ریوینج پورن: انڈونیشیا جہاں انتقامی پورن کا نشانہ بننے والے سزا کے ڈر سے سامنے نہیں آتے

لارا اوین - وویمن افیئر مشرقی ایشیا، بی بی سی ورلڈ سروس

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 

Illustration of revenge porn victims being shackled to phone.

Davies Surya/BBC Indonesia

24 سالہ سِتی اپنے والدین یا دوستوں کو کچھ بتائے بغیر پانچ سال سے ایک شخص سے ڈیٹ کر رہی تھیں، جب وہ ریوینج پورن، یعنی بلیک میلنگ کی غرض سے استعمال جانے والی جنسی تعلقات کی ویڈیوز، کا شکار بنیں۔

یہ رشتہ تیزی سے بدسلوکی کا شکار ہونے لگا اور جب ستی، جن کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے، نے گذشتہ سال معاملات کو ختم کرنے کی کوشش کی تو، اس کے سابق پارٹنر نے اُن کی چند تصاویر سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیں۔

واضح رہے کہ ‘انتقامی پورن’ یا ریوینج پورن اس کو کہتے ہیں جب کوئی شخص اپنے سابق ساتھی سے رشتہ ٹوٹ جانے کے بعد انتقام لینے کی غرض سے تصاویر یا ویڈیوز انٹرنیٹ پر پوسٹ کر دے۔

متعدد ممالک میں اسے جرم سمجھا جاتا ہے اور متاثرین حکام سے رجوع کر سکتے ہیں۔

لیکن انڈونیشیا میں، ستی جیسے متاثرین ریوینج پورن کا نشانہ بننے کے بعد اکثر حکام کو آگاہ کرنے سے گریز کرتے ہیں کیونکہ ملک کے اس حوالے سے سخت قانون اور الیکٹرانک انفارمیشن ٹرانزیکشن (آئی ٹی ای) قانون مجرموں اور متاثرین میں فرق نہیں کرتا ہے۔

سنہ 2019 میں ایک خاتون کی نجی سیکس ٹیپ اس کی رضامندی کے بغیر شیئر کر دی گئی تھی جس کی وجہ سے اس خاتون کو فحاشی کے الزام میں تین سال قید کی سزا سنائی گئی۔ بعد میں سزا کے خلاف اپیل مسترد کر دی گئی۔

ریوینج پورن ویڈیوز کا نشانہ بننے والے افراد اکثر یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پاس مدد کی غرض سے رجوع کرنے کے لیے کوئی فورم دستیاب نہیں ہے۔

ستی کا کہنا ہے کہ ’اس صدمے نے مجھے پھنس جانے کا احساس دیا، میں نے کئی بار ایسا محسوس کیا تھا کہ میں اب جینا نہیں چاہتی اور میں نے رونے کی کوشش کی ہے لیکن آنسو نہیں آتے ہیں۔‘

انڈونیشیا ایک مسلم اکثریتی ملک ہے اور شادی سے پہلے جنسی تعلقات کو ایک بدنامی اور معاشرتی ممانعت سمجھا جاتا ہے۔

انڈونیشیا کی خواتین کے ایسوسی ایشن (LBH APIK) کے لیگل ایڈ انسٹیٹیوٹ میں کام کرنے والی حسینہ امین کا کہنا ہے کہ وہ ملک بھر سے ستی کی طرح کی بہت سی متاثرہ خواتین کو جانتی ہیں۔

انڈونیشیا میں خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق قومی کمیشن کے مطابق، 2020 میں ملک میں صنفی بنیاد پر ہونے والے 1،425 تشدد کے واقعات درج کیے گئے تھے، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے کہیں زیادہ غیر رجسٹرڈ واقعات ہو سکتے ہیں۔

امین کا کہنا ہے کہ ’متاثرین خود کو سزا ملنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ ان پر پورنوگرافی قانون اور آئی ٹی ای قانون کے تحت الزام عائد کیا جا سکتا ہے۔‘

Illustration of bird in a cage.

Davies Surya/BBC Indonesia

انڈونیشیا کا فحاشی قانون کسی فرد کو ’جان بوجھ کر، یا ان کی رضا مندی سے، فحش مواد کی آبجیکٹ یا ماڈل بننے کی ممانعت کرتا ہے۔‘

اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ’ہر فرد کے لیے پورن بنانا، کسی مواد کو دوبارہ تیار کرنا، نقل کرنا، تقسیم کرنا، نشر کرنا، درآمد کرنا، برآمد کرنا، پیش کرنا، تجارت کرنا، کرائے پر دینا، یا فراہم کرنا ممنوع ہے۔‘

آئی ٹی ای قانون کا کہنا ہے کہ ’ایسی الیکٹرانک انفارمیشن یا الیکٹرانک دستاویزات کو شائع کرنا، منتقل کرنا یا ان تک رسائی حاصل کرنا جرم ہے جس میں شائستگی کی خلاف مواد موجود ہو۔‘

ایسے لوگوں کو جو لیک سیکس ویڈیوز میں دکھائی دیں چاہے وہ صرف نجی استعمال کے لیے بنائی گئی تپیں اس قانون کے تحت سزا دی جا سکتی ہے۔

حقوق نسواں کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بدسلوکی اور انتقام لینے والے مرد جرم کے باوجود بچ نکلتے ہیں کیونکہ یہ ایک ممنوع بات ہے اور متاثرین کو خوف ہے کہ انھیں مجرم ٹھہرایا جائے گا۔

ستی کا رشتہ بہت سے دوسرے لوگوں کی طرح شروع ہوا۔ وہ اپنے سابق بوائے فرینڈ سے اس وقت ملی جب وہ سیکنڈری سکول میں تھے۔

وہ کہتی ہیں ’میں نے بہت احمقانہ کام کیے کیونکہ پہلے تو میں نے سوچا تھا کہ وہ میرا مستقبل کا شوہر ہو سکتا ہے، میں نے اسے ویڈیو اور تصاویر بنانے کی اجازت دے دی۔‘

مگر چار سال کی ڈیٹنگ کے بعد اس کا طرز عمل بدل گیا۔

ستی کا کہنا ہے کہ ’وہ مجھے اپنے دوستوں کو دیکھنے کی اجازت نہیں دیتا تھا، وہ مجھ پر نطر رکھنے کے لیے دن میں 50 بار فون کرتا تھا۔‘

’مجھے پنجرے میں چڑیا کی طرح محسوس ہوا۔ اگر میں اپنے پنجرے میں ہوں تو وہ ٹھیک ہوتا، لیکن جب میں باہر آتی تو وہ پاگل ہو جاتا۔‘

ایک دن وہ غیر متوقع طور پر ان کے یونیورسٹی کیمپس پہنچا اور ان پر چیخنا شروع کر دیا اور دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔

اس نے مجھے ’کتیا، گھٹیا اور جسم فروش‘ جیسے ناموں سے پکارا۔

’ایک بار اور میں اس کے ساتھ کار میں تھی اور جب میں نے اس سے تعلق توڑنے کی بات کی تو اس نے میرا گلا دبایا۔‘

’جب میں اس کے ساتھ گاڑی میں ہوتی تو مجھے خوف محسوس ہوتا، میں نے خودکشی کے بارے میں سوچا اور میں نے کار سے بھاگنے کا سوچا تھا۔‘

‘میں شکار ہوں’

ستی اپنے سابق ساتھی کے بارے میں پولیس کو اطلاع دینے سے خوفزدہ ہیں کیوںکہ انھیں سوشل میڈیا پر پوسٹ کردہ مباشرت کی ویڈیوز اور تصاویر بطور ثبوت اور گواہ فراہم کرنے ہوں گے۔

ستی کا کہنا ہے کہ ’یہ میرا ارادہ نہیں تھا کہ ان تصاویر کو پھیلایا جائے، میں اس صورتحال کا شکار ہوں۔‘

Illustration of revenge porn victim looking trapped inside the screen of mobile phone.

Davies Surya/BBC Indonesia

’مجھے نہیں لگتا کہ میں کبھی بھی پولیس کے پاس جاؤں گی کیونکہ وہ براہ راست میری مدد نہیں کریں گے۔ عام طور پر پولیس زیادہ تر مرد افراد پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے میں مطمئن نہیں ہوتی۔ میں مدد کے لیے اپنے خاندان کے پاس نہیں جا سکتی کیونکہ وہ اس صورتحال کے بارے میں نہیں جانتے ہیں۔‘

بی بی سی انڈونیشیا نے نیشنل پولیس ہیڈ کوارٹرز میں انسپکٹر جنرل پول راڈن پرابو آرگو یوونو سے خواتین کو آن لائن بدسلوکی کی اطلاع دینے میں درپیش ہچکچاہٹ کے حوالے سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ خواتین متاثرین کی جانب سے رپورٹ ہونے والے معاملات کے لیے خصوصی طریقہ کار موجود ہے اور انھیں خواتین افسران ہی سنبھال سکتے ہیں۔

لیکن ایل بی ایچ اے پی کے کے مطابق صرف صنف پر مبنی تشدد کے آن لائن واقعات میں سے صرف دس فیصد ہی سکیورٹی فورسز کو رپورٹ ہوتے ہیں۔

ایل بی ایچ اے پی کے کا کہنا ہے کہ انھوں نے آن لائن صنفی تشدد کا نشانہ بننے والے افراد میں اضافہ دیکھا ہے، جس میں یہ ریوینج پورن بھی شامل ہے، وبا کے دوران ان تک براہ راست آنے والے واقعات میں روزانہ دو سے تین واقعات رپورٹ ہوتے ہیں۔

حسینہ امین کا کہنا ہے کہ ’بہت سی خواتین کو لگتا ہے کہ ایسی صوررتحال میں ان کے پاس سپورٹ سسٹم موجود نہیں ہے، قانونی عمل طویل ہے اور خواتین کا ساتھ نہیں دیتا۔‘

‘ہمارے بیڈروم میں ریاستی نگرانی’

سنہ 2019 میں سرخیوں میں آنے والے معاملے میں، پورنو گرافی کے اس قانون کے تحت ایک خاتون کو تین سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جس میں زیادہ سے زیادہ 15 سال قید کی سزا ہے۔

وی کے نام سے جانے جانے والی اس خاتون کی کئی مردوں کے ساتھ سیکس کی نجی ویڈیوز آن لائن تقسیم کی گئیں۔

ان کا دفاع کرنے والی وکیل آسری ودیا کا کہنا ہے کہ ’پورنو گرافی کا قانون طاقتور ہے اور وہ ہر شہری کے رازداری کے حق کی خلاف ورزی کرتا ہے۔‘

ان کا موقف ہے کہ ان کی موکل اپنے شوہر کے ہاتھوں گھریلو استحصال اور جنسی سمگلنگ کا شکار تھیں۔

پچھلے سال انھوں نے پورنو گرافی کے قانون کو انڈونیشیا کی آئینی عدالت میں چیلنج کیا۔

Illustration of couple in bed with a judges gavel coming down on them.

Davies Surya/BBC Indonesia

آسری ودیا کہتی ہیں ’ریاست مؤثر طریقے سے ہمارے شہریوں کے سونے کے کمرے میں داخل ہو گئی ہے اور دیکھ رہی ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں۔‘

’میرے موکل کو دو بار ایذا رسانی کا نشانہ بنایا گیا، اسے جیل بھیج دیا گیا کیونکہ اسے پورنوگرافی کی ماڈل سمجھا جاتا تھا، حالانکہ وہ اس کی شکار تھی اور پھر اس پر سیکس ورکر ہونے کا لیبل لگایا گیا۔‘

اگرچہ یہ کوئی عام معاملہ نہیں ہے، آسری کا کہنا ہے کہ ان کی موکل کی سزا ستی کے معاملے سمیت تمام انڈونیشیائی خواتین کے لیے دور رس مضمرات کی حامل ہے۔

وہ کہتی ہیں ’اگر مرد اور عورت مباشرت کریں اور پھر کوئی تصویر یا ویڈیو لیں، لیکن پھر وہ الگ ہو جائیں اور تصویر آن لائن پھیل جائے تو انھیں جیل بھیجا جا سکتا ہے۔‘

انڈونیشیا کی آئینی عدالت کی جانب سے 2020 میں قانون کو چیلنج کرنے والی درخواست کو مسترد کیے جانے کے بعد آسری نے جنسی تشدد کا نشانہ بننے والی خواتین کی حفاظت کی امید کو ’مدھم ہوتی چھوٹی موم بتی‘ کے طور پر بیان کیا۔‘

‘میں اس طرح آگے نہیں بڑھ سکتی’

ایک دوست کی مدد سے پچھلے سال ستی کو بالآخر آگے بڑھنے کا حوصلہ ملا۔

وہ کہتی ہیں ’ہر رات میں روتی تھی اور دعا کرتی تھی۔ میں نے سوچا کہ اب چیزیں اس طرح نہیں چل سکتیں، میں برداشت نہیں کر سکتی، میں پاگل ہو جاؤں گی۔ اور آخر کار مجھ میں ہمت آ گئی۔‘

ستی نے اپریل 2020 میں ایل بی ایچ ای پی کے سے رابطہ کیا، حسنا امین کی مدد سے وہ اپنے سابق بوائے فرینڈ کو ایک سمن خط بھیجنے میں کامیاب ہوئیں جن سے کہا تھا کہ وہ رابطہ بند کر دیں۔

وہ کہتی ہیں ’کچھ عرصہ اس نے مجھے خوفزدہ نہیں کیا نہ پیچھا کیا، لیکن یہ صرف وقتی تھا۔‘

انھیں حال ہی میں پتہ چلا کہ ان کے سابق بوائے فرینڈ نے ان کا نام اور پروفائل تصویر استعمال کر کے جعلی اکاؤنٹ بنایا ہے۔ اکاؤنٹ نجی ہے، لیکن وہ پریشان ہیں کہ وہ آن لائن ان کی پہچان اپنا کر ان کی رضامندی کے بغیر مواد شائع کر رہا ہے۔‘وہ کہتی ہیں، ’مجھے اب ہر کسی پر شک ہے۔‘

بی بی سی انڈونیشیا نے آن لائن صنفی تشدد سے نمٹنے کی اپنی کوششوں پر تبصرہ کرنے کے لیے خواتین کو بااختیار بنانے اور بچوں کے تحفظ کی وزارت سے رابطے کی کوشش کی لیکن انھوں نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا۔

انڈونیشیا میں خواتین کے خلاف تشدد سے متعلق قومی کمیشن نے کہا ہے کہ انھوں نے جنسی تشدد کے خاتمے کے بل کا مسودہ تیار کیا ہے جس کا مقصد ہے کہ مزید متاثرین کو مجرم قرار نہ دیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ اس سے متاثرین کے خلاف کی مجرمانہ کارروائی پر پابندی لگائے جائے گی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو پابند کیا جائے گا کہ متاثرین سے اپنے معاملے میں شواہد کی تلاش کی ذمہ داری کا بوجھ ختم کیا جائے اور ان کے بیانات کو ثبوت کی قابل قبول شکل سمجھا جائے۔

لیکن اس بل کو روک دیا گیا ہے اور اس کے خدشہ پر اسلامی قدامت پسندوں کی طرف سے شدید مخالفت کی گئی ہے کہ اس سے غیر ازدواجی جنسی تعلقات کی حمایت اور لبرل اقدار کو فروغ ملتا ہے۔

انڈونیشیا میں ریوینج پورن کے شکار بہت سے دیگر متاثرین کی طرح، ستی بھی خاموش رہنے اور غیر یقینی صورتحال اور خطرے کی زندگی بسر کرنے، یا آواز اٹھانے، قانونی چارہ جوئی، ظلم و ستم اور امتیازی سلوک کے درمیان پھنس گئی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18954 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp