ایبٹ آباد آپریشن: امریکی حقائق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مئی 2021 آ گیا وہ سال جس کا تھا انتظار کیونکہ امریکی قانون کے مطابق دس سال بعد حساس دستاویزات جاری کی جا سکتی ہیں۔ ایبیٹ آباد آپریشن کی تمام جزئیات بھی منظر عام پر آنے کا امکان ہے مگر اس میں کتنا سچ بتایا جائے گا کوئی نہیں جانتا اور یہ بھی ضروری نہیں کہ یہ ڈاکیومنٹس ڈی کلاسیفائی بھی کیے جائیں گے یا نہیں مگر کچھ حقائق سے آگاہی ہو چکی ہے۔ اس آپریشن کے دس سال گزرنے کے بعد جو خود امریکی اعلیٰ عہدے داروں ، آپریشن میں شامل فوجی افسروں اور سابق امریکی صدر باراک اوباما نے اپنی آپ بیتی میں بتایا جن کے دور حکومت میں یہ سرکاری کوڈ کے مطابق

Operation Neptune Spear (a reference to the trident in the SEAL insignia) نامی آپریشن کیا گیا

جبکہ اسامہ بن لادن کو Jackpot کا کوڈ دیا گیا تھا اور اس نے اس آپریشن کا بڑا انعام کمایا جو بھی اس میں شامل ہوا ، چاہے وہ پاکستانی اعلیٰ حکام ہوں یا امریکی حکمران۔

سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر جان برینن نے ایبٹ آباد آپریشن کے حوالے سے اپنی کتاب ان ڈانٹڈ (Undaunted) میں لکھا ہے کہ  حملے سے قبل اسامہ کا نک نیم دی پیسر (The Pacer) تھا اور آپریشن کا غیر سرکاری نام دی مکی ماؤس آپریشن (The Mickey Mouse Operation) تھا۔ ہم افغانستان اور عراق میں ایسے حملے ہر رات کرتے تھے مگر وہاں کی فضاؤں پر ہمارا قبضہ تھا، پاکستان میں صورتحال مختلف تھی، ہمارے ہیلی کاپٹرز نے ڈیڑھ سو میل تک پاکستان کے اندر جانا اور آپریشن مکمل کر کے واپس آنا تھا۔ فضائی حدود کی خلاف ورزی پر پاکستان بھی خوش نہ ہوتا۔ انہوں نے بتایا بی 2 بمبار طیارے سے حملہ اور لیزر گائیڈڈ میزائل حملے پر بھی غور کیا گیا، بی 2 بمبار سے حملے کا آپشن شروع میں ہی ختم کر دیا گیا، ٹیکٹیکل ہتھیار کی مدد سے اسامہ بن لادن کو چہل قدمی کے دوران نشانہ بنانے پر بھی غور ہوا، میزائل حملے کی صورت میں پاکستان کے سخت ردعمل کے بارے میں بھی غور کیا گیا۔ بی 2 بمبار یا میزائل حملے کی صورت میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا تھا، میزائل حملے میں یہ پتہ نہ چلتا کہ اسامہ بن لادن مارا گیا اور القاعدہ دعویٰ کر سکتی تھی کہ وہ بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔

انہوں نے بتایا اجلاس میں پاکستان کو آپریشن کے بارے میں بتانے کی تجویز مسترد کر دی گئی، سب کی رائے تھی کہ پاکستان مشترکہ آپریشن پر متفق ہو گا نہ ہی امریکہ کو اکیلے آپریشن کرنے دے گا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ معاونین اس نتیجے پر پہنچے کہ اپنے طور پر آپریشن ہی ایک قابل عمل منصوبہ ہے، اس کے بعد منصوبے کی جزئیات اور خدشات پر غور کیا گیا۔ انہوں نے بتایا اوباما نے لڑائی کے خدشے کا اظہار کیا جبکہ وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن سب سے زیادہ خوش تھیں۔ برینن نے لکھا ہے کہ میرے سکیورٹی کیریئر میں ایبٹ آباد آپریشن سب سے سخت، خفیہ اور کامیاب آپریشن ہے۔

اس وقت امریکہ میں دن کے ساڑھے 12 اور پاکستان میں رات کے ساڑھے 3 بجے تھے۔ برینن نے لکھا ہے کہ اس کے کچھ دیر بعد ہی ہمیں بتایا گیا کہ ہیلی کاپٹر ایبٹ آباد کمپاؤنڈ پہنچے والے ہیں، ہم سب نے آپریشن دیکھا مگر ہمیں مکمل سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے۔ انہوں نے لکھا ہم سب لوگ یہ سب خاموشی سے دیکھ رہے تھے اور اسی دوران وائٹ ہاؤس کا چیف فوٹوگرافر پیٹے سوزا آ گیا اور اس نے تصویر بنا لی جو بعد میں بہت مشہور ہوئی، جنرل ویب کو 3 بج کر 50 منٹ پر پیغام موصول ہوا کہ اسامہ بن لادن مارا گیا مگر اس پر بہت خوشی نہیں منائی گئی کیونکہ سب جانتے تھے کہ جب تک آپریشن میں شریک ٹیم واپس افغانستان نہیں پہنچ جاتی، اس وقت تک آپریشن کو کامیاب نہیں کہا جا سکتا۔

امریکی ٹیم جب ہیلی کاپٹر کو تباہ کرنے کے بعد واپس روانہ ہونے والی تھی تو ہمیں بتایا گیا کہ پاکستانی ایئرفورس اور نیشنل کمانڈ اتھارٹی کو اندازہ تھا کہ ایبٹ آباد میں کچھ غیرمعمولی ہو رہا ہے، پاکستان نے کچھ طیارے بھی ہوا میں اڑائے، جب امریکی ٹیم واپس افغانستان پہنچ گئی تو سب سے پہلے رات 8 بج کر 2 منٹ پر مائیک ملن نے جنرل اشفاق پرویز کیانی کو فون پر آپریشن کے بارے میں بتایا اور وضاحت پیش کی۔ پاکستان کو اس بارے میں کچھ پتا نہیں تھا اور انہیں جان بوجھ کر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

امریکی سی آئی اے کے سابق سربراہ جنرل ڈیوڈ پیٹرس نے کہا ہے کہ پاکستانی انٹیلی جینس ایجنسیاں اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی سے لاعلم تھیں۔ تاہم سیکورٹی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ القاعدہ کے رہنما کی تلاش پاکستانی خفیہ اداروں کی اس ابتدائی اطلاع سے ہی ممکن ہوئی جو انہوں نے امریکیوں کی دی تھی۔

دوسری جانب اس وقت پاکستان کی فوج میں فرائض انجام دینے والے ایک ریٹائرڈ جنرل اعجاز اعوان کہتے ہیں کہ یہ درست ہے کہ پاکستانی اداروں کے پاس اسامہ بن لادن سے متعلق کوئی معلومات نہیں تھیں۔ جنرل اعجاز اعوان کا کہنا ہے کہ، ’یقیناً پاکستان کی ملٹری انٹیلی جینس ہو یا آئی ایس آئی، ان میں سے کسی کو بھی آئیڈیا نہیں تھا کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہے۔ امریکن کہا کرتے تھے کہ وہ پاک افغان بارڈ ایریا کے پہاڑوں میں کہیں چھپا ہوا ہے۔ وہ بھی اسے تلاش کرتے رہے اور ہم بھی۔ لیکن کسی کو اس کا سراغ نہیں ملا‘ ۔

جنرل اطہر عباس نے سی این این کو اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ 2010 میں اسامہ بن لادن کے پیغام رساں شخص کی فون کال کا سراغ آئی ایس آئی نے لگایا تھا، اور اسے فوری طور پر امریکیوں کے ساتھ شیئر کیا۔ لیکن اس کے بعد آپریشن میں پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ انہیں خدشہ تھا کہ آپریشن ناکام نہ ہو جائے۔ لیکن اس حوالے سے ایبٹ آباد کمیشن رپورٹ سے ساری باتوں کی وضاحت ہو سکتی تھی، لیکن یہ رپورٹ اب تک جاری نہیں کی گئی۔

باراک اوباما اپنی کتاب “اے پرامسڈ لینڈ” میں ایبٹ آباد آپریشن کے متعلق لکھتے ہیں:

وہ جانتے تھے کہ ایک اتحادی ریاست میں فوجی حملے کا حکم دینا اس کی سالمیت کی خلاف ورزی ہے لیکن انہوں نے پھر بھی ایسا کیا کیوں کہ وہ القاعدہ کے رہنما کے خاتمے کا موقع کھونا نہیں چاہتے تھے۔پاکستان کو اسامہ بن لادن کے قتل کرنے کے لیے کی گئی امریکی کارروائی کی خبر دینا توقع سے زیادہ آسان ثابت ہوا تھا کیوں کہ اس وقت کے صدر آصف علی زرداری امریکا کی صورتحال کو سمجھتے تھے۔

انہوں نے لکھا کہ حالانکہ پاکستانی حکومت نے انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں میں مدد اور افغانستان میں فوج کو اہم سپلائی کا راستہ فراہم کیا تھا لیکن انہوں نے اسلام آباد کو معلومات نہ دینے کا فیصلہ کیا۔ باراک اوباما کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس کارروائی میں پاکستان کو شامل کرنے سے انکار کر دیا تھا کیوں کہ ان کا خیال تھا پاکستان میں کچھ عناصر طالبان بلکہ شاید القاعدہ سے بھی روابط رکھتے تھے۔

سابق امریکی صدر نے لکھا کہ ’معاملے کو خفیہ رکھنے کی ضرورت نے چیلنج میں اضافہ کیا، اور اگر اسامہ بن لادن سے متعلق معمولی سا شائبہ بھی لیک ہو جاتا تو ہم جانتے تھے کہ موقع ضائع ہو جائے گا۔ باراک اوباما کا کہنا تھا کہ ’اس حقیقت کہ ایبٹ آباد کمپاؤنڈ پاک فوج کے امریکی فوجی اکیڈمی ویسٹ پوائنٹ جیسے مقام سے چند میل کے فاصلے پر تھا، نے اس امکان کو اجاگر کیا کہ پاکستانیوں کو کچھ بھی بتایا گیا تو وہ معلومات ہمارے ہدف تک پہنچ سکتی ہے‘ ۔

وہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’مائیک میلن نے پاکستانی آرمی چیف کو کال کی اور بات چیت نرم انداز میں ہوئی، جنرل اشفاق پرویز کیانی نے درخواست کی کہ ہم جتنا جلد ممکن ہو کارروائی اور اس کے ہدف کے بارے میں وضاحت کریں تاکہ پاکستانی عوام کے ردعمل کو سنبھالنے میں مدد مل سکے‘ ۔

انہوں نے لکھا کہ جب یہ بالکل واضح ہو گیا کہ اسامہ بن لادن ایبٹ آباد میں ایک ٹھکانے پر روپوش ہے تو انہوں نے اسے قتل کرنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے دو قریبی ساتھیوں جو بائیڈن اور سیکریٹری دفاع رابرٹ گیٹس نے اس کارروائی کی مخالفت کی تھی،

پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی امریکی سپیشل فورسز کے ہاتھوں ہلاکت کے تین سال بعد تنازع کھڑا ہو گیا تھا کہ دنیا کے مطلوب ترین شخص کس کی گولی سے ہلاک ہوئے۔

امریکی نیوی سیلز کے سابق اہلکار رابرٹ اونیل نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کو ایک انٹرویو میں کہا کہ اسامہ بن لادن کی جس گولی سے ہلاکت ہوئی تھی وہ انھوں نے چلائی تھی۔ تاہم یہ رابرٹ کا یہ دعویٰ اسی ٹیم میں شامل میٹ بسونیٹ کی کتاب میں اس کارروائی کے بارے میں دی گئی معلومات سے متصادم ہے۔

رابرٹ 2012 میں ریٹائر ہوئے اور انھوں نے ایسکوائر میگزین سے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس کارروائی کے بارے میں بات کی تھی۔ رابرٹ نے ایک ٹی وی چینل کے ساتھ انٹرویو میں اس کارروائی کے بارے میں بات کرنی تھی، لیکن ایک ویب سائٹ نے رابرٹ کی جانب سے اس کارروائی پر کھلے عام بات کرنے کے خلاف احتجاجاً پہلے ہی ان کا نام ظاہر کر دیا۔

رابرٹ کے مطابق وہ اور ایک اور نیوی سیل، جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا، ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ کی تیسری منزل پر گئے اور دیکھا کہ اسامہ نے ایک کمرے کے دروازے سے باہر دیکھا۔

نامعلوم سیل جو اس کارروائی میں پوائنٹ پوزیشن پر تھے، انھوں نے فائر کیا لیکن اسامہ کو گولی نہیں لگی۔

رابرٹ کا کہنا ہے کہ تھوڑی ہی دیر بعد وہ کمرے میں داخل ہوئے اور انھوں نے اسامہ کے سر پر گولیاں ماریں۔

تاہم میٹ بسونیٹ نے اپنی کتاب ’نو ایزی ڈے‘ میں دعویٰ کیا ہے کہ پوائنٹ مین (یعنی وہ سیل جن کا نام ظاہر نہیں کیا گیا) نے اسامہ کو ہلاک کیا۔

امریکی محکمہ دفاع نے رابرٹ کی جانب سے کیے جانے والوں دعوے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ تاہم سینیئر حکام نے نیوی سیلز کو ایک خط ارسال کیا تھا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ آپریشنل معلومات کے بارے میں تبصرہ کرنے سے اجتناب کریں۔

اس انکشاف کے بعد اونیل نے مقرر اور سکیورٹی ماہر کا نیا پیشہ اختیار کر لیا، اور اب وہ ’فوکس نیوز‘ میں فوجی تجزیہ کار کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں۔

اسامہ کو ڈھونڈنے میں مددگار پاکستانی اہلکار امریکا میں مقیم؟

شجاع نواز جو کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) آصف نواز کے بھائی بھی ہیں، انہوں نے اپنی نئی کتاب ”دی بیٹل فار پاکستان“ میں بھی اقبال سعید خان کا ذکر کیا ہے۔

لیفٹننٹ کرنل (ریٹائرڈ) اقبال سعید کا نام پہلی بار 2013ء میں منظر عام پر آیا جب اس وقت کی پاکستانی حکومت کی جانب سے بنائے جانے والے ایبٹ آباد کمیشن نے اپنی رپورٹ حکومت کو جمع کرائی، سرکاری طور پر اس رپورٹ کو آج تک شائع نہیں کیا گیا ہے۔

تاہم 2013ء میں ہی الجزیرہ اس رپورٹ کو منظر عام پر لایا، الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق افسر لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) اقبال سعید مئی 2011ء میں امریکی آپریشن سے قبل ایبٹ آباد میں تقریباً تین بار اپنی بلٹ پروف گاڑی میں بلال ٹاؤن جہاں اسامہ بن لادن مقیم تھے وہاں تصویریں لیتے ہوئے بھی دکھائی دیے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ایبٹ آباد کمیشن کے ارکان کو اس وقت کے آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) شجاع پاشا نے بتایا کہ لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) اقبال سعید کو ”ڈسپلنری گراؤنڈز“ پر فوج سے ریٹائر کر دیا گیا تھا اور وہ اس کے بعد اپنا ذاتی سیکیورٹی بزنس چلارہے تھے۔ آئی ایس آئی کے مطابق اقبال سعید اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے دو دن بعد ”غائب“ ہو گئے تھے۔ لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) شجاع پاشا کے مطابق اقبال سعید کی شخصیت سی آئی اے کے کارندوں سے مشابہت رکھتی ہے۔

معروف امریکی تحقیقاتی صحافی سیمور ہرش نے 2015ء میں اپنے ایک مضمون جولنڈن ریویو آف بکس میں شائع ہوا دعویٰ کیا تھا کہ اگست 2010ء میں ایک سابقہ پاکستان انٹیلی جنس افسر نے اسلام آباد میں سی آئی اے کے اس وقت کے اسٹیشن چیف جوناتھن بینک سے رابطہ کیا اور انہیں بتایا کہ وہ امریکی خفیہ ایجنسی کو بتا سکتے ہیں کہ اسامہ بن لادن کو کہاں ڈھونڈا جائے، اگر انہیں واشنگٹن کی جانب سے انعامی رقم دینے کا وعدہ کیا جائے۔

سیمور ہرش نے مزید لکھا کہ اس سابقہ پاکستانی اہلکار کا پولی گرافک ٹیسٹ لینے کے لئے سی آئی اے کے ہیڈ کوارٹر سے ایک ٹیم آئی اور پاکستانی افسر نے پولی گرافک ٹیسٹ پاس کر لیا، تاہم سیمور ہرش نے اپنے مضمون میں لیفٹیننٹ کرنل (ریٹائرڈ) اقبال سعید کا نام کہیں نہیں لکھا۔

پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کے قتل کے حوالے سے صرف ڈرامہ رچایا گیا تھا۔ ہرش نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اسامہ 2006ء سے پاکستانی ایجنسی کے کنٹرول میں تھا جسے برادر عرب ملک کی مالی مدد سے ایبٹ آباد میں روپوش رکھا گیا تھا۔ ہرش کے بقول سی آئی اے کو اسامہ بن لادن کے ٹھکانے سے متعلق علم کسی خط یا کوریئر سے نہیں بلکہ پاکستانی انٹیلی جنس کے ایک اہلکار کے ذریعے ہوا جس نے امریکی سی آئی اے کو اسامہ سے متعلق معلومات فراہم کیں۔

امریکی صحافی کے بقول پاکستانی ایجنسی کا ایک افسر اسلام آباد میں قائم امریکی سفارتخانے آیا جس نے اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی کا انکشاف کرتے ہوئے انعام کے طور پر 25 ملین ڈالر طلب کیے لیکن مذکورہ مخبر کو اہل خانہ سمیت امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن منتقل کر دیا گیا جہاں وہ آج کل امریکی سی آئی اے کے لئے بطور کنسلٹنٹ خدمات انجام دے رہا ہے۔

ہرش سیمور نے اپنی رپورٹ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے خلاف ہونے والا امریکی آپریشن، امریکہ کی خفیہ کارروائی نہیں تھی بلکہ آپریشن کے بارے میں پاکستانی اداروں کو بھی علم تھا۔ ہرش کے بقول پاکستان اور امریکہ کے مابین طے پانے والے معاہدے کی رو سے امریکہ کو اسامہ کی موت کا اعلان ایک ہفتے کی تاخیر سے کرنا تھا تاکہ دنیا کو یہ پیغام دیا جا سکے کہ اسامہ کی موت افغانستان میں ڈرون حملے میں ہوئی لیکن بدقسمتی سے ایبٹ آباد آپریشن کے دوران امریکی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا جس کے بعد امریکہ کو یہ خدشہ ہوا کہ اسامہ کی موت کی خبر زیادہ دیر تک خفیہ نہیں رکھی جا سکتی۔

چنانچہ اسی رات امریکی صدر نے پاکستان کو ڈبل کراس کر کے اپنی قوم سے خطاب کے دوران یہ اعلان کیا کہ کئی ماہ کی سخت جدوجہد، محنت اور کوششوں کے بعد امریکی نیوی سیلز کے کمانڈوز نے پاکستان کو بتائے بغیر پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں آپریشن کر کے اسامہ کو مار ڈالا ہے۔

یہ اقبال سعید ہیں کون اور انہیں پاکستانی فوج سے نکالا کیوں گیا؟ پاکستانی تحقیقاتی صحافی اعزاز سید اپنی کتاب ”دی سیکرٹس آف پاکستانز وار آن القاعدہ“ میں لکھتے ہیں کہ اقبال سعید 1991ء سے 1993ء تک پاکستانی خفیہ ایجنسی میں کام کرتے رہے ہیں۔ سابق آرمی چیف جنرل (ریٹائرڈ) آصف نواز کے دور میں انہیں جعلی کرنسی کو مبینہ طور پر پھیلانے کے الزام پر فوج سے فارغ کیا گیا تھا۔

اعزاز اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اقبال سعید نے اپنی کمپنی ”کامپری ہینسو سیکیورٹیز“ کو 1994ء میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن میں رجسٹرڈ کروایا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ شروع میں اقبال سعید کی کمپنی کو کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی۔ سال 2006ء سے 2007ء تک ان کی کمپنی کی مالی حالت بہتر ہو چکی تھی کیونکہ انہیں اسلام آباد میں مصری اور فلسطینی سفارتخانوں کی سیکیورٹی کا ٹھیکہ ملا تھا۔

اعزاز سید کی کتاب کے مطابق اقبال سعید راولپنڈی میں ڈیفنس میں جہاں سابق آرمی چیف اشفاق پرویز کیانی اور آئی ایس ائی کے سابق سربراہ شجاع پاشا کے بھی نجی گھر واقع ہیں، وہاں رہتے تھے اور ان کے گھر پر بڑی بڑی پارٹیاں ہوا کرتی تھیں جن میں کاروباری شخصیات، فوج اور انٹیلی جنس افسران اور غیر ملکی سفارتکار شرکت کیا کرتے تھے۔

اعزاز سید مزید لکھتے ہیں کہ سال 2007ء میں لیفٹیننٹ کرنل (ر) اقبال سعید نے اپنے ہی گھر سے سی آئی اے کا سیل چلانا شروع کیا تھا۔

اپنی کتاب کے لئے جب اعزاز سید نے آئی ایس آئی کے سابق سربراہ شجاع پاشا سے ملاقات کی تو انہوں نے اقبال سعید کے حوالے سے کیے جانے والے سوالات کا جواب دینے سے انکار کر دیا اور کہا کہ ”یہ اہم نہیں“ ۔

شجاع نواز اپنی کتاب ”دی بیٹل فار پاکستان“ میں لکھتے ہیں کہ اقبال سعید نے 2011ء میں اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں ہلاکت کے فوراً بعد ڈیفنس میں واقع اپنا گھر خالی کر دیا تھا۔ اس کتاب کے مطابق اقبال سعید امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سین ڈیاگو میں رہائش پذیر ہیں اور انہوں نے اپنا نام تبدیل کر کے ”بیلی خان“ رکھ لیا ہے۔

لیفٹیننٹ کرنل (ر) اقبال سعید

شجاع نواز کی کتاب کے مطابق اقبال سعید 24 لاکھ ڈالر مالیت کے گھر میں رہتے ہیں اور یہ گھر انہی کے نام پر رجسٹرڈ ہے۔

انہوں نے مزید لکھا کہ مئی 2018ء میں ان کی کچھ تصاویر بھی منظر عام پر آئی تھیں جس میں اقبال سعید کو اپنی اہلیہ کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے اور ان تصاویر میں ان کی سفید رنگ کی بی ایم ڈبلیو گاڑی بھی واضح نظر آ رہی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *