کورونا: پڑیے گر بیمار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بیماری کی شفا میں اور درد کے درماں میں لمس کا بڑا کردار ہے۔ طبیب کا شفا بخش ہاتھ جب نبض تھامتا ہے تو اس کا لمس بیماری کے خلاف مریض کی نفسیاتی فصیل کو مضبوط تر کر دیتا ہے۔ پھر تیمارداروں کے قرب کی خوشبو، درد کی ناگوار بو کا اثر زائل کرنے میں معاونت کرتی ہے۔ مگر اس وبا میں سب سے بڑا تکلیف دہ عنصر بے لمس تیمارداری ہے۔

یہ سطریں لکھتا ہوں تو دوسری شب اتر آنے کو ہے، اپنے گھر والوں سے دور ہوں۔ گھر کی اوپری منزل میں ایک کمرہ ہے جہاں میرا بسرام ہے۔ بیٹیاں اور اہلیہ دن میں کئی بار اوپر آتی ہیں مگر ان کو سختی سے روک رکھا ہے کمرے میں آنے سے۔ اس گھر میں پہلے ”ہم“ رہتے تھے، اب دوسرا دن ہے کہ وہ اور میں رہتے ہیں۔ فریقین نے ماسک چڑھایا ہوتا ہے، دروازہ کھول دیا جاتا ہے، وہ چھے فٹ دور رکھی کرسی پر بیٹھ جاتی ہیں اور میں کمرے میں قریب چھے سات فٹ اندر۔ یوں بارہ چودہ فٹ کے فاصلے سے ہم کلام کرتے ہیں۔ گپ شپ اور حال احوال۔

ابھی ابتدائی دن ہیں تو تھوڑی تھوڑی دیر بعد بخار ہو جاتا ہے۔ پیناڈول تو خیر قریب رکھی ہے مگر جب جسم تپتا ہے اور پٹھے اکڑنے لگتے ہیں تو میرا دل کرتا ہے کہ پہلے کی طرح امامہ (سب سے چھوٹی بیٹی) اپنے پتلی پتلی انگلیوں والے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے میرا ماتھا سہلائے۔ بالوں میں انگلیاں پھیرے اور شانے دبائے۔ جیسے پہلے بخار یا سر درد ہونے پر کہا کرتی تھی ”پاپا میں آپ کو مساج دوں؟“ پیناڈال بے چاری وہ طاقت کہاں سے لائے جو گیارہ سالہ امامہ کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں ہے؟ تاہم امامہ کا اوپر کے پورشن میں داخلہ تو میں نے ازخود ممنوع کر رکھا ہے۔

امامہ لا ابالی سا بچہ ہے، عمر جو کم ہے۔ زینب اور زہرا اب ماشاءاللہ بڑی ہو گئی ہیں۔ اس عمر میں بیٹیوں کا کام ماں باپ کی تکلیف پر رونا اور مصلیٰ لے کے بیٹھ رہنا ہوتا ہے۔ سو وہ یہ کام کر رہی ہیں۔ اوپر آتی ہیں تو بجائے اس کے کہ ہنستا مسکراتا چہرہ لے کر آئیں جسے دیکھ کر مریض کی وہ کیفیت ہو کہ ”ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونق“ مگر ان کے چہروں پر تو پریشانی کی پرچھائیاں ہوتی ہیں۔ تاہم ان سب کو دیکھ کے یہاں دل کی تقویت بہرحال بڑھ جاتی ہے۔

رمضان المبارک کے بارہویں اور تیرہویں روزے کے ساتھ میری عجیب نسبت ہو گئی ہے، مان ٹوٹنے کا تعلق۔ پانچ برس پہلے سن دو ہزار سولہ کے رمضان کی بارہویں افطاری تھی جب مجھے بدہضمی جیسی تکلیف کا احساس ہوا۔ روزہ رکھنے والے سگریٹ نوش حضرات جانتے ہیں کہ افطاری کے بعد پہلی سگریٹ پینے کا جو مزہ ہے، سموکر روزہ دار سارا دن اس سرور کے تصور میں گم رہا کرتے ہیں مگر میں اس روز افطار کے بعد پوری سگریٹ بھی نہ پی سکا۔ امامہ اور میں لان میں دوڑ لگاتے رہے اور میں نے کچھ پش اپس بھی نکالے۔

بدہضمی والی کیفیت جیسی پیٹ درد رفع ہو گئی۔ اگلے دن تیرہویں افطاری اباجی نے ہمارے ہاں کی۔ نماز کے بعد لان میں بیٹھ کر اباجی نے اور میں نے ایک ایک سگریٹ پی۔ میری پھر وہی گزشتہ کل والی کیفیت ہو گئی۔ اباجی چلے گئے تو مجھے بازوؤں کے پچھلے پٹھے کھنچتے ہوئے محسوس ہوئے۔ اب میرا ماتھا ٹھنکا اور میں کسی کو بتائے بغیر کارڈیالوجی ہسپتال جا پہنچا۔ بے وقوفی تھی اکیلے گاڑی ڈرائیو کر کے جانا مگر بیٹیوں اور اہلیہ کو پریشان کرنا مناسب نہ لگا۔

راستے سے فیاض اعوان اور رانا یاسین کو فون کر دیا تھا۔ خیر وہاں پہنچے تو انہوں نے ای سی جی کر کے ایک آدھ انجکشن لگایا اور کچھ ٹیسٹ کیے ۔ کہا گیا کہ بیڈ سے پیر نیچے نہیں اتارنا۔ شب بارہ بجے رپورٹس آئیں، تب تک مجھے امید تھی کہ کوئی عام سا مسئلہ نکلے گا مگر کہا گیا کہ دل کا معاملہ ہے اور انجیو پلاسٹی کی نوبت آن پہنچی ہے۔ تب ایک گمان، ایک مان ٹوٹا۔ پتہ نہیں یہ مان کس بوتے پر تھا۔ ایسا قرب تو خالق سے کبھی نہیں رہا جس کی بناء پر خود کو خصوصی سلوک کا مستحق سمجھتا۔ خیر! آج پانچ برس ہوتے ہیں کہ بیٹیوں کے ساتھ سگریٹ نہ پینے کے وعدے کا پاسدار ہوں۔ افسوس میں اپنی آخری سگریٹ کو سیلیبریٹ بھی نہ کر سکا۔

اب یہ سن دو ہزار اکیس میں پھر بارہویں روزے کی افطاری تھی۔ دن میں کچھ بھاگ دوڑ زیادہ رہی تو پیاس سوا تھی۔ سو میں نے خود بڑے اہتمام سے بادام گھوٹ کر ٹھنڈی ٹھار سردائی بنائی۔ افطاری ہوتے ہی صبر نہ ہوا اور دو گلاس سردائی چڑھا گیا۔ بس صاحب تھوڑی دیر میں لگا کہ ٹانگوں سے جان نکلی جاتی ہے۔ میں سمجھا بی پی کم ہو رہا ہے۔ نماز شروع کی تو پٹھوں کی اکڑاہٹ بڑھتی گئی، یہاں تک کہ تیسری رکعت مجھے بیٹھے بیٹھے پڑھنی پڑی۔

پھر یکایک بخار نے گھیر لیا۔ پیناڈال کھائی۔ کچھ افاقہ ہوا تو باتھ روم گیا اور ہاتھ جو دھوئے تو مجھے صابن کی خوشبو کا بالکل احساس نہ ہوا۔ حتیٰ کہ میں نے صابن ناک سے لگایا مگر کوئی خوشبو نہ آئی۔ تب ماتھا ٹھنکا۔ رات جوں توں گزاری اور صبح نو بجے سیدھا لیبارٹری پہنچا۔ ٹیسٹ دیا۔ شام ساڑھے پانچ رپورٹ آ گئی کہ صاجب! کورونا پازیٹو ہیں آپ۔ شام 6 بجے کورنٹائن ہو گیا۔ اب کیفیت یہ ہے کہ بخار ہے، ہلکا زکام اور تھوڑا سا گلا خراب۔ اللہ کرے آگے کے دن بھی ٹھیک گزر جائیں۔ اللہ سے سویر کی نماز میں گفت گو ہوئی۔ یہی عرض کیا کہ تیری جناب سے آسانیوں کا طلب گار ہوں۔ ان شاءاللہ وہ آسانی والا معاملہ رکھے گا۔ اہلیہ اور بچوں کے بھی آج نمونے دیے ہیں، رپورٹ کا انتظار ہے۔

سارا دن عالیہ چکر لگاتی ہیں۔ کبھی یخنی لارہی ہیں، کبھی جوس، کبھی پھل، کھانا۔ اتنی اچھی تیمارداری ہو رہی ہے مگر بے لمس۔ اس وبا کی لپیٹ میں آنے والوں کی سب سے بڑی سزا ہی شاید یہی ہے۔ اب یہ کمرہ ہے اور اس کا چھوٹا سا ٹیرس۔ چڑیوں کی اور گھگیوں کے اس جوڑے کی مہربانی ہے وہ دن بھر ٹیرس کی رونق بڑھائے رکھتے ہیں اور کھلے دروازے سے جھانک جھانک کر میری خیریت بھی معلوم کرتے رہتے ہیں۔ قریب وہ بھی نہیں آتے۔ وبا کے موسم شاید پرندوں کو بھی سکھا پڑھا دیتے ہیں۔ ہم کہ انسان ہیں، صاحب عقل و شعور مگر نہیں سیکھتے۔

اگر تو آپ غالب والا مزاج رکھتے ہیں کہ
پڑیے گر بیمار تو کوئی نہ ہو تیماردار
تو ٹھیک ہے وگرنہ بے لمس تیمار داری اور اکلاپے کے کورنٹائن سے بچنا ہے تو احتیاط  کیجیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *