تحریک لبیک اور حکومت کی پالیسی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماموں کے انتقال، رمضان اور کچھ نجی مصروفیات کی وجہ سے دو ہفتے کا ناغہ ہو گیا۔ ان دو ہفتوں میں جو حالات وقوع پذیر ہوئے وہ ملکی سیاست میں جلد یا بدیر اپنے اثرات ضرور دکھائیں گے۔ تحریک لبیک پاکستان جو مجاہد ختم نبوتﷺ خادم حسین رضوی کی سیاسی و مذہبی جماعت تھی، اس کو وفاق نے دہشت گردی ایکٹ کے تحت کالعدم قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ کم از کم میرے لئے حیرت انگیز نہیں، کیونکہ عمران حکومت ان اڑھائی سالوں میں ایسے عجیب و غریب فیصلے کر چکی ہے جن پر آدمی اپنا سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے، یوٹرن کی سیاست کو عروج اس حکومت کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

اپنے ہی کہے ہوئے سے منکر ہو جانے کی ایسی نظیر شاید پہلے کبھی نہیں ملتی۔ پہلے تو اسی جماعت سے معاہدہ کیا کہ 16 مارچ کا، پھر مزید مہلت لے کر 20 اپریل تک فرانسیسی سفیر کو بے دخل کرنے کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کرنے کی ہامی بھری۔ اور جب 20 اپریل کا وقت قریب آیا تو ”کلہاڑی پر پیر مارنے“ کے مصداق اس کے سربراہ کو گرفتار کر لیا گیا۔ رہی سہی کسر لاہور میں واقع مسجد رحمۃ للعالمین میں پولیس کی جانب سے فائرنگ نے پوری کر دی۔ پھر جو ہونا سو ہوا۔ پورا ملک احتجاج، دھرنوں، ٹریفک جام اور ہڑتال کی زد میں رہا۔ حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پڑے اور اسی کالعدم جماعت سے مذاکرات کر کے وہ قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کر دی۔

جب کان پکڑنا ہی تھا تو ہاتھ کو گھما کر پکڑنے کی کیا منطق ہے  یا مشیر اور وزراء کی فہم و فراست گھاس چرنے گئی ہوئی ہے؟ حکومتی ایوانوں میں سنجیدہ غور و فکر کا کوئی نظام سرے سے موجود نہیں۔ ریاست مدینہ کا نام لے کر تقریریں شروع کرنے والے ناموس رسالتﷺ پر تاویلیں پیش کر رہے ہیں۔ مگر جو حقیقی کام کرنا ہے ، اس سے گریزاں ہیں۔

موصوف وزیراعظم صاحب کہتے ہیں کہ فرانسیسی سفیر کو نکالنے سے حکومت کو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔

اس کا دوسرا حل بھی تو تھا۔ کیا اقوام متحدہ میں ناموس رسالتﷺ پر قرارداد پیش نہیں کی جا سکتی تھی؟ کیا فرانس کو مذمتی مراسلہ پیش نہیں کیا جا سکتا۔ کم از کم سفارتی تعلقات ختم کرنے کی دھمکی تو دی جا سکتی تھی۔ مگر تماشا لگانے اور تماشا دیکھنے کو فوقیت دی گئی۔ تحریک لبیک پاکستان جنہوں نے بنائی اور سپورٹ کیا، ان کی بھی کچھ ذمہ داریاں بنتی تھیں۔ فیض آباد دھرنے سے لے کر گزشتہ ہفتے کی ہڑتال تک، سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔

عشق رسولﷺ ہر مسلمان کے اندر موجود ہوتا ہے۔ چاہے وہ عالم ہو یا عام مسلمان، نمازی ہو یا بے نمازی، گناہ گار ہو یا پارسا کوئی بھی مسلمان خاتم النبیینﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا۔ یہ مسلمانوں کے ایمانی جذبات کا اہم جزو ہے۔ اسی لئے اغیار اس پر ضرب لگاتے ہیں۔ اس حربے سے باآسانی مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا جاسکتا ہے۔

دوسری جانب ہمیں یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جب ہم جھوٹ بولتے ہیں، رشوت لیتے ہیں، ناجائز منافع خوری کرتے ہیں، اشیاء کو مہنگا کرتے ہیں، رشوت اور سود لیتے ہیں، فرقہ واریت پھیلاتے ہیں، عدل و انصاف نہیں کرتے، حق دار کا حق مارتے ہیں، یتیموں، مسکینوں کا مال ناحق غصب کرتے ہیں، زکوٰۃ فطرے کے پیسوں سے عیاشیاں کرتے ہیں تو کیا یہ اپنے نبیﷺ کی تعلیمات کی خلاف ورزی نہیں؟

اگر ہم اپنے نبیﷺ کی تعلیمات پر عمل شروع کر دیں تو دنیا میں کسی کو توہین رسالتﷺ کی جرأت نہیں ہو گی۔ ہم ناموس رسالتﷺ پر مرنے کو تو ہر وقت تیار رہتے ہیں مگر سنت رسولﷺ پر چلنے میں عار محسوس کرتے ہیں۔ اگر کوئی سنت اپنا لے تو اسے رجعت پسند اور شدت پسند گردانا جاتا ہے۔ ہماری سوچ کو اسلامی شعائر سے باغی بنا دیا گیا ہے۔ حرام کاموں کو بڑی آسانی سے انجام دیتے ہیں جیسے کچھ ہے ہی نہیں۔

سود اور رشوت کے خلاف جنگ کا عشق رسول تقاضا نہیں کرتا؟ کیا ماں باپ، بہن بھائیوں سے صلح رحمی رسولﷺ کی سنت نہیں ہے؟ کیا یتیموں، مسکینوں، بھوکوں، ضرورت مندوں کی کفالت کا ہمیں نبی ﷺ نے حکم نہیں دیا؟ زکوٰۃ کو اس کے حق دار تک پہنچانے کا حکم نہیں ملا؟ اہل بیت اور صحابہ کی عزت و ناموس اور تکریم کہاں گئی؟ ہم بحیثیت مسلمان کہاں کھڑے ہیں؟ ایک عاشق رسولﷺ کو اتباع رسولﷺ کرنی چاہیے۔ نبیﷺ کی صورت اور سیرت کو اپنانا چاہیے۔

یہ تو ایک الگ داستان ہے جس پر جتنا لکھا جائے کم ہے، دوسری داستان ہماری فرشتہ صفت اپوزیشن کی ہے۔ قومی اسمبلی میں بحث کے دوران شاہد خاقان عباسی کی ہتک آمیز گفتگو نے ارکان اسمبلی کی تہذیب اور شائستگی کی دھجیاں بکھیر دی ہیں۔ نون لیگ اپنے آپ کو فرشتہ ثابت کرنے میں مصروف ہے۔ جس طرح انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کیا تھا، اسی طرح عمران حکومت نے سانحہ مسجد رحمۃ للعالمین کر دیا۔ مگر نون لیگ اپنے اوپر سے سیاہ دھبہ مٹانے کے لئے سانحہ مسجد رحمۃ للعالمین پر سیاست کر رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *