چمکیلا کاغذ
طوطا اگر کھمبے کے اونچے تاروں پر بیٹھنے کے بجائے کسی درخت پر ہی بیٹھ جاتا تو اس کی جان بچ جاتی! لیکن شاید وہ بہت بلندی پر ہوا خوری کرنا چاہتا تھا، یا ہو سکتا ہے کہ کسی نے اسے ڈرایا ہو اور وہ درختوں کی شاخوں پر بھی امان محسوس نہ کرتا ہو۔ پتہ نہیں وہ کہاں سے بھاگ کر آیا۔ موت اس کا پیچھا کرتی آئی اور وہ اونچے کھمبوں کے درمیان تنے ہوئے بجلی کے ننگے تاروں پر جا بیٹھا، بجلی کا ایک تار اس کے پنجے کی گرفت میں تھا اور اس کے پر دوسرے تار کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔
ہر راہگیر نے اسے دیکھا، بچوں نے سڑک پر کھڑے ہو کر اس پر پتھر پھینکے، لیکن وہ تو اس تک پہنچے ہی نہیں تھے اور اگر وہ کسی کے ڈھیلے سے نیچے گر بھی جاتا تو اس کے بے جان اور خشک لکڑی کی طرح اکڑے ہوئے جسم کا جو حشر ہونا تھا، وہ سبھی جانتے اور سمجھتے تھے۔
سخت دھوپ میں وہ تار سے لٹک رہا تھا اور تھوڑے ہی فاصلے پر ایک گھر کے صحن میں لگے ہوئے بادام کے درختوں پر بیٹھے ہوئے طوطے تڑاخ تڑاخ بادام توڑ رہے تھے۔
جھولتا ہوا طوطا ان کی نظروں کے عین سامنے تھا مگر وہ اس سے بے پروا اپنا پیٹ بھر رہے تھے۔ ایکا تو صرف کوؤں کا ہے، کسی کوے کو کچھ ہو جائے سہی، سراپا احتجاج بن جاتے ہیں، آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ جب کوئی ایک کوا مجروح ہوتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے سب کوے مجروح ہو گئے ہیں۔
تیر کمان صدیوں پرانا ہتھیار ہے اور اب یہ کئی علاقوں میں متروک ہے۔ پراٹھے پکاتی ہوئی عورت جب اندر سے کوئی چیز لینے جاتی ہے اور باہر نکلتے ہی وہ کوے کو پراٹھے کی تاک میں منڈیر پر بیٹھا دیکھتی ہے تو فوراً ”تیر تیر“ کہنے لگتی ہے، کوا جب یہ آواز سنتا ہے تو وہ جان بچانے کے خیال سے کوسوں دور بھاگ جاتا ہے۔ اور پتہ نہیں یہ سب کوے بندوق کی کالی بیرل کو کیسے پہچان جاتے ہیں۔ آخر سب نے بندوق دیکھی ہوئی بھی تو نہیں ہے۔
یہ ہرے رنگ کے طوطے ہی ایک ایسی مخلوق ہیں جو اتنے مآل اندیش واقع نہیں ہوئے۔ تیر جب ان کے چبھتا ہے اور غلیل کے بٹے شہپر الگ کر دیتے ہیں تو جب ہی ان کو حادثے کا علم ہوتا ہے۔ جب ایک خطرے میں گھرا ہوتا ہے تو دوسرے اس سے مطلقاً بے پروا ہوتے ہیں، بے شک جان سے جائے ان کی بلا سے!
ان سے تو چھوٹی چھوٹی چڑیاں ہی اچھی ہیں کہ گھونسلے میں کوئی سانپ گھس جائے تو مل جل کر چوں چوں کے شور سے ہی اسے بھگا دیتی ہیں اور ایک اتنا بڑا جارح کنجشک بے مایہ کے سامنے بے بس ہو جاتا ہے۔
2
رئیس شہر نے نائب کی زبانی جب یہ متن سنا تو اس کا رنگ سرخ ہو گیا اور کہا کہ ناقوس بجانے والے کو ناقوس بجانے کا حکم دو۔
”لیکن جہاں پناہ اس ڈھانچے سے درویش کی بات شاید آپ کو یاد نہیں آ رہی۔“
” کیا کہا تھا اس نے؟“ رئیس شہر نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا۔ نائب بولا ”آپ نے اس کی موجودگی میں ناقوس والے کو بلایا تھا تو اس درویش نے ناقوس کو دوربین کی طرح آنکھوں سے لگاتے ہوئے کہا تھا “اس ناقوس میں تو مکڑی جالا بن رہی ہے، اسے کسی کونے کھدرے میں رکھ دو، ورنہ جوں ہی اس میں سے آواز نکالو گے تو کانوں کو پھاڑنے والی یہ آواز بے چاری مکڑی کے لیے صور اسرافیل ثابت ہو گی۔”
”ہاں اب یاد آیا، اس نے مجھ سے ہرن بھی آزاد کروا دیے تھے، اور وہ طوطا میٹھی میٹھی باتیں کرنے والا پنجرے سے یوں پھر کر کے اڑا تھا جیسے ہمیں بددعائیں دیتا جا رہا ہو لیکن کیا کریں یہ درویش بھی بہت منہ زور ہوتے ہیں۔ رئیس شہر نے ذرا ٹھنڈے مزاج سے کہا اور پھر قدرے تندہی سے گویا ہوا“ تم جاؤ اور منادی کرا دو کہ کل صبح جب آدھا سورج نکلا ہوا ہو اور آدھا ابھی زمین کے سرے میں غائب ہو، تو سب لوگ چبوترے کے سامنے اکٹھے ہو جائیں۔ ”
نائب اٹھ کر جانے ہی والا تھا کہ رئیس شہر نے انگلی کے اشارے سے پھر اسے بیٹھنے کو کہا۔ بولا ”تم نے اس خبیث کو آخر پکڑا کیسے؟ یہاں تو کھمبوں والی بستی سے کسی چیونٹی کو بھی رینگ کر آنے کی اجازت نہیں اور وہ خبیث، مردود لکھے ہوئے کاغذ سمیت یہاں آ پہنچا۔“
وہ پہرے داروں کو جل دے کر شہر میں گھس آیا حضور اور جب وہ گلیوں گلیوں چلتے ہوئے یہ متن پڑھ رہا تھا تو سب لوگ اس کے پیچھے پیچھے چلنے لگے۔ سالار کو خبر نہ ملتی تو شہر کو خالی ہو جانا تھا۔ بالکل اجاڑ! وہ انہیں کسی راستے سے لٹکے ہوئے طوطے کی طرف لے جاتا۔”
”میں پوچھتا ہوں، وہ پکڑا کیسے گیا؟“ رئیس شہر نے رکھائی سے کہا
” انبوہ میں سے راستہ بناتا ہوا سالار اس تک جا پہنچا، چمکیلا کاغذ اس کے ہاتھ سے چھینا اور ہتھکڑی ڈال دی۔“
”اچھا تو جس کوٹھڑی میں وہ بند ہے، اس کو کتنے تالے لگے ہیں؟“
” اس کو ایک ہی تالا لگا ہے، بھاری سا فولادی تالا۔“
”ایک ہی تالا؟ اتنی لاپروائی!“
” جہاں پناہ جب کنڈوں کی نسبت تالوں کا وزن بڑھ جاتا ہے تو وہ اکھڑ جاتے ہیں، تالوں کا بوجھ کنڈوں کو کمزور کر دیتا ہے“
”ایک تو اس درویش کی منطق نے ہمیں بہت ذلیل کیا ہے۔ آج اگر ہم ناقوس بجاتے تو کاغذ پر لکھی ہوئی باتیں کوئی سن ہی نہ سکتا۔“
”درویش مشکوک ہے جناب والا، جبھی تو وہ اتنے برسوں سے یہاں نہیں آیا اور وہ جو کوٹھڑی میں بند ہے، اس کا حلیہ درویش سے ملتا جلتا ہے۔ پہرے داروں نے بھی یہی سمجھا کہ وہ درویش ہے اور وہ شہر کے اندر گھس آیا۔“
”اچھا میں سوچوں گا۔ تم جاؤ اور منادی کرا دو۔“
3
”یہاں تو کوئی بھی موجود نہیں۔ وہ کہاں چلے گئے؟“ رئیس شہر نے استفسار کیا۔
”وہ صبح ہوتے ہی کھمبوں والی بستی میں چلے گئے ہیں اور میں راتوں رات وہاں سے ہو آیا ہوں لٹکا ہوا طوطا دیکھ کر“
نائب نے یوں اعتماد سے جواب دیا کہ وہ اس کے برابر کا رئیس شہر ہو۔
” لیکن وہاں جانے کا راستہ بہت دشوار ہے۔ وہ بڈھا جس کے بیٹے کو ہم نے اپنے گھوڑے تلے روند ڈالا تھا، جب اپنی بہو کو لے کر ادھر نکل بھاگا تھا تو دونوں کنویں میں گر کر مرے تھے۔ بے وقوف بڈھا! ہاں تو تم کیسے بچ بچا کر لوٹ آئے؟“
” میں اسے کوٹھڑی سے نکال کر ساتھ لے گیا تھا۔“
”تم اسے ساتھ لے گئے تھے!“
” ہاں میں اسے ساتھ لے گیا تھا۔“
رئیس شہر گہری سوچ میں ڈوب گیا اور پھر گویا ہوا۔ ”رات اور دن کو آپس میں بانٹ کیوں نہ لیں۔ دن کو تم رئیس شہر اور رات کو میں، نائب وائب کا چکر ہی ختم کرتے ہیں۔“
”ہونہہ! سورج کو بھی بانٹ لیں، یہ بھی کہہ دو۔“ نائب کا لہجہ تلخی اور طنز سے پر تھا۔
”میں ہارا، تم جیتے! لیکن ایک بات بتاؤ، وہ طوطا تار سے چمٹ کیوں گیا؟“
” بادام کے درختوں میں بیٹھے ہوئے طوطے اسے چھوٹے چھوٹے نظر آتے تھے اور یوں جب اس نے پر پھیلائے تو نفی مثبت کے جال میں جکڑا گیا“
” لگتا ہے میرے پر بھی پھیل گئے ہیں۔“
”بات کچھ ایسی ہی ہے۔“
اوئے۔ کہیں کوے کرلا رہے ہیں۔ ”
”کوے تو اب چپ کرنے والے ہیں، دراصل تمہارے کانوں کا میل آج صاف ہوا ہے۔“
4
جب وہ شہر کے منقش چوبی دروازے سے باہر آیا تو لوگ ٹولیوں میں واپس آ رہے تھے، وہ ہر ایک کے ساتھ چمٹ جاتا اور دروازے سے اندر جانے کی کوشش کرتا۔ پہرے دار پوچھتا ”تم نے لٹکا ہوا طوطا دیکھا ہے؟“
وہ کہتا ”نہیں میں تو اکیلا رہ گیا ہوں“
پہرے دار کہتا ”تم بھی یہ شرط پوری کرو“
پھر وہ خوف و ہراس کے عالم میں کھمبوں والی بستی کی جانب چل نکلا۔ راستے میں ایک گہرا کنواں دیکھ کر اس کا دل دہل گیا، اور اس نے چاہا کہ واپس لوٹ جائے مگر پیچھے کی جانب اس کے قدم نہیں اٹھتے تھے۔
آخر وہ وہاں پہنچ گیا جہاں طوطا تار سے لٹکا ہوا تھا۔ اپنا گھٹتا ہوا سایہ دیکھ کر اسے لگا کہ اس کا وجود صابن کی طرح گھس رہا ہے اور یوں اس کا سر سڑک سے چپک جائے گا۔ وہ کھمبے کے اوپر چڑھ گیا۔ اور جب اس نے نیچے جھانکا تو ایک آدمی اکڑوں بیٹھا ہوا چمکیلے کاغذ پر کچھ لکھ رہا تھا۔ اسے پھٹتی آنکھوں سے صرف یہ جلی سطر نظر آئی۔
”آج دوسرا طوطا بھی تار سے لٹک گیا!“


