دفاتر میں ہراسانی کے خلاف بولو اور روکو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کام کی جگہ پر صنفی بنیادوں پر کیا جانے والا امتیازی سلوک اور ہراسانی کے واقعات میں روزں افزوں اضافے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں اس ضمن میں قوانین سے متعلق آگاہی اور ان پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ صنفی بنیادوں پر امتیازی سلوک کی شکار اکثریت خواتین کی ہے۔ خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک اور ہراسانی کے واقعات کی شکایات ہر دفتر سے آتی ہیں۔ بعض کام کی جگہوں / دفاتر میں کھلے عام اور بعض جگہوں میں بڑی صفائی کے ساتھ یہ کام ہوتا ہے۔

اس حوالے سے بعض لوگ بہت شاطرانہ طریقہ سے یہ کام کرتے ہیں۔ مثلاً کسی خاتون کو ملازمت میں رکھنے کے بعد دفتر کے سربراہ کی طرف سے سب سے پہلے یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ آپ دفتر کے معاملات اپنے اہل خانہ یا قریبی لوگوں کو نہ بتائیں۔ اس سے مراد بظاہر دفتری راز داری ہوتی ہے مگر اندر سے ان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ دفتر کے اندر کی غلاظت باہر نکل کر بدنامی کا باعث نہ بنے۔ دفتری امور کی راز داری تو ہر ملازم کا فرض ہے لیکن جب بات امتیازی سلوک اور ہراسانی کی ہو تو ایسے میں یہ مسئلہ دفتر کا اندرونی مسئلہ نہیں رہتا۔

ہاں اگر جب نچلا سٹاف کسی خاتون سٹاف ممبر کو تنگ کرے تو اس کی شکایت ادارے کے سربراہ کو کرنا چاہیے۔ اس وقت سربراہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ متعلقہ فرد کے خلاف قانونی کارروائی کرے۔ اگر ادارے کا سربراہ خود اس فعل میں ملوث ہے یا وہ ان لوگوں کی پشت پناہی کرتا ہے جو اس جرم کے مرتکب ہوئے ہیں تب تو یہ مسئلہ دفتر کا اندرونی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ یہ اہل خانہ اور قریبی لوگوں کے ساتھ شیئر کرنے کے علاوہ پولیس اور کورٹ کا کیس بنتا ہے۔

ہر انسان کی پہلی پناہ گاہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ وہ معاشرے کے ہر اچھے برے حالات کا ذکر اہل خانہ سے کرتا ہے۔ اگر جس کا گھر نہیں ہے تو ریاست اس کا گھر تصور ہوتی ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ کوئی خاتون دفتر میں ہونے والے سلوک کا ذکر گھر والوں سے نہ کرے تو یہ دراصل جرائم پر پردہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ جبکہ متاثرہ خاتون کے دفتر میں ہونے والے واقعات کو اہل خانہ یا اپنے قریبی لوگوں سے چھپانے کا مطلب اس جرم کے مرتکب لوگوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے۔ اس فعل کی پشت پناہی کرنے والے لوگ دراصل دفتری رازی داری کے نام پر خواتین ایمپلائز پر زور دیتے ہیں کہ وہ کوئی بھی بات یہاں سے باہر حتیٰ کہ اہل خانہ کو بھی نہ بتائیں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ خواتین کے ساتھ ہونے والے امتیازی سلوک اور ہراسانی کو خفیہ طور پر صفائی کے ساتھ جاری رکھا جائے۔

کام کی جگہ یا دفاتر میں خواتین کے ساتھ امتیازی سلوک یا ہراسانی نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے بلکہ ملکی قوانین کی رو سے یہ جرائم کے زمرے میں بھی آتے ہیں۔ ان جرائم کا شکار ہونے والی خواتین کو چاہیے کہ وہ ایسے واقعات کو چھپانے کی بجائے اپنے اہل خانہ اور متعلقہ اداروں سے اس کی شکایت کریں تاکہ ان کا بروقت تدارک ہو سکے۔ اس ضمن میں اہل خانہ اور قریبی لوگوں کی مکمل سپورٹ حاصل کرنا سب سے اہم اور بنیادی کام ہے۔ اہل خانہ اور متاثرہ خاتون کے دفتر کے ساتھی اور قریبی لوگوں کو چاہیے کہ وہ کام کی جگہ پر امتیازی سلوک اور ہراسانی کے مرتکب ہونے والے افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے لئے اس متاثرہ خواتین کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ اس عمل کے روک تھام میں مدد مل سکے۔

اس ضمن میں صوبوں میں وویمن پروٹیکشن سیلز، ایچ ار سی پی اور دیگر کئی ادارے شکایات سن کر قانونی چارہ جوئی کے لئے مشاروت بھی فراہم کرتے ہیں۔ خواتین کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ یہ ان جرائم کے مرتکب افراد کا ایک طریقہ واردات ہے کہ وہ اپنی خواتین سٹاف پر پہلی فرصت میں یہ پابندی لگاتے ہیں کہ وہ اپنے دفتری واقعات کا ذکر گھر میں نہ کریں۔ یہ باتیں چھپا کر دراصل اس عمل کے مرتکب افراد کی حوصلہ کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔

کام کی جگہ ہراساں ہونے والی خواتین کی داد رسی کرنا اور اس کے مرتکب فرد کو سزا دینا اس ادارے کے سربراہ کی اولین ذمہ داری ہے۔ اگر وہ سربراہ ایسے لوگوں کی پشت پناہی کرتا ہے تو اس سربراہ اور اس فعل کے مرتکب فرد دونوں کو فریق بنا کر عدالت میں مقدمہ دائر کیا جا سکتا ہے تاکہ اس فرد اور ادارہ کے سربراہ دونوں کو سزا مل سکے۔ نیز ہر ادارہ میں ملکی قوانین کی رو سے جینڈر پالیسی بنا کر اس پر عمل درآمد کرانا بھی ضروری ہے۔

بعض اداروں میں اس ضمن میں سخت پالیسیاں موجود ہیں اور ان پر عمل درآمد بھی ہوتا ہے۔ کئی سرکاری اداروں کے علاوہ غیر سرکاری اداروں نے ایسے واقعات میں ملوث کئی لوگوں کو فارغ کیا ہے۔ مگر اس کے باوجود کئی نامی گرامی سرکاری و غیر سرکاری ادارے اس شرم ناک جرم پر نہ صرف پردہ ڈالتے ہیں بلکہ الٹا ان متاثرہ خواتین پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اگر اس وقت کوئی ادارہ اس سے پہلو تہی کرتا ہے تو اس کے خلاف لیبر ڈیپارٹمنٹ میں شکایت کرنے کے علاوہ مقامی عدالت سے رجوع بھی کیا جا سکتا ہے۔

اگر کسی جگہ پر ایک سے زیادہ خواتین کام کرتی ہیں تو وہ ایک تنظیم یا گروپ بنا کر بھی ان واقعات کی روک تھام کے لئے کام کر سکتی ہیں۔ وہ آگاہی کے علاوہ مرتکب افراد کے خلاف چارہ جوئی میں بھی ایک دوسرے کے لئے مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ خواتین کو چاہیے کہ وہ ایسے واقعات کے خلاف جاندار آواز بلند کرنے کے لئے اپنے اندر حوصلہ پیدا کریں۔ اپنے ہم خیال لوگوں کو ساتھ ملائیں اور پرزور آوز بلند کریں۔ قانونی مشاورت حاصل کریں، انسانی حقوق کے اداروں سے رہنمائی حاصل کریں۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسے لوگوں کو موقع پر ہی شٹ اپ کال دیں تاکہ وہ اپنی حرکتوں سے باز آ جائیں۔ ہراسانی پر مشتمل اشاروں، غلط الفاظ کا استعمال اور حرکتوں کے خلاف آواز بلند کریں اور دفتری اوقات میں خواتین کی موجودگی میں مناسب زبان کے استعمال کے لئے کوڈ آف کنڈکٹ بنا کر اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔ اگر کسی ادارے کا سربراہ شکایت کرنے کے بدلے میں تنخواہ میں کٹوتی، تبادلہ، کام کا بے جا دباؤ ڈالنے، ترقی کو روکنے کے علاوہ ذہنی اذیت دینے کے لئے کوئی اور حرکت کرتا ہے تو وہ بھی ہراسانی میں ہی شمار ہو گا۔ اس پر بھی بھرپور آوز اٹھانی چاہیے۔

ہمارے ہاں لوگ اداروں کو ذاتی دکان یا باپ کی جاگیر سمجھ کر روایتی انداز میں چلاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو قوانین کی آگاہی دینا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے کیونکہ تمام سرکاری و غیر سرکاری ادارے ملکی قوانین کے تابع ہوتے ہیں۔

پاکستان میں لاکھوں پڑی لکھی خواتین دفتروں کے گندے ماحول اور ہراسانی کے خوف یا ایسے واقعات کے قصے سننے کی وجہ سے کام کی بجائے گھر بیٹھنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ خواتین کی کام میں عدم شمولیت سے ترقی کا عمل متاثر ہوتا ہے۔ عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق خواتین کی عدم شمولیت کی موجودہ حالت برقرار رہی تو پاکستان اگلی کئی صدیوں تک ترقی نہیں کر سکتا۔ اس لئے ضروری ہے کہ کام کی جگہ پر خواتین کے لئے سازگار ماحول پیدا کر کے ان کو ملکی ترقی میں اپنا حصہ ڈالے کا موقع دیا جائے۔

صنفی بنیادوں پر ہونے والے امتیازی سلوک اور ہراسانی کے خلاف پاکستان میں بعض بہترین قوانین بھی موجود ہیں جن میں ہراسانی اور صنفی بنیادوں پر ہونے والے امتیازی سلوک کے مرتکب افراد کے لئے سخت سزائیں بھی تجویز کی گئی ہیں لیکن شعور و آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے ان قوانین پر عمل درآمد نہیں ہو رہا۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ صوبائی سطح پر ٹاسک فورس بنا کر ان قوانین پر اطلاق کے لئے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور متاثرہ خواتین کو آگاہی دے کر ان واقعات کے خلاف آواز اٹھانے اور روکنے کی ترغیب دی جائے تاکہ ان جرائم میں ملوث افراد کو بے نقاب کر کے ان کو سزا دلائی جا سکے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *