ثقافت اور تہذیب کے مفاہیم کا معنوی و صوری جائزہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ثقافت کا تعلق ہر شعبہ ہائے زندگی سے ہے۔ ہمیں اپنی روزمرہ کی زندگی میں ہر وقت ہر لمحہ ہر آن ثقافت اور روایات کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ انتہائی لطیف موضوع ہے۔ اس موضوع پر بات کرنا اور اس کی درست معنوں میں تفہیم کا حق ادا کرنا ناممکن نہیں تو مشکل دکھائی ضرور دیتا ہے۔ ثقافت کے سلسلہ میں مختلف افراد معاشرہ اور مشاہیر کے متعین کردہ مفاہیم میں فرق و اختلاف موجود رہا ہے۔ ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو اسلام کی بنیاد پر ثقافت کو اسلامی ثقافت کی اصطلاح کے تحت زیر بحث لاتے ہیں۔

کچھ افراد قومی ثقافت کی اصطلاح کو استعمال کرتے ہیں۔ کچھ عوامی ثقافت کی بات کرتے ہیں۔ کچھ لوگ مقامی ثقافت کے فروغ میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں اور اسے فروغ دینے میں اپنی توانائیاں صرف کرتے ہیں۔ کچھ لوگ افرادی کلچر کی بھی بات کرتے ہیں۔ بعض لوگوں کے نزدیک مشرق اور مغرب ہر دو کی الگ الگ ثقافت ہے۔ اس لیے وہ مشرقی ثقافت اور مغربی ثقافت کی اصطلاح استعمال میں لاتے ہیں۔ سب سے پہلے ہمیں ثقافت کی اصطلاح کا جائزہ لینا ہو گا۔ اس کے حدود و امتیازات اور اس کے مماثل دیگر اصطلاحات کو بھی دیکھنا ہو گا۔

ثقافت عربی زبان کا لفظ ہے۔ اس کا مادہ ث ق  ف ہے۔ اس کے معنی ہیں پا لینا، سیدھا کرنا وغیرہ کلاسیکل عربی میں اس لفظ کو اس معنی میں کبھی بھی استعمال نہیں کیا گیا۔ فارسی میں اس کے مترادف لفظ شائستگی استعمال میں لایا جاتا رہا ہے۔ ڈاکٹر سید عبداللہ لکھتے ہیں: ”تاریخ میں، علم الاجتماع، حیاتیات، بشریات اور نفسیات میں اس موضوع پر تفصیلی بحثیں آتی ہیں۔ آکسفورڈ کنسائز ڈکشنری میں لکھا ہے دراصل یہ لفظ کلٹیویشن یعنی کاشت کے معنوں سے ہوتا ہوا تربیت، نشوونما اور ترقی کی منزل تک پہنچا ہے۔

یہ ترقی و تربیت صرف انسان تک محدود نہیں ہے بلکہ دیگر اشیاء، حیوانات و نباتات بھی اس میں شامل ہیں“ ( 1 ) مہذب لکھنوی کی لغت کے مطابق ثقافت ”استحکام اور تعلیم یافتہ طبقہ کی زبان ہے۔ فرمان فتح پوری کے نزدیک ثقافت “اعلیٰ مظاہر” کا نام ہے۔ فضل الٰہی عارف اور ڈاکٹر غلام مصطفےٰ خان کے نزدیک ثقافت کے معنی “فنون لطیفہ، علم وادب، تمدن، اور کسی قوم کے تصور حیات” کے ہیں۔ فیروزاللغات اور قاموس مترادفات میں ثقافت کا ایک مطلب “عقل مندی/دردمندی” بھی ہے۔

اردو لغت تاریخی اصول پر میں ثقافت کے معنی یہ ہیں “کسی انسانی گروہ کے مذہب، اخلاق، علم و ادب اور فنون” کے ہیں۔ ان تعریفات کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو ثقافت کا جو مفہوم بنیادی سطح پر سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ایلیٹ کلاس یا تعلیم یافتہ طبقے کا طرزعمل و فکر اور زندگی سے جڑے عوامل و مظاہر میں سے وہ جو اعلیٰ و برتر تسلیم کر لیے جائیں ان کو ثقافت کہا جائے گا۔ اس کے علاوہ فنون لطیفہ، علم و ادب، تمدن سے جڑے وہ تمام تصورات جن کا تعلق کسی قوم سے ہوتا ہے، ثقافت کے معنی میں آئے گا۔

کلچر انگریزی زبان کا لفظ ہے اس کے لیے اردو میں متبادل لفظ ثقافت ہے۔ کلچر کے لیے تہذیب کا معنی بھی استعمال میں لایا جاتا رہا ہے۔ لیکن آج کل تہذیب و سولائزیشن اور کلچر و ثقافت کو ہم معنی و مترادف تصور کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم کلچر کے مفہوم کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ کلچر کا معنی کاشت کرنا، دیکھ بھال کرنا، جانوروں کو پالنے کا عمل، انسان میں تعلیم و تربیت کے ذریعہ بہتری لانا، مصنوعی طریقے سے خوردبینی جانداروں کی پرورش کرنا، اطوار کی نشوونما اور ترقی، ذہن، ذوق اور آداب کی تربیت اورافزائش بھی کیا جاتا رہا ہے۔

اگر ان تعریفات پر غور کیا جائے تو زندگی گزارنے کا ہر طریقہ اس میں شامل ہو گا یعنی مکمل طرزحیات۔ ای بی ٹیلر نے اس مفہوم میں ثقافت کو جانا ہے۔“ ثقافت وہ پیچیدہ کل ہے جس میں علم، عقیدہ، فن، اخلاقیات، قانون، رواج، اور کوئی بھی ایسی صلاحیتیں جو انسان کسی سماج کے فرد کے طور پر حاصل کرتا ہے ”۔ اس تعریف کے مطابق حیات انسانی کی تمام سرگرمیاں چاہے وہ منظم صورت ہوں یا غیر منظم صورت، انسان کی صلاحیتیں، سماجی ادارے اور اقدار سب ہی ثقافت میں شامل ہوں گے۔

( 2 ) احتشام حسین ثقافت کے لیے تہذیب کے لفظ کا استعمال کرتے ہیں“ تہذیب ایک ملک کے فنون لطیفہ اور فلسفیانہ خیالات، طرز معاشرت، مادی ترقی اور زندگی کے متضاد اور متصادم عناصر کو متوازن بنا کر اجتماعی زندگی میں ایک خوشگوار احساس پیدا کرنے سے الگ کوئی چیز نہیں ہے۔ احمد حسن دانی ”ثقافت کو انسانی زندگی کا مسلسل ماجرا بتاتے ہیں۔ ان کے نزدیک یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ ( 3 ) ایس اے رحمن کے مطابق ”ثقافت سے ہماری مراد یہ ہے کہ یہ لوگوں کی پوری زندگی کا بھرپور نمونہ پیش کرتی ہے جو قوم کی حیثیت سے مل جل کر رہتے ہیں۔ اور جن کو معاشرے میں سرایت کر جانے والا ایک ایسا ہمہ گیر نقطہ نظر باہم متحد کر دیتا ہے جسے یہ لوگ شعوری طور پر اپناتے یا خاموشی سے قبول کر لیتے ہیں( 4 ) محمد علی صدیقی کے نزدیک ”ثقافت دراصل اس ہمہ جہتی اسلوب حیات کا نام ہے جو تجربہ علم اور معتقدات کے خوب صورت رچاؤ سے جنم لیتی ہے۔ تجربہ کیا ہے؟ تاریخی عمل سے مستنبط پیکر روایت ہے۔ علم کیا ہے؟ یہ درون ذات سے بیرون ذات دیکھنے کا عمل ہے تاکہ وہ سب کچھ جو ہماری ثقافتی زندگی سے باہر سے حاصل کیا جا رہا ہے ہمارے دائرہ علم میں آ جائے۔معتقدات کیا ہیں؟ ایک ایسا آفاقی نطریہ جو دین اور دنیا کو محیط ہے۔

( 5 ) کلچر کے حوالے سے ممتاز حسین لکھتے ہیں“ کلچر انسان کا طریق زیست ہے، یہ اس کی فطرت کا جزو لاینفک ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ صانع، عاقل اور ناطق ہے اور کلچر اس کی اسی فطرت کا اظہار ہے۔ وہ اپنی اس فطرت کے باعث، کیوں نہ ہو فطرتی جو ٹھہرا، اس عام حیوانی فطرت سے ممتا ز ہوا جو اپنے ماحول اور اپنی فطرت کو ازخود بدلنے سے قاصر ہے۔ یہ امتیاز صرف انسان ہی کو حاصل ہے کہ وہ نہ صرف اپنے ماحول کو بدلتا رہا ہے بلکہ اپنی فطرت کو بھی”۔ سر سید احمد خان نے تہذیب کے لیے سولائزیشن کا لفظ استعمال کیا تھا۔

انھوں نے تہذیب الاخلاق میں تہذیب کے حوالے سے لکھا “اس سے مراد انسان کے تمام افعال ارادی اور اخلاق اور معاملات اور معاشرت، تمدن اور صرف اوقات اور علوم اور ہر قسم کے فنون ہ ہنر کو اعلیٰ درجے کی عمدگی پر پہنچانا اور ان کو خوبی اور خوش اسلوبی سے برتنا جس سے اصلی خوشی اور جسمانی خوبی حاصل ہوئی۔ اور وحشیانہ پن اور انسانیت میں تمیز نظر آتی ہے۔ ”

وکی پیڈیا کے مطابق کلچر کی تعریف یہ ہو گی:

”Culture is an umbrella term which encompasses the social behavior and norms found in human societies, as well as the knowledge, beliefs, arts, laws, customs, capabilities, and habits of the individuals in these groups.“ (6)

کلچر ایک بڑی اصطلاح ہے اس میں سماجی رویے اور اصول آتے ہیں جو انسانی معاشروں میں موجود ہوں۔ اس کے ساتھ ساتھ اس میں علم، عقائد، فنون، قوانین، رواج، صلاحیتیں، اور افراد معاشرہ کی عادات و اطوار بھی شامل ہوں گی۔ کلچر میں انسانوں کے ایک دوسرے کے ساتھ برتاؤ کا سلیقہ شامل ہے۔ اس میں وہ تمام اصول بھی شامل ہیں جو معاشرہ کے افراد ایک ساتھ زندہ رہنے اور زندگی بسر کرنے کے لیے خود وضع کرتے ہیں۔ انسانی معاشروں میں معلومات و علم بھی کلچر کی بنیاد ہوتے ہیں۔

معاشرے میں جس طرح کے علوم کی تعلیم ہو گی ، اسی طرح کا کلچر بھی تشکیل پائے گا۔ مختلف طرح کے عقائد مختلف لوگوں کے گروہ اپنے لیے بناتے ہیں۔ ان عقائد کا کلچر کے ساتھ بہت گہرا تعلق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ فنون اور رواج بھی کلچر کا تعین کرتے ہیں۔ اس کی ماہیت کیا ہو گی۔ اس کے تعلقہ علم، عقائد، فنون، قوانین، رواج، اور عادات و اطوار پر مشتمل ہوتا ہے۔

سبط حسن کلچر کو تہذیب کے معنوں میں برتتے ہیں اور اس سلسلہ میں لکھتے ہیں:

”کسی معاشرے کی بامقصد تخلیقات اور سماجی اقدار کے نظام کو تہذیب کہتے ہیں۔ تہذیب معاشرے کی طرز زندگی اور طرز فکر و احساس کا جوہر ہوتی ہے۔ چنانچہ زبان، آلات و اوزار پیداوار کے طریقے اور سماجی رشتے، رہن سہن، فنون لطیفہ، علم و ادب، فلسفہ و حکمت، عقائد و فسوں، اخلاق و عادات، رسوم و روایات عشق و محبت کے سلوک اور خاندانی تعلقات وغیرہ تہذیب کے مظاہر ہیں“ ( 7 )

اس سلسلے میں ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم لکھتے ہیں: ”میتھیو آرنلڈ کہتا ہے کہ کلچر کی مثال ایسی ہے جیسے شہد کی مکھیوں کا چھتہ ہو ، اس میں شہد بھی ہوتا ہے اور موم بھی۔ شہد میں شیرینی بھی ہے اور غذا بھی، دوا اور شفا بھی۔ چھتے میں جو موم ہوتا ہے اس سے منیر و مستنیز شمع بنتی ہے ، انسان کو نور علم اور شیرینی کردار دونوں کے لیے ضرورت ہے۔ کلچر کا لب لباب یہی دو عناصر ہیں ، یہ بھی کہا گیا ہے کہ تہذیب تربیت یافتہ فطرت کا نام ہے اور بہترین تہذیب و تمدن وہ ہے جس کے اندر ہر فرد کو اپنی فطرت کے ممکنات کو معرض شہود میں ملانے کے لیے زیادہ سے زیادہ مواقع میسر ہوں۔

کوئی کہتا ہے کہ تہذیب اخلاقی احساس کا نام ہے۔ مذہبی شخص کہتا ہے کہ مہذب زندگی وہ ہے جو خدا کی مرضی کے مطابق بسر کی جائے۔ کسی نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ انسان کی زندگی اس کو مسلسل کثافت اور جمود کی طرف کھینچتی رہتی ہے ، اس سے بچنے کے لیے لطیف جذبات، لطیف تاثرات اور لطیف افکار میں زندگی بسر کرنا تہذیب ہے۔

ایک تصور یہ ہے کہ خارجی فطرت اور باطنی فطرت انفس و آفاق ایک جنس عام ہے۔ اس کے اندر نظم و آئین کی تلاش اور حسن و جمال اور توازن پیدا کرنا تہذیب ہے“

مزید اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”تہذیب ایک نفسی میلان ہے اور زندگی کے اساسی اقدار کو متحقق کرنے کی کوشش سے تہذیب پیدا ہوتی ہے۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ تہذیب انہی دو عناصر سے مرکب ہے جو شہد کی مکھی کے چھتے میں پائے جاتے ہیں۔ ا س چھتے میں موم بھی ہوتی ہے اور شہد بھی۔ موم کی بتی سے نور پیدا ہوتا ہے اور شہد سے شیرینی کسی قوم کی تہذیب سے بس اس کو جاننا چاہیے کہ اس میں کس قدر عملی اور روحانی تنویر ہے اور زندگی کی تلخیوں کے مقابلے میں اس نے کس قدر شیرینی پیدا کی ہے۔ اگر کوئی پوچھے کہ شیرینی کس طرح پیدا ہوتی ہے تو اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ وہ ذوق حسن سے اور جذبہ محبت سے پیدا ہوتی ہے۔ ( 8 )

ڈی این موڈیمر کے حوالے سے ڈاکٹر منصور احمد منصور لکھتے ہیں:

”There is common literary use of the term when we use ’culture‘ to convey social charm and intellectual excellence. This is what Mathew Arnold meant when he defined culture as sweetness and light, then there are philosophers like Cassirer and social anthropologists like Sorokin and maclever to whom culture stands for the moral spiritual and intellectual attainments of man. David Bidney, philosopher anthropologist, defines it as the self cultivation of human nature and the cultivation of natural geographical environment.“ (8)

ٹی ایس ایلیٹ کلچر کے مفہوم کی وضاحت کرتے ہوئے اظہار خیال کرتے ہیں:

”کلچر کے لفظ سے ہم مختلف حالات میں مختلف مفہوم مراد لے سکتے ہیں۔ اس سے ہم عادات و اطوار کی نفاست اور لطافت بھی مراد لے سکتے ہیں ایسے میں ہمیں ایک جماعت اور اس جماعت کے چند اعلیٰ و برتر افراد کا تصور کرنا ہو گا جو ان کی پوری نمائندگی کرتے ہیں یہاں ہم علم و تہذیب کو پیش نظر رکھ سکتے ہیں اور ساتھ ساتھ ماضی کی عقل و دانش سے قریبی تعلق پر بھی غور کر سکتے ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو ایسی تہذیب کا بہت بڑا نمائندہ اہل علم ہو سکتا ہے۔

ہم وسیع تر معنی میں فلسفہ پر غور کر سکتے ہیں۔ جس میں ہم مجرد خیالات کو پیش کرنے کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر یہ بات ٹھیک ہے تو اس سے ہم فنکار اور غیر پیشہ ور فنکار بھی مراد لے سکتے ہیں۔ ہم لفظ کلچر کے ساتھ ان سب باتوں کا الگ الگ تو سوچتے ہیں لیکن ان سب پہلوؤں کو مجموعی طور پر اپنے ذہنوں میں نہیں رکھتے۔ ان سب باتوں کا یہ مطلب نہیں ہے کہ فرد یا گروہ یا جماعت کے کلچر کے بارے میں گفتگو کرنا بے معنی سی بات ہے۔“

مزید اس کی وضاحت کرتے ہیں: ”یہ بات بھی میرے مقالے کا ہی حصہ ہے کہ کسی فرد کا کلچر اس کی جماعت یا کلاس کے کلچر پر منحصر ہوتا ہے۔ اور کسی کلاس کا کلچر وہ کلاس جس معاشرہ کے حصہ ہو اس سے جڑا ہوتا ہے“

کلچر ایک انسان کی شخصیت کی کانٹ چھانٹ کرتا ہے، اسے سنوارتا ہے، اسے بناتا ہے۔ اس کی زندگی کو ایک ضابطے میں ڈھالتا ہے۔ کلچر ایک معاشرے کا مجموعی طرز فکر، طزز احساس اور طرز عمل ہوتا ہے۔ انسان اپنی ذات کو ترتیب دیتا ہے۔ معاشرے کے بنائے ہوئے اصولوں پر عمل کر کے اپنی شخصیت کو بناتا سنوارتا ہے۔ جیسے کسی جگہ پھول، کانٹے اور خود رو گھاس اگی ہو اور اسے کانٹ چھانٹ کر کے کانٹوں اور گھاس کو الگ کر دیا جائے یا گھاس کو کاٹ کر ایک خاص شکل فراہم کر دی جائے تو اس سے اس زمین کے ٹکڑے کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح جب انسان معاشرے کے کلچر کو اپنا لیتا ہے تو اس کی شخصیت سے زائد اور بے کار خیالات کا اخراج ہوتا ہے جو کو اس کو معاشرے کے لیے قابل قبول بنا لیتا ہے۔

کلچر کے حوالے سے ریمنڈ ولیمز اپنے خیال کا اظہار کرتے ہیں:

”society, economy, culture: each of these ’areas‘ ,now tagged by a concept, is a comparatively recent historical formulation, ’society‘ was active fellow ship, company, common doing before it became the description of a general system or order, ’Economy‘ was the management of a community before it became the description of a perceived system of production, distribution and exchange ’culture‘ before these translations, was the growth and tending of cops and animals and by extension the growth and tending of human faculties. (9)

کلچر کے حوالے سے ڈاکٹر وزیر آغا لکھتے ہیں:

”کلچر کا لغوی معنی تو کانٹ چھانٹ ہے، جب آپ اپنے پھولوں کی کیاری کو جڑی بوٹیوں سے پاک کرتے ہیں۔ پودوں کی تراش خراش کرتے ہیں اور پھولوں کو کھلنے کا پورا موقع مہیا کرتے ہیں تو گویا کلچر کے سلسلے میں پہلا قدم اٹھاتے ہیں مگر اس ایک مبارک قدم کے فوراً بعد آپ محسوس کرتے ہیں کہ آپ ایک دو راہے پر آ گئے ہیں۔ یہاں سے ایک راستہ تو ایگریکلچر کی طرف جاتا ہے اور دوسرا کلچر کی کارکردگی کو انسانی فطرت کے سلسلے میں فعال بنا دیتا ہے۔

بنیادی طور پر انسان کا باطن ایک جنگل کی طرح ہے، جو جذبات کی خاردار جھاڑیوں سے اٹا پڑا ہے اور جس میں راستہ بنانا بڑے جان جوکھوں کا کام ہے۔ انسان کے وہ تخلیقی اقدامات جن کی مدد سے اس نے اپنی ذات کے گھنے جنگل میں راستے بنائے اور پھر مستقل تراش خراش کے عمل سے ان راستوں کو قائم رکھا۔ کلچرے کے زمرے میں شامل ہے۔“ ( 10 )

اردو زبان میں کلچر اور تہذیب کے معنی کو گڈ مڈ کر دیا گیا۔ ہے۔ کلچر کے لیے شروع شروع میں تہذیب کا لفظ بھی استعمال کیا جاتا تھا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ کلچر اور تہذیب کے فرق کو واضح کیا گیا۔ ڈاکٹر وزیر آغا کلچر اور تہذیب میں فرق کچھ ایسے کرتے ہیں:

”کلچر اور تہذیب میں وہی فرق ہے جو بیج کے مغز اور اس کے چھلکے میں ہوتا ہے۔ کلچر مغز ہونے کے باعث تخلیق کا منبع ہے جب کہ تہذیب کی حیثیت اس محافظ کی سی ہے جو چھلکے کی صورت میں مغز کی حفاظت کرتا ہے ، کلچر بنیادی طور پر کومل، گداز، قوت نمو کا خزینہ اور ارتقاء کا محرک ہے جب کہ تہذیب اصولوں اور قدروں، قوانین اور ضوابط اور رسوم و رواج کے تابع اور اسی لیے بیضوی، پٹی ہوئی اور بے لچک ہے۔

کلچر کا جوہر مذہب ہے جب کہ تہذیب کا کا وصف بھیڑچال اور روایت پرستی ہے۔ کلچر انفرادیت کا ضامن ہے، مگر تہذیب تقلیدی رجحان کی علمبردار ہے۔ اسی لیے کلچر کردار کو جنم دیتا ہے مگر تہذیب کے کوکھ سے ٹائپس پیدا ہوتے ہیں۔ خود کلچر اس وقت جنم لیتا ہے، جب معاشرہ زمین کے ساتھ چمٹے ہونے کے باوجود روح سے آشنا ہوتا ہے جب کہ تہذیب اس وقت وارد ہوتی ہے جب یہ معاشرہ“ روح ”کو تیاگ کر ایک پامال اور میکانکی اسلوب حیات کو اپنانے اور کولہو کے بیل کی طرح ایک دائرے میں گھومنے کی تیاری کرنے لگتا ہے“ ( 11 )

انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا میں کلچر کی تعریف یوں ہے:

The word ’culture‘ in its social, intellectual and artistic sense is a metamorphic term derived from the act of cultivating the soil (Latin culture) .In the case of civilization there was an apparently simple contrast with ’barbarism‘ ,another social condition which was originally a description of the life of the foreign group. In the case of ’culture‘ there was no such simple contrast ,the cultivation of mind seen as a process comparable to the cultivation of the soil, hence the early meaning of the ’culture‘ in this metamorphic sense, centered on a process, the culture of the minds ’. (1 (2

سجاد نقوی اس سلسلے میں کہتے ہیں:

”کلچر کے ساتھ بالعموم ایک اور لفظ تہذیب کا ذکر کیا جاتا ہے۔ کثرت استعمال سے یہ لفظ اب کلچر کا مترادف بنتا جا رہا ہے۔ مگر جس اصل اور بہروپ میں حقیقت اصلی اور بہروپ لمحاتی ہوتا ہے ، اسی طرح تہذیب بھی کلچر کا بہروپ ہے۔ بہروپ میں چکا چوند ہوتی ہے اور ظاہر بین اس سراب کو ہی حقیقت سمجھ بیٹھتے ہیں“  سجاد نقوی مزید کہتے ہیں: ”میرے نزدیک تہذیب کے لفظ کے ساتھ درآمد برآمد کا تصور وابستہ کیا جا سکتا ہے ملکوں کے مابین فاصلے سمٹ جانے کی وجہ سے یہ جنس دنیا کے کونے کونے میں اپنے وجود کا احساس دلاتی ہے۔کلچر اور تہذیب میں وہی فرق ہے جو بیج کے مغز اور چھلکے میں ہوتا ہے۔“

براؤڈل کے نزدیک تہذیب ایک مقام، ایک ثقافتی خطہ ہے۔ ثقافتی خواص و مظاہر کا ایک مجموعہ ہے۔

ڈاسن کے نزدیک“ تہذیب کسی خاص قوم کی ثقافتی تخلیق کے اصلی عمل کی پیداوار ہے۔ ”

اسپنگلر کے خیال میں تہذیب ثقافت کا لازمی مقدر ہے ، وہ انتہائی خارجی و مصنوعی کیفیات جن کی کوئی ترقی یافتہ انسانی نسل اہل ہو سکتی ہے زیر تکمیل شے کے بعد آنے والی شے ہے۔

ویلر سٹائن تہذیب کی یوں تعریف کرتا ہے: ”کہ یہ دنیا کے بارے میں نقطۂ نگاہ، روایات، ڈھانچوں اور ثقافت کا ایک مخصوص سلسلہ ہے جو ایک قسم کا تاریخی کل بناتا ہے اور اس قسم کی دوسری شکلوں کے ساتھ اپنا وجود رکھتا ہے“

ہنٹنگٹن کے بقول ”تہذیب و ثقافت دونوں کسی قوم کے مجموعی طرز حیات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ دونوں کا تعلق اقدار، رواج، اداروں اور طرز ہائے فکر سے ہے“

تہذیب کو سمجھنے کے لیے ٖفیض احمد فیض کی رائے بھی دیکھتے ہیں:

”تہذیب کو سمجھنے کے لیے اس کی مجموعی صورت کو ذہن میں رکھنا ضروری ہے۔

اول: وہ سب عقیدے، قدریں، افکار، تجربے، امنگیں یا آدرش جنھیں کوئی انسانی برادری عزیز رکھتی ہے۔

دوم: وہ آداب، عادات، ادب، موسیقی اور طور اطوار جو اس گروہ میں رائج یا مقبول ہیں۔

سوم: وہ فنون مثلاً ادب، موسیقی، مصوری، عمارت گری، دست کاری غرض باطنی تجربے، قدریں، عقائد و افکار اور ظاہری طور اطوار۔ پورے طریقہ زندگی کو کلچر کہتے ہیں۔ جس میں سبھی کچھ شامل ہوتا ہے۔ کلچر کی اثرا ندازی ذہنی طور پر بھی ہوتی ہے عقائد و افکار کے ذریعے بھی۔

زندگی کے آداب و رسوم سے بھی، زندگی کے روزمرہ محاورہ سے بھی۔ فنون، ادب، موسیقی، مصوری، فلم وغیرہ اسی کلچر یا وے آف لائف کے ترشے ہوئے اور منجھے ہوئے اجزاء ہیں۔“

انیسویں صدی کے بعد کلچر اور سولائزیشن میں فرق کیا گیا۔ جرمنی کے مثالیت پرستوں اور امریکہ کے ماہرین سماجیات نے اس میں فرق کیا۔ اس طرح سولائزیشن کا تعلق زندگی کے اداروں، قدروں اور طریقوں کے خارجی پہلوؤں سے قرار پایا اور کلچر کا داخلی پہلوؤں سے۔ یعنی سولائزیشن معاشرتی زندگی کے ظاہری رکھ رکھاؤ اور کلچر اس رکھ رکھاؤ کے پس پردہ کارفرما اعلیٰ اخلاقی اقدار کا نام ہے۔

اگر اس بحث کو سمیٹا جائے تو ثقافت ایک اصطلاح ہے جسے کسی رویے کے اظہار کی نشاندہی کرنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جس طرح ہم سوچتے ہیں، برتاؤ کرتے ہیں اور عمل کرتے ہیں۔ ثقافت مذہب، فن، رقص، ادب، رسوم و رواج میں جھلکتی ہے۔ اندرونی تطہیر کی اعلیٰ سطح ہے۔ اس میں ترقی ہوتی رہتی ہے۔ تہذیب کے بغیر نہ ثقافت پروان چڑھ سکتی ہے اور نہ ہی اپنا وجود برقرار رکھ سکتی ہے۔ ثقافت وہ طریقہ ہے جس میں لوگوں کی زندگی کی عکاسی ان کی زبان میں ہوتی ہے۔

جس طرح سے وہ چیزوں کو سوچتے ہیں۔ جس طرح سے کھانا کھاتے اور بناتے ہیں۔ جس طرح کپڑے پہنتے ہیں۔ جس مذہب کی پیروی کرتے ہیں۔ یا ان کی عبادت کے اظہار کا طریقہ۔ ثقافت علم، تجربات، اور طرزعمل کا مجموعہ ہے جو عام طور پر لوگوں کے ایک گروپ کے طور پر مشترک ہوتا ہے۔ کلچر میں آرٹ، علم، اعتقاد، رسم و رواج، روایات، اخلاق، تہوار، اقدار، روایات وغیرہ شامل ہیں جو معاشرے کے ایک رکن کی حیثیت سے ایک فرد ایک معاشرتی گروپ کے ممبر کے طور پر حاصل کرتا ہے۔

اس میں وہ سب کچھ شامل کیا جا سکتا ہے جو ایک فرد ایک گروپ کے ممبر کی حیثیت سے حاصل کرتا ہے۔ مختلف خطوں کے کلچر میں فرق پایا جاتا ہے۔ جبکہ تہذیب سے مراد وہ عمل ہے جس کے ذریعے ایک خطہ یا معاشرہ، انسانی ترقی اور تنظیم کے ایک اعلیٰ درجے کی منزل کو پھیلا دیتا ہے۔ اس میں دیکھا جاتا ہے کہ ہمارے پاس کیا ہے۔ قانون، انتظامیہ، انفراسٹرکچر، فن تعمیر، معاشرتی انتظامات وغیرہ میں اس کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔ یہ عام ترقی کی اعلیٰ سطح ہے۔

تہذیب ترقی نہیں کر سکتی اور ثقافت کے بغیر اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتی۔ تہذیب ایک ایسا عمل ہے جس کے ذریعے سے انسان خود کو مہذب بناتا ہے یا انسانی معاشرہ کی وہ صورت پذیری کرنے میں کردار ادا کرتا ہے جو کلچر، ٹیکنالوجی، سیاسی و اخلاقی و سماجی نظام کی اعلیٰ ترین سطح ہوتی ہے۔ تہذیب زندگی گزارنے کا ایک بہترین انداز اور فطرت کے وسائل کا بہترین ممکنہ استعمال بھی ہے۔ اس میں معاشرے کے مختلف گروہوں کو منظم کرنے اور مل جل کر کام کرنے پر زور دیتا ہے۔ خوراک، تعلیم، لباس، ذرائع آمدو رفت، نقل وحمل کے معیار کو بہتر بنانے پر زور دیتا ہے تاکہ معیاری زندگی اعلیٰ سطح تک پہنچ سکے۔

کتابیات
ا۔ ڈاکٹر سید عبداللہ، کلچر کا مسئلہ، شیخ غلام علی سنز پبلشرز، لاہور، 1977
2۔ محمد نعیم ورک، اردو ناول کا ثقافتی مطالعہ، کتاب محل، لاہور، 2020
3۔ ڈاکٹر محمد آصف، اسلامی اور مغربی تہذیب کی کشمکش، ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 2015
4۔ عبدالمجید سالک، مسلم ثقافت ہندوستان میں، ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور، 2011
5۔ قاضی جمال حسین، اردو ادب کا تہذیبی اور فکری پس منظر، عکس پیلی کیشنز، لاہور، 2019
https://en.wikipedia.org/wiki/Culture.6

7۔ سبط حسن، ”تہذیب:تعریف، عناصر ترکیبی اور نظام فکر،“ مشمولہ کلچرمنتخب تنقیدی مضامین، مرتبہ، اشتیاق احمد (لاہور:بیت الحکمت 2007 )

8۔ ڈاکٹر منصور احمد منصور، اردو افسانے میں مشترکہ تہذیبی عناصر، بک ٹاک، لاہور، 2020
9۔ اشتیاق احمد، کلچر، بیت الحکمت، لاہور، 2007

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *