پاکستانی ہوائی اڈے امریکا کو دینا درست ہو گا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اب پاکستانی قوم کو یہ نیا جھانسہ بلکہ خوف بیچا جا رہا ہے کہ افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد اگر ہم نے اس کو فوجی اڈے فراہم نہ کیے تو بھارت اپنے مقبوضہ کشمیر میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کر دے گا اور یہ کہ اس طرح امریکہ ہمارے سر پر آ کر بیٹھ جائے گا اور سی پیک کو متاثر کرے گا اور چین اور پاکستان کے رابطے کے راستوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا اور ہماری جاسوسی کرے گا وغیرہ وغیرہ ، لہٰذا اب پاکستانی قوم کو ذہنی طور پر تیار کیا جا رہا ہے کہ وہ امریکہ کو پاکستان میں فوجی اڈے دینے پر آمادہ ہو جائے اور اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو بھارت ایسا کر کے نہ جانے کون کون سے فوائد حاصل کر لے گا۔

لیکن دراصل یہ سب ایسی بکواس ہے جو چند لوگوں کے گروہ کے اپنے گروہی اور سطحی مقاصد کے لئے حصول کے لئے پھیلائی جا رہی ہے۔

بھارت جیسا ملک امریکہ کو اڈے دے کر دنیا بھر میں کیا امریکی کالونی کہلوائے گا؟ کیا وہاں کی مضبوط مڈل کلاس اور زیرک سیاسی قیادت دنیا بھر کی نظروں میں گر کر اپنی جگ ہنسائی کو برداشت کرے گی؟ بالکل نہیں! ہاں دوستی کے پردے اور آڑ میں اپنے مفادات کے حصول کے لئے چوری چھپے کچھ سہولیات ضرور دے سکتے ہیں ، پر اپنے ملک میں اور خاص طور پر مقبوضہ کشمیر جیسے متنازعہ خطے میں امریکہ کو فوجی اڈے فراہم کرنا؟ ( کیا اس سے مقبوضہ کشمیر کی متنازع حیثیت دنیا بھر میں نمایاں نہیں ہو گی جو کہ بھارت کو بالکل گوارا نہیں ) وہ بالکل بھی ایسا نہیں کر سکتے۔

اس طرح کرنے کے بعد وہ دنیا کی ابھرتی ہوئی طاقت کے بجائے ایک کمزور باجگزار اور طفیلیے کی حیثیت اختیار کر لیں گے جس کا متحمل بھارت میں کوئی سیاسی فریق بھی نہیں ہو سکتا نہ ہی وہاں کے عوام اپنی اس دوسرے درجے کی حیثیت کو تسلیم کریں گے بلکہ شاید ہمارے بزرجمہروں کے علم میں نہیں ہے کہ اس وقت خود امریکہ میں بھارتی کمیونٹی کی لابنگ کی صلاحیت اسرائیل اور یہودی لابنگ کی صلاحیت میں مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔

نئی جو بائیڈن انتظامیہ میں مقامی گوروں کے بعد سب سے زیادہ حصہ بھارتی نژاد افراد کا ہے اور وہ اب بھی بھارت کے حق میں پالیسیز بنوانے کی پوزیشن میں ہیں جبکہ اگلی دو دہائیوں کے بعد تو وہ شاید امریکہ کو بھارت کے حق میں پالیسی ڈکٹیٹ کروایا کریں گے۔

اس لئے بھارت کی آڑ لے کر امریکہ کو پھر سے پاکستان پر مسلط کرنے سے گریز کیا جائے کیونکہ اس کے نتیجے میں افغانستان کی خانہ جنگی پھر سے پاکستان میں جگہ بنا لے گی اور ہزاروں جانوں کی قربانی اور ناقابل تلافی معاشی بربادی کے بعد اب جو پاکستان میں حالات بظاہر پرسکون ہوئے، وہ سب کچھ غارت ہو جائے گا اور اس کے نتیجے میں دوبارہ سے پاکستان کی سرزمین کو افغان جنگ کا میدان بنا دیا جائے گا۔

ہمارے لئے سب سے بہتر راستہ یہی ہے کہ امریکہ کو جانے دیں اور امریکی فوج کے انخلاء سے پہلے پہلے اپنے افغانستان کے ساتھ ملحق سرحد کو باڑھ لگا کر بند کر دیں اور سب سے پہلے خود کو محفوظ کریں، صرف تجارت اور آمدورفت کے قانونی راستوں اور بات چیت کے دروازوں کو کھلا رکھیں۔

افغانوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیں گے تو وہ ایک دوسرے کو بہتر جانتے ہیں ،وہ اپنی طاقت کا توازن خود ہی طے کر لیں گے، اپنے زخم دکھا کر دنیا بھر سے پیسے بٹورنے کا طریقہ ہم نے افغانیوں سے سیکھا تھا اور یہ طریقہ ہم کو نہ ہی راس آیا اور نہ ہی راس آئے گا کیونکہ ہم افغان نہیں ہیں۔

ہمیں یہ بنیادی فرق سمجھنا ہو گا کہ افغانیوں کی تو معیشت ہی جنگ ہے اور وہ اس کی ہی کمائی پر زندہ ہیں جبکہ ہمارے لئے جنگ تباہی اور بربادی کا پیغام ہے، افغانوں کے پاس کھونے کے لئے کچھ نہیں جبکہ ہم اس پرائی جنگ میں بہت کچھ کھو چکے ہیں اور بہت کچھ کھو سکنے کا اندیشہ بھی ستا رہا ہے۔

بھارت نے ہماری سرحدوں کے ساتھ باڑھ لگا کر اپنی دانست میں خود کو ہم سے محفوظ کیا ہے ، ہمیں بھی افغانستان کے ساتھ ملحق سرحدوں کو باڑھ لگا کر بند کر کے خود کو اپنی قوم کو محفوظ بنانے کا یہی عمل کرنا چاہیے، جتنے مرضی مزید نقصان کے بعد کریں لیکن آخری حل یہی ہے۔

ہم ایک بڑی اور عظیم قوم ہیں اور ہمیں ہماری اس حیثیت کے مطابق ہی عمل کرنا چاہیے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *