بارہ ہفتے کا بیٹا: جیتا تو آج گبھرو ہوتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

“کیا آپ کا حمل کبھی ساقط ہوا؟ کیا آپ اس تکلیف سے کبھی گزریں؟”

سامنے بیٹھی مریضہ کا زارو قطار روتے ہوئے ہم سے یہ سوال تھا۔

“جی ہاں، دو مرتبہ” ہم نے دھیرے سے کہا۔

“کیا آپ کو رحم کی صفائی کے مرحلے سے گزرنا پڑا؟” اگلا سوال۔

“ہاں بالکل”

“کیا آپ کو صدمہ پہنچا تھا؟” وہ بے قراری سے بولی،

ہم چپ رہے۔

“ڈاکٹر آپ تو ڈاکٹر ہیں نا، آپ کو تو سب علم ہے نا”

“ارے بھئی ڈاکٹر سے پہلے ہم انسان بھی تو ہیں، جسے بھوک پیاس، خوشی غمی کا احساس تم لوگوں کی طرح ہی ہوتا ہے”

قصہ کچھ یوں ہے کہ ہماری مریضہ کے پانچ حمل یکے بعد دیگرے ساقط ہو چکے تھے اور پانچوں اسقاط کی تکلیف اور رنج اس قدر تھا کہ اس سے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ چھوٹ جاتا تھا۔ اور بھلا کیوں نہ چھوٹتا؟

ایسے مواقع پہ ڈاکٹر کو طبی توجہ کے ساتھ نفسیاتی توجہ دینا بھی لازم ہوتی ہے اور اگر ڈاکٹر اپنی ذات کے متعلق بھی بات کر لے تو گویا مریض کو بے وجہ قرار آنے والی بات ہوتی ہے۔

ہمارا پہلا حمل بارہ ہفتے کی مدت میں ساقط ہوا۔ گیارہ ہفتے کا الٹراساؤنڈ سب اچھا کہتا تھا۔ بچے کے دل کی دھڑکن آ چکی تھی، نشوونما حمل کی مدت کے مطابق تھی اور ہم نارمل زندگی گزار رہے تھے۔ ایک روز محسوس ہوا کہ زیر جامے پہ ہلکا سا خون کا داغ ہے۔ کچھ فکر ہوئی لیکن ڈاکٹر ہونے کے ناتے اپنے آپ کو تسلی دی کہ ابتدائی حمل میں تو ایسا ہو جایا کرتا ہے۔ دو تین دن داغ لگتا رہا تو دوبارہ معائنہ کروانے کی ٹھانی۔ الٹرا ساؤنڈ میں اب بھی سب ٹھیک تھا۔ گائناکالوجسٹ سے کچھ دوائیں لینے کی ہدایت ہوئی جس پہ ہم نے عمل کیا۔

اس تکلیف سے نبردآزما ہوتے ہوئے ایک ہفتہ ہی ہوا تھا کہ وہ رات آ گئی۔ ہمیں گہری نیند سے جگانے میں بنیادی ہاتھ اس درد کا تھا جو پیٹ چیر کے کمر تک پہنچتا اور پھر واپس آتا تھا۔ درد کی شدت درد زہ سے کسی طور کم نہ تھی۔ ہم ماہی بے آب کی طرح تڑپتے تھے، اذیت سانس ناہموار کرتی تھی اور ہم اپنی چیخوں اور کراہوں کا گلا گھونٹنے سے قاصر تھے۔

یونہی تڑپتے سسکتے ہوئے ہسپتال پہنچے اور معائنے کی میز پہ ہی بچے کی پانی بھری تھیلی اور ننھا منا بچہ رحم سے خارج ہو کے باہر کی دنیا میں آ پہنچا۔ بارہ ہفتے کے بچے میں آنکھیں، چہرہ اور ہاتھ پاؤں بن چکے ہوتے ہیں اور حجم ڈیڑھ دو انچ تک ہوتا ہے۔ سو اگر بچہ کامل صورت میں خارج ہو تو بات زچگی والی ہی ٹھہرتی ہے۔

بچہ تو خارج ہو گیا تھا لیکن آنول کے کچھ حصے نکالنے کے لئے ڈاکٹر کو بے ہوشی دے کر رحم کی صفائی بھی کرنا پڑی۔ جسمانی تکلیف تو تھی ہی لیکن جذباتی دھچکا بھی تھا کہ یہ سب کیا اور کیوں ہوا؟

کیا اور کیوں کی نفسیات سے ابھی خود سے ہی الجھ رہے تھے کہ کانوں میں کچھ آوازیں بھی پڑنا شروع ہو گئیں۔

“ارے محترمہ نے احتیاط ہی نہیں کی، اسی لئے حمل ضائع ہو گیا”

“تو اور کیا، دیکھا نہیں، ہر وقت کدکڑے لگاتی پھرتی ہیں”

“حیرت کی بات ہے کہ ڈاکٹر ہو کے بھی حمل ضائع ہو گیا”

“ویسے ہو سکتا ہے کہ خود ہی ضائع کروایا ہو، ابھی چاہتی ہی نہ ہوں۔ ڈاکٹروں کو تو ایسے سب طریقے معلوم ہوتے ہیں”

لیجیے جناب، کٹہرے میں بھی کھڑا کر دیا گیا اور فرد جرم بھی عائد ہو گئی۔

یہ تھی پدرسری معاشرے کی نفسیات جو ایک عورت کو تکلیف میں دیکھ کے بھی شک اور طنز کے تیر چلانے سے باز نہیں رہتی۔ پدرسری معاشرہ عورت کی تعلیم اور آگہی کو کسی خاطر میں نہ لاتے ہوئے اسے مصلوب کرنے کا پیمانہ خود ہی ترتیب دیتا ہے۔

زندگی کے نشیب وفراز سے گزر بیٹھے ہیں اسی لئے اب اپنے سب مریضوں کی دل کی لگی خوب سمجھ میں آتی ہے۔

اب بات چل ہی نکلی ہے تو بہتر ہے کہ اسقاط حمل کے متعلق کچھ اور بات کر لی جائے۔

‎حمل ساقط ہونے کی وجوہات مدت حمل کے ساتھ ساتھ بدلتی رہتی ہیں۔ پہلے تین مہینوں میں ساقط ہونے والے زیادہ تر حمل ابنارمل کروموسومز کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کروموسومز کی زیادتی یا کمی کی وجہ سے عموماً بچہ ٹھیک سے نہیں بنا ہوتا سو فطرت کا کوالٹی کنٹرول نظام مدافعت کرتے ہوئے اسے پنپنے نہیں دیتا۔

‎اگلے تین ماہ میں ہونے والے اسقاط کی وجوہات میں رحم کی کمزوری، انفیکشن، آٹو امیون بیماریاں، ذیابیطس، آنول کی کمزوری، والدین کی بڑھتی عمر، کزن میرج، اور جینیاتی طور پہ خون کے گاڑھا ہو کے جم جانے میں خرابی کا موجود ہونا ہے۔

‎اگر تین حمل یا زیادہ یکے بعد دیگرے ساقط ہو جائیں تو آٹو امیون اور جینیاتی ٹیسٹ کروانا لازم ٹھہرتا ہے۔ اور وہ تیسرے حمل کے ساقط ہونے کے تین ماہ بعد کروایا جاتا ہے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ حمل تو باربار ساقط ہو رہا ہے لیکن ٹیسٹ میں نتیجہ کسی بیماری کی طرف اشارہ نہیں کر رہا، ایسے مواقع پہ ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ سبب جینیاتی ہی ہو گا لیکن اس کا لیول اتنا کم ہو گا کہ لیبارٹری میں پکڑا نہیں جا رہا۔

ان تمام اسباب کو Thrombiphilia اور Anti phospholipid syndrome, کی چھتری کے نیچے رکھا جاتا ہے۔

یہاں یہ بات سمجھ لی جائے کہ ان بیماریوں کی سب سے بڑی نشانی یہی ہے کہ تین یا تین سے زیادہ متواتر حمل اسقاط ہو جائیں۔

ان دو بیماریوں کا علاج ایک ہی ہے کہ خون گاڑھا ہونے سے روکا جائے تاکہ کلاٹ بن کے بچے کے جسم میں خون کی گردش میں رکاوٹ نہ ڈال سکیں۔ اس کے لئے ایسے انجیکشن (Clexan)موجود ہیں جو یومیہ کی بنیاد پہ حمل کے نو ماہ لگائے جاتے ہیں۔ روزانہ یہ انجیکشن لگانا مشکل ضرور ہے لیکن یہ انسولین جیسی سرنج میں آتا ہے اور باآسانی مریضہ خود لگا سکتی ہے۔

ہم اپنے مریضوں کا علاج کلیسن سے ہی کرتے ہیں جو کئی مرتبہ اسقاط کے عمل سے گزر چکے ہوں۔ اس میں شک کا فائدہ دیتے ہوئے ہم ان مریضوں کو بھی شامل کرتے ہیں جن کے ٹیسٹ کا نتیجہ کچھ بھی ظاہر نہیں کر رہا ہوتا۔

اسقاط حمل نفسیاتی اور ذہنی طور پہ عورت کے لئے اتنا ہی الم انگیز اور دباؤ کا سبب ہے جتنا کسی بچے کی موت!

یقین کیجیے ہم آج بھی کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ آج ہمارا وہ بچہ زندہ ہوتا تو کتنے برس کا ہوتا؟ یونیورسٹی میں ہوتا یا کالج میں؟ شکل کیسی ہوتی؟ اور نام…. نام کیا ہوتا؟

ایک اور خیال سے دل پہ گھونسا سا پڑتا ہے، اور آنکھ نم ہوتی ہے۔ وہ دو انچ کا بچہ نہ جانے کہاں پھینکا گیا ہوگا؟ تھا تو بارہ ہی ہفتے کا لیکن تھا تو ہمارے جگر کا ٹکڑا!

مدیر کا نوٹ: ڈاکٹر طاہرہ، اپنے پڑھنے والوں پر رحم کیا کریں۔ اب یہ آخر کی دو سطریں۔۔۔ بیدل کی رباعی عرض ہے

( From indifference to my fancy, at myself I marvel
Did the page refuse the script, or I not write
)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *