چمکیلا کاغذ

طوطا اگر کھمبے کے اونچے تاروں پر بیٹھنے کے بجائے کسی درخت پر ہی بیٹھ جاتا تو اس کی جان بچ جاتی! لیکن شاید وہ بہت بلندی پر ہوا خوری کرنا چاہتا تھا، یا ہو سکتا ہے کہ کسی نے اسے ڈرایا ہو اور وہ درختوں کی شاخوں پر بھی امان محسوس نہ کرتا ہو۔ پتہ نہیں وہ کہاں سے بھاگ کر آیا۔ موت اس کا پیچھا کرتی آئی اور وہ اونچے کھمبوں کے درمیان تنے ہوئے بجلی کے ننگے تاروں پر جا بیٹھا، بجلی کا ایک تار اس کے پنجے کی گرفت میں تھا اور اس کے پر دوسرے تار کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔

Read more

سیڑھی

”دیوار کے ساتھ سیڑھی لگی ہوئی ہے“ ” پھر دیکھتے کیا ہو۔ جلدی سے اوپر چڑھ جاؤ“ رات گزر گئی۔ سویرا ہونے سے پہلے ہی وہ ایک دوسرے کی انگلی پکڑے وہاں سے چل دیے۔ دن کے قریباً گیارہ بجے وہ دوبارہ اسی جگہ آئے تو دیواروں اور چھتوں پر سفیدی پھیرنے والا آدمی اپنی سیڑھی کو اٹھائے جنوب کے جانب پختہ اینٹوں سے بنی گلی میں چلا جا رہا تھا۔ ” دیکھ۔ میں نہیں کہتا تھا کہ یہ پل

Read more