ہمارے جمہوریے جو غیر جمہوری ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

لفظ جمہوریت کے لغوی معنی ہیں ’لوگوں کی حکمرانی‘ ۔ سابق امریکی صدر ابراہیم لنکن نے جمہوریت کو کچھ اس طرح بیان کیا کہ ’عوام کی حکومت، عوام کے ذریعے اور عوام کے لئے‘ ۔

جمہوریت خود تو باقاعدہ سے کوئی مکمل نظام نہیں بلکہ یہ نظام بنانے اور نافذ کرنے کا ایک قاعدہ یا طریقہ ہے۔

جمہوریت کا ہر کوئی اپنے طریقے سے مطلب نکالتا ہے، کسی کی نظر میں یہ ’سامراجی نظام‘ ہے تو کوئی اسے ’خدا سے بغاوت‘ گرادنتا ہے۔ بہرحال ہر کوئی اپنی سمجھ کے مطابق اس کا مطلب اخذ کرتا ہے۔

وطن عزیز پاکستان بھی جمہوریت کے نام پر بنا۔ پاکستان میں جمہوریت جمہوریت کا ورد کرتے تو ہر کوئی نظر آتا ہے لیکن جمہوریت خود کہیں نظر نہیں آتی۔

پاکستان کے ایک معروف ٹی وی اینکر کی یہ بات بھی شاید حق بجانب ہے کہ پاکستان کے ہر جمہوری لیڈر کے اندر ایک آمر موجود ہوتا ہے۔ جب ایک جمہوری لیڈر مسند اقتدار پر براجمان ہوتا ہے تب وہ تقریباً ہر آمرانہ اقدام سے قطعاً نہیں کتراتا اور اسی طرح وہ جمہوری اقدار کی خوب دھجیاں بکھیرتا ہے۔

اس نقطے کی جانب تو ہر کوئی اشارہ کرتا ہے کہ لگ بھگ 33 سال اسلامی جمہوریہ پاکستان میں غیر جمہوری حکومتیں قائم رہیں۔ لیکن اس کے اسباب کا کوئی نہ تو ذکر کرتا ہے اور نہ ہی یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے کہ ایک جمہوری ملک جو جمہوری اقدام اور جمہوری نام سے عمل میں آیا ، وہاں جمہوریت ناپید کیوں ہے۔

پاکستان اور بھارت دونوں 1947ء میں الگ الگ ملک کے طور پر وجود میں آئے، لیکن ہمارے ہمسائے ملک نے آزادی کے تین سال بعد یعنی 1950 میں ہی برطانوی قانون سے چھٹکارا پا کر اپنا آئین تشکیل دے دیا، لیکن ہم آزادی سے کوئی نو سال بعد جا کر اپنا آئین بنا سکے۔ اس پورے عرصے کے دوران ہمارا سیاسی نظام بھی غیر متوازن ہی رہا، 1957 تک تقریباً سات وزراء اعظم تبدیل ہوئے۔ 1947 سے 1957 تک تو بظاہر کوئی بھی ملک گیر مارشل لاء نہیں لگا، پھر کیوں اس عرصے کے دوران ملکی سیاسی نظام غیریقینی کی صورتحال سے دوچار رہا۔ پاکستان کے پہلے وزیراعظم بھرے ہجوم میں شہید کر دیے گئے، اس وقت تو ملک میں کوئی آمرانہ حکومت نہ تھی۔ بانی پاکستان کی اس وقت ایک سڑک پر خستہ حال ایمبولینس میں موت واقع ہوئی ، اس کا ذمہ دار کس کو ٹھہرایا جائے۔

1958 تا 1971 تک تو ملک میں جو برا بھلا ہوا وہ تو آمروں کے کھاتے میں ڈالا جاتا ہے۔ 1965 کے نام نہاد انتخابات میں بانی پاکستان کی بہن فاطمہ جناح جو اس وقت جمہوریت کی علامت سمجھی جاتی تھیں ، کو پچھاڑنے کے لئے بھی بھٹو صاحب نے خوب خدمات سرانجام دیں۔ 1971 کے سانحے کا ایک سبب ملک کا یہی جمہوری لیڈر بھی تو تھا۔ یہاں پر یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جس لیڈر کو ملک میں جمہوریت کا سرتاج مانا جاتا ہے ، اس نے ملک کا پہلا سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر ہونے کا بھی تو شرف حاصل کیا۔

اس جمہوری لیڈر کے بارے میں اسٹینلے ولپرٹ نے ’زلفی بھٹو آف پاکستان‘ کتاب میں ایک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ کس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے مغروری کے عالم میں اپنے صدارتی امور کے وزیر کی درگت بنائی۔ اس کے علاوہ بھی ذوالفقار علی بھٹو کے مبینہ طور پر کئی آمرانہ روپ سامنے آئے۔ انقلابی شاعر حبیب جالب نے آمرانہ حکومتوں کے لئے جو شعر کہے سو کہے لیکن بھٹو کی حکومت پر بھی جالب کے شعر کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔

پھر جنرل ضیاء الحق کے جانے کے بعد جمہوری ادوار دیکھے گئے لیکن ان ادوار کے دوران بھی جمہوری لیڈران ایک دوسرے کے پاؤں کھینچنے میں پیش پیش رہے۔

یہ شاید سچ ہو سکتا ہے کہ پاکستان میں غیر یقینی کی صورتحال کی ذمہ دار اسٹیبلشمنٹ ہو لیکن جمہوری حکومتوں نے خود کیا کیا؟

ہم ایک کنٹونمنٹ میں جاتے ہیں جہاں آمریت ہے۔ وہاں دیکھتے ہیں ہر طرف صفائی ستھرائی کا بہترین نظام ملتا ہے، ہسپتالوں میں بہترین اور سستا علاج میسر ہوتا ہے، کھیلنے کے لئے پارکس، پیدل چلنے کے لئے بغیر کسی رکاوٹ کے فٹ پاتھ ہوتے ہیں، بہترین اور پرسکون ماحول ہوتا ہے۔

اب دوسری جانب ہم کینٹ سے باہر کا رخ کرتے ہیں جہاں بظاہر جمہوریت ہے۔ ہمیں جگہ جگہ کچرے کے ڈھیر، لاقانونیت، گٹر کھلے ہوئے، پیدل چلنا محال معلوم ہوتا ہے، پینے کے لئے مضر صحت پانی، ہسپتالوں میں اچھے علاج کی تو توقع کرنا ہی بیوقوفی ہے اور کھیلنے کے لئے پارکس اور گراؤنڈز تو ڈھونڈتے ڈھونڈتے انسان کی توانائی جواب دے دیتی ہے۔ کیا اس سب کا ذمہ دار بھی ہم کسی اسٹیبلشمنٹ کو ٹھہرائیں؟

ہمارے جمہوری لیڈران کے ایک دوسرے کے گریبان میں ہاتھ ہوتے ہیں، اسمبلی میں جہاں عوامی مسائل کا ذکر کرنے کے لئے جاتے ہیں ، اسے کشتی کا اکھاڑا سمجھ کر ایک دوسرے کی تھپڑوں اور مکوں سے خاطر تواضع کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

یہ بھی ہمارے جمہوری لیڈران ہی ہوتے ہیں جو اپنے حلقے سے انتخاب جیت کر پھر اگلے انتخابات تک اپنے ووٹروں کو شاذ ہی درشن کراتے ہیں۔ کیا ان جمہوری لیڈران کو بھی اپنے حلقے میں تشریف لانے سے کوئی اسٹیبلشمنٹ روکتی ہے؟

ابھی کچھ دن پہلے کی ہی بات ہے کہ ملک کے سابق وزیراعظم نے قومی اسمبلی کے اسپیکر کو جوتا مارنے کی دھمکی دے ڈالی۔ میرے خیال سے یہ تو اسٹیبلشمنٹ کی ہرگز خواہش نہ تھی۔

تقریباً کوئی ایک سال پہلے ملک میں پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کے نام سے ایک تحریک چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ وہ تحریک چلی بھی، جلسے بھی ہوئے اور ان جلسوں میں ایک سابق وزیراعظم نے اپنے ادوار میں اپنی بے بسی کے قصے بھی سنائے، تو سوال یہ ہے کہ سابق وزیراعظم اتنا ہی جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو اس وقت ان عناصر کو جوابدہ کیوں نہ ٹھہرایا؟ بہرحال ڈیموکریٹک موومنٹ کچھ وقت کے لئے چلی اور پھر جب ان نام نہاد جمہوری لوگوں کے مفادات کا ٹکراؤ ہوا، تب انہوں نے ایک دوسرے کو ہی پچھاڑ دیا۔

کہنے والے اسٹبلشمنٹ کو ملکی مسائل کا ذمہ دار کہتے ہوں گے  لیکن، تصویر کا دوسرا رخ یہ بھی ہے کہ ملک کو اس نہج پر پہچانے میں ہمارے جمہوری لیڈران سب پر بازی لے گئے ہیں۔

اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں تو ڈھیروں چیزیں ڈالی جاتی ہیں، جن امور کے وہ ذمہ دار ہیں ان میں انہیں ذمہ دار ٹھہرانا کوئی غلط عمل ہرگز نہیں لیکن ہمارے جمہوری لیڈران کے اقتدار کے حصول کے لئے اپنائے گئے غیر جمہوری ہتھکنڈوں اور عوام دشمنی جیسے رویے کس کھاتے میں ڈالے جائیں؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments