محبت یا عادت

ہمارا خمیر محبت سے گوندھا گیا ہے اسی لیے محبت ہماری ذات کی تکملیت کے لیے ناگزیر ہے مگر ساتھ ہی یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ ہماری ذات کے گرد رقص کرتی ہر محبت محبت ہی ہوتی ہے یا محض ہماری وقتی عادت۔ یہ حقیقت ہے کہ کچھ محبتیں، محبتیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ ہماری عادتیں ہوتی ہیں اور کسی نشئی کی طرح ہم ان کے عادی ہوتے چلے جاتے ہیں۔ نشہ ٹوٹا، ساتھ چھوٹا، عادتیں بھی ختم۔ اور

Read more

محبتوں کی چھاپ

پہلے کی محبتوں اور آج کی محبتوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ محبتیں اور خلوص بھی سب ڈیجیٹل ہو گیا ہے۔ سہولت اور آسانی کی طلب نے نہ جانے کیوں زندگی مزید بوجھل کر ڈالی ہے۔ آج لاکھوں روپے خرچ کر کے بھی خوشیوں میں وہ مزا نہیں جو پہلے کی لوازمات سے پاک، سادہ سی زندگی میں ہوا کرتا تھا۔ جب ہم چھوٹے تھے تو محلے داری اور رشتے داری کے ادب و آداب

Read more

مکھیاں اپنی اپنی

مان نہ مان میں تیرا مہمان کے مصداق آج کل کراچی میں مکھیاں ایسے ابلی پڑی ہیں جیسے کراچی کی گلیوں میں سارا سال بغیر ڈھکن کے گٹر ابلتے ہیں۔ اب جب اتنا سب کچھ ابلے گا تو ان مکھیوں سے بے زار کراچی کے شہریوں کا فشار خون ابلنے کی دوڑ میں کیسے پیچھے رہ سکتا ہے؟ لہٰذا آج کل یہ سب دیکھ کر وہ بھی خوب شدت سے ابل رہا ہے۔ کراچی میں ذمہ دار اداروں کی ماضی

Read more

کہیں دیر نہ ہو جائے

اسے انسان کی بدقسمتی کہا جائے یا المیہ کہ جیسے جیسے انسان نے اپنا ارتقائی و شعوری ترقی کا عمل طے کیا ہے وہ زندگی کی حقیقی خوشیوں اور اطمینان قلب سے محروم ہوتا چلا گیا۔ دل و دماغ کی کشمکش، وقت آئندہ کا خوف، ان دیکھے وسوسوں اور خدشات نے اس کو ایک ایسی دنیا میں دھکیل دیا ہے جہاں وہ چاہ کر بھی آسان راستہ نہیں چن سکتا۔ مشکل راستوں پر قدم رکھنے کا متمنی اور نت نئی

Read more

کتاب: کاکولیات ۔مصنف: بریگیڈیر صولت رضا(ر)۔

مزاح نگاری آسان کام نہیں، خصوصاً اس وقت جب مزاح کی بنیاد ”فوجی مزاح“ ہو اور خود مزاح نگار کا تعلق افواج پاکستان سے ہو اور اس فوجی مزاح کو عوامی مزاج کے ساتھ نہایت سلیقے سے پیش کیا جائے تو پھر ایک خوشگوار حیرت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے اردو ادب کے بہترین مزاح نگاروں میں سے اکثریت کا تعلق پاک افواج سے ہے اور اردو ادب کے میدان ظرافت میں یہ اہل قلم اپنی تمام تر فطری

Read more

پکڑم پکڑائی

بیسویں صدی کے ٹھیک سینتالیسویں سال میں میری تشکیل کے بعد کئی دہائیاں گزر گئیں یہ دہائی دیتے دیتے کہ بس کرو اب تم لوگ بچے نہیں رہے جو ابھی تک پکڑم پکڑائی کا کھیل، کھیل رہے ہو۔ لیکن مجال ہے جو تم لوگوں کے کان پر جوں تک رینگی ہو۔ ٹھیک ہے کہ میرے قیام کے وقت تم لوگ بچے تھے اور گلی کوچوں میں پکڑم پکڑائی کھیلا کرتے تھے۔ لیکن چلو وہاں تک تو ٹھیک تھا لیکن اب

Read more

بدل جاتی ہے قسمت دعا سے

”اللہ تعالیٰ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو یقیناً اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔“ (النساء 32 ) ۔ ہماری زندگیوں میں دعاؤں کی اہمیت سے کون واقف نہیں۔ ہم اپنے لیے دعائیں کرتے بھی ہیں اور دوسروں سے دعائیں کرواتے بھی ہیں اس یقین کے ساتھ کہ ہماری دعا گر فوری قبول نہ بھی ہو تو شاید کسی اور کی خلوص دل سے ہمارے حق میں کی گئی دعا قبول ہو جائے۔ دعا لینا اور دعا

Read more

موت سستی، سانسیں مہنگی

بہت عرصہ پہلے کا ذکر ہے کہ افریقہ کے ایک ساحل پر ماہی گیروں کو ایک دیوہیکل زخمی شارک مچھلی دکھائی دی۔ اس ساحل پر شارک کی موجودگی ایک انہونی سی بات تھی۔ دراصل یہ شارک دو دن پہلے آنے والے سمندری طوفان میں زخمی ہو کر اس ریتیلے ساحل پر آ کر پھنس گئی تھی۔ ادھر ساحل کا قدرتی کٹاؤ نشیبی تھا جس کی وجہ سے تھوڑا بہت پانی لہروں کے ساتھ شارک مچھلی تک پہنچ رہا تھا اور جس نے اس کی زندگی کے اسباب بنائے رکھے تھے مگر اس ساری مشقت میں وہ کئی فٹ لمبی اور کئی ٹن وزنی دیوہیکل شارک مچھلی خود اتنی بے دم ہو چکی تھی کہ اس کے لیے معمولی سی جنبش بھی محال نظر آ رہی تھی۔

بے دم اور بے سدھ، ساحل سمندر پر پھنسی اس زخمی شارک مچھلی کی موجودگی کی خبر پورے علاقے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ دور دور سے اس کو دیکھنے کے لیے آنے لگے۔ پہلے پہل تو لوگ اس کے قریب جانے سے ڈرے، اور ایک محتاط فاصلہ رکھ کر اس کو دیکھتے رہے مگر پھر جیسے جیسے وقت گزرتا گیا اور لوگوں کو یہ یقین ہو گیا کہ یہ شارک مچھلی اب مزید ہلنے جلنے سے بھی قاصر ہے اور لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتی تو لوگوں کا ڈر اور خوف آہستہ آہستہ کم ہونا شروع ہو گیا۔

Read more

زندگی اتنی ارزاں تو نہیں

یہ بات بھی قابل غور ہے کہ خودکشی کرنے والے کی مایوسی یا ڈپریشن کی وجہ اکثر قریبی رشتے اور دوست احباب ہوتے ہیں۔ دراصل ہر وہ شخص اس خودکشی کا ذمہ دار ہوتا ہے جو اس کی نفسیاتی الجھنوں سے غافل رہا یا اس کی اس سطح پر آنے والی ذہنی کیفیت کی وجہ بنا اور اس کو کوئی رستہ نہ دکھا بجز اپنی قیمتی زندگی کے خاتمے کے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق ”سوسائڈ واچ“ خودکشی کی روک تھام کا ایک موثر ذریعہ ہے۔ مضبوط سماجی اور مشترکہ خاندانی نظام کے ذریعے مایوسی یا ڈپریشن کا شکار ہونے والا شخص فوری نظروں میں آ جاتا ہے۔ اور یہی وہ وقت ہوتا ہے جب نگرانی کرتے ہوئے اس کی مایوسی کا سدباب کیا جا سکتا ہے۔ ایسے مریضوں سے بات کیجیے، آپ کے قریبی رشتے توجہ چاہتے ہیں، ان کو وقت دیجیے، یہ آپ کی سماجی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ مایوسی کا شکار لوگوں کو اپنی عینک سے دیکھنے کے بجائے ان کی نظر سے دیکھیں کہ وہ زندگی کو کس طرح سے دیکھ رہے ہیں اور کہاں زندگی کی بھول بھلیوں سے نکلنے کے راستے مسدود پا رہے ہیں۔

Read more

کراچی سسک رہا ہے

پرانے زمانے کا ذکر ہے کہ ایک سلطنت میں خلاف معمول بہت بارشیں ہوئیں، لوگوں کے گھر، مویشی سب بہہ گئے، فصلیں تباہ ہو گئیں اور رعایا فاقوں پر آ گئی تو بھوکی ننگی رعایا، روتے دھوتے، دوڑی دوڑی بادشاہ وقت کے پاس مدد کے لیے پہنچی اور ساری صورتحال سے بادشاہ کو آگاہ کیا۔ اپنی رعایا کا یہ حال جان کر بادشاہ بہت فکرمند ہو گیا اور اس نے اسی دن اپنے تمام قابل اور ذہین وزراء کو دربار میں طلب کیا اور اس مسئلے کا حل ڈھونڈنے کا حکم دیا۔

اگلے ہی دن تمام وزراء اپنے اپنے مشوروں کے ساتھ حاضر ہو گئے۔ کسی نے کچھ مشورہ دیا تو کسی نے کچھ۔ بادشاہ نے سب کو بغور سنا اور پھر اس کو اپنے ایک وزیر کا مشورہ بے حد پسند آیا اور اس نے اس پر فوری عملدرآمد کے فرمان جاری کر دیے۔ دن رات ایک کر کے اس منصوبے پر کام شروع ہوا اور پھر کچھ ہی مہینوں کے اندر رعایا نے دیکھا کہ بادشاہ اپنے پورے خاندان کے ساتھ دن رات محنت سے تیار ہونے والے اونچے اور پرشکوہ محل میں قدم رنجہ فرما رہا تھا جس میں بارش کے سیلابی پانی کا داخلہ ناممکن تھا۔ بادشاہ نے عقلمندی سے اپنا محل، اپنا خاندان اپنا سرمایہ محفوظ کر لیا تھا۔

Read more