فرینک سناترا، ایوا گارڈنر اور ان کی فلمیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب 2018 میں نینسی سناترا کی ایک سو ایک سال کی عمر میں موت ہوئی سناترا خاندان کی زندگی میں ایک اور طویل باب بند ہوگیا۔ نینسی سناترا فرینک سناترا کی چار بیویوں میں سے پہلی بیوی تھی۔ دونوں 1939 سے 1951 تک شادی شدہ رہے لیکن اس کے بعد بھی دونوں کی دوستی 1998 میں فرینک سناترا کی موت تک برقرار رہی۔ فریںک سناترا کی دوسری بیوی کا نام ایوا گارڈنر تھا جو خود ایک بڑی اداکارہ تھی

یہاں ہم فرینک سناترا اور اس کی بیویوں کی چند ­­­بہترین فلموں کا ذکر کریں گے جو انہوں نے ساتھ یا الگ الگ 1945 سے 1970 تک بنائیں۔

فرینک سناترا تو شاید ہر کسی فلم میں اپنی کسی بیوی کے ساتھ آیا ہو مگر اس کی دو بیویاں یعنی ایواگارڈنر اور میا فیرو نے الگ الگ ہمیں ایسی شان داد فلمیں دی ہیں جو ابھی بھی فلموں سے دل چسپی رکھنے والے ناظرین شوق سے دیکھتے ہیں۔

جب فرینک سناترا نے نینسی سے شادی کی تو وہ گلوگار کے طور پر اپنے قدم جمانے کی کوشش کررہا تھا جب کہ نینسی کہیں سیکریٹری کے طور پر کام کر رہی تھی۔ 1940 میں فرینک کی پیشہ ورانہ زندگی نے ایک جست لگائی اور 1945 تک وہ خاصا آگے بڑھ گیا۔ اس دوران نینسی کے ساتھ اس کے تین بچے بھی ہوگئے۔

1945 میں فرینک سناترا نے جین کیلی کے ساتھ ” اینکرز اوے ” ( ANCHORS AWEIGH ) نامی فلم میں کام کیا۔ جو اس کی کامیاب ترین فلموں میں شمار ہوتی ہے۔

Frank & Nancy Sinatra ~ Something Stupid (1967)

پھر 1949 میں دونوں نے ایک اور کامیاب فلم میں کام کیا جس کا نام تھا ” اون دا ٹاؤن ” ( ON THE TOWN ) یہ ایک میوزیکل فلم تھی جس میں چند بہترین رقص اور گانے ہیں مثلاً نیو یارک نیو یارک میں اتنا شاندار رقص ہے کہ آپ اب بھی دیکھ کر اس میں محو ہوجاتے ہیں اور دل چاہتا ہے کہ کہ گانا ختم ہی نہ ہو۔

ان دو کامیاب ترین فلموں کے بعد فرینک سناترا تو جیسے ہوا میں اڑنے لگا اور نینسی کو پیچھے چھوڑتا گیا۔ اسی دور میں ایک اور نئی اداکارہ ایوا گارڈنر سامنے آئی جس کی خوب صورتی مثالی تھی۔

1946 میں جب ایوا گارڈنر چوبیس سال کی تھی تو اسے ” دی کلرز ” ( THE KILLERS ) نامی فلم ملی جس میں اس کو پہلا اہم کردار ملا۔ یہ فلم ارنسٹ ہیمنگ وے کی کہانی پر مبنی تھی اور اسی میں برٹ لنکاسٹر نے مرکزی کردار نبھایا تھا۔

اس فلم میں ایوا گارڈنر کی اداکاری شان دار تھی اور وہ اپنے سے بہت زیادہ تجربہ کار اداکاروں کے سامنے خوب کھل کر کھیلیں جن میں ایڈمنڈ او برائن بھی شامل تھا جس نے 1939 کی فلم ” ہنچ بیک آف نوترے دام ” سے شہرت پائی تھی۔

1950 تک فرینک سناترا نہ صرف اداکاری بل کہ رقص و نغمہ کی دنیا میں بھر پور قدم جما چکا تھا اور اس کے لیے مشکل نہ تھا کہ وہ نوجوان ایوا گارڈنر کے ساتھ پتنگیں بڑھا سکے۔

اس وقت تک نینسی بے چاری کو پتا تھا کہ فرینک ایسے کئی تعلقات کا حامل ہے۔ 1951 میں اُن کی طلاق ہوگئی اور ایوا نے فرینک سے شادی کرلی۔

Frank Sinatra – ava gardner

1950 کے عشرے کے آغاز میں ایوا گارڈنر اور فرینک سناترا دونوں ایک کے بعد ایک کامیاب فلمیں دے رہے تھے۔ 1952 میں ایوا نے ہیمنگ وے کی ایک اور کہانی پر مبنی فلم میں کام کیا جس کا نام تھا ” دی اسنوز آف کلی مین جارو ” اس فلم میں گریگری پیک اور سوزان ہے ورڈ کے بھی مرکزی کردار تھے۔

یہ کہانی ایک ایسے ادیب کے گرد گھومتی ہے جو افریقہ میں ایک شکار کے سفر پر زخمی ہو جاتا ہے اور پھر غنودگی کے عالم میں اپنی ابتدائی زندگی کے بارے میں سوچتا رہتا ہے۔ اسی عالم میں وہ اپنی محبتوں میں ناکامی اور تحریروں کے بارے میں بات کرتا ہے۔

اگر آپ ایک صحافی ہیں تو آپ کو اس کہانی میں شاید خود اپنی زندگی سے کچھ مماثلت نظر آئے کیوں کہ کہا جاتا ہے کہ ہر صحافی میں ایک ناکام ادیب چھپا ہوتا ہے۔

اس فلم میں ایوا گارڈنر نے سنتھیا کا کردار ادا کیا ہے جو اس ادیب کی پہلی محبت تھی اور اس سے شادی کرنا چاہتی تھی مگر ادیب صاحب کو گھومنے پھرنے کا شوق زیادہ تھا اور اسی چکر میں وہ سنتھیا کو کھو دیتا ہے۔

1953 میں ایوا گارڈنر اور فرینک نے فلمی آسمان پر اپنی اڑان جاری رکھی۔ انہوں نے ” فرام ہیئر ٹو اٹر نٹی ” ینگ ایٹ ہارٹ ” اور ” موگامبو ” جیسی فلموں میں الگ الگ کام کیے۔ غالباً ان میں سب سے اچھی فلم ” فرام ہیئر ٹو اٹر نٹی ” تھی جس کی ہدایت فریڈ زینے مان نے دی تھی۔

اس فلم میں فرینک سناترا کے ساتھ برٹ لینکاسٹرا اور نوجوان منٹ گمری کلفٹ بھی تھے اور ایک دل کش حسینہ ڈبیرا کار بھی۔

یہ ان ابتدائی فلموں میں سے تھی جو ہوائی میں پرل ہاربر پر 1941 میں جاپانی حملے کے پس منظر میں بنائی گئی تھیں۔ فرینک سناترا کو اس فلم میں بہترین معاون اداکار کا اکیڈمی ایوارڈ بھی ملا تھا۔

Ava-gardner-shot-bhowani-junction-in-pakistan

اس میں فرینک نے اینجلو ماجیو کا کردار ادا کیا تھا جو باتونی مگر اچھا آدمی ہے اور بار بار کسی مشکل میں پھنس جاتا ہے کیوں کہ اُس کا رویہ بھرم دار ہے۔

اس فلم میں فرینک سناترا نے ماجیو کا ایسا کردار نبھایا ہے جس پر آپ کو پیار آتا ہے کیوں کہ وہ خود بھی ایک محبت کرنے والا شخص ہے جسے اپنے خاندان اور دوستوں سے الفت ہے اور وہ ان کی عزت و احترام کرتا ہے اور ایسا کرتے ہوئے ایک بار چاقو زنی کے مقابلے میں بھی شامل ہو جاتا ہے۔ فرینک نے اس میں اپنے کردار کی خوبیاں اور خامیاں خوب دکھائی ہیں۔ اور اسی لیے اُسے آسکر ایوارڈ بھی ملا۔

اس فلم نے کل آٹھ آسکر ایوارڈ حاصل کیے اور اب بھی دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

1953 میں ہی ” موگا مبو ” آئی جس میں ایوا گارڈنر کے ساتھ کلارک گیبل اور گریس کیلی تھے۔ اس فلم نے بھی شائقین کے دل جیت لیے۔ اس کی فلم بندی کے دوران ایوا فرینک کے بچے کی ماں بننے والی تھی۔

مگر اس کا حمل ضائع ہوگیا جس کی ایک وجہ افریقہ کے جنگلات کی شدید گرمی تھی جہاں پر فلم بندی ہو رہی تھی۔

دراصل” موگامبو ” 1932 میں بننے والی کلارک گیبل کی ہی ایک فلم ” ریڈ ڈسٹ” کی کاپی تھی اور اب ایوا گارڈنر کے ساتھ اس فلم کو چار چاند لگ گئے تھے۔ اور اس میں ایوا کو آسکر ایوارڈ کے لیے بھی نام زد کیا گیا تھا۔

From Here to Eternity

1956  میں ایوا گارڈنر اور فرینک سناترا نے الگ الگ دو بڑی فلموں میں کام کیا جو ” بھوانی جنکشن ” اور ” ہائی سوسائٹی ” کے ناموں سے آئیں۔ فرینک سناترا کی ہائی سوسائٹی 1940 کی فلم ” دی فلا ڈیل فیا اسٹوری ” کی کاپی تھی۔ اس نئی میوزیکل فلم میں مزاحیہ اداکار بنگ کروسبی اور گریس کیلی بھی تھے۔

اس کے بعد گریس کیلی نے مونا کو کے شہزادے سے شادی کرکے اداکاری کو خیر باد کہہ دیا تھا اور خود شہزادی بن گئی تھیں۔

گو کہ فرینک سناترا کا ہائی سوسائٹی میں مرکزی کردار نہیں تھا، ایوا گارڈنر نے بھوانی جنکشن میں اسٹیوارٹ گرینجر کے ساتھ مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ یہ فلم جان ماسٹرز کے ناول پر مبنی تھی۔

بھوانی جنکشن ایک اینگلو انڈین لڑکی وکٹوریا جونز کی کہانی ہے جو اپنے ملک بھارت سے محبت بھی کرتی ہے اور چاہتی ہے کہ برطانوی اقتیدار بھی قائم رہے۔

1947 میں آزادی کے موقع پر یہ لڑکی حالات کے ہاتھوں مجبور ہے۔ اگر آپ آزادی کے وقت کے حالات کو دیکھنا چاہیں تو یہ فلم ضرور دیکھیے۔ آپ نہ صرف فلم کو پسند کریں گے بل کہ وکٹوریا کے روپ میں ایوا گارڈنر کو بھی دل دے بیٹھیں گے۔

ایوا اور فرینک کی شادی 1957 تک چلی جب ہیمنگ وے کی ایک اور کہانی پر مبنی فلم ” دی سن آلسو رائزز ” پیش کی گئی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ایوا گارڈنر نے ہیمنگ وے کی کہانیوں پر مبنی کم از کم تین فلموں میں کام کیا۔

1957  تک ایوا اور فرینک کی شادی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوچکی تھی جو طلاق پر ختم ہوئی۔ اس کے بعد دونوں نے کئی مختلف اور اچھی فلموں میں اداکاری کے جوہر دکھائے۔

1960 کے عشرے میں فرینک سناترا کی دو اچھی فلمیں آئیں ” دی منچورین کینڈی ڈیٹ ” 1962 میں اور ” وان رائنز ایکسپریس ” 1965 میں پردہ اسکرین پر نمودار ہوئیں۔ جب کہ ایوا گارڈنر نے ” 55 ڈیز ایٹ پیکنگ ” میں 1963 میں اور ” دی نائٹ آف دی ایگوانا ” میں 1964 میں کام کیا۔

فرینک سناترا نے 1966 میں اپنے سے تیس سال چھوٹی اداکارہ میا فیرو سے شادی کرلی۔ میا فیرو نے 1968 کی فلم ” روز میریز بے بی ” میں بہت عمدہ کردار نگاری کی مگر اسی برس میا فیرو اور فرینک سناترا میں طلاق بھی ہوگئی۔

فرینک کی چوتھی بیوی باربرا مارکس تھی جو بائیس سال اس کے ساتھ رہی اور 1998 میں فرینک سناترا کی موت تک اس کا خیال رکھا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *