سون ویلی کی جھیل اوچھالی کا پانی زہریلا اور فیروزی رنگ کا کیوں ہو جاتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

صبح دس بجے کا وقت تھا، میرے آفس کے فون کی گھنٹی بجی، دوسری جانب سے میرے بہت ہی قریبی دوست کی آواز آئی۔ ” جس کا تمہیں انتظار تھا وہ ہو رہا ہے“ ۔

میں ایک بار تو صورت حال کو سمجھنے کے لیے کچھ لمحوں تک رک سا گیا لیکن مجھے اس کی بات سمجھ آ چکی تھی۔ میں نے اس سے فوراً سب کی خیریت دریافت کی۔
” ہم سب ٹھیک ہیں، پرندے بھی ٹھیک ہیں اور ہوا میں بو بھی نہیں ہے ابھی“ ۔

کسی بھی شخص کے لیے یہ گفتگو بلاشبہ ہارر فکشن، پریشان کن اور ناقابل فہم سی ہے۔ دراصل فون کرنے والا میرا گاؤں کا دوست امجد تھا۔ وہ خبر دے رہا تھا کہ حسین پانیوں، قیمتی آبی پرندوں اور ٹھنڈی ہواؤں والی سرزمین وادی سون میں واقع گاؤں چٹہ کی جھیل نے کئی سال پہلے کی طرح اس بار بھی فیروزی چادر اوڑھ لی ہے۔ ہر چار یا پانچ سال بعد ایسا اپریل کے مہینے میں ہی ہوتا ہے جب سفید پانی پر جیسے کوئی کچھ پھونک سا گیا ہو کہ وہ بالکل فیروزی ہو کر رہ جاتا ہے۔

پچھلی بار ایسا ہوا تو گاؤں کے لوگوں نے کئی چہ مگوئیاں کی تھیں، فوٹو بنائے، کسی نے عذاب قرار دیا اور کچھ کرامات والے بھی تھے۔ خیر چونکہ یہ علاقہ زیادہ تر نوٹس میں نہیں رہتا اور پسماندہ بھی ہے اور چند فیس بک پر متاثر ہونے والے سیاحوں کے علاوہ کوئی یہاں کا رخ بھی نہیں کرتا ، سو بات آئی گئی ہو گئی۔

یہ جھیل اسلام آباد سے 290 کلومیٹر دور ضلع خوشاب کی وادی سون میں جھیل اوچھالی کے نام سے جانی جاتی ہے جو اپنے حسن اور پھر دینا کے نایاب ترین سائبیرین پرندوں کی آماجگاہ ہونے کی وجہ سے بھی مشہور ہے لیکن جیسا کہ پہلے بھی کہا کہ اتنی بھی مشہور نہیں کہ ایسے رنگ بدلتا پانی دنیا بھر کے میڈیا کی خبروں کی زینت بن جائے۔ پانیوں کی اس سرزمین وادی سون میں کبھیکی، جاہلر اور اوچھالی سمیت پانی کے کئی ذخائر اور جھیلیں ہیں اور ورلڈ وائلڈ لائف نے اسے ”اوچھالی ویٹ لینڈز کمپلیکس“ کا نام دے رکھا ہے۔ سائبیریا، منگولیا اور وسط ایشائی ممالک سے آنے والے 45 سے زیادہ اقسام کے پرندے 4500 کلو میٹر کا سفر کر کے اس جھیل میں آ کر اپنی نسل کو بڑھاتے ہیں جس نے آج کل فیروزی رنگ اوڑھ رکھا ہے۔

میں امجد سے اس عجیب و غریب عمل کی وجوہات جاننے اور اس کے دوبارہ رونما ہونے کے حوالے سے اکثر ذکر کرتا رہتا تھا جبھی آج اس نے پرجوش ہو کر بتایا۔ بدقسمتی سے پچھلی بار بھی جب ایسا ہوا تو علاقے کے لوگ یہ سمجھنے سے قاصر رہے تھے کہ آنکھ کی بیماریوں اور ہیضے کی پھوٹنے والی وبا کی اصل وجہ جھیل کا یہی خوبصورت فیروزی پانی ہی تھا جو کسی ڈائن کی طرح ایک حسینہ کا روپ دھارے زندگیاں نگلنے کے درپے تھا۔ امجد نے بتایا کہ اس بار ابھی تک سب محفوظ ہیں اور پچھلی بار جس ناگوار بو کا سامنا تھا، وہ بھی ابھی نہیں ہے۔

میں نے فوراً ٹویٹر اور انٹرنیٹ کا سہارا لیا اور دنیا میں ایسے ہونے والے واقعات ڈھونڈنے لگ گیا۔ کچھ ہی دیر میں میرے سامنے کچھ ٹویٹر اکاؤنٹس اور اس مسئلے پر آنے والی خبریں تھیں۔ معلوم ہوا کہ امریکہ کے صحرائی علاقے نویڈا میں واقع احرام مصر کی سی شکل والی ایک پیرامڈ نامی جھیل میں بھی گزشتہ سال یہی کچھ ہوا ہے۔

ایک معروف امریکی اخبار کے مطابق جھیل کے پانی کے نمونوں سے یہ معلوم ہوا کہ ان میں سیانوٹوکسن کی موجودگی سامنے آئی ہے، یہ زہریلا مواد فاسفورس کی موجودگی کے باعث جھیلوں اور سمندروں میں اکٹھا ہو جاتا ہے جو جانداروں اور خصوصاً انسانوں کے لیے مضر صحت ثابت ہوتا ہے۔

مذکورہ جھیل تو خیر امریکہ میں ہونے کے باعث گزشتہ برس سوشل میڈیا اور بڑے بڑے اخباروں کی زینت رہی لیکن جیسا کہ پہلے عرض کی کہ یہ رہی پاکستان کے بالکل اگنورڈ علاقے میں سائبیریا کے نایاب ترین پرندوں کی آماج گاہ مگر ایک عام سی جھیل، سو پہلے بھی اس کی اس حالت کا کسی کو علم نہ ہوا اور اب بھی شاید کسی کی نظر اس پر نہ پڑے۔ کچھ ماہرین کا بالکل اسی گاؤں چٹہ کی جھیل جیسی صورتحال کا سامنا کرنے والی پیرامڈ جھیل کے بارے میں کہنا تھا کہ اس کے پانی میں کیلشیم کاربونیٹ کی بہتات ہے، جو بہت نایاب نظارہ ہے تاہم یہ آبی حیات کے لیے نقصان دہ نہیں۔

راقم سائنس کے بارے میں محدود سے بھی کم علم رکھتا ہے تاہم سنا یہ ہے کہ سیانوٹوکسن ایک بیکٹریا کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جو کافی زہریلا ہوتا، اس کا نام سیانو بیکٹیریا ہے۔ دوسری طرف فاسفورس کی زیادہ مقدار کی موجودگی کی طرف بھی ماہرین اشارہ کرتے ہیں کہ ایسے رنگ تبدیل کرنے والے پانی میں اس کی بہتات ہوتی ہے اور اس سے پیدا ہونے والی صورتحال کو ”وائٹنگ“ کہا جاتا ہے۔

مختلف جگہ رابطوں اور انٹرنیٹ گردی سے معلوم ہوا کہ یہ سحر نہیں ہے، نہ منتر ہے بلکہ یہ تو ایک بیکٹریا کی کارستانی ہے۔ معلومات اکٹھی کرنے کی اسی مشق کے دوران مجھے امریکہ کی پیرامڈ جھیل کی حفاظت اور دیگر اور کے لیے مامور ٹیم کے ایک ٹویٹر اکاؤنٹ سے جواب بھی موصول ہو چکا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ اس سال بھی موسم گرما میں شاید ایسی ہی صورتحال کا ان کو سامنا ہو جس کا اوچھالی جھیل کے باسیوں کو ہے۔

پیرامڈ نامی امریکی جھیل سمیت دنیا کے باقی کونوں میں تو اگر ایسی عجیب سی صورتحال پیدا ہو تو اس علاقے کے مکینوں کو ایسے پانی کے قریب نہیں آنے دیا جاتا اور اس کو عام پبلک کے لیے بند کر دیا جاتا ہے کیونکہ طبی ماہرین کے مطابق اس پانی میں موجود عناصر کے باعث آنکھوں کی بیماریاں، متلی اور ہیضہ جیسی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ لیکن ایک تو اہل علاقہ اس سب صورتحال کی پیچیدگی سے آگاہ نہیں اور اگر ہوں تو وہ کر بھی کیا لیں گے، نہ یہ امریکہ ہے نہ ہی حکومتی حلقوں کی طرف سے کوئی سہولیات کی فراہمی کہ ایسی صورت حال میں خطرے سے محفوظ رہیں۔

میں نے امجد کو ابھی فون پر آگاہ کیا ہے کہ احتیاطاً ماسک کا استعمال کریں اور اگر موجودہ صورت حال سے آبی حیات یا انسان متاثر ہونا شروع ہوں تو آگاہ کیا جائے، شاید اس بار ہم اس علاقے کے لوگوں کو اس اجنبی فیروزی عفریت سے محفوظ رکھ پائیں یا شاید کسی کی نظر اس غیر معمولی معمے پر پڑ جائے جو ایک باقاعدہ سائنسی تحقیق کا آغاز کر کے جان سکے کہ آخر اس سب صورتحال کے محرکات کیا ہیں، خیر، میں نے اس حسین دشمن کا اپنی آنکھوں سے نظارہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور آج گاؤں جانے کا قصد ہے، مزید کوئی انہونی ہوئی تو آپ کو آگاہ کروں گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
نعمان اعوان کی دیگر تحریریں

2 thoughts on “سون ویلی کی جھیل اوچھالی کا پانی زہریلا اور فیروزی رنگ کا کیوں ہو جاتا ہے؟

  • 30/04/2021 at 8:46 pm
    Permalink

    لاجواب
    سائنسی phenomenon کو کس خوبصورت آہنگ سے بیان کیا..
    مزید لکھتے رہیں اس موضوع پر

    Reply
  • 01/05/2021 at 1:48 pm
    Permalink

    Its a big complement for me
    Ustad e Mohtram.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *