آئیں عاشق تلاش کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ایمان و جان کی امان پاؤں تو عرض یہ ہے کہ پہلے تو تحریر کے عنوان کو طنز نہیں بلکہ چیلنج سمجھا جائے تو بات سمجھ میں آ سکے گی۔ معاملہ کچھ یوں ہے کہ غیر تو غیر ہیں۔ ہم تو اپنے ہیں ہمیں، جو یقین رکھنے، جانثار کرنے والے ہیں ان سے زیادہ عاشق نظر آنا چاہیے جنہیں ہم گستاخ کہتے ہیں۔ ظاہر سے لے کے باطن پہ محبت کا اثر نمایاں ہو۔ نظر آتا ہو لیکن

کچھ نہ پوچھو زاہدوں کے باطن و ظاہر کا حال
ہے اندھیرا گھر میں اور باہر دھواں بتی چراغ۔
شاعر سے معذرت کہ اس زاہدوں کے بجائے عاشقوں کا لطف ہوتا تو حسب حال ہوجاتا۔
ایک دنیاوی عاشق کے ظاہر/حلیے سے لوگ پہچان لیتے ہیں کہ مجنوں ہوا پھرتا ہے فلاں کے عشق میں۔

اب دعووں کی بھرمار اور عشق کی تشہیر پہ تو زور ہے لیکن یہ دراصل ایسا نہیں ہے۔ معافی قبول دیجئے کہ عاشق صادق ڈھونڈنے نکلیں تو ناممکن کام کہلائے یہ۔ عاشق ہونے کی صفات پہ پورا نہیں اترتے ہم۔ کیونکہ عاشق معشوق کی باتوں کو جان سے بڑھ کے مانتا ہے، اسے پسند آنے کے لئے اس کی پسند کا لباس پہنتا، اچھے انداز کے بال بناتا، اٹھلا کے چلتا ہے، محبوب نے جن چیزوں، باتوں پہ ناک چڑھائی ان کو پسند ہونے کے باوجود ترک کر دیا، جن چیزوں باتوں کو محبوب نے سراہا وہ پسند نہ ہونے کے باوجود عاشق نے بھی زندگی کا حصہ بنا لیں۔

یہ ساری تگ و دو محض محبوب کا منظور نظر بنے رہنے کے لئے۔ اب ہم کیا کرتے ہیں کہ محبوب کی کوئی ادا، قول، فعل، حکم پہ ہم عمل کیا ذرا توجہ تک نہیں دیتے۔ محبوب کے حلیے سے لے کے تاریکی میں کے جانے والے اعمال تک سچے عاشقوں کے ذریعے ہم تک پہنچے کیونکہ انہوں نے دعووں کے ساتھ عمل بھی کیا۔ وگرنہ محبوب کی زرہ زرہ سی بات کیونکر محفوظ ہوکے ہم تک پہنچتی۔ اب عالم یہ ہے کہ محبوب کی تعلیمات، قول و افعال کے بالکل الٹ، خلاف زندگی گزار رہے ہیں اور اس پہ سچا عاشق ہونے کے کا دعویٰ بھی، توبہ توبہ۔

محبوب نے بہت واضح اعلان کیا کہ جس نے ملاوٹ کی وہ ہم میں سے نہیں۔ ہم میں سے ہر عاشق اپنے آپ سے لے کے معاشرے کو دیکھ کے بتا دے کہ کیا ہم میں سے ہر ایک جس کے پاس جو دستیاب ہے وہ اس میں ملاوٹ نہیں کر رہا؟ خالص دودھ کا عاشقوں کے معاشرے میں نہ ملنا شرم کی بات نہیں؟ جعلی ادویات ہمارے ہی معاشرے میں عام نہیں؟ ریڑھی پہ پھل بیچنے والے پھل کے ہی رنگ کی لائٹ کیوں لگاتے ہیں؟ جو پھل گاڑی والے کو تول والے برتن میں ڈال کے دکھایا وہ الگ اور جو تول کے دیا اس میں خراب پھل شامل کر کے نہیں ملتے ہمیں؟

یہ ہم عاشقان ہی کرتے ہیں کہ منڈیوں میں پھلوں، سبزیوں کی ٹوکریوں میں اوپر اچھا اور نیچے خراب مال لگاتے ہیں۔ کچا، گلا سڑا پھل سبزی دکان والا پھینکتا نہیں بلکہ صبح ہی چھانٹی کرتے ہوئے الگ کر لیتا ہے اور وہ اللہ کے نام پی مانگنے والوں کے برتن میں دن بھر ڈالتا جاتا ہے۔ سرکاری اساتذہ، پروفیسرز کے لئے پرائیویٹ اسکول، اکیڈمی میں پڑھانے کی ممانعت ہے کیا تمام اکیڈمیز کا دھندا یہی قوم کے معمار نہیں کر رہے، ایسے ہی سرکاری ڈاکٹرز کے لئے پرائیویٹ پریکٹس کی اجازت نہیں تو کیا ہمارے ہی سرکاری اسپتالوں میں اگر ڈیوٹی پہ موجود ہو تو ڈاکٹر صحیح طریقے سے علاج نہیں کرتا اور شام کو اپنے اسپتال یا کلینک پہ آنے کا نہیں کہتا؟

سرکاری اداروں میں مقررہ وقت سے لیٹ آنے اور جلدی جانے کا چلن عام نہیں؟ کیا یہ حدیث کہ رشوت لینے اور دینے والے دونوں جہنمی ہیں، ہم سب نہیں پڑھ، سن رکھی اور پھر ہمارے عاشق مسلمان سرکاری اداروں میں کھلم کھلا رشوت دے، لے نہیں رہے آج؟ کیا ہم ہی بہنوں، بیٹیوں کو جائیداد سے، محبوب کے حصہ دینے کے حکم کے باوجود، محروم نہیں رکھتے؟ اسی چکر میں ہم ان کی شادیاں حقیقت کے بجائے کلام خدا، قرآن پاک سے نہیں کر دیتے؟

راتوں رات زمین پہ قبضہ کے لئے اس پہ مزار، مسجد اور مدرسہ کا بورڈ ہم ہی لگاتے ہیں نہ؟ سارے الزامات ہوں محض لیکن مدرسے میں بچوں سے لواطت کا ایک بھی سچا واقعہ ہمیں عاشق ثابت کرتا ہے؟ کیا ہماری عدالتیں صحیح معنوں میں بر وقت انصاف کر رہی ہیں؟ کیا ہماری ہی کچہریوں میں وکلاء جانتے بوجھتے جھوٹے کیسز کی پیروی نہیں کر رہے، کیا ہماری کچہریوں میں جھوٹے گواہ دستیاب نہیں ہوتے روز؟ یہ روزانہ صبح گھر سے ”کام“ کے لئے نکلتا ہے اور سارا دن مختلف عدالتوں میں جھوٹی گواہی دیتا ہے۔

یہ اب ایک باقاعدہ کام بن چکا ہے۔ وکیلوں کے پاس ایسے فوری دستیاب جعلی گواہان کے فون نمبرز ہوتے ہیں اور جج تک روز روز ان کو عدالتوں میں دیکھ کے اب تو پہچان لیتے ہیں۔ بس، ویگن والا جی جی سیٹ ہے کہہ کے لوگوں کو چڑھا لیتا ہے اور اندر پہلے سے ہی سوار کھڑے ہوتے ہیں سیٹ نہ ہونے کی وجہ سے۔ ہم ہی محبوب کے وہ گستاخ ہیں کہ ہمیں اس نے بتایا بھی کہ سارا دین ایک طرف لیکن صفائی آدھا ایمان ہے لیکن گستاخیاں اپنے معاشرے میں بطور ثبوت دیکھ لیں کہ ہر طرف گندگی، کوڑا کرکٹ، ابلتے گٹر جبکہ ”نصف ایمان“ کی ذمہ داری کسی اور کو سونپ رکھی ہے۔

اس نصف ایمان میں ہر طرح کی صفائی شامل ہے۔ یہ بھی گستاخی ہے کہ رمضان میں بینکوں کی زکوٰۃ کٹوتی سے پہلے ہم دو کام کرتے ہیں یا تو رقوم نکلوا لیتے ہیں یا اپنے اس مسلک سے تعلق کا جھوٹا سرٹیفکیٹ بینک میں دے دیتے ہیں جن کے مسلک کی بینک زکوٰۃ نہیں کاٹتے۔ پھر ہمارا سارا معاشی نظام تو سود پہ کھڑا ہے، سارے عاشقوں کے سودی نظام کے ستون بینکوں میں اکاؤنٹس ہیں۔ اس طرح سودی نظام کو عاشقوں نے ہی سہارا دیا ہوا ہے۔

جس کے بارے محبوب نے سخت ترین وعید سنا رکھی ہیں۔ ہم عاشقوں کے ہی معاشرے میں جوا، زنا کے باقاعدہ اڈے ہیں۔ جسم فروشی کا کام ”مسلمانوں“ کے ہی دم سے رات چوگنی ترقی کر چکا ہے کہ ایک مرد مومن مرد حق نے بڑے شہروں میں موجود ایک ایک بازار حسن ہوتا تھا پر پابندی لگا دی اور اس کے بعد یہ کام گلی، محلوں، چوراہوں اور سڑکوں پہ پھیل گیا۔ کام تب ہی بڑھتا ہے جب گاہک بہت ہو جائیں تو کمپنی جگہ جگہ شاخیں کھول لیتی ہے۔

اور وہ گاہک ہم عاشقان ہی ہیں۔ گستاخی کا ایک اور ثبوت یہ لیجیے کہ حال ہی میں ایک اقلیتی رکن پارلیمنٹ ملک میں شراب پر پابندی کا بل لے کے آیا لیکن عاشقوں کی اکثریت والی پارلیمنٹ سے یہ بل مسترد ہو گیا۔ ایسی کی تیسی عاشقی کی۔ ابھی حال ہی کی ایک اور مثال جو سینیٹ کے الیکشن سے متعلق ہے۔ اسلامی ریاست کے عوامی نمائندوں نے اپنے ووٹ بیچے اور یہ بات صحیح ہے بالکل کیونکہ سب نے ہی ایک دوسرے پہ ووٹ فروشی کے الزامات لگائے۔

اس سے قبل یہی لوگ عام الیکشن میں یہی خریدوفروخت کرتے ہیں۔ ہم عاشقوں کے الیکشن کے بارے عام مشہور بات ہے کہ یہاں الیکشن دھن، دھونس یا دھاندلی سے لڑے جاتے ہیں۔ ہمارے محبوب نے کسی بھی طرح کے نشے کو حرام قرار دیا اور اسی محبوب کے نام لیوا نشہ کر کے سڑکوں، پارکوں، پلوں کے نیچے، لاری اڈوں، چوکوں چوراہوں میں سر عام نشے کی لت کا شکار نظر آتے ہیں۔ بیچنے والے حرام بیچ کر عاشق کہلاتے ہیں اور نشہ استعمال کرنے والے بھی اسی محبوب کو قابل عزت مانتے ہیں، محض مانتے ہیں۔

ویسے تو یہ چلن سارے سال کا ہے لیکن رمضان المبارک کا تو عاشقان سیزن کہتے ہیں اور اس قبل محبوب کی طرف سے حرام قرار دی گئی ذخیرہ اندوزی عاشقان کی ہمت سے عروج پہ پہنچ جاتی ہے۔ اسی طرح ناپ تول میں کمی سے منع کیا محبوب نے، مال کا عیب بتانے کا حکم دیا، پرانے نرخ پہ خریدی اشیاء کو نئی قیمتوں پہ بیچنے سے روکا۔ ناجائز منافع لینے کو ناپسند کیا۔ لیکن ہم چونکہ اس کے گستاخ ہیں اس لیے کسی ایک بات، حکم پہ عمل نہیں کرتے۔

کرونا میں ہی دیکھ لیں چند روپے کی پیناڈول اور عام ماسک سینکڑوں روپے کا ایک ایک بیچا ہم گستاخوں نے۔ پچیس سو روپے کا آکسیجن سلنڈر اٹھارہ ہزار روپے تک لے گئے، بھلا کون۔ ہم نبی کے گستاخ اور کون۔ بجلی، گیس، پانی اور ٹیکس چور ہم سب ہیں۔ ایک عام ریڑھی والے سے حکمران تک ہم سب ان چوریوں کو جائز سمجھ کے کئیے جا رہے ہیں۔ کوئی ایک گناہ اور جرم جو ہمارے معاشرے میں عروج پہ نہیں پہنچا ہوا۔ معصوم بچے بچیاں، جانور تک درندگی سے اسی گستاخوں کے معاشرے میں محفوظ نہیں۔

اسی معاشرے سے بچوں کی پورن ویڈیوز بنانے اور بھیجنے کا مکروہ کام ہو رہا ہے۔ ہمارا محترم نبی لڑائی پہ جانے والوں کو حکم جاری کرتا تھا کہ پانی کے ذخائر کو گندا نہیں کرنا، فصلوں اور درختوں کو نہیں کاٹنا۔ اور ہم اپنے پانی کے ذخائر تباہ کر چکے، ملک بھر سے درخت چوری کاٹ کاٹ کے ڈکار چکے ہیں۔ سرکاری ٹھیکے جس طرح من پسند ٹھیکیدار کو ملتے ہیں وہ سب کو پتہ ہے۔ پھر وہ ٹھیکیدار جس گھٹیا معیار کی سرکاری عمارات، سڑکیں بنا کے حج و عمرہ پہ جاتا ہے تو اسے ائر پورٹ چھوڑ نے والے اسے سچا عاشق سمجھ کے مذہبی نعرے بازی بھی کر لیتے ہیں۔

یاد آیا عاشقان کی جماعتیں جب چاہیں کوئی بھی سڑک، چوک کسی بھی وجہ سے انتہائی آسانی سے جتنے دن، وقت کے لئے بند کردیں ثواب اور مذہب کے نام پہ عین عشق گردانا جاتا ہے چاہے اس دوران محبوب نبی نے جو ’راستے کے حقوق‘ ، ’راستہ استعمال کرنے والوں کے حقوق‘ جو بتائے وہ بری طرح پامال کرتے رہیں، کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ اس کے عشق کے نام پہ اسی کی تعلیمات کی دھجیاں اڑانا گستاخی نہیں ہے۔ پھر چاہے اس دوران اسی محبوب کے دوسرے ماننے والوں کو جتنی مرضی ایذا، تکلیف، اذیت پہنچے تو کوئی مسئلہ نہیں بھائی بہنو زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں۔

بہت ہو گئی یہ عاشقی گستاخی، عاشقی گستاخی، مدعے کی طرف آتے ہیں کہ ان سارے حالات میں ایک سچا عاشق کم ازکم اویس قرنی جیسا ایک تو آئیے ہم تلاش کریں۔ آئینہ سمجھیں اس تحریر کو، ہم سب اپنا آپ دیکھیں اور پھر زرہ سی بھی شرم باقی ہو تو کبھی بے بنیاد دعویٰ نہ کریں کہ اقبال نے کہا تھا کہ ادب پہلا قرینہ ہے محبت کے قرینوں میں، کیا ہم تمام احکامات، فرامین، قول و افعال کی دھجیاں اڈا کر محبت یا ادب کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

روز روز دن رات چوبیس گھنٹے ہم گستاخی، بے ادبی کرتے ہوئے گزارتے ہیں اور غیروں کو ادب کرنے کا درس دیتے نہیں تھکتے، بھئی وہ تو غیر ہیں، مانتے ہی نہیں ان سے کیسا تقاضا، آپ جان و مال و اولاد نثار کرنے کا دعویٰ بھرتے ہیں تو آپ تو پہلے گستاخی کرنا بند کریں، کہ بقول شاعر مشرق ”یہ مسلماں ہیں، جنہیں دیکھ کے شرمائیں یہود ’کوئی یہ بتا دے کہ مسلمان ممالک خاص کر پاکستان میں تبلیغ کی ضرورت، اور وہ بھی مسلمانوں کو، کیوں ہے۔

یہاں تو ہم سب سچے عاشق ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں پھر ہمیں ہی تبلیغ کیوں۔ کیونکہ ناکام اور باتوں کی چوری کھانے اور کھلانے کے ماہر عاشق ہیں ہم۔ غیروں سے زیادہ ہاری اپنی ٹیوننگ کی اشد ضرورت ہے۔ سیدھی سی بات ہے جھوٹا، بے بنیاد دعویٰ ہی نہ کریں، جس طرح اللہ کو روزے کی ہماری بھوک پیاس اور قربانی کی کھال اور گوشت سے رتی برابر غرض نہیں اسی نبی مہربان کو حب کے جھوٹے دعووں کی کیا ضرورت ہے۔ ان کو خوشی تب ہوگی اگر ہم ان کے بتائے طریق پہ زندگی گزاریں اور کچھ بھی نہیں چاہیے انہیں۔

میں جھوٹ بولنے، غیبت، چغلی، رشوت، چوری، جوے، حق مارنے سے باز نہیں آیا تو کاہے کی محبت۔ جب اس نبی مہربان نے کہہ دیا کہ ملاوٹ کرنے والا ہم میں سے نہیں۔ تو دیکھ لیں اس ایک حکم سے کتنی بڑی تعداد سیدھی سیدھی ان کے دائرے سے خارج ہے اور ہم پھر ایک دوسرے کو مسلماں کہتے، سمجھتے اور اس کا ڈھول بھی پیٹتے ہیں۔ ملاوٹ والے کے ساتھ ذخیرہ اندوز فارغ، جواری شرابی زانی فارغ، رشوت لینے دینے والے فارغ، تاجر، ڈاکٹر، استاد، طالبعلم، کلرک، پولیس والا، پٹواری، بڑے افسران، عام ریڑھی والا، وکیل، جج، گواہ، صدر وزیراعظم، ووٹ خریدنے بیچنے والے، قبضہ مافیاز، کسان اور آڑھتی، منبر و محراب سے نفرت اور اختلافات کو جنم اور ان کی پرورش کرنے والے راہنما سب کے سب روزانہ کے گستاخ ہیں۔

ہمارے معاشرے میں ایک سے زیادہ مسالک یا فرقوں کی موجودگی یہ ظاہر نہیں کرتی کہ ایک ٹھیک ہے باقی سب جھوٹ کی دکان والے ہیں کیونکہ نبی کریم نے تو یہی بتایا تھا۔ پھر ہم سب ایک دوسرے کو گمراہ، کافر تک کہتے ہیں۔ جب سب مسالک والے یہی کہتے ہیں تو سب ہی سچے ہیں۔ سب سچے گمراہ اور کافر ہیں تو مسلماں اور عاشق کہاں سے ہم تلاش کر سکتے ہیں۔ آئینہ دیکھیں یا گریبان میں جھانکیں بات ایک ہی ہے کہ عاشق کی زیارت نہیں ہوگی۔

Latest posts by عامر خان، ملتان (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
عامر خان، ملتان کی دیگر تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *