرائم قرار دینے کا از خود فیصلہ سنا دیا ہے۔ جس کے بعد اس بدگمانی میں ترقی کرتے ہوئے اس مفروضے کی بناء پر کوسنے لگتی ہیں کہ:

” یہ حقیقی چہرہ مہذب ریاست امریکہ کا جو عورتوں کے حقوق کا چیمپئن بنا پھرتا ہے ، ایک انتہا پسند امریکی نے پاکستانی لڑکی نافعہ فاطمہ پر تیزاب پھینک دیا“ ۔

مضمون پڑھ کر ایسے لگتا ہے کہ محترمہ اب امریکن پاسپورٹ یا امریکن گرین کارڈ کو دارالحرب امریکہ میں پھینک کر دارالسلام پاکستان میں لوٹ آئی ہیں یا آ جائیں گی۔

حیرت ہے کہ اس میں امریکی ریاست کو رگیدنے کی کوئی وجہ فی الحال نہیں تھی کیونکہ اس نوع کے واقعات عورتوں کے ساتھ دنیا بھر میں ہوتے اور ہو رہے ہیں۔ یہ انتظامی نہیں سماجی مسئلہ ہے۔ پولیس نے تو دس ہزار ڈالر بڑھا کر نشاندہی کرنے والوں کے لئے رقم بیس ہزار ڈالر بھی کر دی ہے۔

امریکہ کے ساتھ ساتھ مسلم اور پاکستانی موم بتی میڈیا پر بھی ان کا قہر ٹوٹتا ہے اور اس واقعے پر پاکستان کی عورتوں کی تنظیمات کی خاموشی پر موصوفہ نے طعن و تشنیع میں معقولیت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ فرماتی ہیں:۔

”نسلی تعصب کا نشانہ بننے والی پاکستانی نژاد نافعہ اکرام کے واقعہ پر پاکستانی میڈیا بھی خاموش! موم بتی مافیا بھی خاموش! ماروی سرمد کا فنڈڈ ٹولہ بھی خاموش! کیوں کہ یہ سب مغرب کے ایجنٹ اور پالتو ہیں۔“

ان کو شکوہ ہے کہ : ”ایک مہینہ سے زائد ہو گیا اس واقعے کو، کسی پاکستانی اور مسلم میڈیا نے اس خبر کو بریک نہیں کیا“

اور موصوفہ کے :۔
” شور شرابے پر امریکی لوکل میڈیا نے دو روز قبل خبر لگائی“ ۔
ایک چونکا دینے والی غلطی ان سے نادانی میں سرزد ہو گئی ہے جب یہ لکھتی ہیں کہ مظلومہ بچی:
” ہمارے ساتھ neighborhood میں رہتی ہے، میرے بیٹے کی یونیورسٹی میں پڑھتی تھی“ ۔

ذرا نظر انصاف سے دیکھیں تو موصوفہ پر بطور مخلص مسلمان اور ہمسایہ ہونے کے فرض عائد ہوتا ہے کہ یہ شور شرابا ابتداء میں ہی کرتیں نہ کہ مہینہ بھر انتظار کے بعد ۔ ہو سکتا ہے کہ ان کو ایک ماہ تک علم ہی نہ ہوا ہو۔ لیکن جن پر لعن طعن کرتی ہیں ان کو الہام تو نہیں ہونا تھا کہ آپ کی ہمسائیگی میں اس قسم کا کوئی واقعہ ہوا ہے۔ باوجود ہمسایہ ہونے کے مہینے بعد حرکت میں آنا وضاحت طلب ہے۔ کیونکہ موصوفہ کی رفتار سے تو پاکستانی موم بتی مافیا کو جائے وقوعہ سے فاصلہ کے حساب سے اگلے سال حرکت میں آنا چاہیے۔

ان کی یہ بات اگر درست ہے کہ:۔

”امریکا میں پاکستانی کمیونٹی پر چند ہفتوں میں یہ تیسرا حملہ ہے۔ اس نسل پرستانہ حملے پر امریکی میڈیا خاموش ہے“ ۔

تو ان پہلے دو حملوں کے وقت ان کی اپنی خاموشی کا سبب بھی انہیں دوسروں پر طعن و تشنیع سے پہلے بتانا چاہیے تھا۔

مضمون نگار کی فرسٹریشن کی بدولت تحریر میں ربط نہیں ہے اور اس کے قہری عروج کا منتہا فی الحال یہ ہے کہ:۔

” امریکہ میں ایک پاکستانی لڑکی پر ایک امریکی کی طرف سے تیزاب پھینکا گیا تو اب اس ٹولے (میرا جسم میری مرضی) کی ماں مر گئی ہے اور بولتی بند ہے!“

سوال پیدا ہوتا ہے کہ موصوفہ ایک ماہ تک کیوں ”مغرب کے ایجنٹ اور پالتو“ موم بتی مافیا کے حرکت میں آنے کی منتظر رہیں۔ یہ مجرمانہ غفلت اتفاقی نہیں ہو سکتی اور اس کے کچھ اور محرکات ممکن ہیں۔

یہی بات ہے جس کی وجہ سے یہ شک بھی کیا جا سکتا ہے کہ ابھی تک تو مجرم کا سراغ نہیں ملا ہے،  لڑکا کوئی پاکستانی مسلمان بھی ہو سکتا ہے۔ امریکہ میں نسلی تعصب سے انکار نہیں پھر بھی جب تک ثابت نہیں ہو جاتا ، اس جرم کو نسلی ہیٹ کرائم کے بجائے جینڈر ہیٹ کرائم ہی سمجھا جا سکتا ہے۔

اس جرم کا شکار اسی فی صد عورتیں ہی ہوتی ہیں اور پاکستان میں اس ظلم کی شکار سالانہ تعداد تینتیس اور ستر ریکارڈ ہو چکی ہے جن پر ستم ڈھانے والے پاکستانی مسلمان مرد ہی تھے اور موصوفہ کو ان بے چاری پاکستانی مسلمان بیٹیوں کی ستم رسیدگی تو دکھائی نہیں دی البتہ ان بچیوں کے لئے جنہوں نے آواز اٹھائی وہ موصوفہ کے نزدیک ٹھہریں:

”عورتوں کے حقوق کی علمبردار آنٹیاں (جنہیں چاہیے کہ) شرم سے ڈوب مریں“

Comments - User is solely responsible for his/her words