سیما کماری: جھارکنڈ کے ناخواندہ اور غریب کسانوں کی بیٹی کو ہارورڈ میں سکالرشپ مل گئی

آنند دت - بی بی سی ہندی، رانچی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

7 اپریل کی صبح ساڑھے چار بجے جھارکھنڈ کے ایک گاؤں کی دو بہنیں انٹرنیٹ پر کچھ تلاش کر رہی تھیں۔

یہ دونوں لڑکیاں بار بار ہارورڈ یونیورسٹی کی ویب سائٹ چیک کر رہی تھیں۔ اس وقت انٹرنیٹ کی رفتار کچھ کم تھی۔ لہذا تھوڑی دیر انتظار کرنے کے بعد انھوں نے اپنی تلاش دوبارہ شروع کی۔

اور پھر ان میں سے ایک لڑکی سیما زور سے چیخی۔ ہارورڈ یونیورسٹی کی ویب سائٹ پر داخلے کی فہرست میں سیما کا نام شامل تھا۔ سیما اب وہاں چار سالہ بیچلرز کورس کے لیے تعلیم حاصل کریں گی۔ وہ بھی مکمل سکالرشپ کے ساتھ (یعنی بنا کسی خرچے کے)۔

17 سالہ سیما کماری نے بی بی سی ہندی کو بتایا کہ انھوں نے درخواست دیتے وقت اکنامکس کا انتخاب کیا تھا۔ لیکن اب انھیں عمرانیات یا ویمن سٹڈیز کورس میں داخلہ مل سکتا ہے۔

سیما ابھی بارہویں جماعت کی طالبہ ہیں۔ وہ انڈیا کے نیشنل سکول آف اوپن سکولنگ (این آئی او ایس) سے تعلیم حاصل کر رہی ہیں اور امتحانات کے منتظر ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

’لڑکیاں کبھی خواب دیکھنا نہ چھوڑیں‘

گریٹا اور ملالہ لڑکیاں ہو کر بولتی ہیں؟

کم عمری کی شادیوں کا رواج کیسے بدلیں؟

’گھر والے کہتے تمہاری ٹانگیں ٹوٹ گئیں تو تم سے شادی کون کرے گا‘

سیما رانچی کے ضلعی صدر دفاتر سے 28 کلومیٹر دور اور مانجھی بلاک کے داہو گاؤں کی رہائشی ہیں۔

ان کے 44 سالہ والد سکندر مہاتو نے صرف دوسری جماعت تک تعلیم حاصل کی ہے اور ان کی 40 سالہ والدہ سرسوتی دیوی صرف پہلی جماعت تک تعلیم حاصل کر سکی تھیں۔

سیما نے خود پہلے گاؤں کے ایک سرکاری سکول میں تعلیم حاصل کی تھی۔

بعد میں وہ ’یووا‘ نامی ایک این جی او میں شامل ہو گئیں اور پھر وہاں سے مزید تعلیم شروع کی۔ اس ادارے میں لڑکیوں کو نیشنل سکول آف اوپن سکولنگ (این آئی او ایس) کے نصاب کی بنیاد پر تعلیم دی جاتی ہے۔

سیما کا کہنا ہے کہ انھوں نے اس سکالر شپ کے لیے گذشتہ سال ہی درخواست دی تھی اور اس کے بعد ان کا انٹرویو لیا گیا تھا۔

انٹرویو میں ان سے ان کے کام، تعلیم، نوجوانوں کی تنظیم میں ان کے کردار، آنے والے وقت میں کیا کرنا چاہتی ہیں جیسے سوالات پوچھے گئے تھے۔ سیما نے بہت سے مضامین بھی لکھے تھے۔

اس کے علاوہ انٹرویو میں ان کے خاندانی پس منظر کے بارے میں بھی بہت سارے سوالات پوچھے گئے تھے۔

وہ بتاتی ہیں ’نتیجہ آنے کے بعد میں نے پہلے اپنی سائنس کی ٹیچر فریڈا کو فون کیا‘ اور اس کے بعد انھوں نے امریکہ میں اپنے اساتذہ کو بھی فون کیا۔

انھوں نے اپنی والدہ کو بھی بتایا جو اس وقت ان کے قریب ہی سو رہی تھیں لیکن وہ زیادہ کچھ نہیں سمجھ سکیں۔

ہارورڈ کے علاوہ سیما نے یونیورسٹی آف پنسلوانیا، کولمبیا یونیورسٹی اور پرنسٹن یونیورسٹی کے لیے بھی درخواست دی تھی۔

خاندان کو ان کی کامیابی کا زیادہ اندازہ نہیں

وہ کہتی ہیں ’میرے گھر میں کوئی خاص خوشی یا ہنگامہ نہیں ہے۔ میرے اہل خانہ کو ہارورڈ یونیورسٹی کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہے۔‘

’انھیں بس اتنا پتہ ہے کہ امریکہ میں ایک اچھا کالج ہے اور مجھے وہاں داخلہ دیا جا رہا ہے۔‘

سیما کے خاندان میں والدین کے علاوہ ان کا ایک بڑا بھائی، چھ بہنیں اور دیگر چار بھائی، دادی، چچا اور خالہ ہیں اور یہ سب اکھٹے رہتے ہیں۔

ان کے والد پہلے سوت کی فیکٹری میں کام کرتے تھے لیکن فی الحال لاک ڈاؤن کے باعث فیکٹری بند ہے لہذا اب وہ بیکری کی فیکٹری میں کام کرتے ہیں۔

ان کی ماہانہ آمدنی تقریباً سات ہزار روپے ہے۔ اس کے علاوہ وہ کچھ کھیتی باڑی بھی کرتے ہیں اور چاول اور سبزیاں وغیرہ اگاتے ہیں۔

سیما بتاتی ہیں کہ ’2012 میں ایک دن میں اپنے چچا کے ساتھ گائے کے لیے گھاس لینے جا رہی تھی تب میں نے دیکھا کہ میرے گاؤں کی بہت سی لڑکیاں فٹ بال کھیل رہی ہیں اور زور سے ہنس رہی ہیں۔ مجھے یہ بہت اچھا لگا اور گھر آتے ہی میں نے کھیلنے کی اجازت مانگی اور میری ماں نے انکار نہیں کیا۔‘

انھوں نے بتایا ’وہ لڑکیاں جو فٹ بال کھیل رہی تھیں وہ سب ایک غیر سرکاری تنظیم ’یووا‘ کے زیر انتظام خصوصی کیمپ کا حصہ تھیں۔‘

’میں بھی اس ادارے میں شامل ہوئی، مجھے جوتے اور کپڑے دیے گئے۔ اور اس کے بعد، میں نے روز وہاں جانا شروع کیا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ انھوں نے وہاں رہ کر انگریزی سیکھی اور کچھ برسوں بعد نئی لڑکیوں کو فٹ بال کی تعلیم دینا شروع کر دی۔ انھوں نے وہاں ساتویں جماعت سے تعلیم شروع کی تھی۔

سیما نے بتایا کہ ابتدائی طور پر خاندان نے ان کی حمایت کی لیکن گاؤں والے ’آدھی پتلون‘ پہن کر فٹبال کھیلنے پر ان پر تنقید کرتے تھے۔ اسی وجہ سے ان کی بہت سے سہیلیوں کو کھیلنے کی اجازت نہیں تھی اور بعض کی تو کم عمری میں شادی کر دی گئی۔

وہ کہتی ہیں کہ جب وہ پہلی بار فٹبال کھیلنے سپین جا رہی تھیں تو لوگوں نے ان کے والدین کو بتایا کہ تنظیم والے انھیں بیرون ملک لے جا کر بیچ دیں گے۔

سیما نے بتایا کہ اس کے بعد بھی والدین نے ان کا ساتھ دیا۔

چاولوں سے بنی شراب فروخت کرنے والا خاندان

جھارکھنڈ اور اڑیسہ کے قبائلی علاقوں میں قبائلی برادری چاولوں سے شراب جیسے مشروبات تیار کرتی ہیں۔ اسے ہڈیا یا رائس بیئر کہا جاتا ہے۔

سیما کے مطابق ان کے گاؤں میں بہت سارے لوگ ہڈیا بیچتے ہیں۔ ان کے اپنے گھر کے لوگ بھی یہ کام کرتے ہیں۔ وہاں کے بہت سے لوگ یہی شراب پیتے بھی ہیں۔

وہ کہتی ہیں ’جب میں چھوٹی تھی تو مجھے پرواہ نہیں تھی لیکن بعد میں مجھے پریشانی ہونے لگی کیونکہ شراب پینے والے لڑکیوں کو گھورتے تھے۔ میں نے اسے بند کروانے کی بہت کوشش کی لیکن پھر بھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی۔‘

سیما مزید بتاتی ہیں ’میں سکول ایکسچینج پروگرام کے تحت اگست 2019 میں پیننسولہ ہائی سکول، واشنگٹن گئی تھی۔ جون 2020 میں جب میں وہاں سے واپس آئی تو ہڈیا کے کاروبار کو لے کر پریشان تھی۔‘

’میں نے اپنے والد اور والدہ کو اس شراب کی فروخت سے منع کیا، لیکن وہ راضی نہیں ہوئے۔‘

سیما کہتی ہیں کہ وہ بھی بے بس ہیں کیونکہ ان کا کام لاک ڈاؤن کی وجہ سے بند ہے جبکہ خاندان کافی بڑا ہے۔ ان کی والدہ شراب فروخت کرنے کے علاوہ بکریاں بھی پالتی ہیں۔

سیما کی زندگی میں فٹبال نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ وہ کہتی ہیں ’میں فٹ بال کی اچھی کھلاڑی نہیں بن سکی لیکن آج میں جو کچھ ہوں، یہ فٹبال کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ سنہ 2016 میں سپین میں کھیلنا ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ وہاں انھوں نے دنیا کا ایک مختلف رنگ دیکھا۔ اور وہیں سے ان کے دل میں اسی طرح زندگی گزارنے کی خواہش نے جنم لیا۔

امریکہ میں بہت کچھ سیکھنا چاہتی ہوں

ہارورڈ جانے کے بعد سیما کے منصوبے بہت بڑے ہیں۔ انھوں نے بتایا ’میں وہاں تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ بہت سے دوست بنانا چاہتی ہوں۔‘

وہ وہاں طلبا تنظیموں میں بھی شامل ہونا چاہتی ہیں۔ وہاں ہونے والی سرگرمیوں میں حصہ لینے اور اپنے پروفیسرز کو جاننے کے علاوہ وہ امریکہ گھومنا چاہتی ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اگلے چار برسوں میں انھیں شاید ہی گھر آنے کا موقع ملے گا۔ وہ ستمبر میں کورس شروع ہونے سے پہلے اگست میں وہاں جائیں گی۔

انھوں نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایک سال میں 83 ہزار امریکی ڈالر کی سکالر شپ حاصل کریں گی۔ طلبا کی کارکردگی کے پیش نظر ہر سال اس میں بھی اضافہ کیا جاتا ہے۔

’پریانکا چوپڑا کا تبصرہ پڑھ کر خوش ہوئی‘

https://twitter.com/priyankachopra/status/1385581225633402883

اداکارہ پریانکا چوپڑا نے بھی سیما کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔ ٹویٹ کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ’لڑکی کو پڑھائیں، وہ دنیا کو بدل سکتی ہے۔‘

انھوں نے یہ بھی لکھا ’بہت زبردست سیما۔ میں بے چینی سے آپ کی اگلی کامیابی کی منتظر ہوں۔‘

اس بارے میں سیما نے کہا ’ہاں، میں نے انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر ان کی پوسٹ دیکھی۔ پہلے تو یقین نہیں آیا۔ میرے لیے یہ بہت بڑی بات ہے۔ میں ان کی توقعات پر پورا اترنے کی پوری کوشش کروں گی۔ میں انڈیا واپس آ کر بچوں اور خواتین کے لیے کتابیں لکھنا چاہتی ہوں۔‘

’اور اس کے علاوہ خواتین کو بااختیار بنانے اور ان کی ترقی کے لیے کچھ کرنا چاہتی ہوں۔‘

اسی دوران بائیوکوم لمیٹڈ کی چیئرمین کرن مزمدار شاہ نے بھی سیما کو مبارکباد دی۔

https://twitter.com/kiranshaw/status/1386160883743612930

اپنے ٹویٹ میں انھوں نے لکھا ’جھارکھنڈ کے ناخواندہ کسان کی فٹ بال کھیلنے والی بیٹی کو ہارورڈ میں داخلہ مل گیا۔ ہمارے برے دنوں میں یہ کچھ حوصلہ افزا خبر ہے۔‘

اس کے علاوہ انھیں جھارکھنڈ کے وزیر صحت بننا گپتا نے بھی مبارکباد دی۔

لڑکی کے پیدا ہوتے ہی شادی کی فکر

سیما نے جھارکھنڈ کی لڑکیوں کے بارے میں بتایا کہ یہاں لڑکی کی پیدائش ہوتے ہی لوگ اس کی شادی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیتے ہیں۔

’تب سے اس کام کے لیے پیسہ جمع ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ میری والدہ بھی رقم جمع کر رہی ہیں۔‘

حال ہی میں جھارکھنڈ حکومت نے خصوصی سکالرشپ بھی شروع کی ہے۔ اس کے تحت حکومت غیر ملکی یونیورسٹیوں میں ہر سال 10 قبائلی نوجوانوں کے تعلیم حاصل کرنے کا پورا خرچہ برداشت کرے گی۔

تاہم سیما کو اب اس سکیم سے فائدہ نہیں اٹھانا پڑے گا۔

اسی دوران ’یووا‘ این جی او کی چائلڈ ڈویلپمنٹ آفیسر نیہاریکا بخالہ نے کہا کہ ’سیما کو سکالرشپ ملنا، آج کل کے حالات میں ایک مثبت خبر ہے۔ ہم سب کو اس پر بہت فخر محسوس ہو رہا ہے۔‘

وہ کہتی ہیں ’لاکھوں بچوں کے لیے یہ ایک مثال ہے کہ ہنر کبھی چھپ نہیں سکتا، اسے صرف پالش کرنے کی ضرورت ہے۔‘

انھوں نے اپنے ادارے کے بارے میں بتایا کہ اس وقت ان کے ساتھ 102 غریب لڑکیاں منسلک ہیں اور ان لڑکیوں کو انگریزی سیکھانے پر بہت زور دیا جاتا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18954 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp