”آف دی ریکارڈ“ گفتگو کے تقاضے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”حساس“ موضوعات پر گفتگو کرتے ہوئے کوئی سیاستدان یا ریاستی نمائندہ اسے ”آف دی ریکارڈ“ ٹھہرا دے تو مجھ ایسے پرانی وضع کے صحافی اس کی فرمائش کا کامل احترام کرتے ہیں۔ ”آف دی ریکارڈ“ گفتگو تاہم ون آن ون یا دو افراد کے مابین ہی ممکن ہے۔ بسا اوقات صحافیوں کے مختصر ترین گروپ کو بلوا کر ”بریفنگ“ کا اہتمام بھی ہوتا ہے۔ ایسے گروہ کی تعداد مگر 30 تک پہنچ جائے تو گفتگو کا ”آف دی ریکارڈ“ رہنا ناممکن ہے۔ اسی باعث گزشتہ تین دنوں سے ہمارے روایتی اور سوشل میڈیا میں ایک اعلیٰ ترین ریاستی عہدے دار کی جانب سے ہوئی ”آف دی ریکارڈ“ گفتگو کا چرچا ہو رہا ہے۔

عرصہ ہوا عملی صحافت سے کنارہ کش ہوا گھر تک محدود رہتا ہوں۔ ایسی تنہائی کے باوجود مذکورہ گفتگو کے چند ہی گھنٹوں بعد مجھے اس کی تفصیل وٹس ایپ کے ذریعے موصول ہوئے پیغامات کی بدولت مل گئی۔ میں نے اس کی بابت ”ہم چپ رہے۔ ہم۔“ والا رویہ اختیار کیا۔ اتوار کی صبح روزنامہ ”ڈان“ کے لئے فہد حسین کی لکھی خبر دیکھ کر اگرچہ اندازہ ہو گیا کہ وہ کس اعلیٰ ترین افسر سے گفتگو کا حوالہ دے رہے ہیں۔ فہد حسین نے البتہ اپنی خبر کو بہت مہارت سے لکھا تھا۔ نہایت احتیاط سے اسے پاکستان اور بھارت کے مابین دسمبر 2020 سے جاری ”خفیہ مذاکرات“ تک ہی محدود رکھا۔

دور حاضر میں لیکن یوٹیوب نامی بلا بھی نازل ہو چکی ہے۔ نوکریوں سے فارغ ہوئے لاتعداد صحافیوں نے اس پلیٹ فارم پر اپنے چینل بنا رکھے ہیں۔ ان چینلوں سے رزق کمانے کے لئے آپ کو زیادہ سے زیادہ سبسکرائبر یا صارفین درکار ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ کسی مخصوص کلپ پر ہوئی کلکس کا بھی حساب ہوتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کلپس، شیئرز اور لائکس کے حصول کے لئے یوٹیوب چینل چلانے والا مجبور ہوجاتا ہے کہ صحافتی احتیاط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے دبنگ انداز میں وہ سب کچھ بیان کردے جو اس کے من میں ہے۔ میری دانست میں ہمارے ہاں محض چند صحافی ہیں جن کی تعداد ایک ہاتھ کی انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے۔ فقط وہ ہی یوٹیوب چینل چلاتے ہوئے صحافتی تقاضوں کا احترام کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے نام لکھ کر میں دیگر ساتھیوں کو ناراض کرنے کی ہمت سے محروم ہوں۔

کلیدی نکتہ میرا یہ ہے کہ حال ہی میں جو ”آف دی ریکارڈ“ بریفنگ یا گفتگو ہوئی اس کا ایک ایک لفظ یوٹیوب چینلوں کے ذریعے صارفین کی بے تحاشا تعداد تک پہنچ چکا ہے۔ خارجہ امور کی بابت رپورٹنگ میں صحافتی زندگی کے 20 سے زیادہ برس صرف کرنے کی وجہ سے یہ اصرار کرنے کو مجبور ہوں کہ مذکورہ بریفنگ کی من و عن رپورٹنگ مناسب نہیں تھی۔ بہتر یہی تھا کہ یوٹیوب چینل والے بھی ویسی ہی احتیاط کرتے جو فہد حسین نے اپنی خبر لکھتے ہوئے برتی ہے۔

ایماندارانہ رپورٹنگ سے کہیں زیادہ پریشان کن وہ توجیہات تھیں جو یوٹیوب پر چھائے چند حق گو صحافیوں نے اپنی پسند کے موضوعات پر ادا ہوئے چند فقروں کو بنیاد بناتے ہوئے خلق خدا کے روبرو لائی ہیں۔ ان میں سے اکثر ساتھیوں کے بارے میں لوگوں کو یہ گماں بھی ہے کہ وہ ”مقتدر حلقوں“ کے مستند ”پیغام بر“ ہیں۔ پاکستان کے داخلی امور پر کڑی نگاہ رکھنے والے کئی ممالک کے اسلام آباد میں متعین نمائندے بھی ان کی گفتگو کو نہایت سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ ایسے افراد کی توجیہات پر مبنی جو پیغامات یوٹیوب چینلوں کے ذریعے دیے گئے ہیں ان کے مضمرات کی بابت گزشتہ دو دنوں سے نہایت فکر مند محسوس کر رہا ہوں۔ رب کریم سے اس فریاد کے ساتھ کہ اس ضمن میں میرے خدشات بالآخر غلط ثابت ہوں۔ مزید تفصیلات میں جانے کا حوصلہ نہیں۔

سفارت کاری میں اہم ترین بات ٹائمنگ بھی ہوتی ہے یعنی مناسب وقت کا چناؤ۔ انتہائی دیانت داری سے میرا اصرار ہے کہ بھارت کے موجودہ حال ت میں پاک۔ بھارت تعلقات میں دائمی امن کے قیام کے لئے ہوئی پیش قدمی کے ذکر کے لئے یہ وقت مناسب نہیں ہے۔ بھارت میں اس وقت کرونا نے قیامت برپا کی ہوئی ہے۔ سڑکوں پر اس وبا کے ہاتھوں نڈھال ہوئے افراد کے ہجوم دنیا بھر کو اٹلی کی یاد دلا رہے ہیں جہاں کرونا کی پہلی لہر نے صحت عامہ کے نظام کا کامل انہدام دکھایا تھا۔

آکسیجن کی فراہمی کے لئے بھارت کے تقریباً ہر شہر سے ٹویٹس لکھنے والے فریاد کر رہے ہیں۔ جو واویلا مچ رہا ہے اس نے مودی سرکار کو مجبور کر دیا کہ ٹویٹر کی انتظامیہ سے رابطہ کرے اور ان پیغامات پر پابندی کے لئے دباؤ ڈالے جو بھارت کو وبا کے ہاتھوں بے بس و لاچار ہوا دکھا رہے ہیں۔ ٹویٹر انتظامیہ کے لئے ایسے پیغامات پر پابندی لگانا مگر ممکن نہیں۔ ہسپتالوں میں کرونا کے مریضوں کے لئے بستر اور ہسپتالوں میں آکسیجن کی فراہمی کے لئے ہوئی فریاد کسی بھی حوالے سے ہیٹ یا نفرت کو فروغ دینے والی پوسٹ یا پیغام شمار نہیں ہو سکتی۔ ایسے پیغامات بلکہ پبلک سروس یا مفاد عامہ کے تحت لکھے پیغامات تصور ہوتے ہیں۔

ٹویٹر بالآخر ایک کاروباری ادارہ ہے۔ اس کا ”بزنس ماڈل“ نام نہاد ”آزادیٔ اظہار“ کو موثر ترین پلیٹ فارم مہیا کرنے کا دعوے دار ہے۔ اس ”ماڈل“ نے امریکہ میں اندھی نفرت وعقیدت کو خانہ جنگی میں تبدیل کرنا شروع کر دیا تو ٹویٹر انتظامیہ کو گیٹ کیپر یا مدیر کی طلب محسوس ہوئی۔ ڈونلڈٹرمپ جیسے با اثر اور طاقت ور ترین شخص کو بالآخر اس کی وجہ سے ٹویٹر پر بین کرنا پڑا۔ ٹرمپ پر پابندی لگی تو اس کے جنونی حامیوں کی بے تحاشا تعداد نے سوشل میڈیا کی ایک اور ایپ سے رجوع کرنا شروع کر دیا۔

مودی سرکار کا جی خوش رکھنے کو ٹویٹر نے اگر کرونا کے حوالے سے لکھے پیغامات پر پابندی لگانا شروع کردی تو بھارت میں بھی سوشل میڈیا صارفین کی کثیر تعداد ان پلیٹ فارموں کی جانب مڑ جائے گی۔ امریکہ کے بعد بھارت جتنی بڑی آبادی والے ملک میں بھی نام نہاد آزادیٔ اظہار کے حوالے سے اپنی ساکھ کھو دینے کے بعد ٹویٹر کا ”بزنس ماڈل“ ناکام ہونا شروع ہو جائے گا۔

بھارت میں میڈیا پیغامات کے عادی ہوئے افراد خارجہ امور کے تناظر میں فی الوقت اس امر کے بارے میں ہرگز متجسس نہیں کہ پاکستانی ریاست کے حتمی فیصلہ ساز ان کے ملک کے بارے میں کیا رویہ اختیار کرنا چاہ رہے ہیں۔ سوال ان کی جانب سے بلکہ یہ اٹھایا گیا کہ مصیبت کی اس گھڑی میں امریکہ اتنا لاتعلق کیوں دکھ رہا ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں سے بھارتی عوام کو مسلسل یہ داستان سنائی گئی تھی کہ آبادی کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہوتے ہوئے وہ دور حاضر کی واحد سپر طاقت شمار ہوتے ایک اور جمہوری ملک یعنی امریکہ کا جگری یار بن چکا ہے۔ جاپان اور آسٹریلیا بھی امریکہ کے ساتھ مل کر بھارت کو عوامی جمہوریہ چین کا ہر محاذ پر مقابلہ کرنے کے قابل ملک بنانے کی خواہش میں مبتلا ہوچکے ہیں۔

”امریکہ۔ بھارت۔ بھائی بھائی“ کے اس موسم میں لیکن بائیڈن انتظامیہ بھارت پر کرونا کی وجہ سے نازل ہوئی وحشت سے لاتعلق دکھائی دی۔ ٹویٹر جیسے پلیٹ فارموں پر اس کی وجہ سے واویلا مچا تو امریکی صدر پیر کی صبح اٹھتے ہی ایک ٹویٹ لکھنے کو مجبور ہوا۔ نریندر مودی سے اس کی ٹیلی فون پر گفتگو بھی ہو گئی ہے۔ وعدہ ہوا کہ ہنگامی بنیادوں پر بھارت کو وافر تعداد میں آکسیجن کی فراہمی کا بندوبست ہو گا۔ کرونا کی مدافعت کو یقینی بنانے والی ایک ویکسین جو امریکہ میں استعمال نہ ہونے کی وجہ سے گوداموں میں رکھی پڑی ہے اسے فوری طور پر بھارت بھیجا جائے گا۔

تعاون فقط ہنگامی بنیادوں تک ہی محدود نہیں رہے گا۔ امریکہ میں مختلف اداروں نے بہت لگن سے کرونا کے تدارک کو یقینی بنانے والی جو مختلف النوع ویکسین تیار کی ہیں ان کے ”نسخے“ بھی بھارت کی دوا ساز کمپنیوں کو بلامعاوضہ فراہم کر دیے جائیں گے۔ ان نسخوں کے لئے لازمی شمار ہوتے چند اجزاء کی بھارت جیسے ممالک کو فروخت پر پابندی بھی اٹھالی گئی ہے۔ چین کے علاوہ بھارت بھی دواسازی کی صنعت کا حتمی اجارہ دار تصور ہوتا ہے۔ بھارت کے روایتی اور سوشل میڈیا میں کرونا کی بدولت جو واویلا مچا وہ بھارت کی دوا ساز کمپنیوں کو بے تحاشا منافع کمانے کے قابل بنائے گا۔ امریکہ کے ابتدائی رویے نے مگر بھارتی عوام کے دلوں میں جو شکوے جاگزیں کیے ہیں ان کی تلافی کے لئے وقت اور ”مزید“ ’کی ضرورت ہوگی۔

مودی سرکار کرونا کی حالیہ وبا کے وجہ سے اپنی ساکھ اور وقار کھو چکی ہے۔ ان دنوں اس سے پاکستان کے حوالے سے کوئی ”تاریخی قدم“ اٹھانے کی توقع رکھنا خام خیالی ہے۔ بہتر یہی ہو گا کہ ”تاریخ“ بنانے کے بجائے فی الوقت ہم پاکستان کے ”حال“ پر بھرپور توجہ مرکوز کردیں۔
بشکریہ نوائے وقت۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *