امریکہ کرونا بحران کے باعث بھارت سے سفرکو محدود کر رہا ہے: امریکی عہدیدار

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یو ایس ایڈ کا طیارہ نئی دہلی کے اندرا گاندھی ہوائی اڈے پر اتررہا ہے ۔

بھارت میں کرونا کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر بائیڈن انتظامیہ بھارت سے امریکہ آںے والی پروازوں کو عارضی طور پر منگل چار مئی سے محدود کر رہی ہے۔

امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل کے مطابق، وائٹ ہاوس کے ایک عہدیدار نے جمعے کو بتایا ہے کہ یہ فیصلہ امریکہ کے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پری وینشن کی طرف سے جاری کی گئی ہدایات کے بعد بھارت میں کووڈ نائینٹین کی مختلف اقسام کے عام ہونے اور انتہائی غیر معمولی طور پر بگڑتی ہوئی صورتحال کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

اس سے قبل، بھارت کو کرونا بحران میں اہم طبی رسد فراہم کرنے کے لئے امریکی امدادی جہاز جمعے کے روز نئی دہلی پہنچا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق، امدادی سامان کی خصوصی پروازیں آئندہ ہفتے تک جاری رہیں گی، جن میں امریکی کمپنیوں اور افراد کی جانب سے عطیہ کردہ سامان بھارت پہنچایا جائے گا۔ صدر جو بائیڈن نے کرونا وائرس سے نمٹنےکی بھارت کی کوششوں میں مدد فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

چار سو سے زائد آکسیجن سیلنڈر اور دیگر طبی سامان کے علاوہ کرونا وائرس کے فوری ٹیسٹ کی کٹس پر مشتمل یہ رسد لے کرامریکی سوپر گلیکسی عسکری ٹرانسپورٹ طیارہ نئی دہلی پہنچا ہے۔

بھارت کووڈ 19 کی وبا کی دوسری لہر کی شدید لپیٹ میں ہے، اور کرونا کی وجہ سے جاری انسانی بحران دو لاکھ سے زائد ہلاکتوں کی وجہ سے سنگین صورت اختیار کر گیا ہے۔

بحران سے نمٹنے کی کوششوں میں مدد کے لیے کم از کم 40 ملکوں نے بھارت کو امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے، جن میں روس، برطانیہ، فرانس، جرمنی اور جاپان شامل ہیں، جبکہ تھائی لینڈ اور تائیوان جیسے چھوٹے ملکوں نے بھی امداد کی فراہمی جاری رکھی ہے، جن میں خاص طور پر آکسیجن اور ادویات کی وہ رسد شامل ہے، جن کی قلت کا بھارت کو سامنا ہے۔

چین نے بھارت کے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باوجود امداد فراہم کرنے کی پیش کش کی ہے۔

بھارتی وزارت خارجہ کے سیکریٹری، ہرش وردھن شرنگلا نے جمعرات کے روزایک بیان میں کہا ہے کہ ”ہمیں اس وقت وبا کی دوسری غیر معمولی لہر کا سامنا ہے”۔ عام شہریوں کے لیے یہ غیر معمولی صورت حال اس بات کی متقاصی ہے کہ وہ اپنے پیاروں کی جانیں بچانے کی جنگ جاری رکھیں۔

بھارت میں تقریباً 350سائنس دانوں اور طب سے وابستہ تحقیق کاروں نے ایک آن لائن اپیل جاری کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی پر زور دیا ہے کہ انھیں سرکاری ڈیٹا تک رسائی فراہم کی جائے۔

عام طور پر وائرس کی اقسام، ٹیسٹنگ اور صحت یاب ہونے والے مریضوں کی فہرستوں کے اعدادو شمار غیر سرکاری ماہرین کو دستیاب نہیں ہوتے، جس سے کرونا وائرس سے متعلق مطالعے اور وبا کا پھیلاؤ روکنے میں مدد مل سکے۔

اپیل میں کہا گیا ہے کہ ”اس ڈیٹا تک رسائل فراہم کر کے کسی نئی وبا کی صورت حال میں غیر متوقع تحقیقی جزیات سامنے آسکتی ہیں، یاانفیکشن کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے بیماری کی تفصیل کا ڈیٹا سامنے رکھنا لازم ہوگا۔

صحت عامہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مریضوں کی تعداد میں بے انتہا اضافے کی بنا پر محکمہ صحت کو صورتحال سے نمٹنے کے لئے زبردست وسائل درکار ہیں۔

صحت عامہ کے شعبے کے ایک ماہر اننت بھان نے کہا ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ” یہ واضح ہے کہ ہم کرونا کی دوسری لہر سے مقابلے کے لیے تیار نہیں تھے۔ پہلی لہر ختم ہونے کے بعد ہم نے کئی عارضی انتظامات ختم کردیئے اور عملے کو فارغ کر دیا تھا”۔اس کے علاوہ وائرس کی نئی اقسام بھی کرونا میں اضافے کا سبب بنی ہیں۔
بھارت کے دارلحکومت دہلی میں کرونا کی صورتحال، ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے دستیاب وسائل کی قلت، آکسیجن سلنڈرز کی کمی، بستروں کی کم تعداد،انتہائی نگہداشت کے مریضوں کے لئے مخصوص یونٹس، اور بلیک مارکیٹ میں دستیاب ادویات، یہاں تک کہ ہلاک ہونے والوں کی اتنی بڑی تعداد کی آخری رسومات کی ادائیگی تک، سب سوشل میڈیا کا اہم موضوع بنی ہوئی ہیں۔

شمشان گھاٹ میں آخری رسومات کے لیے لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ لوگ اپنے پیاروں کے آخری سفر کو دیکھنے کے لیے گھنٹوں انتظار کر رہے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وائس آف امریکہ

”ہم سب“ اور ”وائس آف امریکہ“ کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے مطابق ”وائس آف امریکہ“ کی خبریں اور مضامین ”ہم سب“ پر شائع کیے جاتے ہیں۔

voa has 1944 posts and counting.See all posts by voa

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *