سڑک پر کھڑی خوبرو لڑکی اور سب اچھا ہے کی رپورٹ

نماز عشا کی ادائیگی کے بعد شمس آباد سے سروس روڈ لے کر کمرشل جا رہا تھا۔ تھوڑی مسافت طے کرنے کے بعد دیکھا کہ دو نوجوان ایک خوبرو حسینہ کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔ نہ چاہتے ہوئے بھی گاڑی آہستہ کی کہ شاید لڑکی کو میری مدد کی ضرورت ہو۔ گاڑی کا رکنا تھا کہ لڑکی بھاگ کر میرے پاس آئی۔ میں نے گاڑی کا شیشہ نیچے کیا گاڑی میں اس وقت مظفر وارثی کی آواز میں نعت لگی ہوئی تھی کہ

میرا پیامبر عظیم تر ہے
شعور لایا کتاب لایا
وہ حشر تک نصاب لایا
دیا ہی کامل نظام اس نے
اور آپ ہی انقلاب لایا

لڑکی نے اپنے دونوں انگوٹھے چومنے کے بعد آنکھوں کے ساتھ لگائے اور گویا ہوئی ٹیپ ریکارڈ بند کریں۔ ٹیپ ریکارڈر بند کرنے کے بعد گاڑی سے باہر نکلا بائیک والے نوجوان رفوچکر ہو گئے۔

لڑکی بولی صاحب کہاں چلیں؟ میں نے جواب دیا کہیں بھی نہیں میں تو اپنے کام کے سلسلے میں کمرشل جا رہا ہوں میں تو اس لیے رکا تھا شاید تمھیں مدد کی ضرورت ہو۔ صاحب میں تو آپ کے پاس آئی تھی کہ آپ کے پاس گاڑی ہے ٹھیک پیسے مل جائیں گے۔ مگر آپ نے تو رک کر میری مزدوری بھی ضائع کروائی۔ وہ نوجوان بھی اب چلے گئے۔ گاڑی سائیڈ پر کر کے میں مری روڈ پر لگے بینچ پر بیٹھ گیا اور اسے بھی بیٹھنے کے لیے کہا۔

خوبرو حسینہ تھوڑے فاصلہ لے کر بینچ پر بیٹھ گئی۔ سلسلہ کلام جوڑتے ہوئے میں نے اس سے پوچھا تمھیں بابرکت ماہ میں حرام کام کرتے ہوئے شرم نہیں آتی۔ تم یہ کام کیوں کر رہی ہو؟ تم جانتی ہو کہ ہمارے دین اسلام میں اس کی سزا کیا ہے؟

میرا لیکچر سننے کے بعد وہ گویا ہوئی اگر ہم حرام کی زندگی بسر کرتی ہیں تو دنیا میں حلال کی زندگی کون بسر کرتا ہے؟ آپ یہ خیال نہیں کرتے کہ ہمارے ہاں اگر کوئی میلا کچیلا گندا، سیاہ بدصورت، بھدا، توند نکلی ہوئی منہ سے بدبو اور کمینہ و کنجوس خصلت کا سیٹھ آئے ہمارا دل اس شخص کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی تو دور کی بات بلکہ تھوکنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ مگر مجبوری ہے روپیہ کمانے کے لیے ہم اس کو خوش کرنے کے لیے سنگھار کر کے اس کے سامنے بیٹھتی ہیں مسکراتی ہیں۔ محبت سے باتیں کرتی ہیں اپنے دل کو مار کر اخلاص کا اظہار کرتی ہیں۔ اس کے منہ کی بدبو کی پرواہ تک نہیں کرتی اور یہ جو کچھ بھی ہم کرتی ہیں آپ ایمانداری کے ساتھ بتائیں کہ کیا ہماری یہ کمائی حرام کی ہے یا حلال کی؟

لوگ ہمارے روپے کو حرام کا روپیہ کیوں کہتے ہیں؟ حالانکہ ہم دنیا کے ہر شخص کے مقابلہ پر روپیہ زیادہ محنت سے اپنی جان مار کر پیدا کرتی ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ جس شخص کے ساتھ ہم جا رہی ہیں وہ کورونا کا مریض ہے یا صحت مند ہے۔ تم نے پوچھا کہ تم یہ کام کیوں کرتی ہو؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اگر تم میں ہمت ہے تو چلو دیکھو جس گھر میں بوڑھی ماں کے ساتھ رہائش پذیر ہوں جو مدت سے بیمار ہے۔ دو چھوٹی بہنیں ہیں جو تعلیم حاصل کر رہی ہیں ان کی فیسیں، گھر کا کرایہ اور بیمار ماں کے لیے دوائیاں کہاں سے لوں؟

میں نے تو اپنی ماں کو بتایا ہوا ہے کہ میں ایک کال سنٹر میں رات کی ڈیوٹی کرتی ہوں۔ سنو کہا جاتا ہے کہ ریاست ماں ہوتی ہے مگر یہ کیسی ماں ہے جس کی بچیاں جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنے کے لیے یہ دھندا کرتی ہیں۔ ابھی دو دن قبل میں نے اخبار میں پڑھا کہ ریاست کے حاکم کا کہنا تھا کہ میں اپنی دو سالہ کارکردگی سے مطمئن ہوں۔ ریاست مدینہ کے دعویدار نے یہ نہیں پڑھا کہ مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمرؓ کا شام سے واپسی پر ایک مقام پر ایک بڑھیا سے سامنا ہوتا ہے۔ حضرت عمرؓ اس بڑھیا سے پوچھتے ہیں کہ اماں جی عمرؓ کے بارے میں تم کیا جانتی ہو؟ بڑھیا روکھے انداز میں جواب دیتی ہے کہ عمرؓ کو ہماری پرواہ نہیں تو ہمیں اس سے کیا غرض ہے؟ حضرت عمرؓ اپنے مصاحبین سے کہتے ہیں کہ بڑھیا نے مجھے حکومت کرنے کا سبق دے دیا۔ جب تک بڑھیا زندہ ہے اس کے نان و نفقہ ہمارے ذمہ ہے۔

صاحب سنو! میں اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں۔ جہاں بھی ملازمت کے لیے اپلائی کیا اول تو ملازمت نہیں ملی ایک دو جگہ ملازمت ملی بھی تو تنخواہ اتنی کم بتائی گئی کہ جس سے گھر کا کرایہ بھی ادا نہیں ہو سکتا تھا۔ میں نے اسے کہا کہ تم اپنا گھر بسا لو۔ لڑکی بولی صاحب! کون ہے جو میرے ساتھ شادی کرے گا۔ طوائفوں کے دل کا محبت کے ایک مرکز پر قائم نہ رہنا ان کے لیے ایک ایسی سزا ہے جس کا ہزار دوزخ بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔ اپنی گفتگو کے دوران اس نے منٹو کے افسانے کالی شلوار اور جوش ملیح آبادی کی کتاب ”یادوں کی بارات“ کا بھی ذکر کیا۔ جو دلائل اس نے دیے میرے پاس ان کا جواب نہیں تھا۔ میں اسے بینچ پر بیٹھے چھوڑ کر پھٹے دل کے ساتھ من من بوجھ تلے قدموں کے ساتھ کمرشل چلا گیا۔

جاتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ ہمارے حکمرانوں کے نزدیک سب اچھا جا رہا ہے۔ کیونکہ طبلچی انھیں سب اچھا کی رپورٹ دیتے ہیں۔ کاسہ لیس ٹھنڈے ٹھار کمروں سے باہر نکلیں گے تو انھیں خلق کے مسائل سے اگاہی ہو گی۔ حکمران طبقہ ریاست مدینہ کے دعویدار تو ہیں مگر کسی مائی کے لعل میں اتنی جرات نہیں کہ وہ سیکیورٹی حصار توڑ کر ان سے ہاتھ ملائے۔ ریاست مدینہ کے حکمران تو لوگوں کے مسائل جاننے کے لیے راتوں کو گلیوں میں گشت کیا کرتے تھے۔ جبکہ ہمارے حکمران موٹروں کے جلو میں نکلتے ہیں اور راستے ہی بند کر دیے جاتے ہیں۔ کتنا تضاد ہے ہمارے حکمرانوں کے قول و فعل میں۔ جب تک یہ تضاد دور نہیں ہوتا ہمارے مسائل جوں کے توں رہیں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words