خوشبو کا احساس اور پھولوں کا عرفان زندہ رکھنے والا شخص

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اے حمید صاحب کا ایک اردو ڈائجسٹ کو دیا ہوا انٹرویو جس کا نام اور تاریخ وغیرہ تو یاد نہیں ہاں اندازہ ہے کہ دو دہائی پہلے کا ہو سکتا ہے۔ جب ڈائجسٹ پڑھا کرتا تھا تو ایک دن انٹرویو نظر سے گزرا تو ڈائجسٹ سے صفحات کاٹ کر الگ محفوظ کر لیے۔ یوں تو اس میں اے حمید صاحب نے خاصی مبالغہ آرائی سے کام لیا ہے مگر اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی ، جیسا تھا ویسا ہی لکھ رہا ہوں۔ انتیس اپریل ان کی برسی پر یہ انٹرویو ان کے چاہنے والوں کی نذر۔

اے حمید سے ملاقات

(فارحہ ارشد)
خوشبو کا احساس اور پھولوں کا عرفان زندہ رکھنے والا شخص

میں باہر کھڑی حیرانی سے اس پھولوں کی چادر میں لپٹے گھر کو دیکھ رہی تھی۔ لگتا تھا اینٹ گارے کی جگہ پھول کلیوں سے در و دیوار اٹھائے گئے ہوں۔ موسم قدرے گرم تھا مگر صحن میں پہنچتے ہی سبزے، پھولوں کی تروتازہ کیاریوں اور خوشبو بھری فضاء نے عجیب ٹھنڈک سی من میں اتار دی تھی۔ لاہور کی نفسا نفسی اور ہوس زر کی مضطرب بھاگ دوڑ سے نکل کر جیسے میں پھولوں بھری ٹھنڈی پر سکون وادی کی پناہ میں آ گئی تھی۔ سفید بے داغ لباس میں ملبوس اے حمید اس ملاوٹ اور تصنع سے پاک منظر میں سب سے زیادہ معتبر لگے ،کہ انہی کی وجہ سے پھول کا عرفان اور خوشبو کا احساس زندہ تھا۔

کمرے کی سادگی اور نفاست نے روح پہ اور اثر کیا۔ عین کمرے کے وسط میں میز کے اوپر پیتل کا پیالہ سفید تازہ موتیے کی کلیوں سے چھلک رہا تھا۔ اور اصل حسن اس کمرے کی دائیں دیوار تھی جہاں کھلے شیشوں سے پرے سبزے، کلیوں اور کچی گیلی مٹی کی مہک نے ماحول کو پراسرار اور مجھے مسحور و ساکت کر دیا تھا۔

مجھے لگتا تھا اب تک کیے جانے والے انٹرویوز میں سب سے مشکل یہی ہو گا۔ بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی والی بات تھی، لیکن جب سندباد چاندنی اور پھولدار بیلوں میں چھپی ہوئی گیلریوں کے نیچے چاندنی راتوں میں محبت کے گیت گانے والے مطرب نے لب کھولے تو لفظ ہاتھ باندھ کر کھڑے ہو گئے۔

میں خود اے حمید صاحب کی تحریروں کی زبردست پرستار ہوں۔ یہ انٹرویو کم اور فینٹسی زیادہ تھی، جس میں ان کا قاری انہیں پڑھتے ہوئے جادو بتاتا ہے۔ وہ فینٹسی جب لاہور کے مال روڑ پہ تانگے چلتے تھے، اور اچھرہ ساندہ نواں کوٹ وغیرہ سرسبز کھیتوں میں گھرے دیہات تھے۔ (خاص طور پہ اہل لاہور کے لئے ) جب جنگل خوشبو، بارش کی بات ہو تو آپ اس سارے منظر میں خود کو محسوس کریں اور جس نے کہ چائے اور سگریٹ جیسی چیزوں کو بھی رومنٹسائز کر دیا۔

*:حسب معمول تعارف سے ہی بات شروع کرتے ہیں؟

اے حمید :۔ امرتسر میں پیدا ہوا۔ سن مجھے یاد نہیں۔ پارٹیشن سے پہلے کی بات ہے۔ ایم او ہائی اسکول امرتسر سے آٹھویں کے بعد رنگون گیا۔ نویں جماعت پاس کی پھر کولمبو چلا گیا۔ بعد میں آیا تو میڑک کے لئے داخلہ مشکل ہو گیا۔ محلے میں ایک سکول سے ہی میڑک کا امتحان دیا اور پھر بھاگ گیا۔ یہ مجھے خاص طور پر یاد ہے کہ میں کلکتے جا رہا تھا گھر سے بھاگ کر۔ لکھنؤ اسٹیشن پر گاڑی رکی، صبح کا وقت تھا۔ سول ملٹری گزٹ اخبار آیا۔

رول نمبر مجھے یاد تھا۔ میں نے جلدی سے دیکھا میں پاس ہو گیا تھا۔ کالج میں داخلہ لینے کو میرا دل نہ کرتا تھا۔ ایم او کالج میں مجھے فیض صاحب ملے۔ اسی دوران فسادات شروع ہو گئے۔ کولمبو میری بہن رہتی تھیں۔ ریڈیو سلیون سے بڑے اچھے گانے آتے تھے لیکن وہ تھا امریکن اور فوجی۔ سول ورلڈ وار ختم ہو چکی تھی تو جو قابض فورسز تھیں ساؤتھ ایسٹ ایشیا میں، سنگا پور، برما، ملایا ان کے لئے پروگرام آتے تھے، آدھا حصہ انڈین فورسز کے لئے پروگرام ہوتا تھا، آدھا اردو میں، آدھا انگریزی برٹش اور امریکن، تو جو اردو سیکشن تھا اس کے انچارج میرے بہنوئی تھے کیپٹن ملک، وہاں میں کچھ عرصہ رہا۔

پاکستان بنا تو ہم یہاں آ گئے لاہور۔ میں صرف رومینٹک لکھتا ہوں یا ایڈونچر۔ میں نے نہ کانگرس پر لکھا نہ انگریزوں کے بارے میں نہ انقلاب پہ۔ نہ کامرس نہ سوشل پرابلمز ۔ ’ادب لطیف‘ میں عارف عبدالمتین تھے۔ احمد راہی تھے۔ یہ ایڈیٹر ہو گئے۔ میرے دوست تھے۔ کہنے لگے حمی یار تم ڈائری وائری لکھتے ہو ، لٹریچر کا بھی تمہیں شوق ہے ، میرا اندازہ ہے کہ تم لکھ سکتے ہو ، ذرا ایک افسانہ لکھو۔ میں نے کہا میں نے کبھی لکھا نہیں، یہ 1948 کی بات ہے ، میں نے لکھا تو میرا لکھنے کا انداز بھی الگ تھا ،بالکل دل سے نکلی ہوئی بات۔

*:۔ ریڈیو کب جوائن کیا؟

اے حمید:۔ ریڈیو میں نے 1955 میں وہ بھی اس لیے کہ انہوں نے مجھے بطور اسٹاف آرٹسٹ رکھا ۔ میں نے کہا بھئی میں نوکری نہیں کر سکتا، پابند نہیں ہو سکتا ، کام میں کر لوں گا۔ تین سو روپے مجھے ملتے تھے جو بہت تھے۔ اسٹاف آرٹسٹ کا کانٹریکٹ ہوتا تھا سال کے سال۔ ریڈیو کا دور بہت خوبصورت تھا۔ بہت لوگ ملے وہاں مجھے۔ پاکستان کی جو کریم ہے ناں وہ مجھے وہاں ملی۔ میوزک کا جو ہمارا طبقہ ہے اس پر لکھا میں نے۔

*:۔ میوزک سے بھی آپ کو کچھ شغف تھا؟

اے حمید:۔ ہاں کلاسیک سمجھتا ہوں۔ میوزک کے بغیر میں رائٹر بن ہی نہیں سکتا تھا۔ یہ میرا جو لکھنا ہے۔ یہ میوزک پوئٹری ہے ساری۔ اس کے بغیر میں لکھ نہیں سکتا۔ یہ دنیا ہی میوزک کی شاعری ہے۔ یہ مسائل تھوڑے ہیں انسان کے۔ بس پھول کھلتے رہنے چاہئیں۔ میں بہت مطمئن ہوں دل کی دنیا میں۔ یا لکھتا ہوں یا سو جاتا ہوں اور کیا چاہیے۔

*:۔ پاک ٹی ہاؤس کب جانا شروع کیا؟

اے حمید:۔ 1952 میں۔ پہلے یہ انڈیا ٹی ہاؤس کہلاتا تھا تو جب ہم آئے تو انڈیا کاٹ کے پاک لکھا جا رہا تھا۔ وہاں اشفاق بھی آ گیا۔ ناصر کاظمی بھی، یہ ایک روشن دور تھا۔ میری بیوی مجھے وہیں ملی۔ اس کے ساتھ میرا رومانس آخری تھا۔

*:۔ یہ کیا کرتی تھیں؟

کنیٹرڈ کالج میں پڑھتی تھی بی۔ اے میں۔ لکھتی بھی تھی ریحانہ قمر کے نام سے۔ میرے افسانوں کی عاشق تھی۔ موچی گیٹ کی رہنے والی تھی۔ کنیٹرڈ میں کوئی فنکشن ہوتا تو مجھے بلا لیا جانا۔ پھر وہ لارنس جانا، مال پہ پھرنا۔

*:۔ مطلب اچھا خاصا زور دار افئیر چلا آپ کا شادی سے پہلے۔

اے حمید:۔ ہاں بالکل۔ اس پہ میں نے ناول لکھا، بہت کچھ لکھا اس پہ بھی۔ لوگ خوامخواہ آپ کی ذاتی زندگی میں دخل نہیں دیتے تھے، ہم لارنس میں بیٹھے باتیں کر رہے ہیں لارڈز میں، کیبن میں بیٹھے چائے پی رہے ہیں ، کوئی پوچھتا نہ تھا۔

*:۔ آپ کی تحریروں سے بھی لگتا ہے کہ آپ کو نوسٹیلجیا بہت ہے؟

اے حمید:۔ ہاں۔ میں نوسٹلجیک ہوں ، میں اس سے نکلنا ہی نہیں چاہتا۔ اس سے نکلتا ہوں تو باہر کچھ بھی نہیں سوائے انتشار کے۔ ہر آدمی بھاگتا پھر رہا ہے۔ پوچھیں کہ کہاں جا رہے ہو۔ اسپتال جا رہا ہوں، تھانے جا رہا ہوں، تنخواہ لینے جا رہے ہیں۔ میں یہ سب نہیں کر سکتا۔ گوتم بدھ نے ایک بڑی اچھی بات کہی ہے ہرمن ہنسے، جرمن رائٹر نے انگریزی زبان میں اپنے ناول کے ترجمے میں لکھا ہے اس نے کہا کے گوتم بدھ اپنے مریدوں میں بیٹھا تھا۔ کہا گووندا دنیا میں آفات مصبیتیں ہیں، زلزلے طوفان، تیر چل رہے ہیں تو شاگرد یعنی مرید نے کہا: ماسٹر ان سے بچنے کا ذریعہ کیا ہے، طریقہ کیا ہے۔ ؟ اس نے بڑی اچھی بات کہی اور یہ وہی کہہ سکتا تھا کہنے لگا ”تیر چلانے والے کے پاس آ کے بیٹھ جاؤ۔“ اور تیر چلانے والے کے پاس آ کے بیٹھنے کے کچھ اصول ہیں ضابطے ہیں۔ وہ ضابطہ کیا ہے نیچر کے ضابطے اخلاق۔ مینرز، پھر تیر کیسے لگ سکتا ہے۔”

*:۔ زرد گلاب ناول لکھنے کی کیا وجہ تھی؟

اے حمید:۔ وجہ سوچتے ہوئے اصل میں جو میرے افسانوں کے رومانس ہیں ، وہ رئیل ہیں اگر میں سوچ کے لکھوں تو مجھے لگتا ہے جیسے میں جھوٹ لکھ رہا ہوں، باقی ایڈونچر لکھ لیتا ہوں، رومان کے لئے میرا تجربہ اس کی خوشبو ہونی چاہیے۔ ہے نا۔ تو یہ پہلا ناول ہے میرا جو میں نے ایک زرد پھول کو دیکھ کے لکھا تھا۔ ہم مصری شاہ رہتے تھے۔ وہاں سے ٹی ہاؤس آ رہے تھے۔ گوالمنڈی سے نکل کر میو اسپتال کے بیچ میں سے آتے تھے تو وہاں کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے لان میں بڑے خوبصورت پھول کھلا کرتے تھے۔

انگریزی گلاب، تو میں اور میرے ساتھ نواز ہوتا تھا یا حسن طارق جو بعد میں فلم ڈائریکٹر بنا۔ یہ میرے شاگرد تھے ، ایک طرح سے تو آہستہ آہستہ چلتے گیٹ کے پاس آ کر رک جاتا،  ایک زرد گلاب میں نے دیکھا۔ اتنا خوبصورت ، پتا نہیں کیا کیا میرے ساتھ۔ بس وہ لڑکی کا تصور میرے ذہن میں لے گیا۔ ایسا ہو جاتا ہے ناں کبھی کبھی کہ بعض لڑکیوں کو دیکھ کر گلاب یاد آتا ہے ، یہاں الٹا ہو گیا۔ تو یوں میرے ذہن میں پلاٹ آیا۔

*:۔ حلقہ ارباب ذوق کل کیا تھا اور آج کیا ہے؟

اے حمید:۔ میں ان کے پاس جاتا ہی نہیں تھا۔ میں اپنے افسانے پروگریسو یونین میں پڑھتا تھا۔ حمید اختر، عبداللہ ملک، ابرہیم جلیس، ساحر لدھیانوی اور ابن انشا وغیرہ تھے اس میں۔ میں حلقہ ارباب ذوق کے لوگوں کے بارے میں کہا کرتا تھا یہ بے چارے سیدھے لوگ ہیں۔ ایک تو ان کی شکلیں بڑی سیدھی ہیں ، عینکیں لگائی ہوئیں، میرے دوست سب خوش لباس تھے ، سوٹ اور ٹائیاں لگانے والے ، ٹائی کی ناٹ دیکھتے تھے کہ کس کی اچھی ہے، تھے ہم مڈل کلاس لوگ۔

مصری شاہ میں رہتے تھے ، کپڑے وہاں سے پریس کراتے۔ تانگے میں لے کر جاتے۔ انور جلال آرٹسٹ تھا ، بڑا خوبصورت آدمی تھا انگلینڈ میں جا کے فوت ہوا۔ یہ جو میجر جنرل تنویر نقوی ہے اس کی شکل ہو بہو انور جلال سے ملتی ہے۔ پھر سلو تھا ، حسیب تھا۔ نت کا ہیرو۔ حلقۂ ارباب ذوق میں کبھی کبھی ہم تفریح کے طور پہ بیٹھا کرتے تھے۔

*:۔ سگریٹ، ٖخوشبو اور چائے کا ذکر بطور خاص آپ کے ہاں ملتا ہے کیا یہ شعوری کوشش ہوتی ہے؟

اے حمید:۔ بھئی میں ایک رومینٹک آدمی ہوں بغیر رومانس کیے میں افسانہ نہیں لکھ سکتا، میں کیسے ان چیزوں کے تذکرے کے بغیر لکھ سکتا ہوں۔ چائے جو میری بیوی بناتی ہے یا میں بناتا ہوں مجھ پر بہت اثر کرتی ہے ، اسی طرح اچھا سگریٹ بھی۔ اب سگریٹ خراب ہو گئے ہیں۔ آس پاس کی چیز لکھنے والے کی تحریر میں ضرور نظر آتی ہے ، خاص طور پہ پسندیدہ چیز۔

جاری ہے۔۔۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *