پاکستان میں دوبارہ امریکی فوجی اڈے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


امریکی صدر جو بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ رواں سال 11 ستمبر تک تمام امریکی فوجی دستوں کو افغانستان سے واپس بلا لیا جائے گا۔ گیارہ ستمبر کو امریکا پر القاعدہ کے حملے کے بیس برس مکمل ہو جائیں گے۔ اسی حملے کے نتیجے میں امریکا نے افغانستان پر چڑھائی کر دی تھی۔ امریکی افواج نے حتمی انخلاء کے آغاز سے پہلے ہی افغانستان سے اپنے ساز و سامان واپس بھجوانے اور مقامی سروس پرووائیڈرز کے ساتھ معاہدوں کو ختم کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔

امریکا کے افغانستان میں جنگ ختم کرنے کے اعلان کے بعد ہی نیٹو ممالک نے بھی اپنی افواج کے انخلاء پر ایک ساتھ مل کر کام کرنے کا اعلان کیا ہے۔ نیٹو کے اتحادی ممالک نے بھی 14 اپریل بدھ کے روز ہونے والی اپنی ایک اہم میٹنگ میں افغانستان میں اپنا آپریشن ختم کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی صدر جو بائیڈن کے اس اعلان کے تناظر میں کیا گیا ہے جس میں امریکی فوج کو آئندہ 11 ستمبر تک افغانستان سے نکال لینے کی بات کہی گئی تھی۔

برسلز میں ایک کانفرنس کے دوران نیٹو کے سکریٹری جنرل جینس اسٹولٹن برگ نے اعلان کیا، نیٹو کے اتحادیوں نے منظم، مربوط اور سوچ سمجھ کر یکم مئی سے ’ریزولوٹ سپورٹ فورسز‘ کی واپسی شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ہم افغانستان کو اپنی حمایت جاری رکھیں گے، ہمارے رشتوں میں یہ ایک نئے باب کا آغاز ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا، ہم افغانستان میں ایک ساتھ گئے تھے۔ ہم نے ایک ساتھ مل کر وہاں اپنا انداز اور طریقہ اختیار کیا اور وہاں سے نکلنے میں بھی ہم ساتھ ہیں۔

افغانستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں افغان حکومت اور طالبان کے درمیان کوئی حتمی سمجھوتہ طے پانے سے قبل غیر ملکی فوج کا افغانستان سے واپس جانا کئی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ افغانستان میں جس قدر شدت پسندی موجود ہے اور غیر ملکی عناصر افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کو رکھنے میں جس قدر دفاعی مفادات رکھتے ہیں ان کے مدنظر کہا جا سکتا ہے دہشت گردی کے خطرات بڑھ جائیں گے۔ اس فیصلے سے جن ملکوں پر سب سے زیادہ اثر پڑ سکتا ہے، ان میں پاکستان شامل ہے۔

پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ کیا جائے۔ انڈیا کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی ضرورت ہے اور ملک میں موجود افغان پناہ گزین کی واپسی کے مسئلے کو بھی مذاکرات کا حصہ بنایا جانا چاہیے۔ کئی لوگوں کو ڈر ہے کہ ملک میں دوبارہ خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے اور طالبان ان علاقوں پر بھی قبضہ کر سکتے ہیں جہاں فی الحال ان کی قوت کم ہے۔ انھیں ڈر ہے کہ طالبان دوبارہ افغانستان میں اپنی حکومت قائم کر سکتے ہیں۔

بیرونی قوتوں کے انخلاء پر بین الافغان مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ملک میں پرتشدد واقعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس کے کافی امکانات ہیں کہ مستقبل قریب میں پاکستان کو بڑی تعداد میں افغان پناہ گزینوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل کیتھ ایف میکنزی نے افغانستان میں القاعدہ اور داعش کے دوبارہ فعال ہو جانے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ خطے کے ملکوں اور خاص طور پر پاکستان کے لیے شدید تشویش کی بات ہے۔

افغانستان سے امریکی اور نیٹو کی فوجوں کے انخلاء پر چند دن قبل امریکی وزارت دفاع میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان تنظیموں کے افغانستان میں دوبارہ فعال ہو جانے کا امکان، وسطی ایشیائی ریاستوں اور ایران کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ جنرل میکنزی نے کہا کہ ان کے خیال میں امریکی اور نیٹو افواج کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد اگر دباؤ برقرار نہ رکھا گیا تو القاعدہ اور دولت اسلامیہ افغانستان میں دوبارہ منظم ہو سکتی ہیں۔

جبکہ اس حوالے سے یہ رپورٹیں بھی آ رہی ہیں کہ امریکہ افغانستان کے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ فوجی اڈے حاصل کرنے کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے۔ اس حوالے سے جب جنرل میکنزی سے صحافیوں نے سوال کیا کہ وہ کون سے ممالک ہیں جن کے ساتھ فوجی اڈوں کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے تو ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کے فی الوقت افغانستان کے ہمسایہ ملکوں کے ساتھ فوجی اڈوں کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ لیکن وہ اس بارے میں پر امید ہیں کہ امریکی فوج کے انخلا سے قبل ایسے معاہدے ہو سکتے ہیں۔

جنرل میکنزی نے اس ضمن میں خلیجی ملکوں کا ذکر کیا اور کہاں کہ امریکہ کو اپنے خلیجی ’پارٹنرز‘ سے فضائی حدود کو استعمال کرنے اور اڈوں کی بہترین سہولت حاصل ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا یہاں سے افغانستان کافی دور پڑتا ہے۔ وسطی ایشیائی ریاستوں میں امریکی فوج کے اڈے حاصل کرنے کے حوالے سے جنرل میکنزی کا کہنا تھا کہ ان ملکوں میں روس کے اثر و رسوخ کی وجہ سے امریکہ کے لیے اڈے حاصل کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ اس وقت امریکہ نے روس پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں اور اس کے علاوہ یوکرین کے مسئلہ پر بھی دونوں ملکوں کے تعلقات شدید کشیدگی کا شکار ہیں۔

جس سے یہ بات واضح ہو رہی ہے کہ پاکستان حکومت اور امریکا میں کسی نہ کسی سطح پر اڈوں کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے پاکستان ہی سب سے مناسب متبادل ہو سکتا ہے۔ یاد رہے کہ افغانستان پر حملے کے وقت امریکی فوج نے پاکستان میں اڈے حاصل کیے تھے اور ان میں پاکستان کے صوبے بلوچستان میں کوئٹہ سے تین سو کلو میٹر جنوب اور گوادر سے 400 کلومیٹر شمال مغرب میں شمسی فضائی اڈہ شامل تھا۔ اس کے علاوہ جیکب آباد سندھ کا بھی ایک ہوائی اڈے امریکہ فوج کے استعمال میں رہا تھا۔

لیکن کیا پاکستان میں امریکی فوجی اڈے ہمارے ملکی مفاد میں ہے؟ اور اس کے مستقبل میں ہمارے اوپر کیا اثرات ہو سکتے ہیں؟ یہ وہ نکات ہیں جن کے بارے میں نہ صرف سوال اٹھانا چاہیے بلکہ مقتدر حلقوں کو بھی ماضی کی طرح عوام کو اندھیرے میں نہیں رکھنا چاہیے۔ کیا چیف کی پچھلے دنوں صحافیوں کے ساتھ ملاقات اور بات چیت کا اہتمام اس تناظر میں تو نہیں کیا گیا تھا کہ عوام اور میڈیا کو دوسری سمت لگا کر اس پر کام کیا جائے۔

پاکستان میں امریکی اڈوں کے مضمرات اور اس کے بعد ملک کو درپیش سیکورٹی مسائل پر ملک کے تمام متعلقہ اداروں کو معاملات خفیہ رکھنے کے بجائے حقائق عوام کے سامنے لانے چاہئیں۔ ماضی میں جب بھی ایسے معاملات کو خفیہ رکھا گیا اس کے نتائج عوام نے دہشت گردی کی شکل میں بھگتے ہیں۔ پاکستانی عوام مزید بدامنی کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *