موت سستی، سانسیں مہنگی

بہت عرصہ پہلے کا ذکر ہے کہ افریقہ کے ایک ساحل پر ماہی گیروں کو ایک دیوہیکل زخمی شارک مچھلی دکھائی دی۔ اس ساحل پر شارک کی موجودگی ایک انہونی سی بات تھی۔ دراصل یہ شارک دو دن پہلے آنے والے سمندری طوفان میں زخمی ہو کر اس ریتیلے ساحل پر آ کر پھنس گئی تھی۔ ادھر ساحل کا قدرتی کٹاؤ نشیبی تھا جس کی وجہ سے تھوڑا بہت پانی لہروں کے ساتھ شارک مچھلی تک پہنچ رہا تھا اور جس نے اس کی زندگی کے اسباب بنائے رکھے تھے مگر اس ساری مشقت میں وہ کئی فٹ لمبی اور کئی ٹن وزنی دیوہیکل شارک مچھلی خود اتنی بے دم ہو چکی تھی کہ اس کے لیے معمولی سی جنبش بھی محال نظر آ رہی تھی۔

بے دم اور بے سدھ، ساحل سمندر پر پھنسی اس زخمی شارک مچھلی کی موجودگی کی خبر پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ دور دور سے اس کو دیکھنے کے لیے آنے لگے۔ پہلے پہل تو لوگ اس کے قریب جانے سے ڈرے، اور ایک محتاط فاصلہ رکھ کر اس کو دیکھتے رہے مگر پھر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور لوگوں کو یہ یقین ہو گیا کہ یہ شارک مچھلی اب مزید ہلنے جلنے سے بھی قاصر ہے اور لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی تو لوگوں کا ڈر اور خوف آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو گیا۔

جو دور سے دیکھ رہے تھے وہ تھوڑا نزدیک جا کر دیکھنے لگے۔ جو قریب ہو کر واپس آئے وہ دور کھڑے لوگوں سے بہادری کی سند حاصل کرنے لگے تو یہ سب دیکھ کر کچھ اور لوگوں کی بھی ہمت بندھی اور وہ بھی شارک کے مزید قریب جا کر بہادری کے جوہر دکھانے لگے۔ ڈر اور خوف کے ماحول نے یکلخت پلٹا کھایا اور وہاں جمع پرجوش لوگوں کی خوش گپیاں شروع ہو گئیں۔

ڈرو مت۔ یہ کچھ نہیں کرتی!
اب یہ ہماری دوست بن چکی ہے، یہ بالکل بے ضرر ہے کیونکہ ہلنے جلنے سے قاصر ہے۔
یہ کیچڑ میں دھنسی ہوئی ہے۔ اب اس کا واپس سمندر میں جانا ناممکن ہے۔
یہ بس آخری سانسیں لے رہی ہے۔
اس کا اتنا زور نہیں جتنا ہمارے بڑے بوڑھے ڈرا رہے ہیں۔
ارے یہی تو اصل ایڈونچر ہے نزدیک سے دیکھنے کا۔
جتنے منہ اتنی باتیں۔
جس کا جتنا تجربہ اتنا ہی اس نے حصہ ڈالا۔

اسی طرح دو تین دن گزرے اور لوگوں کے دلوں سے شارک کا ڈر مکمل طور پر ختم ہو گیا۔ انہیں اس کے بے ضرر ہونے کا پختہ یقین ہو چکا تھا۔ بڑوں کا اطمینان دیکھ کر چھوٹے بچے اور منچلے نوجوان اپنے بڑوں سے بھی چار ہاتھ آگے نکلے کہ اس شارک مچھلی کے اطراف موجود کم پانی میں ہی تیراکی کی مشقیں کرنے لگے۔ بستی کے بڑے بوڑھے اس نقاہت زدہ شارک مچھلی کے نزدیک ہی پانی میں ٹانگیں ڈالے اپنی اپنی کرسیاں سنبھال بیٹھے اور اپنی ماہی گیری کے قصے بیان کرنے لگے۔ اس قصہ گوئی میں انہوں نے بھی حصہ لیا جنہوں نے زندگی میں کبھی ایک مچھلی بھی نہ پکڑی تھی۔

اس میلے میں مزید رنگ بھرنے کے لیے نزدیکی رہائشی ماہی گیروں کی عورتوں نے چند کھانے پینے کے اسٹالز بھی لگا لیے۔ دو تین دن میں ہی وہ جگہ اب ایک مکمل پکنک اسپاٹ بن چکی تھی۔

پہلے دن والا ڈر خوف اب ناپید ہو چکا تھا۔ خطرناک تصور کی جانے والی شارک اب لوگوں کے لیے محض ایک عام سی مچھلی بن کر رہ گئی تھی جو ان لوگوں کو تفریح طبع کا سامان مہیا کر رہی تھی۔

ہر شخص اپنے اپنے گیان کی روشنی، اور اپنے تجربات کی سند لیے قیاس کے گھوڑے دوڑا رہا تھا۔ مگر خدا کی قدرت دو چار دن سے بے سدھ پڑی اس شارک مچھلی نے سورج کی روشنی اور ریتیلے ساحل پر چڑھتے پانی سے کچھ طاقت مستعار لی اور اطراف میں جمع شدہ لوگوں کی غفلت کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور اپنی جبلی حملہ کرنے والی فطرت کے عین مطابق اچانک سے ایسا پلٹا کھایا کہ اطراف میں موجود خوش گپیوں میں مشغول لوگوں کو سنبھلنے کی مہلت تک نہ ملی۔

بے فکری سے پانی میں اٹکھیلیاں کرنے میں مصروف کئی نوجوان شارک کے نیچے جا دبے اور بے چین کلبلاتی اور کسمساتی وزنی شارک نے لمحوں میں گویا ان نوجوانوں کی ہڈیوں کا قیمہ بنا دیا۔ کئی لوگ شارک کے تیز دانتوں اور تلوار سی کاٹ رکھنے والے خطرناک فنز کے اچانک حملے کا شکار بن گئے۔ قریب بیٹھے قصہ گوئی میں مصروف بوڑھوں کو بھی بمشکل سنبھلنے کا موقع ملا۔ وہ اپنے اتنے قریب زندہ اور حرکت کرتی شارک کو دیکھ کر ہی ہیبت زدہ ہو کر جو دم سادھے گرے تو بس گرے کے گرے ہی رہ گئے۔

خواتین سب چھوڑ چھاڑ چیخیں مارتی ہوئی الٹے قدموں ساحل سے دور بھاگ گئیں۔ آناً فاناً تمام منظر ہی بدل چکا تھا۔ بلند و بالا قہقہے کربناک چیخوں میں تبدیل ہو چکے تھے۔ عیار شکاری کو اپنے اطراف موجود خطرے سے غافل شکار کو شکار کرنے میں قطعاً کوئی دقت نہیں ہو رہی تھی۔ کچھ دیر پہلے تک کا پکنک اسپاٹ اب مقتل گاہ کا منظر پیش کر رہا تھا۔ بچنے والے لوگوں کو عقل تو آ چکی تھی مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔

قارئین کرام! یہ محض ایک کہانی نہیں ایک سبق ہے جس سے بحیثیت پاکستانی قوم ہمیں بہت کچھ سیکھنے کی ضرورت ہے۔ کیوں کہ تازہ ترین کورونائی صورتحال میں ہم سب پاکستانیوں کا حال بھی کم و بیش اس موذی شارک کے اطراف جمع لطف اندوز ہوتے لوگوں جیسا ہی ہے۔ جو پہلے پہل تو ڈر اور خوف کے باعث اس شارک کے نزدیک نہیں جا رہے تھے اور محتاط تھے مگر گزرتے وقت کے ساتھ لوگ عادی ہوتے گئے اور پھر اسی موذی دشمن کو بے ضرر سمجھ بیٹھے اور اسی غلطی کی وجہ سے اپنی قیمتی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ایک وقت تھا کہ دنیا بھر میں کورونا کی تباہ کاریوں کو دیکھ کر پاکستان میں لوگ لاک ڈاؤن کے دوران تمام تر حفاظتی اقدامات کے ساتھ اپنے گھروں میں محصور رہے۔ نتیجتاً پاکستان الحمدللہ باقی دنیا کے مقابلے میں کورونا کی تباہ کاریوں سے کافی حد تک محفوظ رہا۔ مگر ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ پاکستانی عوام آگے بھی ان تمام SOP ’s پر سختی سے عمل پیرا رہتی مگر ہوا اس کے بالکل برعکس، کیوں کہ جب عوام نے دیکھا کہ دوسرے ملکوں کی نسبت پاکستان میں کورونا کی تباہ کاری اس حد تک نہیں ہوئی تو آہستہ آہستہ پاکستانی عوام کے دل سے کورونا کا ڈر خوف ختم ہونا شروع ہو گیا۔

کورونا حکومتوں اور عالمی طاقتوں کی سوچی سمجھی سازش مانی گئی۔ قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع بھی عوام کے دل میں وہ ڈر واپس پیدا نہ کر سکا جو کہ پچھلے سال دیکھنے کو مل رہا تھا۔ گزشتہ سال لاک ڈاؤن کے ختم ہونے کے ساتھ ہی عوام کی بڑھتی ہوئی لاپروائی قابل دید رہی۔ SOP‘ s کی دھجیاں بکھیر دی گئیں۔ حکومتی اقدامات و احکامات کو لاپرواہی سے نظر انداز کیا گیا۔

اب حالات یہ ہیں کہ کورونا سے ہونے والی اموات کو عوام معمول کی طرح قبول کرتی جا رہی ہے۔ مختلف کاروباری اور سماجی شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں اب اک نئی سوچ پنپ رہی ہے اور وہ یہ ہے کہ کورونا کے پیچھے اب اپنی روزمرہ کی زندگی کو مستقل ڈسٹرب نہیں کیا جا سکتا۔ بڑے شہر کیا چھوٹے شہر، سب جگہ ایک ہی حال ہے۔ پاکستانی قوم لاپروائی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ پاکستانی عوام حفاظتی اقدامات سے غافل نظر آتے ہیں۔ ماسک کا استعمال بحالت مجبوری کیا جا رہا ہے اور فیشن کی طرح اس میں بھی جدت نکالی جا رہی ہے۔ شاپنگ سینٹرز اور بازاروں میں عوام الناس کا رش اس بات کی نفی کرتا ہے کہ پاکستانی قوم ملک سے کورونا کے خاتمے کے لیے سنجیدہ دکھائی دے رہی ہے۔

رمضان میں سحری تک ہوٹلوں کے باہر نوجوانوں کی بیٹھک معمول کی بات بن گئی ہے۔ پبلک مقامات پر لوگوں کی بغیر ماسک کی موجودگی ایک افسوسناک امر ہے۔

گزشتہ سال جب کورونا سے ہونے والی اموات کا تناسب بہت کم تھا اس وقت لوگ زیادہ احتیاط کر رہے تھے مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ اس سال شرح اموات بڑھنے کے باوجود لوگ اس سب کو بالکل بھی سنجیدہ نہیں لے رہے ہیں۔ یہ کس قسم کا عوامی مزاج ہے؟

تیسری حالیہ کورونائی لہر اب تک کی خطرناک ترین لہر ثابت ہوئی ہے۔ اس بار اس جاری لہر کے شکار لوگوں میں معصوم اور شیرخوار بچے بھی شامل ہیں۔ بچوں میں یہ وائرس بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ خصوصاً صوبہ پنجاب اس بار اس سے زیادہ متاثر ہوتا نظر آ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کورونا کے بڑھتے وار کو روکنے کے لیے وہاں فوج سے مدد طلب کی گئی ہے اور آخری اطلاعات آنے تک صوبہ سندھ میں بھی بڑھتے کیسز کے پیش نظر فوج سے مدد طلب کی جا سکتی ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق کورونا کے باعث ملک میں اب تک مجموعی طور پر ایک سے 10 سال تک کی عمر کے 47 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔ بچوں کے حوالے سے یہ اعداد و شمار خاصی حد تک تشویش ناک ہیں۔

پاکستان میں رپورٹ ہونے والے کورونا کیسز کی سرکاری اعداد و شمار بتانے والی ویب سائٹ پر بھی رواں ماہ میں ریکارڈ ایکٹو کیسز کا اضافہ دیکھا گیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں کورونا سے اب تک کی ہلاکتوں کی تعداد 17117 ہو گئی ہے اور مجموعی کیسز 7 لاکھ 95627 تک جا پہنچے ہیں جب کہ فعال کیسز کی تعداد 88698 ہے۔

پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں میں جہاں مریض اسپتالوں تک پہنچ ہی نہیں پاتے ، اگر ان کی اموات کو بھی شامل کیا جائے تو کورونا کے متاثرین کی رپورٹڈ اموات کے علاوہ ہونے والی کورونا اموات شاید اس شرح کو مزید بڑھا دیں۔

پڑوسی ملک بھارت میں کورونا کی حالیہ لہر نے جو تباہی مچائی ہے ، وہ کسی سے بھی ڈھکی چھپی نہیں۔ اگر ہم ابھی بھی کچھ نہ سیکھیں تو یہ واقعی ایک لمحۂ فکریہ ہی ہو گا۔ اس وقت ہمیں خود کو بدلنا ہو گا مگر ہم لوگ خود کو بدلنا ہی نہیں چاہ رہے۔ ہمیں کورونا سے ہونے والے جانی نقصان کم کرنے کے لیے اپنی خواہشات کی وقتی قربانی دینا ہو گی۔

عید الفطر نزدیک ہے۔ اس عید کو سادگی سے اپنے اپنے گھروں میں گزار کر ہم بے شمار زندگیوں کو بچا سکتے ہیں۔ اس عید پر کورونا کا شکار ہونے سے بچ گئے تو ایسی بے شمار عیدوں سے صحت مند زندگی کی خوشیوں کے ساتھ لطف اندوز ہو سکیں گے۔

پاکستانی قوم کا مزاج کچھ ایسا ہے کہ دس لوگ کسی جگہ صرف یہ دیکھنے رک جاتے ہیں کہ ہو کیا رہا ہے آخر۔ مگر اب اس مزاج میں تبدیلی لانے کا وقت آ گیا ہے۔

حکومتی اقدامات اور فیصلے اپنی جگہ مگر ہمیں اپنا انفرادی کردار خود ادا کرنا ہے۔ بحیثیت قوم ہماری کوشش یہی ہونا چاہیے کہ پاکستان میں کورونا کے پھیلاؤ کو ہر ممکن طریقے سے روکا جا سکے۔

بھارت میں زیادہ تر اموات فوری طبی امداد اور بروقت آکسیجن نہ ملنے کے باعث ہوئی ہیں جس میں لوگوں نے اسپتالوں کے باہر تڑپ تڑپ کر دم توڑ دیا۔ اللہ نہ کرے کہ پاکستان میں ایسی کوئی صورتحال پیدا ہو اور معاملات اس نہج پر جا پہنچیں۔ مگر اب ہمیں آکسیجن کی قلت کے خدشات کے پیش نظر آکسیجن کا اسٹاک بڑھانے کی سورسز پر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس موقع پر صنعتی اداروں کا تعاون اہم کردار ادا کرے گا۔

اس وقت ہمیں فوری طور پر احتیاطی تدابیر کو پہلے سے کئی گنا زیادہ مؤثر انداز میں اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو کچھ سخت فیصلے کرنا ہوں گے جن کے ذریعے عوام کی SOP ’s پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔

ملک بھر میں ویکسینیشن پروگرام کو فعال کرنے کی ضرورت ہے۔ دنیا بھر میں جن ممالک میں ویکسینیشن پروگرام پر تیزی سے کام کیا گیا اور مؤثر احتیاطی تدابیر اختیار کی گئیں وہاں پر کورونا کیسز میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔

بدقسمتی سے پاکستان میں ایک ایسا طبقہ بھی پایا جاتا ہے کہ جس کو ہر معاملے میں یہودی سازش ہی نظر آتی ہے۔ وہ پہلے کورونا کو بھی نہیں مانتے تھے اور بقول ان کے یہ سب یہودی سازش ہے اور اس کو میڈیا کے ذریعے بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس سوچ کے کیا نتائج سامنے آئے ہیں وہ سب کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ اسی طرح اب ویکسینشن کو بھی لے کر منفی پروپیگنڈا کیا جا رہا ہے کہ اس کو لگوانے سے مختلف بیماریاں ہو سکتی ہیں۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہر ویکسین کے کچھ نہ کچھ سائیڈ ایفیکٹس تو ہوتے ہیں مگر فی الفور ہمارے پاس کوئی اور دوسرا آپشن بھی نہیں کیوں کہ تمام تر منفی پروپیگنڈے کے باوجود رپورٹس یہی بتا رہی ہیں کہ یہ ویکسین کورونا کے خلاف مزاحمت میں بہت کارگر ثابت ہو رہی ہے۔

اس کورونائی عہد کی تیسری لہر کی شدت اور بڑھتی ہوئی اموات دیکھتے ہوئے اب جب کہ حکومت نے ہنگامی بنیادوں پر کورونا سے نمٹنے کے لیے افواج پاکستان کی مدد لینے کا بروقت فیصلہ کیا ہے تو اس میں بھی کچھ حلقوں کی جانب سے نکتہ چینی کی جا رہی ہے۔ اس وقت ضرورت ہے کہ کورونا کے خلاف قومی پالیسی بنا کر سب مل کر کام کریں تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع نہ ہو سکے۔ یہ وقت نکتہ چینی اور اختلافات کا نہیں بلکہ متحد ہو کر کورونا کے خلاف جاری جنگ جیتنے کا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words
لبنیٰ مقبول کی دیگر تحریریں