ادب کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ادب کی تعریف اسی طرح مشکل ہے جس طرح دوسرے فنون کی۔ خاص طور پر ایسی تعریف جس پر سب کو اتفاق ہو۔ بعض لوگ مثلاً میتھو آرنلڈ ہر اس علم کو جو کتاب کے ذریعہ ہم تک پہنچے ادب قرار دیتے ہیں۔ والٹر پے ٹر (Walter Pater) کا خیال ہے کہ ادب واقعات یا حقائق کو صرف پیش کردینے کا نام نہیں بلکہ ادب کہلانے کے لیے اظہار بیان کا تنوع ضروری ہے۔ ایک تعریف کے مطابق ادب میں الفاظ کی ترتیب افکار اور احساسات کا اظہار اس طرح کیا جاتا ہے کہ پڑھنے اور سننے والے میں مسرت کا احساس پیدا ہو۔ اس کے لئے تجربات کو ادب ایک بلند تر سطح پر پہنچا دیتا ہے۔

ادب ’زندگی‘ کے اظہار کا نام ہے۔ ادب چونکہ لفظوں کی ترتیب و تنظیم سے وجود میں آتا ہے اور ان لفظوں میں جذبہ و فکر بھی شامل ہوتے ہیں اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ لفظوں کے ذریعے جذبے، احساس یا فکر و خیال کے اظہار کو ادب کہتے ہیں۔ یہ ایک ایسی تعریف ہے جس میں کم و بیش ہر وہ بات جس سے کسی جذبے، احساس یا فکر کا اظہار ہوتا ہے اور جو منہ یا قلم سے نکلے، ادب کہلائے گی۔ لیکن میری طرح یہ آپ بھی جانتے ہیں کہ ہر وہ بات جو منہ سے نکلتی ہے یا ہر وہ بات جو قلم سے ادا ہوتی ہے، ادب نہیں ہے۔

عام طور پر اخبار کے کالم یا اداریے ادب نہیں کہلاتے حالانکہ ان میں الفاظ بھی ہوتے ہیں اور اثر و تاثیر کی قوت بھی ہوتی ہے۔ ہم سب خط لکھتے ہیں لیکن ہمارے خطوط ادب کے ذیل میں نہیں آتے لیکن اس کے برخلاف غالب کے خطوط ادب کے ذیل میں آتے ہیں۔ غالب اور دوسرے خطوط کے فرق کو دیکھتے ہوئے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ایسی تحریر کو ادب کہا جا سکتا ہے جس میں الفاظ اس ترتیب و تنظیم سے استعمال کیے گئے ہوں کہ پڑھنے والا اس تحریر سے لطف اندوز ہو اور اس کے معنی سے مسرت حاصل کرے۔

یہ اسی وقت ممکن ہے جب لفظ و معنی اس طور پر گھل مل گئے ہوں کہ ان میں ’رس‘ پیدا ہو گیا ہو۔ یہی رس کسی تحریر کو ادب بناتا ہے۔ اس مسرت کا تعلق ہمارے باطن میں چھپے ہوئے اس احساس سے ہو گا جس کا ہمیں ادراک ہوا ہے۔ یہ وہ تحریر ہو گی جس نے ہمارے شعور اور ہمارے تجربوں کے خزانے میں اضافہ کیا ہے اور ان دیکھے تجربات سے اس طرح مانوس کر دیا ہے کہ وہ تجربے ہمارے اپنے تجربے بن گئے ہیں۔ یہ وہ تحریر ہو گی جس کا اثر وقتی اثر کا حامل نہیں ہو گا بلکہ اس میں ابدیت ہو گی اور جو زمان و مکان سے آزاد ہو کر آفاقیت کی حامل ہو گی۔ مکالمات افلاطون ہمیں آج بھی متاثر کرتے ہیں اور ہمارے تجربات و شعور میں، احساس مسرت کے ساتھ اضافہ کرتے ہیں۔ جس تحریر میں بیک وقت یہ سب خصوصیات موجود ہوں گی وہ تحریر ادب کہلائے گی اور جتنی زیادہ یہ خصوصیات ہوں گی وہ تحریر اسی اعتبار سے عظیم ادب کے ذیل میں آئے گی۔

عام فہم انداز میں تو تمام انسانوں ہی کا مجموعہ سماج کہلاتا ہے لیکن اگر کوئی یہ سوال اٹھانا شروع کردے کہ انسان کیا ہے تو پھر انسان اور سماج دونوں کے وجود پر سوال اٹھنا شروع ہو جاتے ہیں اور دونوں ہی پیچیدہ تر ہوتے چلے جاتے ہیں۔ انسان صرف گوشت پوست کا لوتھڑا تو نہیں ہے۔ یہ ایک ایسا صاحب شعور اور صاحب نطق جانور ہے جو صرف ایک وجود کا نام نہیں ہے بلکہ اس وجود کی بقا کے لئے درکار تمام مادی، جغرافیائی اور ماحولیاتی نظام کا نام بھی ہے۔

اس تعریف کے مطابق کوئی انسان اس وقت تک مکمل انسان کہلا ہی نہیں سکتا جب تک اسے اپنی بقا کے لئے تمام تر ”معیاری“ اور ”مناسب ماحول“ حاصل نہیں ہو جاتا۔ ”معیاری“ اور ”مناسب ماحول“ کیا ہوتا ہے۔ کیونکہ فطرت نے ہمیں اپنے جینے کے لئے کوئی معیاری اور مناسب ماحول فراہم نہیں کیا، اس کے لئے انسان نے خود تگ و دو کی ہے۔ اس لئے یہ اضافی صفات بن گئی ہیں۔

گروہ اور اجتماع اپنی سادہ شکل سے پیچیدہ شکل کی طرف سفر کرتے رہے ہیں اس لئے یہ ”مناسب“ اور ”معیاری“ تقابلی صفات بھی ہوتی گئیں۔ لوگوں کے تمام گروہ اور اجتماع کے ارتقائی مراحل سے گزرنے کے عمل کے دوران اور سماج کی موجودہ شکل تک سفر کے مراحل طے کرتے ہوئے یہ دونوں اصطلاحات اچھی خاصی ”سیاسی“ اصطلاحات بن گئیں۔

سماج کی تعریف صرف یہاں پر ختم نہیں ہوتی۔ جدید سماج نے انسان کی مادی اور شعوری ترقی کے درمیان ایک روزبروز پیچیدہ ہوتی صورتحال کو جنم دیا ہے جو قدیم سماجوں میں اتنی پیچیدہ نہیں تھیں۔ اس معیاری اور مناسب ماحول کے فرد کی انفرادی زندگی میں بھی کچھ معنی ہوتے ہیں اور پورے سماج کی اجتماعی زندگی میں بھی یہ ”معیاری“ اور ”مناسب“ اپنے معنی رکھتے ہیں۔

پہلے بات جدید فرد کی تعریف سے شروع کرلیتے ہیں۔ دور جدید کا انسان ایک ایسا انسان ہے جو موجودہ دور کے تمام تر مناسب ماحول اور انسانی علم و آگہی اور سائنس نے اس میں جو بھی بہتری پیدا کی ہے، کو اپنا ماحول خیال کرتے ہوئے، اس کے لئے جدوجہد کرنے والا عامل ہے لیکن جب اسے ”مناسب“ اور ”معیاری“ ماحول حاصل نہیں ہوتا، تو وہ اپنے حالات، گردونواح اور ماحول کا جائزہ لیتا ہے اور اپنے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جو اس کے اس ماحول کے حصول کی راہ کی رکاوٹ بنتے ہیں۔

اپنے اس سوال کے جواب میں وہ سماج کے مختلف گروہوں، انفرادی سطح پر اس سمت میں کوشش کرنے والے افراد کی کوششوں اور حتیٰ کہ ریاستی ادارے کے کردار کا جائزہ لیتا ہے تو وہ پریشان ہوجاتا ہے اور اسے ہر کوئی اپنی راہ کی رکاوٹ لگتا ہے۔ اسے یہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ یہ سارا ماحول انسان کا پیدا کردہ ہے لیکن اس میں اسے اپنے لئے کوئی گنجائش نظر نہیں آتی بلکہ اسے محسوس ہوتا ہے کہ انسانوں میں سے چند ایک ہی اس پر قابض ہیں اور صرف وہی ان آسائشوں کے حصول کو اپنا زیادہ حق سمجھتے ہیں اور وہ اس ماحول پر اس کے حق کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔

جونہی یہ شعور اس کے اندر پیدا ہوتا ہے، تو اس وقت فرد ایک انسان نہیں رہتا بلکہ دو ہوجاتا ہے۔ یعنی ایک وہ فرد جو عام طور پر عملی زندگی میں اپنی مادی ضروریات اور ”مناسب اور معیاری ماحول“ کی تگ و دو میں پھر رہا ہوتا ہے اور دوسرا اس کے اندر کا تخیلاتی انسان ہوتا ہے جو اس کے اندر رہنے کے باوجود باہر آنے کی آزادیوں سے محروم ہوتا ہے۔ وہ آزاد ہونے کے باوجود ایک کرب اور بے بسی کا شکار رہتا ہے۔

اس مرحلے پر انسان کی ایک سطح پر اپنے آپ سے بھی ایک کشمکش شروع ہوجاتی ہے تو دوسری سطح پر اپنے سماج، اپنی ریاست اور ریاستی مشینری کے ساتھ بھی ایک جنگ جاری رہتی ہے۔ یعنی باہر کا مادی انسان جو جتنا مادی ماحول اسے نصیب ہوتا ہے، اس میں زندگی بسر کرنے کے لئے بضد ہوتا ہے جبکہ اس کے اندر کا انسان وہی مناسب یا معیاری جو اس کے لئے ”مثالی“ ماحول ہوتا ہے کو تلاش کرنے یا پھر اس طرح کا کوئی اور نیا ماحول تراشنے کی تگ و دو میں رہتا ہے۔

اس طرح حقیقی مادی انسان اور اس کے اندر موجود رہنے والے تصوراتی اور تخیلاتی انسان کے درمیان مسلسل جنگ رہتی ہے۔ تصوراتی اشخاص کی مختلف اقسام ہو سکتی ہیں۔ ایک قسم تو سادہ لوگوں کی ہو سکتی ہے جو اپنے تصورات میں فرد، سماج، ریاست اور ریاستی مشینری کو جیسے ہے اور جہاں ہے کی بنیاد پر قبول کرلیتے ہیں اور صرف اپنی تمام تر صلاحیتوں کو اس میں ایڈجسٹ ہونے کے لئے صرف کرتے ہیں۔ عمومی طور پر افراد کا یہ گروہ مذل کلاس کے افراد پر مشتمل ہوتا ہے۔

دوسری قسم علمی اور فکری سطح پر کاوش کرنے والے لوگوں کی ہے۔ اگرچہ ان افراد کو بھی مختلف اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے لیکن یہاں ہم ایک محدود دائرے میں اپنی توجہ افراد کے جمع غفیر میں صرف خود شناسی اور خود آگہی کے متلاشی افراد پر مرکز کرتے ہیں۔ ایسے لوگ اس مرحلے پر خود شناسی کے عمل سے گزرنا شروع ہو جاتے ہیں۔ انہیں یہ آگاہی حاصل ہونا شروع ہوجاتی ہے کہ انسان حقیقت میں کیا ہے اور کیا نہیں ہے۔ جہاں تک ”کیا ہے“ کا سوال ہے تو وہ اپنی سرشت میں ”کیا نہیں ہے“ سے بہت زیادہ محدود ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
فائقہ خالد کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *