خواتین کے خلاف جنسی جرائم: وہ ممالک جہاں ریپ کا شکار بننے والی لڑکیوں کو ’خاندان کی عزت‘ کے نام پر ریپسٹ سے بیاہ دیا جاتا ہے

الجیندرہ مارٹنز - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


ریپ

Getty Images

امینہ فلالی کی عمر اُس وقت 15 برس تھی جب انھوں نے اپنے والدین کو بتایا کہ اُن کا ریپ کیا گیا ہے۔

نابالغ امینہ کے والد کے مطابق ایک ‘عدالتی عہدیدار کے مشورے پر’ اُن کے خاندان نے اپنی بیٹی کو مجبور کیا کہ وہ اپنے ریپ کرنے والے شخص سے شادی کر لیں۔ ریپسٹ کی عمر لگ بھگ 25 برس تھی۔

شادی کے بعد امینہ کئی ماہ تک اپنے گھر والوں کو بتاتی رہیں کہ اُن کا شوہر ان پر تشدد اور مار پیٹ کرتا ہے اور بلآخر 16 سال کی عمر میں آمنہ نے چوہے مار گولیاں کھا کر اپنی زندگی کا ہی خاتمہ کر لیا۔

امینہ کی موت سنہ 2012 میں مراکش کے ایک چھوٹے سے قصبے میں ہوئی تھی۔ امینہ کی موت کے بعد جب اس لرزہ خیز کہانی کی تفصیلات منظر عام پر آئیں تو خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ملک گیر مظاہرے اور مہم چلائی تھی۔

بلآخر مراکش کی پارلیمان نے سنہ 2014 میں اس قانون کو کالعدم قرار دیا تھا جس کے تحت اگر کوئی ریپ کرنے والا شخص متاثرہ خاتون سے شادی کر لے تو اس کے سزا سے بچنے کے امکانات بہت حد تک روشن ہو جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

خواتین پوچھ رہی ہیں کہ ‘مرد ریپ کیوں کرتے ہیں؟’

’ریپ کے بعد صلح کرنے پر مجبور کیوں کیا جاتا ہے؟‘

اویغور کیمپوں میں منظم انداز میں مبینہ ریپ کا انکشاف: ’پتا نہیں وہ انسان تھے یا جانور‘

اقوام متحدہ کے پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) کی حالیہ رپورٹ ‘مائی باڈی بیلانگز ٹو می’ کے مطابق دنیا کے بہت سے ممالک میں اس نوعیت کے قوانین اب بھی ایک حقیقت اور نافذ العمل ہیں۔

اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 57 ترقی پذیر ممالک میں سے تقریباً نصف ممالک میں خواتین کو اپنے معاملات بشمول جسموں کے حوالے سے خود مختاری حاصل نہیں ہے۔ انھیں یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں دیا جاتا کہ وہ جنسی تعلقات رکھیں، مانع حمل ذرائع استعمال کریں یا اپنی مرضی کی صحت کی سہولیات حاصل کریں۔

ریپ

Getty Images
امینہ فلالی نے جب خودکشی کی اس وقت ان کی عمر 16 برس تھی

یو این ایف پی اے کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نتالیہ کنیم کا کہنا ہے کہ ‘اس امر پر ہمیں غم و غصہ کرنا چاہیے۔ آج کے دور میں بھی لاکھوں خواتین اور لڑکیاں اپنے جسموں کے مالک نہیں ہیں۔ ان کی زندگیوں پر دوسرے لوگ حکومت کرتے ہیں۔’

کسی لڑکی کا ریپ کرنا یا اس کے ریپسٹ کا قانون کی گرفت سے بچ نکلنا خواتین کے خلاف موجود متنازع قوانین کی طویل فہرست سے صرف دو مثالیں ہیں۔ اس فہرست میں کنوار پن کا ٹیسٹ اور خواتین کے ختنے کرنے جیسے جرائم بھی شامل ہیں۔

بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں بظاہر ایسے قوانین کو کالعدم قرار دیا گیا جن کے تحت ریپ کرنے والا شخص ریپ کا نشانہ بننے والی لڑکی سے شادی کر کے بچ نکلتا ہے۔ مگر وہاں دیگر بہت سے ایسے قواعد اور ذیلی قوانین موجود ہیں جن کی نتیجہ آخر میں ریپ جیسا جرم کرنے والے سے صرف نظر کرنے کی صورت میں ہی نکلتا ہے۔

یہ قوانین کن ممالک میں نافذالعمل ہیں؟

اقوام متحدہ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ نے واشنگٹن بیسڈ بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم ‘ایکویلیٹی ناؤ’ کو بطور اپنا ایک ذریعہ نقل کیا ہے۔

سنہ 2017 کی اپنی رپورٹ میں ایکویلیٹی ناؤ نے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے اُن متعدد ممالک کی مثالوں پر روشنی ڈالی تھی کہ جہاں ایک ریپسٹ متاثرہ خاتون سے شادی کر کے انصاف سے بچ سکتا ہے۔ ان ممالک میں بحرین، لیبیا، کویت، فلسطینی علاقے، تیونس، اردن اور لبنان شامل تھے۔

ایکویلیٹی ناؤ کی نمائندہ اور خواتین کے حقوق سے متعلقہ قوانین کی ماہر باربرا جیمنیز کا کہنا ہے کہ ‘سنہ 2017 میں ہماری رپورٹ سامنے آنے اور اس کے بعد چلنے والی مہم کے نتیجے میں تیونس، اردن اور لبنان نے اور سنہ 2018 میں فلسطینی علاقوں نے اپنے اپنے ممالک سے اس نوعیت کے متنازع قوانین کا خاتمہ کر دیا تھا۔’

اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ان متنازع قوانین کے حامل ممالک میں انگولا، الجیریا، کیمرون، استوائی گنی، اریٹیریا، شام اور تاجکستان بھی شامل ہیں۔

زیادتی کا نشانہ بننے والی خواتین اپنے ہی ریپسٹ سے شادی کر کے مزید الجھنوں اور خطرات میں گِھر جاتی ہیں جہاں ان کے مزید ریپ ہونے اور ان پر جسمانی حملوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

باربرا جیمنیز نے مزید کہا کہ چند ممالک میں ‘ریپ کا نشانہ بننے والی خاتون اور اس کے خاندان کی عزت کے ‘نام نہاد’ تحفظ کی آڑ میں بھی ان قوانین کا اطلاق کیا جاتا ہے۔’

انھوں نے کہا کہ کسی غیر شادی شدہ لڑکی کے کنوارے پن کے خاتمے سے ہونے والی ‘بے عزتی’ کو اس لڑکی کے اہلخانہ اپنی بیٹیوں کی سالمیت سے بڑھ کر ایک بڑی برائی کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اور قوانین کا یہ معیار چند دہائیوں پہلے تک یورپ میں بھی موجود تھا۔ مثال کے طور پر اٹلی نے اس نوعیت کے قوانین کو سنہ 1981 میں جبکہ فرانس نے سنہ 1994 میں مکمل طور پر ختم کیا۔

لاطینی امریکہ کے بہت سے ممالک میں بھی صورتحال کچھ عرصہ پہلے تک کچھ مختلف نہ تھی۔ لاطینی امریکہ کے بہت سے ممالک نے کچھ عرصہ قبل ہی اس نوعیت کے قوانین کا خاتمہ کیا ہے تاہم اس خطے میں وینیزویلا اور ڈومینین ریپبلک اب بھی ایسے دو ممالک ہیں جہاں ریپ کرنے والا متاثرہ لڑکی یا خاتون سے شادی کر کے قانون کی گرفت سے بچ سکتا ہے۔

عزت بچانے کے لیے شادیاں

باربرا جیمنیز کے مطابق یہاں تک کہ وہ ممالک جہاں اس نوعیت کے قوانین کا خاتمہ کر دیا گیا ہے وہاں کچھ ایسے قواعد موجود ہیں جن کا نتیجہ کچھ مختلف نہیں ہوتا۔

مثلاً متعدد ممالک 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کو ان کے والد یا سرپرست کی اجازت میں شادی کرنے کی اجازت دیتے ہیں، اور بعض اوقات ایسا عدالت کے آرڈر کے ذریعے بھی کیا جاتا ہے۔

‘یہ قوانین، جن میں اب بھی استثنا موجود ہے، اجازت دیتے ہیں کہ اگر کوئی فیملی کسی لڑکی کو کسی ایسے شخص سے شادی کرنے کا پابند کرتی ہے جو شاید جنسی جارحیت کا مظاہرہ کر سکتا ہے تو ایسے شخص کا جارحانہ پن قانون کی گرفت سے ایسے ہی بچ نکلے گا جیسے کہ وہ ریپسٹ جو اپنے ہی شکار سے شادی کر کے بچ نکلتا ہے۔’

‘دیہاتی علاقوں میں ایسا ہوتا ہے کہ عموماً قانون کی نظر میں آئے بغیر لڑکی کی شادی ایسے شخص سے کر دی جاتی ہے جس کے لڑکی سے تعلقات ہوں۔ اور ایسا خاندان کی عزت کو بچانے اور خاندان کے معاشی تحفظ کے نام پر کیا جاتا ہے۔ خاص کر اس وقت اگر لڑکی ان تعلقات کے نتیجے میں حاملہ ہو جائے۔’

‘ہمیں معلوم ہے کہ ایسا خاص طور پر دیہی علاقوں اور دیسی ثقافتوں میں ہوتا ہے۔’

کم عمری کی شادیاں

باربرا نے ان ممالک کی مثالیں پیش کی ہیں جہاں والدین کی رضامندی سے اسی بچیوں کی شادی کر دی جاتی ہے جن کی عمریں 18 سال سے کم ہوتی ہیں: کیوبا (کم سے کم عمر 14 سال)، بولیویا (16 سال)، برازیل (16 سال) اور پیرو (16 سال) کی عمر میں لڑکیوں کی شادی کی اجازت دیتے ہیں۔

باربرا نے مزید کہا کہ ‘یہاں تک کہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی 46 ریاستوں میں 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کو قانونی تحفظ حاصل ہے صرف چار ریاستوں بشمول نیوجرسی، مینیسوٹا، پنسلوینیا اور ڈیلور میں اس حوالے سے موجود ہر طرح کے استثنا کا مکمل خاتمہ کیا گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 18954 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp